ایک نابغہ روزگار وجودحضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب (مؤرخ احمدیت )
انسان اپنی زندگی میں ہزاروں انسانوں سے ملتا ہے مگر ہر انسان آپ کو یاد نہیں رہتا۔ ہاں کچھ لوگ اپنی وضعداری، دلداری اور طرحداری میں ایسے بےمثال ہوتے ہیں کہ دیدہ و باید۔ ایسے ہی ایک بزرگ جن کی ساری زندگی مسلسل حرکت اور عمل سے عبارت ہے اور جن کے علم اور جادوبیانی پر کلام نہیں۔ جو عاجزی اور خاکساری کا شاہکار تھے۔ کیونکہ خاکپائے مصطفیٰ ؐ تھے اور فدائے احمد مجتبیٰؐ تھے کا ذکر آج کے مضمون میں کرنا مقصود ہے میر ی مراد مکرم ومحترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب مؤرخ احمدیت سے ہے۔

میں اُس وقت کلاس ہفتم، تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں زیر تعلیم تھا۔ ایک دن چھٹی کلاس کے ایک طالبعلم محمد حنیف نے مجھ سے کہاکہ میرے ایک کلاس فیلوجو چینوٹ کے رہنے والے اورمولوی منظور احمد صاحب چینوٹی کےمقتدی ہیں نے مجھ سے سوال کیا کہ مرزا صاحب نے پچاس کتب لکھنے کا ارادہ کیا تھا مگر براہین احمدیہ کی پانچ ہی جلدیں لکھیں اور وعدہ پورا نہ کیا۔ اس کا کیا جواب ہے؟ جواب مجھےبھی معلوم نہ تھا اس لیے میں نے سائیکل پکڑی۔ اور عصر کی نماز مسجد مبارک میں ادا کی۔ بعداز نماز میرے استفسار پر بتایا گیا کہ اس کا جواب مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب سے پوچھ لیں۔ یہ میر ی مولانا صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ سفید پگڑی پہنے اور اچکن زیب تن کیے ہوئے بعد ازنماز جانے کے لیے سائیکل پر سوار ہو ا چاہتے تھے خاکسار نے بڑھ کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض کیا۔ فوراًسائیکل کو بریک لگائی، ایک بچے کے سوال کو پوری توجہ سے سنا اور پھر جو سبق دیا وہ میر ی ساری زندگی کا اثاثہ ہےاور وہ یہ کہ پہلے خود مطالعہ اور غور و خوض کرکے سوال کے حل کی کوشش کرنی چاہیے اگربات نہ بنے تو علما ءسے مل کر فائدہ اٹھا نا چاہیے۔
مولانا صاحب انتہائی سادہ مزاج، درویشانہ زندگی کا مرقع،تکلفات اور تصنّع سے پاک زندگی کا بہترین نمونہ تھے۔ بعد میں جب خاکسار سیکرٹری تعلیم مجلس اطفال الاحمدیہ ربوہ بنا اور مختلف معاملات کے سلسلہ میں مختلف مواقع پر آپ سے ملنے کے لیے جاتا رہا تو ہمیشہ ہی شفقت اور محبت اور پوری توجہ سے ملتے۔ اور جب بھی کسی پروگرام کے لیے دعوت دی ہمیشہ تشریف لائے، مجھے یاد ہے ایک دفعہ ربوہ کے اطفال کا پروگرام مسجد محمود کوارٹر ز تحریک جدید میں تھا۔ گرمی کاموسم تھا۔ ان دنوںمسجد میں ایئر کنڈیشنر نہیں ہوتا تھا۔ آپ خود بھی بہت ہی مصروفیت رکھنے والے بزرگ تھے۔ ہماری درخواست پر تشریف لائےاور انتہائی شگفتہ مزاجی کے ساتھ بچوں سے خطاب فرمایا۔ آپ نے اس میں ایک شعر بھی سنایاجو مجھے آج تک یاد ہے اوروہ یہ تھا۔
صحنِ مسجد میں ایک دو حاجی دیں کی تکمیل کرنے آئے ہیں
صف چرا کر جو لے گئے تھے کبھی اُسے تبدیل کرنے آئے ہیں
مکرم مولانا صاحب ایک عظیم عالم، اعلیٰ مقر راور صاحبِ طرز ادیب تھے۔ ان کا قلم وہ اسپ تازی تھا جس نے انہیں اوجِ کمال تک پہنچادیا۔ خلافت لائبریری کے درودیوار اُن کی محنت شاقہ کے گواہ ہیں۔ ان کے اشہب قلم کے قدم مختلف سمتوں میں روشنی بکھیرتےنظر آتے ہیں۔ آپ کی تحریر کا اعجاز دیکھنا ہوتو روزنامہ الفضل، ماہنامہ الفرقان اور ماہنامہ خالد کے رسائل کے باغات کی سیر کیجئے۔ آپ کا وجو د جماعت کے لیے خداتعالیٰ کا خاص انعام اور دشمنان احمدیت کے لیے تازیانہ خدا وندی تھا۔ آپ کے سامنے دشمنان احمدیت کی ہمتیں پست ہوجاتی تھیں، قلم ٹوٹ جاتے تھے اور دلائل غتربود ہوجاتے تھے اور کسی کا چراغ آپ کے سامنے نہ جل سکتا۔ آپ اپنی مؤثر، جامع اور دلائل سے بھر پور گفتگو سے مقابل کے دل جیت لیتے تھے۔ آپ علمی اور عوامی مجمعوں کے بے مثال مقرر تھے۔ آپ کی قلم اور زبان کےجوہر تاریخ احمدیت میں ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔
