کلامِ امام علیہ الصلوٰۃ والسلام

آپؐ کو بھی رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًاکی دعا کی تعلیم ہوئی

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرالیکن آپؐ کو بھی رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(طٰہٰ: 115)کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی۔ پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کرکے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔ جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اُسے معلوم ہوتا جاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیں حل طلب باقی ہیں۔ بعض امو رکو وہ ابتدائی نگاہ میں… بالکل بے ہودہ سمجھتے تھے لیکن آخر وہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے۔ اس لیے کس قدر ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے ساتھ علم کو بڑھانے کے لیے ہربات کی تکمیل کی جاوے۔ تم نے بہت ہی بے ہودہ باتوں کو چھوڑ کر اس سلسلہ کو قبول کیا ہے۔ اگر تم اس کی بابت پورا علم اور بصیرت حاصل نہیں کرو گے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوا۔ تمہارے یقین اور معرفت میں قوت کیونکر پیدا ہو گی۔ ذرا ذرا سی بات پر شکوک و شبہات پیدا ہوں گے اور آخر قدم کو ڈگمگا جانے کا خطرہ ہے۔ دیکھو دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تووہ جو اسلام قبول کرکے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔ نہیں، صحابہؓ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے ان کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔ کوئی امر ان کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ۱۴۱، ۱۴۲۔ ایڈیشن 1988ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button