متفرق شعراء

بتائیں کس طرح دنیا کو ہم برکت خلافت کی

اگر تیرا نہ در ہوتا تو جانے میں کدھر ہوتا
نہ مجھ کو آبرو ملتی نہ میں یوں معتبر ہوتا

نہ تیرا حسن ہم جیسوں پہ روشن اس قدر ہوتا
نہ تجھ پہ جاں فدا ہوتی نہ یوں زخمی جگر ہوتا

ترے ہاتھوں کو نہ چھوتی تو خوشبو بےاثر ہوتی
قمر ہوتا نہ تجھ جیسا تو پھر کیونکر قمر ہوتا

ترا دامن پکڑنے سے ہر اک عزت ملی مجھ کو
تری صحبت نہ مل پاتی تو میں کیا معتبر ہوتا

تری ہستی سے روشن ہیں در و دیوار وحدت کے
کہاں ہوتی یہ یک جہتی نہ تُو ہم میں اگر ہوتا

قدر دانی خلافت کی مسلمانوں نے کی ہوتی
تو امت منتشر ہوتی نہ مسلم دربدر ہوتا

بھٹک ہم بھی رہے ہوتے جہالت کے اندھیروں میں
خدا کا نور ہم میں گر نہ پھر سے جلوہ گر ہوتا

خدا کے وصل کی لذت اگر زیرِ نظر ہوتی
کسے جینے کی چاہ ہوتی کسے مرنے کا ڈر ہوتا

بتائیں کس طرح دنیا کو ہم برکت خلافت کی
کہ اس کے سائے میں ہوتا تو کانٹا باثمر ہوتا

(مدثراحمدنقاش)

مزید پڑھیں: قرآن کریم کی برکات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button