محترم ماسٹر منیر احمد صاحب آف جھنگ
ایک نافع الناس وجود اور جماعت احمدیہ کا فدائی خدمت گار

جھنگ سے تعلق رکھنے والے ایک نافع الناس وجود، منفرد شخصیت کے مالک، جماعت کے فدائی خدمت گار محترم ماسٹر منیر احمد صاحب نے مورخہ ۱۴؍ستمبر ۲۰۲۴ء کو ۸۲؍سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا اور بہشتی مقبرہ دارالفضل ربوہ میں آسودۂ خاک ہوئے۔ جماعتی اور ذیلی تنظیموں مجلس خدام الاحمدیہ و مجلس انصاراللہ میں آپ کی خدمات کا عرصہ تقریباً نصف صدی تک محیط ہے۔ ماسٹر منیر احمد صاحب سے میرا تعلق بیس سال سے زائد عرصہ تک رہا۔
ماسٹر منیر احمد صاحب ۲۵؍جنوری ۱۹۴۲ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ (سرکاری ریکارڈ میں آپ کی پیدائش ۱۳؍مارچ۱۹۴۴ء درج ہے) آپ پیدائشی احمدی تھے۔ آپ کے والد کا نام میاں غلام محمد صاحب اور والدہ کا نام دولت بی بی صاحبہ تھا۔ آپ کے والد محترم میاں غلام محمد صاحب المعروف بھٹے والے نے ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ قادیان جا کر حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔ آپ کے والد محترم نے پولیس میں ملازمت کی اور پھر ذاتی کاروبار بھی کرتے رہے۔ آپ محلہ یابو والا جھنگ کے رہنے والے تھے۔ آپ تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔آپ کا کمپیوٹر کوڈ ۱۲۶۳؍ہے۔ ماسٹر منیر احمد صاحب نے اپنے والد کے چندے کو جاری رکھا ہوا تھا۔ آپ کے والد اللہ کے فضل سے موصی تھے۔انہوں نے ۱۹۹۰ء میں وفات پائی۔ ان کی اولاد میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔
ماسٹر منیر احمد صاحب نے میٹرک کے بعد JV اور پھر ایف اے کے بعد سی ٹی کیا اور ۱۹۶۵ء میں گورنمنٹ پرائمری ٹیچر بھرتی ہو گئے۔ تمام عرصہ ملازمت میونسپل کمیٹی کے سکولز میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور ۲۰۰۴ءمیں ریٹائرڈ ہوگئے۔ ماسٹر منیر احمد صاحب کی پہلی شادی چند سال بعد علیحدگی پر منتج ہوئی۔ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۳ء کو آپ کی دوسری شادی مکرمہ نصرت جہاں صاحبہ بنت شیخ محمد عبداللہ مقرب صاحب آف ربوہ سے ہوئی۔ آپ کی اہلیہ بھی گورنمنٹ سکول میں ٹیچر تھیں۔ انہوں نے ماسٹر صاحب کا خوب ساتھ نبھایا اور جماعتی خدمت اور خدمت خلق میں آپ کے ساتھ ساتھ رہیں۔ وہ نائب صدر لجنہ اماء اللہ جھنگ کے طور پر کئی سال خدمت کرتی رہیں۔ضلع کے دورہ جات میں بھی وہ ساتھ جاتی تھیں۔ آپ کا گھر مِنی دارالضیافت کہلاتا تھا۔ بہت سے بچے بچیاں امتحانات کے لیے آپ کے گھر قیام کرتے تو آپ کی اہلیہ ان کی اور دیگر جماعتی مہمانان کی بے لوث مہمان نوازی کرتی تھیں۔ راقم الحروف بھی متعدد بار دورہ جات کے دوران آپ کے ہاں مہمان نوازی سے مستفیض ہو چکا ہے۔ ۱۹۹۹ء میں ماسٹر صاحب اور ان کی اہلیہ کو مشترکہ طور پر ایک عظیم الشان سعادت نصیب ہوئی۔ وہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ جن دنوں اسیری کے دوران جھنگ جیل میں تھے ان ایام میں اسیران راہ مولیٰ کے لیے آپ کے گھر سے کھانا تیار ہو کر جایا کرتا تھا۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
