حالاتِ حاضرہ

مذاہبِ عالم: خبریں اور تجزیہ

(اواب سعد حیات)

(فروری ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب) (قسط دوم)

اسلام

امسال ماہ فروری کے تیسرے ہفتے کے اختتام تک دنیا بھر کے مختلف خطوں میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے ماہِ رمضان کی آمد ہوچکی ہے۔اسلامی کیلنڈر میں رمضان نواں مہینہ ہے اور اس ماہ کی غیرمعمولی برکت اور اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ہر سال کروڑوں مسلمان اس مہینے میں طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔روزے کا دورانیہ دنیا کے ہر خطہ میں ہر سال تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

مثلاً امسال ماہ فروری میں جنوبی امریکہ کے ملک چلی کے شہر Puerto Williams میں،جو نقشے میں دنیا کا سب سے جنوبی شہر ہے، روزے کا دورانیہ تقریباً ساڑھے ۱۴گھنٹے تک ہو گا اور اس کے برعکس براعظم یورپ کے شمال میں واقع ملک ناروے کے علاقے Longyearbyen میں، جو دنیا کا سب سے شمالی شہر ہے، رمضان کے آغاز میں روزے کا دورانیہ تقریباً ڈھائی گھنٹے سے کچھ زیادہ ہی ہو گا۔ ایسے میں ظاہر بین اور ناواقف لوگ سوال اور اعتراض کے ساتھ ساتھ تمسخر بھی کرتے ہیں۔

لیکن ایسے تمام لوگ بھول جاتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے اور اس میں غیر معمولی علاقوں میں روزے کے دورانیہ کے متعلق بھی اصولی راہنمائی موجود ہے۔

سب آگاہ ہیں کہ دنیا کے انتہائی شمالی علاقوں میں دن اور رات کے اوقات غیر معمولی حد تک طویل ہوتے ہیں ۔مثلاً ناروے کے انتہائی شمال میں یورپ کا خشکی کا علاقہ ختم ہوجاتاہے اس لیے اسے دنیا کا آخری کنارہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اپریل سے لے کر جولائی /اگست تک سورج روشنی دیتا رہتا ہے اس لیے اس علاقہ کو چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات کی سرزمین کہا جاتا ہے جب ہمارے ہاں آدھی رات ہوتی ہے یہاں سورج اپنی تابناک کرنوں سے روشنی پھیلا رہا ہوتا ہے اس لیے یہ نصف شب کے سورج کی سرزمین بھی کہلاتی ہے۔

ناروے اور اسی طرح فن لینڈ اور شمالی روس میں جیسے جیسے شمال کی طرف بڑھتے جائیں دن اور رات کا دورانیہ غیرمعمولی طور پر طویل ہوتا جاتا ہے۔گرمیوں میں دن لمبے ہوتے ہیں جبکہ سردیوں میں بہت چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بسا اوقات گرمیوں میں دن کا دورانیہ بیس سے اکیس گھنٹے ہو جاتا ہے۔ یہاں مقیم غیرازجماعت بعض مسلمان اپنے اپنے آبائی ممالک کے اوقات کی پابندی کرتے ہیں ۔بعض قریبی ممالک اور بعض مکہ اور مدینہ کے اوقات کو مدِّ نظر رکھتے ہیں۔

جماعت احمدیہ خلافت کی نعمت سے سرفراز ہے اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کے مطابق عمل کرتی ہے چنانچہ ایسے علاقوں کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ وہ سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے کا انتظار نہ کریں بلکہ سحری اور افطار کے اوقات مقرر کر لیں ۔اسی طرح نماز کے بھی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر ناروے،فن لینڈ اور روس کے شمالی علاقوں کے غیر معمولی اوقات کے لیےمرکز کا یہ فیصلہ ہے کہ مقامی جماعتیں باہمی مشورے سے اوقات کا تعین کر لیں افطاری اورسحری میں کم از کم چھ گھنٹے کاوقفہ رکھ لیا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث صحیح مسلم کتاب الفتن میں بھی یہی ہے کہ ان علاقوں میں نماز وغیرہ کے لیے وقت کا اندازہ کر لیا کرنا۔

عیسائیت

امسال عیسائیوں کے ’’لینٹ سیزن‘‘ یا ’’الصوم الاربعین‘‘ کا آغاز ۱۸؍فروری کو ہوا، جو ماہ اپریل کے آغاز تک جاری رہے گا۔اس سیزن کے پہلے دن کو Ash Wednesday کہا جاتا ہے۔اس دن پیشانی پر راکھ (ashes) سے صلیب کا نشان لگایا جاتا ہے۔ دیکھا گیا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مارک روبیو نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی پیشانی پر راکھ سے صلیب کا نشان بنایا ہوا تھا۔

Lent عیسائیت خصوصاً رومن کیتھولک، اینگلیکن اور بعض پروٹسٹنٹ کلیسیاؤں میں رائج ہے۔ اس سیزن میں عیسائیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ ۴۰ دن تک روزوں کا اہتمام کریں۔ان کا عقیدہ ہے کہ یہ روزے اس قربانی کی یاد میں ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ۴۰؍دن تک صحرا میں جا کر روزے رکھ کر اور عبادت کرکے کی تھی۔

متی کی انجیل کے چوتھے باب کے آغاز میں ہے کہ’’ تب روح یسوع کو جنگل میں شیطان سے آزمانے کے لیے لے گئی۔ یسوع نے چالیس دن اور چالیس رات کچھ نہ کھایا تب اسے بہت بھوک لگی۔ ‘‘

