آپ بھی جا مِ مے اُڑا غیر کو بھی پلائے جا
۱۸؍مئی ۲۰۲۶ء کو سوا چار بجے سہ پہر ہمارا جہاز سقراط اور سکندرِ اعظم کی زمین پر اُتر رہا تھا۔ پہلی بار یونان آنے کا موقع ملا۔ یونان کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ زیادہ تر فلسفے کے بارے میں لیکن ہمیں فلسفے سے کچھ تعلق نہ تھا ۔کم از کم مجھے اس میں ہر گز کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ اس میں فکر و تدبّر جیسی قوّتوں کا استعمال ہوتا ہے اور ہمیں اس کا ادراک کہاں۔ یونان کو اپنی تاریخ پر فخر ہے اور یہ فخر کسی حد تک بجا بھی ہے۔سقراط، افلاطون اور ارسطو جیسے فلاسفروں نے یہاں جنم لیا۔ سکندرِ اعظم بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتا تھا جسے آدھی دنیا کا فاتح کہا جاتا ہے اور ارسطو اس کا استاد تھا۔گویا یونان کی تاریخ میں فلسفہ بھی ہے، شمشیر و سناں اور تیر و تفنگ بھی۔کبھی تو سقراط کا خیال آتا جسے زہر کا پیالہ پینا پڑا تو کبھی سکندرِ اعظم کاجو بہت بڑا فاتح تھا لیکن مرتے وقت کہا کہ میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر رکھنا تا دنیا کو معلوم ہو کہ اتنا بڑا فاتح بھی دنیا سے خالی ہاتھ اُٹھ گیا۔ اگر سوچا جائے تو یہی زندگی کے فلسفےکا خلاصہ ہے۔ہمیں سقراط کی طرح زہر کا پیالہ تو نہیں پینا پڑا، البتہ مخالفت کے چند تلخ گھونٹ ضرور چکھے جو کہ ہم نے آبِ حیات سمجھ کر پیئے۔ ہمارے دورے کے بعد سوشل میڈیا اور اخبارات میں اس کی گونج مکرم عطا ء النصیر صاحب مربی سلسلہ یونان کی وساطت سے سننے اور پڑھنے کو ملی ۔اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس علاقے میں ہم نے فلائرز تقسیم کیے وہاں کے ایک بڑے حصے تک یہ پیغام پہنچا اور اب اس کا ردّعمل ظاہر ہو رہا ہے جو زیادہ تر مخالفت پر مشتمل ہے تاہم بہت سے لوگوں نے ہماری اس امن کی مہم کو سراہا بھی اور لکھا کہ اس وقت اس کی بہت بڑی ضرورت ہے۔غرض ہم سکندر کی طرح خالی ہاتھ نہیں تھے۔ ہمارے ہاتھوں میں سقراط کے زہر کے پیالے کی بجائے زندگی بخش جامِ احمد تھا جو ہم یہاں کے تشنہ لبوں کو پلانے آئے تھے۔
تشنہ لبوں کی خاطر ہر سمت گھومتے ہیں
تھامے ہوئے سبوئے گلفامِ احمدیت
اس سفر کا محرّک مکرم مربی صاحب یونان کا ایک خط بنا جو انہوں نے حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کی خدمتِ اقدس میں تحریر کیا اور درخواست کی کہ ارضِ یونان میں تبلیغ کی خاطر ہماری مدد کی جائے۔ہم تبلیغی سر گرمیوں کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں اور مزید لیف لیٹس تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری تعداد بہت تھوڑی ہے جبکہ یونان وسیع رقبہ والا ملک ہے لہٰذا لیف لیٹس کی تقسیم میں ہمیں یورپ کی جماعتوں کی مدد درکار ہے۔حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جرمنی اور یوکے کی ذیلی تنظیموں کو اس سلسلے میں مدد کرنے کا ارشاد فرمایا۔