کلام حضرت مسیح موعود ؑ

مَیں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں

(منظوم کلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام )

مَیں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں
جس کو تو نے کردیا ہے قوم و دیں کا افتخار

فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار
سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم برقرار

عزت و ذِلّت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں
تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور بادِ بہار

میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا
کون جانے اے مرے مالک ترے بھیدوں کی سار

تیرے اے میرے مُربی کیا عجائب کام ہیں
گرچہ بھاگیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار

اِبتدا سے گوشۂ خلوت رہا مُجھ کو پسند
شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار

پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا
میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار

اِس میں میرا جُرم کیا جب مجھ کو یہ فرماں ملا
کون ہوں تا رد کروں حکمِ شہِ ذِی الاقتدار

اب تو جو فرماں مِلا اس کا ادا کرنا ہے کام
گرچہ مَیں ہوں بس ضعیف و ناتواں و دِل فگار

دعوتِ ہر ہَرْزَہ گو کچھ خدمتِ آساں نہیں
ہر قدم میں کوہِ ماراں ہر گذر میں دشتِ خار

(براہین احمدیہ حِصّہ پنجم ، روحانی خزائن جلد۲۱صفحہ ۹۷)

مزید پڑھیں: ضرورتِ الہام

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button