آپ کی اہلیہ نصرت جہاں صاحبہ بیماری کے آخری تین سال دارالصدر جنوبی ربوہ میں واقع اپنے گھر آگئی تھیں۔ ماسٹر صاحب کو ان کی بیماری میں ان کی بھر پور خدمت کی توفیق ملی۔ آپ کی اہلیہ نے ۱۹؍نومبر ۲۰۱۹ء کو وفات پائی اور تدفین احمدیہ قبرستان جھنگ میں ہوئی۔ماسٹر منیر احمد صاحب کی اولاد نہیں تھی۔
جماعتی و تنظیمی خدمات: ماسٹر منیر احمد صاحب نے باقاعدہ جماعتی خدمات کا آغاز مجلس خدام الاحمدیہ سے کیا۔ آپ ۱۹۷۷ء سے ۱۹۸۲ء تک نائب قائد ضلع جھنگ رہے۔ پھر ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۸ء تک قائد ضلع جھنگ کے طور پر خدمات کا موقع ملا۔ آپ ۱۹۹۱ء میں ناظم مجلس انصاراللہ ضلع جھنگ مقرر ہوئے اور ۲۰۰۷ء تک ناظم ضلع رہے۔ ۲۰۱۳ء تا ۲۰۱۵ء دوبارہ ناظم ضلع رہے۔پھر آپ ۲۰۱۶ء میں اہلیہ کی بیماری کی وجہ سےربوہ آگئے تو ۲۰۱۷ء سے ۲۰۱۸ء ناظم اعلیٰ ضلع چنیوٹ رہے۔ ۲۰۱۹ء میں آپ کو نائب قائد ایثار برائے بہبودئ اسیران مقرر کیا گیا۔
جماعتی خدمات میں آپ سیکرٹری امور عامہ ضلع جھنگ، سیکرٹری رشتہ ناطہ جھنگ اور پانچ سال تک نائب امیر ضلع جھنگ بھی خدمت کرتے رہے۔ جھنگ کے چپے چپے سے واقف تھے اور تقریباً جھنگ کے تمام احمدی خاندانوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔

بہبودئ اسیران: ماسٹر منیر احمد صاحب کی خدمت خلق کے لیے ایک نمایاں میدان بہبودئ اسیران تھا۔ یہ دو طرح کی خدمات تھیں۔ عام اسیران کی فلاح و بہبود کے لیے رابطہ کا کردار ادا کرتے رہے اور اسیران راہ مولیٰ کے لیے بھی سہولت و خدمت کے کام سر انجام دیتے رہے۔ ماسٹر صاحب چونکہ گورنمنٹ ٹیچر تھے اس وجہ سے سرکاری محکموں میں آپ کے شاگرد موجود تھے۔ آپ نے ان تعلقات کا جائز فائدہ احباب جماعت کو پہنچایا اور دکھی انسانیت کی خدمت میں بھی ان تعلقات کو بروئے کار لائے۔ جیل خانہ جات بالخصوص جھنگ جیل میں آپ کے اچھے تعلقات تھے۔ چنانچہ اسیران کی بہبود کے لیے جماعتی اداروں کی طرف سے امداد بہم پہنچانے کے لیے آپ سہولت کار کا کردار ادا کرتے رہے۔ جیل میں قیدیوں کی سہولیات کے لیے جماعت کو بہت سے مواقع بالخصوص عیدین پر خدمت کا موقع ملتا۔ اسی طرح گرمیوں میں پنکھوں وغیرہ کی دستیابی اور دیگر بہبود کے کاموں میں آپ جماعتی وفود کے ساتھ پیش پیش ہوتے تھے۔
جیسا پہلے ذکر ہوا ۱۹۹۹ء میں ہمارے موجودہ امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو اس وقت ناظر اعلیٰ و امیر مقامی تھے ایک مقدمے میں اسیر ہو کر جھنگ جیل رہے۔ آپ کے ساتھ دوسرے عہدے داران جماعت بھی اسیر تھے۔ ان اسیران کی بھر پور خدمت کی توفیق محترم ماسٹر منیر احمد صاحب کو ملی۔ جماعتی وفود کی ملاقاتیں کروانا۔ ان کو گھر سے کھانا پہنچانا۔ تینوں وقت کا کھانا ماسٹر صاحب خود لے کر جاتے اور اسیران سے ملاقات بھی ہوتی تھی۔ فیملی ملاقاتیں بھی کروائیں۔ الغرض یہ غیرمعمولی اور تاریخی سعادت آپ کے حصے میں آئی۔
جھنگ جیل کے علاوہ فیصل آباد، شیخوپورہ، ساہیوال، گجرات، رحیم یار خان، جہلم، میانوالی، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گوجرانوالہ جہاں بھی اسیران راہ مولیٰ رہے ان کی خدمت اور عام اسیران کی بہبود کے لیے بھر پور خدمات کا موقع ملا۔ ذمہ داران جیل خانہ جات سے آپ کے اچھے تعلقات تھے۔