حضورِ انور کے اس ارشاد کی روشنی میں مکرم بشیر احمد ریحان صدر مجلس انصار اللہ جرمنی نے مکرم میر شہزاد لطیف صاحب قائد اصلاح و ارشاد مجلس انصار اللہ جرمنی اور مکرم بشارت احمد صاحب نائب قائد اصلاح و ارشاد کو یہ ذمہ داری سونپی اور مکرم ظفر احمد ناگی صاحب نائب صدر انصار اللہ کو اس کام کا نگران مقرّر کیا تاکہ وہ اس سلسلے میں جرمنی سے انصار تلاش کر کے ان کی ٹیمیں بنائیں اور یونان میں تبلیغ کے لیے مکرم مربی سلسلہ یونان کے ساتھ مل کر ایک جامع پروگرام تشکیل دیں۔ اس خدمت کے لیے جرمنی سے چار افراد پر مشتمل جو پہلا گروپ تشکیل دیا گیا اس میں خاکسار کے علاوہ مکرم کمانڈر ایاز محمود چٹھہ صاحب،مکرم منصور احمد طارق صاحب اور مکر م عاطف چودھری صاحب شامل تھے۔ اس سے قبل یو کے سے دو گروپ یونان کا دورہ کر چکے تھے۔

ہم یونان کے شہر تھیسا لونیکی میں نازل ہوئے تھے۔ فضائی منظر انتہائی دلکش اور مسحور کن تھا۔ ایک طرف نیلا سمندر تو دوسری طرف پہاڑیوں کا سلسلہ۔ مولانا عطاء النصیر صاحب ہماری پیشوائی کے لیے موجود تھے۔ ائیرپورٹ پر تاریخ اور یاد گار کی خاطر ایک فوٹو ہوئی اور پھر اگلے شہر کسانتھی کی طرف سفر شروع ہوا۔ تھیسا لونیکی سے کسانتھی تک پہاڑیوں اور پانی کا منظر ساتھ ساتھ رہا۔ اگر کہیں سمندر سے پہاڑوں کا دامن چھوٹ جاتا تو کوئی جھیل اس کی جگہ لےکر پہاڑ کے دامن سے لپٹ جاتی۔ یہ پُر لطف آنکھ مچولی ہماری ہم سفر رہی۔ مولانا عطاءالنصیر صا حب کی شاعرانہ انداز کی کمنٹری اس سحر انگیز منظر کو مزید دلکش بنا دیتی۔ دوسرے الفاظ میں ’’قامتِ جاناں ‘‘ کھینچ کر رکھ دیتے۔
مجلس انصار اللہ جرمنی کے وفد کے چاروں ممبران ان خوب صورت مناظر اور مربی صاحب کی کمنٹری کے سحر میں ایسے گرفتار تھے کہ بقول غالب !
یہ جنتِ نگاہ، وہ فردوسِ گوش ہے
رستے میں ایک مقام پر نمازوں کی ادائیگی کے لیے رُکے اور پھر پابہ رکاب ہو گئے۔ کسانتھی شہر پہنچ کر کھانا کھایا اور نمازوں کی ادائیگی کے بعد اگلے روز کا پروگرام طے پایا۔ اگلے روز یعنی ۱۹؍مئی کو بارش کی پیش گوئی تھی۔ اس سلسلے میں حضورِانور کی خدمت اقدس میں دعا کی درخواست کی گئی۔
صبح پروگرام کے مطابق کسانتھی شہر کے ڈیموکریسی سکوائر میں لیف لیٹس تقسیم کرنے کے لیے پہنچے تو سورج چمک رہا تھا اور بہت اچھا موسم تھا بلکہ دوپہر کو اچھی خاصی گرمی ہوگئی۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ ڈیمو کریسی کے تصوّر نے بھی یونان کی سر زمین پر جنم لیا، یونانی زبان میں ’’دیمو ‘‘عوام کو کہتے ہیں جبکہ’’ کریسی ‘‘ کا مطلب اقتدار یا حاکمیت ہے یعنی عوام کی حکومت۔ کسانتھی کا ڈیمو کریسی سکوائر شہر کے وسط میں واقع ہے۔ فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح اس سکوائر سے بہت سی سڑکیں نکلتی ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ ساری سڑکیں یہاں آ کر ملتی ہیں۔ مقامی لوگ اور سیّاح صبح ہی یہاں آنے لگ جاتے ہیں اور دن کے ساتھ ساتھ رونق بھی بڑھتی جاتی ہے۔دعا کے ساتھ فلائرز کی تقسیم کا کام شروع کیا۔ مکرم مربی صاحب نے سب ممبرانِ وفد کو ان کی ڈیوٹی اور جگہ بتا دی اور ہدایات کے ساتھ مقامی لوگوں کے مزاج کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ خاکسار اور مکرم کمانڈر ایاز محمود چٹھہ صاحب نے سکوائر میں ڈیوٹی سنبھال لی جبکہ مکر م منصور طارق صاحب اور عاطف چودھری صاحب شہر کے ایک علاقے میں گاڑیوں، دکانوں اور پوسٹ بکس میں فلائرز ڈالنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ فلائرز تین زبانوں یونانی، ترکی اور انگلش میں تھے اور اس کا عنوان تھا کہ ’دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے بچانے اور امن قائم کرنے کی بھر پور کوشش کرنی ہو گی‘۔
اس علاقے میں تُرک مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے جن کی تعداد ایک لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے اور ان کی مساجد بھی ہیں۔دوپہر تک خوب فلائرز تقسیم کیے پھر رش کم ہونے لگا تو ہم نے بھی وقفہ کیا اور اس وقفہ کے دوران مکرم مربی عطا ء النصیر صاحب نے بشپ آف کسانتھی و پیر یتھیریون جناب پاند یلیئیموناس صاحب سے رابطہ کر کے وقت لیا چونکہ ان کے پاس وقت تھا لہٰذا ہم فوراً ان کے دفتر پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا اور گرمی میں ٹھنڈا مشروب پیش کیا۔ موصوف سے تعارف اور مختصر گفتگو ہوئی اور پھر ان کو قرآنِ کریم اور جماعتی لٹریچر پیش کیا انہوں نے بھی مکرم مربی صاحب کو ایک کتاب کا تحفہ پیش کیا۔ اس خوشگوار ملاقات کے آخر پر تصویر بھی بنائی گئی۔ ملاقات کے بعد کھانا کھا کر رہائش گاہ میں نمازیں ادا کیں۔ شام پانچ بجے ہم لوگ پھر اسی جگہ پہنچ گئے۔ اب یہاں صبح سے زیادہ گہما گہمی تھی اور لوگ گروہ در گروہ اس سکوائر کا رُخ کر رہے تھے۔ مرد، عورتیں، بچے اور ان سب سے زیادہ تعداد میں وہ کبوتر جن کو بچے دانہ ڈال رہے تھے۔اور ہم مسیحِ وقت کے پیغام کو پہنچانے میں مصروف تھے تا کہ لوگ اپنے خالق کو پہچانیں اور اس کے دامن سے لپٹ کر حقیقی اور دائمی امن و سلامتی کے سائے میں آئیں۔ شام کو اس قدر لیف لیٹس تقسیم ہوئے کہ ہم میں سے کسی کو فوٹو بنانے کا وقت بھی نہ ملا۔شام ڈھلنے کے ساتھ رونق بھی کم ہونے لگی اور لوگ گھروں کو لوٹنے لگے۔آٹھ بجے ہم نے بھی سامان اکٹھا کیا اور واپسی کی تیاری پکڑنے لگے۔ ابھی تک بارش کی ایک بوند بھی نہ برسی تھی جبکہ اس روز طوفانِ بادو باراں کی پیش گوئی تھی۔ جونہی ہم سامان سمیٹ کر پارکنگ کی طرف چلے تو بادل کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا اور اس شدت سے برسا کہ ہم سب بھیگ گئےلیکن اس بھیگنے میں ایک عجب لُطف اور مزا پنہاں تھا کہ جب تک ہم خدا کا پیغام پہنچاتے رہے بادل خاموش رہا اور جونہی یہ کام بند ہوا تو
ایسا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی
