متفرق مضامین

وہ دل جو تیرے لیے بے قرار ہے آج

(سلیمہ مبین۔ یوکے)

حضرت مسیح موعودؑ مہدیٔ دوراں نے اللہ تعالیٰ سے بشارت پاکر یہ مژدہ سنایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک موعود بیٹا عطا کرے گا۔ جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ پھرباریٴ تعالیٰ نے آپ سے وہ کام کروانے تھے جو بظاہر غیر ممکن تھے۔ اور دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ اس بستی سے نور کی وہ شعاعیں نکلیں گی جو اکنافِ عالم میں پھیل جائیں گی

آبِ چناب دریا وہ دن ہیں یاد تجھ کو

اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا

امیرکارواں…سالارِکارواں…رہبر و راہنما…کون تھا؟

وہ مہدیٔ دوراں کا موعود بیٹا… جو بے شمار رحمتوں کا نشان بن کر اس دنیا میں آیا۔ جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا، جو رحمت و فضل کا نشان تھا، فتح و ظفر کی کلید، صاحب شکوہ وعظمت، جنہوں نے اس خطہ زمین کا رخ کیا جو کہ بےآب و گیاہ تھی۔ چٹیل پہاڑ، خشک مٹیالی اور ریتلی زمین، دور دور تک پانی کا نشان نہیں۔ سبزہ درخت ناپید، چرند و پرند کا نام و نشان نہیں، لیکن آپؓ کی دُور رس نگاہ اور مبارک سوچ نے اسی جگہ اور اسی خطہٴ ارض کو پسند اور منتخب کیا۔ کیا کوئی سوچ اس طرف جا سکتی تھی کہ یہی جگہ مرکزِ سلسلۂ احمدیہ بنے گی ؟ کیونکہ اس وقت حالات تقسیم ہند کی وجہ سے بے سروسامانی کے تھے۔ مگر اس اولوالعزم ہستی نے اپنا ارادہ نہ بدلا۔ کیونکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظاروں کا ظہور ہونا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ مہدیٔ دوراں نے اللہ تعالیٰ سے بشارت پاکر یہ مژدہ سنایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایک موعود بیٹا عطا کرے گا۔ جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ پھرباریٴ تعالیٰ نے آپ سے وہ کام کروانے تھے جو بظاہر غیر ممکن تھے۔ اور دنیا کو یہ دکھانا تھا کہ اس بستی سے نور کی وہ شعاعیں نکلیں گی جو اکنافِ عالم میں پھیل جائیں گی۔

خدا والوں کے لشکر کا امیر کارواں تو ہے

جہاں میں عظمتِ دین کا پاسباں تو ہے

میں اس قلم میں وہ روشنائی کہاں سے لاؤں جو اس وادی کا نقشہ کھینچ سکے؟ اس خطۂ زمین جس کی فضاؤں میں دنیا کی رنگینیاں کبھی اپنا اثر نہ جما سکیں، اس کے مکین پاکیزہ جذبات لیے ہوئے ہیں۔ دنیاوی خواہشات کی گھنگھور گھٹائیں ان پر مسلّط نہیں ہونے پائیں۔ کیونکہ تیری فضاؤں میں الہامی کلمات سموئے ہوئے ہیں۔ وہ مٹیالے پہاڑ جن کی آغوش جنّت البقیع کا نظارہ پیش کرتی ہے۔ تیرے اندر شہروں کا سا شور و غوغا نہیں۔ جہاں زندگی کی ہر کیفیت بڑے ہی دلکش انداز میں نظر آتی ہے۔ اپنی اِس بستی میں وہ اس قدر خوش اور شادماں ہیں کہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں متاعِ زندگی مل گیا۔

پیارے نو نہالو!

یہ کہانی ہے گلشنِ محمود!کہ آپ نے اِک بستی بسائی۔ آج وہ بستی پکار پکار کر مجھے کہہ رہی ہے کہ میں ان کہانیوں اوران لمحات کو دہراؤں جو میں نے اپنی زندگی کے شب و روز میں دیکھیں۔ میں اپنی کتابِ زندگی میں سے چند ورق ہی سنا سکوں گی، کیونکہ وہ پاک و مطہر بستی تو بے شمار داستانوں اور کہانیوں نیز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔

چونکہ میرے اباجان مرزا معظم بیگ مرحوم نے ریٹائر ہونے کے بعد اپنی زندگی سلسلہ احمدیہ کے لیے وقف کر دی تھی۔ اور پھر ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۷ء ربوہ میں بطور افسر لنگرخانہ حضرت مسیح موعودؑ خدمات بجا لاتے رہے۔ اِس طرح کوئٹہ سے مجھے بھی اپنی چھٹیاں اس پاک بستی میں گزارنے کا موقع میسّر آجاتا۔ وہاں کے روح پرور نظاروں اور پاکیزہ ماحول میں وقت ولمحات گزرتے۔ وہ کیا لوگ تھے، چلتے پھرتے فرشتے، وہ دنیا میں رہے مگر دنیا کے ہو کر نہ رہے۔ ہر وقت مطاعِ آخرین کی فکر رہی۔ وہ اسلوب اپنائے جو انسانیت کا درس دیتے تھے۔ کیا رونقیں تھیں اُن فضاؤں میں کہ انسانی جذبات روحانی سکون سے مسرور ہو جاتے۔

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو

اے گلزار احمدیت کے فرزندو!