تعلقات عامہ: ماسٹر منیر احمد صاحب کے تعلقاتِ عامہ کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ ربوہ چونکہ ضلع جھنگ کا حصہ تھااور پھر چنیوٹ ضلع بنا تو ربوہ بھی چنیوٹ میں شامل ہو گیا۔ جب تک جھنگ ربوہ کا ضلع تھا تب تک سرکاری کاموں کے لیے احباب جماعت اور جماعتی ادارہ جات کو بھی جھنگ کے سرکاری دفاتر سے واسطہ رہتا تھا۔ جھنگ جاتے وقت لوگوں کی نظریں ماسٹر منیر احمد صاحب پر مرکوذ ہوا کرتی تھیں۔
ربوہ اور دیگر جماعتوں کے لوگ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، شعبہ ایجوکیشن اور دوسرے دفاتر میں کام کی غرض سے جاتے تو ماسٹر منیر احمد صاحب ان کی خدمت اور تعاون کے لیے تیار ہوتے تھے۔ بہت سی بچیاں امتحانات کی خاطر ایک ایک ماہ تک بھی جھنگ میں قیام کرتیں اور ماسٹر صاحب کے گھر میں رہائش رکھتیں۔ ان کی ضیافت کی ذمہ داری ماسٹر صاحب اور ان کی اہلیہ بخوشی ادا کرتی رہیں۔
ربوہ سے جنوبی پنجاب اور سندھ جانے والے جماعتی وفود کا ماسٹر صاحب کو علم ہو جاتا تو آپ ان کو آتےجاتے وقت اصرار کے ساتھ اپنے ہاں مہمان بناتے اور ضیافت کرتے۔ خدمت کے کئی مواقع آپ خود پیدا کر لیا کرتے تھے اور اس میں راحت محسوس کرتے۔ مہمانان کرام جہاں آپ کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے وہاں ماسٹر صاحب کی حس مزاح اور بذلہ سنجی سے بھی محظوظ ہوتے تھے۔
جماعت کے مختلف کام جن کا تعلق ضلعی سرکاری دفاتر کے ساتھ ہوتا ہے ان کاموں کی سر انجام دہی آپ کے ذمہ تھی اور آپ یہ خاموش خدمات کئی سال تک بجا لاتے رہے۔ ربوہ کی بہت تعداد میں سکول ٹیچرز کے دفتری امور ترقی، رخصت اور پنشن کے معاملات کے لیےآپ ان سے تعاون کرتے اور کئی خواتین ٹیچرز ان کاموں کے سلسلہ میں آپ کے گھر کی رہائش اور ضیافت سے بھی استفادہ کرتی رہیں۔ آپ اور آپ کی اہلیہ خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔
دو طرفہ محبت: ماسٹر منیر احمد صاحب احباب جماعت، واقفین زندگی، جماعتی عہدے داران کے ساتھ بہت محبت رکھتے اور اپنی بزلہ سنج طبیعت سے انہیں ترو تازہ رکھتے تھے۔ جماعتی عہدے داران بھی آپ سے بہت محبت اور شفقت کا سلوک کرتے تھے اور اخلاص و محبت کا تعلق رکھتے تھے۔ اس کی ایک مثال تحریر کرتا ہوں۔ جن دنوں آپ کی اہلیہ بیمار تھیں اور طاہر ہارٹ میں ان کے ڈائیلسز ہو رہے تھے تو ماسٹر منیر احمد صاحب اپنی اہلیہ کی خدمت پر ہمہ وقت موجود رہتے تھے۔ گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے ماسٹر صاحب سے پیدل چلنا اور آنا جانا مشکل تھا۔ ہسپتال کے احاطے کے اندر موٹرسائیکل لے جانے کی اجازت نہیں تھی تاہم آپ مجبوری بتا کر لے جاتے تھے۔ایک روز سٹاف نےاجازت نہیں دی۔ آپ نے اس بارے میں محترم ڈاکٹر محمد مسعودالحسن نوری صاحب سے عرض کیا۔ محترم ڈاکٹر نوری صاحب نے سیکیورٹی سٹاف کے نام اپنے پیڈ پر ایک خط لکھ کر ماسٹر صاحب کودے دیا۔ یہ خط میں نے خود بھی پڑھا ہے۔ اس میں لکھا تھا: ’’مکرم و محترم ماسٹر منیر احمد صاحب کا موٹر سائیکل اندر کھڑا کرنے کی اجازت ہے۔ اگر جگہ کی کمی ہو تو خاکسار کی گاڑی باہر پارک کریں اور ان کو جگہ دیں۔جزاکم اللہ
(شدید گھٹنوں کی تکلیف ہے) (دستخط مسعود الحسن نوری)‘‘
