حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

بچوں کی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں

یہ والدین پر فرض کیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا ایسا خیال رکھو کہ وہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے مردہ نہ ہو جائیں۔اُن کی صحت کی طرف توجہ نہ دے کر انہیں قتل نہ کرو۔بعض ناجائز بچتیں کر کے اُن کی صحت برباد نہ کرو۔پس ماں باپ کو جب ربوبیت کا مقام دیا گیا ہے تو بچوں کی ضروریات کا خیال رکھنا اُن پر فرض کیا گیا ہے۔بچوں کو معاشرے کا بہترین حصہ بنانا ماں باپ پر فرض کیا گیا ہے۔کیونکہ اگر یہ نہ کیا جائے تو یہ اولاد کے قتل کے مترادف ہے۔…

جیسا کہ میں نے کہا اس آیت کے مختلف معنے ہیں قتل کے مختلف معنے ہیں۔ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اپنی اولاد کی اگر صحیح تربیت نہیں کر رہے، اُن کی تعلیم پر توجہ نہیں ہے تو یہ بھی اُن کا قتل کرنا ہے۔بعض لوگ اپنے کاروبار کی مصروفیت کی وجہ سے اپنے بچوں پر توجہ نہیں دیتے ، انہیں بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے بگڑ رہے ہوتے ہیں۔اور یہ شکایات اب جماعت میں بھی پائی جاتی ہیں۔مائیں شکایت کرتی ہیں کہ باپ باہر رہنے کی وجہ سے کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے، گھر پر نہ ہونے کی وجہ سے بچوں پر توجہ نہیں دیتے اور بچے بگڑتے جارہے ہیں۔خاص طور پر جب بچے teenage میں آتے ہیں ، جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں تو انہیں باپ کی توجہ اور دوستی کی ضرورت ہے۔میں پہلے بھی کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا چکا ہوں ، ورنہ باہر کے ماحول میں وہ غلط قسم کی باتیں سیکھ کر آتے ہیں اور یہ بچوں کا اخلاقی قتل ہے۔باپ بیشک سوتاویلیں پیش کرے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بچوں کے لئے ہی کر رہے ہیں لیکن اُس کمائی کا کیا فائدہ ، اُس دولت کا کیا فائدہ جو بچوں کی تربیت خراب کر رہی ہے۔اور پھر اگر یہ دولت چھوڑ بھی جائیں تو پھر کیا پتہ یہ بچے اُسے سنبھال بھی سکیں گے یا نہیں۔دولت بھی ختم ہو جائے گی اور بچے بھی۔پھر اس کی ایک صورت یہ بھی ہے اور یہ مغربی ممالک میں بھی پھیل رہی ہے، ہماری جماعت میں بھی کہ مائیں بھی کاموں پر چلی جاتی ہیں یا گھروں پر پوری توجہ نہیں دیتیں۔کسی نہ کسی بہانے سے ادھر ادھر پھر رہی ہوتی ہیں۔عموماً کام ہی ہور ہے ہوتے ہیں کہ نوکریاں کر رہی ہوتی ہیں۔بچے سکولوں سے گھر آتے ہیں تو انہیں سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ماؤںکا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ گھر کے اخراجات کے لئے کمائی کرتی ہیں لیکن بہت ساری تعداد میں ایسی بھی ہیں جو اپنے اخراجات کے لئے یہ کمائی کر رہی ہوتی ہیں۔اور جب تھکی ہوئی کام سے آتی ہیں تو بچوں پر توجہ نہیں دیتیں۔یوں بچے بعض دفعہ عدم توجہ کی وجہ سے، احساس کمتری کی وجہ سے ختم ہو رہے ہوتے ہیں۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ۲۶؍جولائی ۲۰۱۳ء مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل ۱۶؍اگست ۲۰۱۳ء)

مزید پڑھیں: خاتم النبیین کے حقیقی معنی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button