گلشن عالم میں لاکھوں گُل کھلے ہوں گے
مگر کم ہوا ہوگا کوئی اس سے زیادہ دلربا
مکرم مولانا صاحب علم کا سمندر اور حوالوں کے بادشاہ تھے۔ جیسا کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ تین مختلف مواقع پر مجھے آپ کی مجالس سوال و جواب سننے کا موقع ملا۔ خلافت لائبریری ہال میں پروگرام تھا۔ ہال لوگوں سے کھچاکھچ بھر ا ہوا تھا آپ کے ساتھ مکرم مولانا عبدالمالک خان صاحب بھی تھے۔ مشکل سے مشکل سوال کا جواب بھی اس خوبصورت اندازسے دیتے کہ سائل بالکل مطمئن ہوجاتا۔
دارالضیافت ربوہ میں شیخوپور ہ سے علماء واحباب کا وفد آیا ہوا تھا۔ ریسپشن میں مجلس ہورہی تھی۔ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ) اور محترم مولانا صاحب جواب دے رہے تھے۔ مجلس جاری تھی کہ ایک منحنی سا شخص، سادہ لباس زیب تن کیے ہوئے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ محترم مولوی صاحب نے فرمایا کہ بڑے بڑے علماءبیٹھے ہیں انہوں نے توایسی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا،آپ کو کیا سمجھ آگئی؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے جانور رکھے ہوئےہیں۔ ان کو دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ کون ساجانور کس قسم کا ہے۔ اب میں آپ کی گفتگوبھی سن رہا ہوں اوراپنے علماء کی بھی سنی ہے، مجھ پر جماعت کی صداقت واضح ہوچکی ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ پھر بھی سوچ لیں۔ وہ دوست جن کا نام محمد تھا کہنے لگے آپ ضمانت دیں کہ میں جب تک سو چوں گا زندہ بھی رہوں گا۔ جب انہوں نے یہ بات کہی تو حضرت مرزا طاہر احمد صاحب( خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ ) اپنی جگہ سے اُٹھے، اس کی طرف بڑھے، اسے سینہ سے لگایا اور فرمایا کہ پہلے اس کی بیعت لیں باقی مجلس پھر ہوگی۔ اس دوست کی اولاد میں سے ایک اللہ کے فضل سے مربی سلسلہ ہیں اور کورین زبان میں Ph.Dکررہے ہیں۔
تیسری مجلس جو مجھے یاد ہے اجتماع خدام الاحمدیہ کا موقع تھا۔ بیرکس لجنہ میں مجلس سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ مکرم مولانا صاحب کے ساتھ مکرم مولانامبشراحمد کاہلوں صاحب اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب بھی تھے۔ مجلس سوال وجواب شروع ہوتے ہی مکرم کاہلوں صاحب نے کہا کہ میں اپنا وقت مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کو دیتا ہوں اورپھر مکرم حافظ صاحب نے بھی ایسا ہی کہا۔ اس کے بعد مولانا صاحب تھے اور سوال کرنے والے خدام تھے۔ ایک گھنٹہ سےزائد وقت مکرم مولانا نے مجلس کو گرمائے رکھا۔ مجال ہے کہ ایک لمحہ کے لیے کسی خادم نے بھی تھکاوٹ یا اکتاہٹ کا ا ظہار کیا ہو۔ علم کا ایک دریا تھا جو رواں دواں تھا۔ ذہانت، ظرافت اور متانت ایک ساتھ رنگ بکھیررہے تھے۔ اور خدام کے دل و دماغ ان رنگوں سے رنگیں ہورہے تھے۔