مے خانے سے تو ہمیں کوئی سرو کار نہ تھا البتہ بھوک زوروں پر تھی۔ایک ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکی گاڑی سے نکل کر بھاگ کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے مگر اتنے میں ہی سر سے پاؤں تک شرابور ہو گئے۔اکثر لوگ کھانا کھا کر اس انتظار میں تھے کہ یہ طوفان تھمے تو گھر جائیں۔ ہم بھاگ کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے تو کچھ لوگ مسکرا رہے تھےاور ہم خود بھی ہنس رہے تھے۔ان کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ سب ہمارا قصور ہے۔اگر ہم یہ پیغام پہنچاتے رہتے تو شائد بادل ابھی نہ برستا۔ واپس آ کر ہم دیر تک اس الٰہی تائید اور حضورِ انور کی قبولیتِ دعا کا ذکر کرتے رہے اور اسی حمد کی کیفیت میں نمازیں ادا کیں۔
اگر ہر بال ہو جائے سخن ور
تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر
اگلے روز ۲۰؍مئی کی صبح کو ہم پھر کسانتھی کے ڈیموکریسی سکوائر پر کھڑے تھے۔حسبِ معمول تھوڑے لوگ تھے پھر یہ تعداد لمحہ بہ لمحہ بڑھنے لگی اور پھر وہی رونق اور ہمارا پھر وہی کام، لیکن آج ایک واضح فرق نظر آ رہا تھا۔ بہت سے لوگ ہمارے پاس رُک کر پوچھ رہے تھے کہ ہم کون ہیں اور کیوں یہ کام کر رہے ہیں؟ اب ہمارا حال وہی تھا کہ
زبانِ یارِ مَن ترکی، و من ترکی نمی دانم
لوگوں کی اکثریت انگلش اور جرمن سے نا بلد تھی۔ ایک جرمن بولنے والا آیا تو ہماری خوشی دید نی تھی۔ دیگر تمام ملاقاتی مکرم مربی صاحب کے حوالے کر دیتے۔اور پھر تو یہ عالم تھا کہ ایک شخص مربی صاحب سے مصروفِ گفتگو ہے تو دوسرا انتظار میں کھڑا ہے کہ کب وہ اپنا سوال پوچھ سکے۔گذشتہ روز ایک تُرک مسلمان نے مربی صاحب کو کہا تھا کہ تم لوگ مسلمان نہیں ہو اور امریکہ کے ایجنٹ ہو اور اسی طرح کے دیگر سارے اعتراضات جو عموماً احمدی مسلمانوں پر کیے جاتے ہیں وہ بھی دُہرا رہا تھا۔حالانکہ آج کے حالات کو بغور دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ کون کس کا ایجنٹ ہے۔ کل تک تو یہی تُرک یہ اعتراض کر رہا تھا اور آج وہ مربی صاحب سے نہایت عزّت و احترام سے پیش آ رہا تھا بلکہ بعض شرعی مسائل دریافت کر رہا تھا اور پھر ظہر اور عصر کی نمازوں کی ادائیگی کے لیے ہمیں اپنی مسجد لے کر گیا جو کہ قریب ہی واقع تھی۔ ہمارے لیے خاص طور پر مسجد کھولی اور ہمارے نماز پڑھنے تک انتظار کرتا رہا اور پھر مسجد کو تالہ لگا کر ہمارے ساتھ ہی آ گیا۔ یوں خدا تعا لیٰ نیک فطرت لوگوں کی رائے بھی تبدیل کر رہا تھا۔ہم نے اس دورے کے دوران بہت سے مسلمان دیکھے جو اس بات پر خوش بلکہ فخر کر رہے تھے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت دنیا کو امن کی طرف بلا رہی ہے۔ اس کے برعکس نظارے بھی دیکھنے کو ملے۔ڈیمو کریسی سکوائر میں واقع ایک کیفے میں بیٹھے ایک شخص نے اشارے سے مجھے بلایا اور فلائر مانگا۔ میں نے فلائر دیا تو اس نے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور پھر ہنسنے لگ گیا۔ اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی مانگا مگر میں مسکرا کر واپس چلا آیا اس پر وہ سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ہم تو اس سے بھی زیادہ سخت مخالفت کے عادی ہیں اور ہمیں یہ تعلیم ہے کہ