یاد رہے کہ اس آخری زمانہ میں مبعوث ہونے والے مسیح محمدی علیہ السلام جو کاسر صلیب او ر عصمت انبیاء کے لیے خاص درد رکھتے تھے ، نے سمجھایا ہے کہ ’’ایسا ہی انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان آزمائش کے لیے مسیح کو کئی جگہ لیے پھرا۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسیح خدا بن کر بھی شیطان کی آزمائش سے نہ بچ سکا اور شیطان کو خدا کی آزمائش کی جرأت ہوگئی۔ یہ انجیل کا فلسفہ تمام دنیا سے نرالا ہے…‘‘(چشمہ مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۴۸)

الغرض لینٹ کے دوران بعض مسیحی ۴۰؍ روز تک اپنے کھانے پینے کو محدود کردیتے ہیں اور اپنی مقدس مذہبی کتاب کی تلاوت،غریبوں کی امداد کرنے، بیماروں کی تیمارداری کرنے جیسے نیک اعمال بجالائے جاتے ہیں۔لینٹ کا اختتامEaster یعنی عیدِ قیامت پر ہوتا ہے، جو مزعومہ طور پر حضرت عیسیٰؑ کے جی اٹھنے (Resurrection) کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کے مطابق امسال Ash Wednesday کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے امن عالم کی ناگفتہ بہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیز ویٹیکن نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے صدر ٹرمپ کے جاری کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ نہیں بنے گا، ویٹیکن کے اعلیٰ سفارتی اہلکار کارڈینل پیٹرو پیرولین نے کہا کہ بحرانی حالات سے نمٹنے کی کوششوں کا انتظام ’’اقوام متحدہ ‘‘کو کرنا چاہیے۔

لیگ آف نیشنزکے بعد اب اقوام متحدہ کی بےوقعتی دیکھتے ہوئے بلاجھجک کہا جاسکتا ہے کہ حقیقی انصاف پر قائم ہوئے بغیر امن عالم کے لیے کوئی بھی کوشش کبھی بھی حقیقی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی۔

ایک اور ضمنی امر بھی یہاں بیان ہوجائے کہ امسال رمضان المبارک اور Ash Wednesday اور چینی کیلنڈر کے مطابق نئے قمری سال (Lunar New Year) کا آغاز قریباً ایک ساتھ ہوا تو سوشل میڈیا پر اسے ایک نادر فلکیاتی اتفاق قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں سورج اور چاند کے نظام کے متعلق مذکور ہے:اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ (الرحمٰن:۶)ترجمہ: سورج اور چاند ایک حساب کے مطابق (مسخر) ہیں۔

الغرض کائنات کا فلکی نظام باقاعدہ ہے اورایک معین حساب کے مطابق جاری و ساری ہے ۔

عیسائیت کے ضمن میں ہی براعظم افریقہ کے ملک روانڈا (Rwanda) میں حکومت کی طرف سے ہزاروں چرچ بند کرائے جانے کی خبر سامنے آئی۔دراصل روانڈا نے ۲۰۱۸ء میں ایک قانون بنایا تھا جس میں عبادت گاہوں کے لیے سخت معیار مقرر کیے گئے، جیسا کہ رجسٹریشن، صحت و حفاظت کے اصول، مالی شفافیت، اوردرس و تدریس اور امامت پر مامور افراد کی متعلقہ مذہبی تعلیم اور قابلیت شامل تھی۔ تب پادریوں یعنی مذہبی راہنماؤں کے لیے معیاری ڈگری کا حامل ہونا ضروری قرار دیا گیا تھا۔

اب حال ہی میں حکومت کی طرف سے معائنہ کے بعد ہزاروں ایسی عبادت گاہیں بند کردی گئی ہیں جن کی عمارت مناسب نہیں تھی۔ یا صفائی و صحت کے معیار پورے نہیں کیے گئے تھے۔ یا ان میں اجلاسات کے دوران پیدا ہونے والی آوازوں سے اردگرد کے ہمسائے متاثر ہورہے تھے۔ جبکہ مختلف فرقوں کے چرچ اس وجہ سے بھی بند کیے گئے ہیں کہ ان کے مالی معاملات غیر واضح تھے۔

اس صورت حال میں روانڈا کے صدر Paul Kagame نے کھلے لفظوں میں یہ بھی کہا ہے کہ نئے چرچوں کی بڑھتی تعداد اکثر مالی مفاد حاصل کرنے کے لیے یا عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہے، نیز یہ لوگ ملک کی ترقی میں حصہ نہیں ڈال رہے ہیں۔

ہزاروں چرچوں کی بندش کے متعلق بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سخت حکومتی قوانین بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار پر پورے نہیں اُترتے، خاص طور پر مذہبی آزادی کے تناظر میں۔

بدھ مت

بدھ مت سے تعلق رکھنے والے ۱۹؍راہبوں کے ایک گروپ نے امن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے امریکہ میں ٹیکساس سے واشنگٹن ڈی سی تک ۳۲۰۰؍کلومیٹر طویل پیدل سفر کیا ہے۔ یہ مارچ ننگے پاؤں، زخمی حالت میں اور شدید برفباری جیسی مشکلات کے باوجود امریکیوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا گیا۔دنیا میں امن کے فروغ اور امریکی معاشرے میں بسنے والی متنوع اکائیوں کی توجہ حاصل کرنےکے لیے یہ منفرد اور مضبوط عزم و ہمت کی مثال یہ کاوش یقیناً قابل قدر ہے۔یہ سفرقریباً چار ماہ قبل شروع کیا گیا تھا اور ماہ فروری میں یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔

(اواب سعد حیات)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button