یہ اس محبت کا اظہار تھا جو احباب جماعت کے دل میں ماسٹر صاحب کے لیے تھی اور اس محبت کے پیچھے ماسٹر منیر احمد صاحب کی طویل اور بے لوث جماعتی اور عوامی خدمات کارفرما تھیں۔
قادیان سے محبت: محترم ماسٹر منیر احمد صاحب کی سیرت کا ایک پہلو قادیان دارالامان سے والہانہ محبت تھی۔ آپ ہرسال قادیان جلسہ میں شرکت کے لیے انتظار میں رہتے اور ڈیوٹی گروپ میں بھی شامل ہو جاتے تھے۔ خاکسار چونکہ شعبہ حاضری و نگرانی کارکنان جلسہ سے منسلک رہا ہے تو آپ کی خواہش اور کوشش ہوتی کہ ڈیوٹی گروپ میں شامل ہو کر جلسہ بھی دیکھیں اور خدمت بھی کریں۔ تاریخی جلسہ سالانہ ۲۰۰۵ء کے موقع پر جب حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قادیان تشریف لائے تو اس موقع پر ماسٹر منیر احمد صاحب کو بھی شمولیت اور شعبہ حاضر ی و نگرانی کارکنان میں ڈیوٹی کی سعادت ملی تھی۔ آپ قادیان سے بہت سے تحائف خریدتے اور واپس آکر اپنے وسیع حلقہ احباب جن میں مختلف افراد شامل ہوتےان میں تقسیم کرتے۔ قادیان میں بھی آپ نے بہت لوگوں سے پیار محبت اور اخوت کا تعلق رکھا ہوا تھا۔ ان کے لیے یہاں سے تحائف لے جاتے تھے۔
علاقے کی گہری واقفیت: آپ کو مجلس خدام الاحمدیہ، مجلس انصاراللہ اور جماعتی ضلعی عہدے دار کے طور پر لمبی خدمات کی توفیق ملی۔ اسی وجہ سے آپ ضلع جھنگ کے چپے چپے سے واقف تھے۔ لوگوں کے ساتھ ذاتی تعارف تھا۔ تمام راستوں کا علم رکھتے تھے۔ ۲۰۱۴ء میں خاکسار محترم ناصر احمد شمس صاحب کے ہمراہ جماعت کی طرف سے ضلع جھنگ میں حضرت صاحب کا سلام گھر گھر تمام افراد جماعت کو پہنچانے کے لیے گیا تھا۔ اس موقع پر محترم امیر صاحب ضلع نے ہمارے ساتھ ماسٹر منیر احمد صاحب کو مامور کردیا کہ یہ ضلع بھر کا دورہ کروائیں گے۔ چنانچہ آپ کی معیّت میں یہ فریضہ بہت احسن انداز میں ادا ہو گیا۔ ہم ہر جماعت، ہر ڈیرہ اور موضع میں آسانی کے ساتھ پہنچ جاتے اور احباب کو حضور کا سلام پہنچاتے۔ محترم ماسٹر صاحب کی موجودگی کی وجہ سے بہت سہولت اور آسانی پیدا ہو گئی تھی۔ اس وقت اندازہ ہوا کہ آپ کا ضلع کی جماعتوں اور احباب سے کس قدر گہرا تعلق اور ان کے حالات سے آگاہی ہے۔
اہلیہ کی بیماری کی وجہ سے آپ کو بھی ربوہ منتقل ہونا پڑا۔ آپ نے اپنی اہلیہ کی بہت خدمت کی اور خوب ساتھ نبھایا۔ ۲۰۱۹ء میں اہلیہ کی وفات کے بعد آپ واپس جھنگ منتقل ہوگئے۔ آپ کو گھٹنوں کی بہت تکلیف تھی۔ آپ کے عزیز و اقارب بالخصوص آپ کے بھتیجے عدیل احمد صاحب نے بیماری میں آپ کی بہت خدمت کی۔ گھٹنوں کی تکلیف کے ساتھ آپ کو یادداشت کی کمزوری کا سامنا بھی شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران بعض دفعہ آپ سے ویڈیو کال ہوتی تو بہت خوش ہوجاتے۔ دسمبر ۲۰۲۱ء میں میرے بیٹے کی شادی تھی۔ آپ کوشادی کا بتایا تو آپ نے اصرار کیا کہ میں نے ولیمہ میں لازمی شامل ہونا ہے۔ چنانچہ آپ اپنے عزیزوں کے ہمراہ خصوصی طور پر ولیمہ میں شمولیت کے لیے جھنگ سے بذریعہ کار ربوہ آئے اور چلنے کے لیے واکر کا استعمال کر رہے تھے۔ یہ آپ سے آخری ملاقات ہی ثابت ہوئی۔ بیماری دن بدن بڑھتی گئی اور آخری ایام میں فالج کا حملہ ہو گیا تھا جس سے حالت بگڑ گئی۔ کئی روز آپ طاہر ہارٹ میں داخل رہے بالآخر تقدیر غالب آئی اور ۱۴ ستمبر ۲۰۲۴ء کو ۸۲ سال کی عمر میں راہی ملک عدم ہو گئے۔اسی روز ربوہ میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نظام وصیت میں شامل تھے۔ بہشتی مقبرہ دارالفضل میں آپ کی تدفین ہوئی۔