آبِ چناب نے بھی اپنے سینہ میں کئی کئی کہانیوں کو سمویا ہوا ہے۔

تو سنو! سالارِ کارواں نے جب یہ بستی بسائی تو آپؓ کے سامنے اور زیر غور بہت سے منصوبے تھے۔ جن میں جامعہ احمدیہ کا قیام بھی تھا تاکہ وہاں سے مبلغین دینی علوم سیکھ اور پڑھ کر دنیا میں پھیل جائیں۔ اس پہلے جامعہ احمدیہ کا قیام جب عمل میں آیا تو مختلف جگہوں سے طلبہ آئے۔ ایک نوجوان رضوان عبداللہ حبشہ سے جامعہ میں پڑھنے اور دینی علوم حاصل کرنے کے لیے آیا۔ ایک دن نہانے کے لیے دریائے چناب کا رخ کیا۔ مگر نہاتے ہوئے ایک بلند لہر نے اسے اپنے سینہ میں لے لیا۔ اور اِس طرح رضوان عبداللہ روحانی جام پیتے پیتے دائمی اور ابدی زندگی میں چلا گیا۔

اور لہروں نے کہا

چلا حبشہ سے ربوہ کو، گیا ربوہ سے جنّت میں

کہاں سے ہو کے، جا پہنچا کہاں رضوان عبداللہ

کتابِ زندگی کا ایک اور ورق (صفحہ) کھولوں… تو یہ اُن صحابیوں کی مجلسیں اور قربتیں ہیں، جن میں پہروں اپنا وقت اپنے لمحات گزارتی۔ جن میں سے چند ایک کا ذکر کروں گی۔ اور اُن چشم دید واقعات کو بیان کروں گی جو میری آنکھوں نے دیکھے اور کانوں نے سنے۔

حافظ مختار احمد صاحب شاہ جہان پوری ؓکا ذکر یوں ہے کہ اُن کے پاس جانا ہوا تو آگے ایک صاحب اپنے تیرہ چودہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھے تھے۔ جب وہ اٹھ کر جانے لگے تو حافظ صاحب نے بچے کو مخاطب کر کے کہا کہ ’’بچے تمہاری داڑھی کہاں ہے‘‘اس نے جواب دیا کہ ’’ابھی نہیں آئی‘‘ وہ چلے گئے۔ تو میرے ذہن میں آیا کہ حافظ صاحب سے پوچھوں کہ آپ نے بچے سے یہ سوال کیوں کیا ہے؟ میرے استفسار پر انہوں نے کہا کہ ساری زندگی میں نے درود شریف کو زدِ زبان رکھا اور میرا یہ معمول تھا کہ علی الصبح میں کھیتوں اور سبزہ زاروں کا رخ کرتا۔ ایک دفعہ میں ایک سرسبز کھیت کی پگڈنڈی (پیلی) سے درود شریف پڑھتا ہوا اپنے دھیان وخیال میں غرق جارہا تھا کہ اچانک میری نگاہ سامنے سے اکیلے آتے ہوئے بچہ پر پڑی۔ جب وہ قریب آیا تو میرے ذہن میں معاً یہ خیال آیا کہ پوچھوں ’’تمہاری داڑھی کہاں ہے؟‘‘ میرے پوچھنے پر اس نے فوراً جواب دیا کہ ’’اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہی ہے‘‘ وہ پاس سے گزر گیا۔ چند قدم چلنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ میں اس کا پتہ کروں۔ یہ بچہ کہاں رہتا ہے؟ میں پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں کوئی بچہ نہیں۔ آخر میں ارد گرد کے گھروں میں اُس کا پوچھنے گیا کہ یہ کس کا بچہ تھا۔ مگر ہر ایک نے یہی کہا کہ ہمارا تو کوئی بچہ باہر نہیں گیا۔ حافظ مختار احمد شاہ جہان پوری صاحبؓ نے پھر یہ بھی کہا کہ اس کے بعد آج تک جو بچہ بھی میرے پاس آیا وہ، وہ جواب نہ دے سکا۔ جس پر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے درود شریف کی برکت سے فرشتہ کی صورت میں یہ نظارہ دکھایا تھا۔

تو… آفتابِ احمدیت کی روشن کرنو!