گالیاں سن کر دعا دو، پا کے دکھ آرام دو
کبر کی عادت جو دیکھو،تم دکھاؤ انکسار
اس روز کی خصوصیت یہ تھی کہ کل کے پیغام کی باز گشت آج سنائی دے رہی تھی۔ غم و غصہ کی لہر بھی تھی، تجسّس اور دلچسپی کی بھی۔

بہت سے لوگ خود آ کر پوچھ رہے تھےکہ ہم یہ پیغام کیوں دے رہے ہیں۔بَیسِم نامی ایک تُرک مسلمان نے مکرم مربی صاحب سے ملاقات کا وقت مانگا اور کافی پینے کی دعوت دی۔ مکرم مربی صاحب نے اسے اگلے روز کا وقت دے دیا۔ دوپہر کے وقفے میں اس شہر کے مفتی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ چونکہ صرف یونانی اور تُرکی جانتے تھے لہٰذا مربی صاحب اور مفتی صاحب کے درمیان ہونے والی گفتگو ہماری سمجھ سے بالا تھی۔بعد میں مکرم مربی صاحب نے گفتگو کا خلاصہ بتایا۔ شام کو ہم لوگ پھر وہاں موجود تھے۔ اور حسبِ معمول ۸؍بجے تک فلائرز تقسیم کرتے رہے۔
کسانتھی میں ہمیں بھکاریوں سے بھی پالا پڑا جو یورپ میں کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ مانگنے والے زیادہ تر بچے اور عورتیں تھیں۔ یہاں کے مربی صاحب کا ایک اَور وصف کھلا کہ آپ خادمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ خادمِ خلق بھی ہیں۔ انتہائی نرم دل کے مالک ہیں اور کسی کو تکلیف میں دیکھ کر بےقرار ہو جاتے ہیں لیکن یہ احتیاط بھی برتتے ہیں کہ نقد رقم نہ دی جائے۔ جو بھی مانگنے آتا اُسے کھانا لے کر دیتے۔ کئی بچوں کو کھانا لے کر دیا۔ ایک عورت نے کہا کہ اس کا بچہ بیمار ہے۔ مربی صاحب فوراً اس کے ساتھ فارمیسی میں گئے اور دوا لے کر دی، یہی نہیں بلکہ بچے کے لیے دودھ اور خوراک بھی خرید کر دی۔یہ سلوک تبلیغی کام میں بھی ممد و معاون ثابت ہوا۔ ایک اچھے مبلغ کے لیے یہ وصف بہت ضروری ہے۔

۲۱؍مئی کو یونان کے ایک اَور شہر الیگز ینڈرو پولی پہنچے اور فلائرز تقسیم کرنے شروع کیے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو تیز بارش ہو رہی تھی جو کچھ دیر کے بعد تھم گئی اور ہم نے فوراً فلائرز کی تقسیم کا کام شروع کر دیا۔ مکرم مربی صاحب نے ڈیمو کریسی سٹریٹ پر کھڑے ہو کر لیف لیٹس تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا جو بالکل درست تھا۔ مکرم مربی صاحب اور خاکسار سٹی ہال کے سامنے کھڑے ہو گئے جبکہ مکرم کمانڈر ایاز محمود صاحب اگلے چوک میں کھڑے ہو گئے۔مکرم منصور طارق صاحب اور عاطف چودھری صاحب نے لیٹر بکس میں ڈالنے کی ڈیوٹی سنبھال لی۔ مکرم کمانڈر صاحب کے فلائرز خوب نکل رہے تھے جبکہ میرا کاروبار مندا تھا۔ کچھ دیر کے بعد یہاں بھی رونق بڑھ گئی اور کام چل نکلا۔ یہاں بھی کسانتھی والا حال تھا کہ لوگ غم و غصے کا اظہار بھی کرتے اور یہ بھی پوچھتے کہ ہم ایسا کیوں کر رہے ہیں؟یہاں بھی یہ نظارہ دیکھنے میں آیا کہ آغاز میں اگر رویّہ سخت تھا تو بعد میں بدل بھی گیا۔ ایک شخص کو مکرم مربی صاحب نے فلائر پیش کیا تو اس نے نہایت حقارت سے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مربی صاحب نے انتہائی خندہ دلی سے جُھک کر کہا ٹھیک ہے جناب عالی آپ نہ لیں۔ کچھ دیر بعد وہ واپس لوٹا، اب بھی وہ غصہ میں تھا اور پوچھنے لگا کہ ہم کیوں ایسا کر رہے ہیں؟مکرم مربی صاحب نے پوچھا آپ یہ بتائیں کہ امن و آشتی کی طرف بلانا کیا غلط کام ہے؟ چند لمحے وہ بات کرتا رہا اور پھر اچانک ایسا بدلا کہ فلائر بھی لیا اور مربی صاحب کا کندھا تھپکا کر کہنے لگا ’’ بہت اچھا کام کر رہے ہیں آپ۔‘‘ ہم جہاں کھڑے تھے وہاں بہت سی دکانیں بھی تھیں۔ ایک ترک خاتون جو غالباً کسی دکان کی مالک تھیں وہ باہر آئیں اور کہا کہ میں آپ کو دیکھ رہی ہوں کہ آپ کچھ تقسیم کر رہے ہیں پھر مجھے کسی نے بتایا کہ مسلمان لوگ امن کا پرچار کر رہے ہیں تو مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ مسلما نوں میں سے کوئی ایسے بھی ہیں جو دنیا کو امن و سلامتی کی طرف بلا رہے ہیں۔ مجھے آپ چند فلائرز دیں۔ مَیں بھی کسی کو دینا چاہتی ہوں۔اُس کے چہرے سے خوشی و انبساط کی کیفیت عیاں تھی۔عربی، تُرک مسلمان بھی کثرت سے آئے۔ کیرالہ (انڈیا ) سے ایک نوجوان جو یہاں تعلیم حاصل کر رہا ہے نے بھی جماعت احمدیہ کے بارے میں تفصیلی معلو مات حاصل کیں۔یہاں کے ایک اخبار نے ہمارے جانے کے بعد ایک زہر آلود آرٹیکل شائع کیا کہ یہ جماعت امن کا دعویٰ اور پرچار کرتی ہے مگر در حقیقت امن کے نام پر فساد پھیلاتی ہے۔حالانکہ جماعت احمدیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی ظلم و تشدّد کے مقابل ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ
’’لیا ظلم کا عفو سے انتقام‘‘
الیگزنڈرو پولی بھی ساحلی شہر ہے اور قدرتی حُسن سے مالا مال ہے لیکن ہمارے پاس وقت نہ تھا کہ اس شہر کی سیر کر سکیں۔ ہم یہاں کے باشندوں کو حُسنِ لا زوال سے متعارف کروانے آئے تھے لہذ ا شہر پر سر سری نظر ڈالی اور چل پڑے۔
سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا
۲۲؍مئی کو ایک اور شہر کموتینی میں وارد ہوئے اور کموتینی کے ’’ امن سکوائر ‘‘ میں حسبِ معمول اپنی امن مہم کا آغاز کیا اور لیف لیٹس کی تقسیم شروع کی۔ یہاں بھی وہی تجربہ ہوا اور دونوں ردِّ عمل دیکھنے کو ملےجس کے ہم عادی ہو چکے تھے۔ اس شہر میں تُرک مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور مساجد بھی ہیں جہاں سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے جو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے اور یورپ میں اس آواز کے سننے کو کان ترستے ہیں۔
سحر ہوتا ہے روح پر طاری
جب ترنم اذاں سے اُٹھتا ہے