آپ کی خوش قسمتی ہے کہ ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ ۲۰؍ستمبر ۲۰۲۴ء میں آپ کا ذکر خیر فرمایا اور پھر نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ماسٹر منیر احمد صاحب کے محاسن بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’بڑے مخلص اور فدائی خادم سلسلہ تھے اور نافع الناس وجود تھے ۔ بطور پرائمری سکول ٹیچر جھنگ میں ملازمت کی اور ہزاروں شاگرد ان کے ہیں جو ان کی بڑی عزت اور احترام کرتے ہیں۔ لوگوں کے بڑے کام آتے رہتے تھے۔ سرکاری دفتروں میں جانے کے لیے یہ لوگوں کے خاص طور پر احمدیوں کے کام کرتے اور نہ صرف کام میں ان کی معاونت کرتے بلکہ اپنے گھر لا کر ان کی مہمان نوازی بھی کرتے ۔ تعلقات عامہ کادائرہ بہت وسیع تھا اور ان تمام تعلقات کو جماعت اور احباب جماعت کی خدمت کے لیے استعمال کرتے تھے ، یہ نہیں کہ ذاتی فائدہ اٹھایا۔ اسیران خواہ وہ جماعتی اسیران ہوں یا غیر جماعتی ان کی بہبود اور خدمت کے لیے کمر بستہ رہتے۔ جیل خانوں کے اہلکاروں سے آپ کے ذاتی مراسم تھے جن سے آپ جماعتی اسیران کی بہبود کا کام لیتے۔ جیلوں میں سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے آپ کے وسیع روابط تھے۔
جب ہم، مَیں اور میرے ساتھی جیل میں تھے تو اس عرصہ میں ہماری بھی بڑی خدمت کی ہے ۔ اور جیلر سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے بعض بڑی سہولتیں بھی ہمیں مہیا کر دیں جو عام قیدیوں کو مہیا نہیں ہوتیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کسی خاص آدمی کی خدمت کرنی ہے۔ چاہے وہ غریب احمدی ہے یا امیر ہے ہر ایک کی خدمت کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے اور عمومی طور پر بھی قیدیوں کی بہبود کے لیے کام کیا کرتے تھے۔
قادیان کے ساتھ بھی آپ کو بہت محبت تھی۔ تقریباً ہر سال آپ قادیان جاتے اور وہاں ڈیوٹیوں میں بھی شامل ہوتے ۔ مرکزی نمائندگان جب ان کے ضلع میں دورے پر جاتے تو وہاں بھی ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے۔ ان پر پمفلٹ تقسیم کرنے کا ایک مقدمہ بھی ۱۹۸۸ء میں قائم ہوا تھا لیکن بہر حال بعد میں وہ خارج ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند فرمائے ۔ ان کی اولاد نہیں تھی۔‘‘ (الفضل انٹر نیشنل ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۴ء)
حضرت صاحب کے الفاظ میں محترم ماسٹرمنیر احمد صاحب آف جھنگ کا بہت خوبصورت تذکرہ آگیاہے۔ یہ الفاظ محترم ماسٹر صاحب کی خدمات کو خراج تحسین ہیں جو آپ کے خاندان کے افراد کے لیے یقیناً باعث فخر ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے اور جماعت کو ایسے فدائی خادم عطا فرماتا چلا جائے جو خدمت دین اور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار رہنے والے اور اس خدمت کو سعادت سمجھنے والے ہوں۔ آمین۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محترم ماسٹر منیر احمد صاحب آف جھنگ صدر کو سپرد خاک کر دیا گیا


