سورۃ الجمعہ میں خلافت علیٰ منہاج نبوت کا ذکر
ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اسلام کی تاریخ میں مختلف ادوار میں آنے والے مسلمان سربراہان حکومت اپنے آپ کو خلفاء کہلاتے رہے۔ یہ بتاتے رہے کہ ان کا مقام خلیفہ کا مقام ہے لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے جو پہلے چار خلفاء ہیں ان کو ہی خلفائے راشدین کا مقام دیتی ہے۔ انہی کا دور خلافت راشدہ کا دَور کہلاتا ہے۔ یعنی وہ دَور جو ہدایت یافتہ اور ہدایت پھیلانے والا دَور تھا جو اپنے نظام کو اس طرح چلاتے رہے جس طرح انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چلاتے دیکھا۔ قرآنی تعلیمات کے مطابق اس نظام کو چلایا۔ خاندانی بادشاہت نہیں رہی بلکہ مومنین کی جماعت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت کی رداء انہیں پہنائی۔ لیکن ان کے علاوہ باقی خلفاء خاندانی بادشاہت کو ہی قائم رکھتے رہے اور حرف بہ حرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ جب پہلی دو باتوں میں یہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی تو جو آخری بات آپ نے بیان فرمائی اس میں بھی ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول نے ہی پورا ہونا تھا کہ اس دنیا داری اور مسلمانوں کے بگڑے ہوئے حالات کو دیکھ کر وہ خدا جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تاقیامت قائم رہنے والی شریعت کے ساتھ بھیجا تھا اس کا رحم جوش مارتا اور خلافت علی منہاج نبوت کو دنیا میں دوبارہ قائم فرماتا۔ اور ہم احمدی یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے وعدے کے مطابق اپنے رحم کو جوش دلایا۔ اس کا رحم جو ش میں آیا اور ہمارے آقا و مولیٰ کی بات کو پورا فرماتے ہوئے مسیح موعود اور مہدی معہود کے ذریعہ خلافت علی منہاج نبوت کو قائم فرمایا۔ آپ کو جہاں امّتی نبی ہونے کا مقام عطا فرمایا وہاں خاتم الخلفاء کے مقام سے بھی نوازا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلۂ خلافت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق اور خاتم الخلفاء کے ذریعہ سے ہی جاری ہونا ہے۔ پس ہم خوش قسمت ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوشخبری سے حصہ پانے والوں میں شامل ہیں جو آپ نے خلافت علی منہاج نبوت کے قیام کی ہمیں عطا فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ جمعہ کی آیت وَاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ (الجمعۃ: 4)کی وضاحت میں جن بعد میں آنے و الوں کو پہلوں سے ملایا تھا ان میں ہم شامل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جس پیارے کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ ایمان ثریّا سے زمین پر لے کر آئے گا (صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ باب قولہ وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ4897) ہمیں اس کے ماننے والوں میں شامل فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح و مہدی کو اپنا سلام پہنچانے کے لئے کہا تھا (مسند احمد بن حنبل جلد 3صفحہ182 مسند ابی ہریرۃ حدیث: 7957 عالم الکتب بیروت 1998ء) ہمیں اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ یہ فرض ادا کرنے والوں میں شامل ہوں اور پھر جماعت احمدیہ مبائعین پر یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آپ کے بعد جاری سلسلۂ خلافت کی بیعت میں بھی شامل فرمایا۔
(خطبہ جمعہ ۲۹؍مئی ۲۰۱۵ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۹؍جون ۲۰۱۵ء)
مزید پڑھیں: بدظنی گناہ کی طرف لے جاتی ہے




