محترم سید محمد اشرف شاہ صاحب
(سابق صدر جماعت احمدیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ)
اور والدہ محترمہ سیّدہ منیرہ بیگم صاحبہ کا ذکرخیر
تھا ندائے دین احمد احمدیت کا سفیر
ہوگیا نظروںسے اوجھل ایک سلطانِ نصیر
آج میں اپنے پیارے ابا جان کی یاد میں کچھ لکھنا چاہ رہی ہوں تو آنکھوں سے آنسو رواں ہیں اوردل یہ تسلیم کرنے سےابھی قاصر ہے کہ وہ وجود جو ہم سب کا پیارا تھا جس نے ہمیشہ ہمارے ساتھ بے انتہا محبت و شفقت اور دعاؤں کے خزانے لٹائے وہ قیمتی وجود اب ہمارے درمیان نہیں۔
ابا جان کی وفات ۱۸؍دسمبر ۲۰۰۵ء میں ہوئی۔ اتنےسال کا عرصہ میرے لیے بڑا بےچینی والا رہا۔ ہمارے ماں باپ بہت پیارے وجود تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کی نیکیوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بچپن سے لےکر اب تک ابا جان کے ساتھ بیتے ہوئے دنوں کی بہت سی خوبصورت اور سنہری یادیں ہیں جس پر لکھنے بیٹھوں تو ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے لیکن کوشش کر رہی ہوں کے چند باتیں بیان کروں۔
میرےوالدمحترم سید محمد اشرف شاہ صاحب پیدائشی احمدی تھے۔ دادا جان کا نام محترم غلام احمد شاہ صاحب تھا۔ ابا جان کی عمر آٹھ سال ہوگی جب ان کے والد صاحب انتقال کرگئے اور ان کے سرسے والد کا سایہ اُٹھ گیا۔محترم ابا جان دو بہن بھائی تھے۔ ایک بہن جن کا نام مکرمہ امۃ القیوم صاحبہ اہلیہ چودھری احمد الدین گوجرہ تھا۔ وہ ۱۹۹۰ء میں وفات پا گئی تھیں۔ وہ ابا جان سے چھوٹی تھیں۔ دو پھوپھیاں تھیں۔ حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقاپوریؓ ابا جان کے رشتہ میں پھوپھا لگتے تھے۔ ایک پھوپھی حضرت مولانا محمدابراہیم بقاپوریؓ صاحب کی اہلیہ امۃ الحفیظ بقاپوری صاحبہ تھیں جو ابا جان کو بہت پیار کرتی تھیں۔ اکثر ہمارے پاس ربوہ سے ٹوبہ ٹیک سنگھ آکر رہتی تھیں۔
ہم خوش قسمت ہیں جن کو اتنے پیارے وجودوںکی خدمت کا موقع ملا۔ ان کے ساتھ کچھ یادیں وابستہ ہیں ۔ امی جان ان کی خدمت بڑی خوشی سے کرتیں، ان کو صبح ناشتہ جلدی دیتیں جس میں اکثراُبلا ہوا انڈا اور ساتھ میں دودھ ہوتا تھا۔جب تک ناشتہ نہیں ہوجاتا تھا اُتنی دیر ساتھ بیٹھ کر بڑی اچھی باتیں کرتی رہتیں۔ ہم بہنیں چھوٹی تھیں تو امی جان اکثر کہتیں کہ سکول سے آکر اپنی دادی جان کے پاس بیٹھا کرو ،ان کی باتیں سنا کرو۔ اور پھر ہم سب بہنوں کی کوشش ہوتی کہ ان کی خدمت کریں ان کے پاس بیٹھیں۔ ابا جان صبح کام پر جانے سے قبل اپنی پھوپھی جان یعنی محترمہ امۃالحفیظ بقاپوری صاحبہ کی دعائیں لے کرانہیں ضرور مل کر جاتے اور شام کو آتے ہی ان کے پاس ضرور آکر بیٹھتے اور خدمت کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ہم سب بہن بھائی گھر میں انہیں دادی جان کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔
یہاں پر میں اپنی پیاری امی جان کا بھی ذکر خیر کرنا چاہتی ہوں۔ جتنا عرصہ ابا جان کے ساتھ گزرا ہر قسم کے حالات میں ان کاساتھ دیا۔ امی جان نے ہم سب بہنوں کی ٹریننگ اباجان کے کام کے سلسلہ میں خوب کی ہوئی تھی۔ابا جان تحصیل میں عرائض نویس تھے۔ صبح ناشتہ جلدی کرواتیں تاکہ وقت پر کام پر جائیں کیونکہ ابا جان کے پاس گاؤں سے لوگ کام کے سلسلہ میں آتے تھے۔انہیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ دوپہر کو کھانا ٹائم پر بھجوانا۔ ساتھ دو تین لوگوں کا زیادہ کھانا بھجواتی تھیں۔ شام کو اباجان گھر آتے تو کھاناانہیںتیار ملتا تھا۔ہماری امی جان سیدہ منیرہ بیگم صاحبہ نے والد صاحب کی بہت خدمت کی۔ ابا جان کا بہت خیال کرتی تھیں۔ اباجان کھانا بہت سادہ اور صاف ستھرا کھاتے۔ صفائی کا بہت خیال رکھتےتھے۔ پیاری امی جان کی ان خوبیوں کی وجہ سے ابا جان کے دل میں ان کےلیے ایک مقام تھا۔ ان کی بےمثال قربانیوں کا تذکرہ بڑی محبت سے کرتے تھے۔ ہمارے ابا جان نے وقت کی قدر کو صحیح رنگ میں پہچانا۔ ساری ساری رات کام میں مصروف رہتےتھے۔ خلیفہ وقت کو خطوط کا سلسلہ بڑی پابندی سے جاری رکھا۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مسجد کے مشہور کیس میں افراد خاندان اور احباب جماعت ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ہمراہ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ جھنگ کی جیل میں چند ہفتے قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اپنے ذاتی کام سےفراغت کے بعدمختلف جماعتی عہدے ہونے کی وجہ سے دن رات جماعتی کاموں میں مصروف رہتے تھے۔ مرکز سے آنے والے مربیان، انسپکٹران کی خاطر تواضع اور مہمان نوازی کابےحد خیال رکھتے۔
خلافت احمدیہ ان کی جان تھی۔ ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں خلافت کی برکت سے ہیں۔خود بھی حضور انور کو دُعا کے لیے خط لکھتے اور ہمیںبھی حضور انور کو خط لکھنے کے لیے نصیحت کرتے۔آپ کہا کرتے کہ حضور انور کی دعائیں عرش تک پہنچتی ہیں۔ ابا جان خلافت کے نتیجہ میں ملنے والے انعامات کا اکثر ذکر کرتے تھے۔ ساتھ ہی سبحان اللہ اور الحمد للہ کا ورِد کرتے۔
آپ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت میں جہاں سادگی و عاجزی تھی وہیں رُعب بھی تھا۔ جمعہ کے دن صبح سے ہی جمعہ کی تیاری میں لگ جاتے۔ پابندی سے بروقت جمعہ پڑھاتے۔ آپ کا مطالعہ حد درجہ وسیع تھا۔ آپ کہا کرتے کہ کتابیں میری افضل غذا ہے گھر میں کوئی نئی کتاب لاتے تو اس کو باری باری پڑھنے کو کہتے ۔
جب بھی ربوہ جاتے بہت سی کتابیں خرید کر لاتے۔ ان کی وفات کے بعد جب میں ان کی کتابیں دیکھتی توہر کتاب کے اوپر نام لکھا ہوتا تھا۔ ساتھ ہی کتاب خرید کی رسید بھی چسپاں ہوتی تھی۔ ابا جان اور امی جان کے وجود اتنے پیارے تھے جن کی کمی آج ہمارے خاندان کا ہر فرد محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر بے شمار رحمتیں اور فضل نازل فرمائے اور ہم سب کو بھی انہی کی طرح سلسلہ کی خدمت کا حق ا دا کرنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بلانے والا ہے سب سے پیارا اُسی پہ اے دل تو جاں فدا کر
(سیدہ آنسہ مبشر، گلاسگو ساؤتھ سکاٹ لینڈ)
مزید پڑھیں: حضرت مولانا حکیم فضل الرحمٰن صاحب۔ مبلغ افریقہ