یہ وہ وجود تھے… جو ہمیں جامِ روحانیت دے گئے۔ اِس جام، اِس شربت کو پی لو۔ اوراپنی زندگیوں کو ایسا ہی بنانے کی سعی کرو۔ میری تو تمہارے حق میں یہ دعا ہے۔ پیارو!

آؤ! اب ایک اور بزرگ اور صحابی حضرت مسیح موعودؑ کا واقعہ سنیں۔ یہ حضرت مولانا محمد ابراہیم بقا پوریؓ تھے۔ جن کے قرب میں بہت وقت گزرا۔ کیا سنا۔ کیا دیکھا۔ اچھی طرح یاد ہے۔ چونکہ اس وقت حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر لنگر خانہ سے باحیات صحابہؓ  کو گوشت دیا جاتا تھا۔ ایک دن میرے ابا جان نے مجھے ان کے گھر دینے کو کہا۔ اور ساتھ ہی دعا کی درخواست کا بھی کہا۔ دستک دے کر اندر چلی گئی۔ مولانا صاحب سامنے صحن میں اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ گوشت دے کر میں نے دعا کے لیے عرض کیا۔ اُن کی یہ عادت تھی کہ اسی وقت ہاتھ اٹھا لیتے۔ دورانِ دعا آپ خوب زور سے ہنسے۔ تو میں نے سوچا کہ مولانا بہت بوڑھے ہو گئے ہیں۔ ان کو سمجھ نہیں آئی۔ کہ میں دعا کر رہا ہوں اور ہنس پڑے ہیں۔ لیکن کچھ ہی دیر کے بعد آپ نے آرام سے آمین کہا۔ جس پر میں نے پوچھا۔ آپ دعا میں ہنسے کیوں تھے۔ آگے سے فرمانے لگے۔ پنجابی میں ’’ویکھ ناں اس نے گل ہی ایسی کیتی سی کہ مینوں ہنسی آگئی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ بات ہی ایسی کی تھی کہ مجھے ہنسی آگئی۔

آج تک مجھے اس بات کا افسوس رہا کہ میں ان سے یہ نہ دریافت کر سکی کہ آپ سے اللہ تعالیٰ نے کون سی بات کی تھی۔ اللہ اللہ کیا وجود اور کیا ہستیاں تھیں۔ گو وہ آج ہم میں موجود نہیں لیکن ان کے قول و فعل اور برکتیں ہم حاصل کررہے ہیں۔

اے شمع رسالت کے پروانو! ان برکتوں، رحمتوں اور اُن نوروں کا کیا ذکر کروں جو اُس بستی کے ذرہ ذرہ میں پنہاں ہیں۔ جس طرف خیالات جاتے ہیں تو ایک اور وجود سامنے آجاتا ہے۔ یہ ہیرے، یہ موتی ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ کس کس کو چنوں ؟ یہ صحابی ہیں۔ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ۔ کیا درویش صفت انسان تھے۔ جب جاؤ، جس وقت جاؤ، دروازہ کھلا پاؤ۔ سامنے صحن میں بان کی چارپائی پر بیٹھے ہوئے پاؤ گے۔ پاس ہر وقت چند احباب موجود۔ دعا کے لیے کہیں تو فوراً جواب میں کہہ دیتے۔ یوں ہوگا اور وہ اسی طرح ہوتا۔ ان کا اپنا انداز اور اپنی صفات تھیں۔ کیا کہوں اور کیا بیان کروں۔ اور کس کس کو گنوں۔ ان یادوں، ان باتوں کا احاطہ کرنا غیر ممکن ہے۔ اِس بستی میں ہر صبح نور لے کر آتی ہے۔ تو ہر شام نور دے کر جاتی ہے۔ کیونکہ وہ سب آسمانِ احمدیت کے آفتاب تھے۔ اور اس بستی پر وہ آفتاب چمکتا رہے گا۔

اے آسمانِ احمدیت کے چراغو!آپ ہم سب کے لختِ جگر ہو۔ ان روشنیوں کو پھیلاؤ۔ آگے بڑھو اور ان سب غلط کاریوں کو مٹا دو۔ جو اِس دور میں عود کر آئی ہیں۔

قلم تو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ مگر رات بہت بیت چکی ہے۔

میرے لیے بھی دعا کرنا کہ اللہ تعالیٰ ان بوڑھی ہڈیوں کو قوتِ روحانی اور قوت جسمانی عطا فرمائے۔ تا میں آپ سے ملتی رہوں۔ اور وہ شربتِ طہور پلاتی رہوں۔ جو میں نے اُن سے حاصل کیا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button