یہاں ہم نے ایک مسجد دیکھی جو ۱۶۰۰ عیسوی میں تعمیر کی گئی تھی۔اس مسجد پر پُرانے تُرکی رسم الخط میں عبارات درج تھیں جب یہ زبان عربی یا فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ کموتینی شہر میں بشپ آف مارو نیاس و کمو تینی جناب پاندیلیئیمو ناس صاحب سے بھی ملاقات ہوئی اور ان کی خدمت میں قرآنِ کریم اور دیگر لٹریچر پیش کیا گیا اور ایک تصویر بھی بنائی گئی۔ اس روز کے پروگرام میں یہاں کے قریبی گاؤں ’’ آ رِ ضوی ‘‘ کا دورہ بھی شامل تھا جہاں ہماری نہایت ہی مخلص تُرک احمدی بہن محترمہ لا لے صاحبہ اپنی بڑی ہمشیرہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے اصرار کر کے بُلایا تھا۔ مربی صاحب نے کہا کہ آپ نے کوئی تکّلف نہیں کرنا صرف چائے پیئیں گے۔ گاؤں پہنچ کر ایک تُرک مسجد میں مکرم مربی صاحب کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی۔ مقامی لوگ اوّل وقت میں جمعہ پڑھ چکے تھے۔ اس کے بعد تُرک بہنوں کے ہاں پہنچے۔ السلام علیکم کی بلند آواز سے ہمارا استقبال ہوا اور پھر وہی ہوا جس کی مربی صاحب نے پہلے ہی خبر دے دی تھی یعنی پُرتکلف کھانا تیار تھا۔ مربی صاحب نے کہا کہ آپ نے تو چائے کا انتظام کرنا تھا کہنے لگیں کہ ’’چائے بھی تیا ر ہے بس پہلے کھانا کھا لیں ‘‘ مربی صاحب نے سر پکڑ لیا اور کہا کہ میں نے آپ سے درخواست کی تھی صرف چائے ہو گی، چھوٹی بہن کہنے لگی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی دور سے احمدی بھائی آئیں اور ہم کھانا پیش نہ کریں۔ کھانے کے دوران چھوٹی بہن محترمہ لالے صاحبہ ہمہ وقت حضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں پوچھتی رہی۔ حضورِ انور کا نام لیتے وقت اس کی آواز بھراجا تی اور آنکھیں بھیگ جاتیں جسے وہ ہاتھ سے پونچھتی جاتی۔ اس دور دراز علاقے میں خلافت سے ایسا قریبی تعلق اور ایسی محبت اور ایسا اخلاص، یہ محض خدا کی عطا ہے۔
ہمیں نہیں عطر کی ضرورت کہ اس کی خوشبو ہے چند روزہ
بُوئے محبت سے اس کی اپنے دماغ و دل کو بسائیں گے ہم
میں تو اپنے حال پر شرمندہ تھا۔ تین خلفائے عظام کو قریب سے دیکھا مگر وہ قدر نہ کی جو اس عظیم منصب کا حق تھا اور یہ بھی نہ سوچا کہ جو نعمت ہمیں حاصل ہے دوسرے اُس کو ترستے ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا انڈونیشیا کا دورہ یاد آیا۔ پہلی بار خلیفۂ وقت کو دیکھ کر لوگ دیوانے اور بے خود ہوئے جا رہے تھے۔والدین بچوں کو کندھے پر اُٹھا کر کہہ رہے تھے کہ خلیفۂ وقت کو دیکھ لو۔
پھر خدا جانے کہ کب آویں یہ دن اور یہ بہار
آج وہ بچے جوان ہو چکے ہیں اور بجا طور پر اُن آنکھوں پر فخر کر سکتے ہیں جنہوں نے خلیفۂ وقت کو دیکھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ جب افریقہ کے ممالک کے دورے پر تشریف لے گئے تو بھی بہت سے ایسے نظارے دیکھنے کو ملے۔ ایک افریقن عورت کا واقعہ تو حضورِ انور نے خود بیان فرمایا کہ ایک عورت بچے کو اُٹھائے حضورِانور کی گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتی رہی تا بچہ حضورِ انور کے چہرۂ مبارک کو اچھی طرح دیکھ لے۔ اور جب تک بچے نے حضور انور ایّدہ اللہ کو دیکھ نہ لیا تب تک وہ ماں بے قراری سے گاڑی کے ساتھ بھا گتی ہی رہی۔
اللہ اللہ جہاں محبت کا