میں مربی ضلع گوجرانوالہ تھا۔ وہاں سے وکلاء کا ایک وفد لے کر آیا۔ ربوہ کے مختلف مقامات کی سیر کروائی اور پھر مکرم مولانا صاحب کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا کہ اس طرح گوجرانوالہ سے وکلاء کا وفد لے کر آیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ سے ان کی ملاقات ہو اورآپ ان کی تسلی فرمائیں۔ فرمانے لگے اگرچہ بہت مصروف ہوں۔ لیکن آپ ان کو لے آئیں۔ پانچ منٹ وقت دے سکوں گا۔ جب وہ آئے اوربات شروع ہوئی تو پھر چلتی چلی گئی۔ اور ڈیڑھ گھنٹہ تک بڑی بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ معقولات اور منقولات سے بھرپور گفتگو ہوتی رہی۔ بعد میں بعض وکلاء نے خاکسار سے کہا کہ ایسے متبحر عالم، ایسا دلنشین انداز رکھنے والے عالم سے ملاقات ہماری خوش قسمتی اور خوش نصیبی ہے اور بعد میں بھی جب کبھی ان میں سے کسی سے ملاقات ہوتی وہ محترم مولانا صاحب کے لیے رطب اللسان ہوتے۔
برصغیر میں غیر ازجماعت عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کوبڑا زبردست مقرر گردانتےہیں مگر میرے نزدیک اگر وہ میرے ممدوح مکرم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کی تقریر سن لیتے تو انہیں علم ہوتا کہ مقررکیا ہوتا ہے۔علم کی گہرائی، پُرشکوہ الفاظ،قرآن وحدیث سے استدلال، غیروں کی کتب کے حوالہ جات، مختصر وقت میں علم کی کہکشاں بچھانا آپ کا ہی کمال تھا۔لڑکپن سے لے کر آج تک خاکسار نے دیکھاکہ جب لوگوں کو معلوم ہوتا کہ مولانا موصوف فلاں جگہ خطاب فرمائیں گے۔ لوگ کشاں کشاں وہاں پہنچ جاتے اور جب تک آپ محو تکلّم رہتے مجال تھی کہ کوئی شخص وہاں سے اُٹھ جائے۔ آپ کی تقریر کا سحر سب لوگوں کو مسحور کیے رکھتا تھا کسی کا شعر ہے۔ جوآپ پر پورا اترتا ہے۔
حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ صحابی مسیح پاک علیہ السلام سے ملنے والے ہر شخص کا بیان ہے کہ آپؓ السلام علیکم کہنے میں ہرایک سے سبقت لے جاتے تھے۔ میں نے مکرم مولانا صاحب کو بھی دیکھا ہےکہ سائیکل پر آرہے ہوتے، دور سے ہی جونہی کسی پر نظر پڑتی فوراًالسلام علیکم کہتے اور اگلاجملہ یہ ہوتا کیا حال ہے حضرت !
حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے احمدی احباب سے فرمایا تھا کہ ہمیشہ مسکراتے رہو۔ میں جب بھی مولانا صاحب موصوف سے ملا آپ کو متبسم ہی پایا۔
خلیفہ بننے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مسجد مبارک میں مجلس عرفان سجاتےتھے۔ اہل ربوہ کی کثیر تعداد اس مجلس میں حاضر ہوتی۔ ہر ایک کو سوال کرنے کی اجازت ہوتی۔ محترم مولانا صاحب موصوف خاموشی سے اس مجلس میں تشریف فرما ہوتے، اگر حضرت صاحب کوئی بات پوچھتے تو لب وا کرتے۔ ور نہ خلافت کے ادب و احترام میں بالکل خاموش بیٹھے رہتے۔ انہی محافل میں ایک دن حضوررحمہ اللہ نے محترم مولانا صاحب موصوف کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ تو حوالوں کے بادشاہ ہیں۔
حقیقت یہی ہےکہ قدیم و جدید کتب کے حوالہ جات گویا محترم مولانا صاحب موصوف کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے۔ اس لحاظ سے کسی بھی موضوع پر محترم مولانا صاحب سے گفتگو بے شمار کتب سے بے نیاز کر دیتی تھی۔ اس موقع پر غالب یاد آگیا۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میر ے دل میں ہے
محترم مولانا صاحب اپنے کردار میں گفتار میں محبتِ خلافت میں گُندھے ہوئے تھے۔ درس قرآن مجید ہو، مسجد مبارک میں بعد نماز مغرب درس ہو، کوئی تقریر ہو، کوئی تحریر ہو،ذ کرِ خلافت سے خالی نہ ہوتی تھی۔ آپ کی گفت و شنید، نشست و برخاست سے خلیفہ وقت کی محبت کے چراغ روشن سے روشن تر ہوتے جاتے تھے۔
اللہ کرے کہ جماعت کو ایسے علماءسینکڑوں، ہزاروں کی تعداد میں ہمیشہ میسر رہیں۔ آمین
(ق۔الاسلام ۔ق)
٭…٭…٭