دوریوں میں ہیں قربتیں کیسی
بات دور نکل گئی۔ تُرک بہنوں کے اخلاص کی بات ہو رہی تھی اور ان کا ایمان و اخلاص ہمیں شرمندہ کر رہا تھا کہ بعد میں آ نے والے ا خلاص و محبت اور ایمان و عمل میں ہم سے کہیں آگے نکل گئے۔اچانک مجھے خیال آیا کہ جرمنی میں ہمارے نہایت مخلص احمدی بھائی مکرم چنگیز وارلی صاحب سے ان کی بات کرواؤں جو کہ جرمنی جماعت کے نیشنل سیکرٹری نو مبائعین بھی ہیں۔ ان کو ویڈیو کال کی اور پھر ان سے بات کروائی۔ ہم یونانی اور تُرکی دونوں زبانوں سے نا بلد تھے۔ مکرم چنگیز صاحب نے ان بہنوں کو جرمنی کے جلسہ میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔ اب تو ان بہنوں کی خوشی دوبالا ہو گئی۔ جب ہم رخصت ہونے لگے تو انہوں نے پانچ بیگ بطور تحفہ پیش کیے جس میں تحفہ کے علاوہ شام کا کھانا بھی تیار کر کے رکھ دیا۔ اب تو کہنے کو بھی کچھ باقی نہ رہا تھا۔
۲۳؍مئی ہمارے قیام کا آخری دن تھا۔ اس روز ہم پھر تھیسا لونیکی کی طرف روانہ ہوئے یہیں سے اگلے روز ہماری واپسی کی فلائٹ تھی۔راستے میں تھوڑی دیر کے لیے ’’کوالہ ‘‘ میں رُکے جو نہایت ہی خوبصورت ساحلی شہر ہے۔ سارا یونان ہی قدرتی حُسن سے مالا مال ہے اور قدرت نے اسے حُسن سے وافر حصہ عطا کیا ہے۔ اللہ تعا لیٰ اس ملک کے باشندوں کو روحانی اور دائمی حُسن سے بھی مزین فرمائے۔ آمین
پہلا پہر سیر میں گزارا اور شام کو بر لبِ ساحل پھر پیغامِ امن کی تقسیم کا کام شروع ہوا۔ آہستہ آہستہ بھیڑ بڑھتی گئی اور پھر تو یہ عالم تھا کہ کھوّے سے کھوا چھلتا تھا اور سروں پر تھالی چل سکتی تھی۔ ہم دو ٹیموں میں یوں تقسیم ہو گئے کہ ساحل کی سیر کو آنے والے ہمار ے درمیان سے گزرتے اور یوں ہم تیزی سے فلائرز تقسیم کرنے لگے اور دیکھتے دیکھتے بہت سے فلائرز تقسیم ہو گئے اور پھر اچانک ایسی گھنگھور گھٹا اُٹھی جس نے لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کر دیا اور ہم بھی سامان سمیٹنے لگے۔ گاڑی میں سوار ہوتے ہوتے ہم سر سے پاؤں تک بھیگ گئے۔ لیکن جاتے جاتے بھی فلائرز بانٹے جاتے تھے۔ لوگ بھی ہماری حالت پر خندہ زن تھے اور ہم خود بھی۔ لیکن ہم خوش تھے کہ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خدمت کا یہ موقع عطا فرمایا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک
پانچ روز کے اس دورے کے دوران دس ہزار سے زائد فلائرز تقسیم کیے گئے اور اخبارات اور سوشل میڈیا پر اس مہم کے چرچے کی بدولت تقر یباً اسّی ہزار افراد تک یہ پیغام پہنچا۔ اللہ تعالیٰ ہمار ی یہ حقیر کوشش قبول فرمائے اور اس کے اچھے نتائج پیدا کرے اور نیک ثمرات سے نوازے اور یونانی قوم اور دنیا کی دیگر قوموں کو بھی ہدایت نصیب کرےاور حقیقی اور دائمی امن و سکون عطا فرمائے۔آمین
تیرے قبضے میں ہے یہ نظامِ جہاں، تُو جو چاہے تو صحرا بنے گُلستاں
ہر نظر پر تیری پھول کِھلتے رہیں ہر اشارے پہ موسم بدلتا رہے
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خلیفہ خدا بناتا ہے




