منظوم کلام حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ

۱: قرض
قرض سے دور رہو قرض بڑی آفت ہے
قرض لیکر جو اکڑتا ہے وہ بے غیرت ہے
اپنے محسن پہ ستم اس سے بڑا کیا ہوگا
قرض لیکر جو نہ دے سخت ہی بد فطرت ہے
۲:دیانت
فاقوں مر جائے پہ جائے نہ دیانت تیری
دُور و نزدیک ہو مشہور امانت تیری
جان بھی دینی پڑے گر تو نہ ہو اس سے دریغ
کسی حالت میں نہ جھوٹی ہو ضمانت تیری
۳: حرام مال
غضب خدا کا کہ مال حرام کھاتا ہے
نہیں ہے حرص کی حد صبح و شام کھاتا ہے
نماز چُھوٹے تو چھٹ جائے کچھ نہیں پروا
مگر حرام کی روٹی مدام کھاتا ہے
۴: اہل و عیال پر ظلم
حرام مال پہ تو جان و دل سے مرتا ہے
وہ جس طرح سے بھی ہاتھ آئے کر گزرتا ہے
یہ کیسا پیار ہے اہل و عیال سے تیرا
شکم غریبوں کا انگاروں سے جو بھرتا ہے
۵: مال سے محبت اور مال دینے والے سے بے رغبتی
وقف ہے جاں بہر مال و سیم و زر
مال دینے والے سے ہے بے خبر
ایسے اندھے کا کریں ہم کیا علاج
مغز سے غافل ہے چھلکے پر نظر
۶: وقفِ زندگی
وقف کرنا جاں کا ہے کسبِ کمال
جو ہو صادق وقف میں ہے بےمثال
چمکیں گے واقف کبھی مانند بدر
آج دنیا کی نظر میں ہیں ھلال
۷: کمال تدریجاً حاصل ہوتا ہے
دھیرے دھیرے ہوتا ہے کسبِ کمال
بوبکر کو بننا پڑتا ہے بلال
شمس پہلے دن سے کہلاتا ہے شمس
بدر ہوتا ہے مگر پہلے ہلال
۸:اُلفت کے راز
آ کہ پھر ظاہر کریں اُلفت کے راز
یار میں ہوجائیں گم عمرت دراز
میرے پیچھے پیچھے چلتا آ کہ میں
بندۂ محمودؐؔ ہوں اور تُو ایازؔ
(۲۷؍دسمبر ۱۹۵۳ء بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ بحوالہ اخبار المصلح جلد۷۔ ۳؍جنوری۱۹۵۴ء)
مزید پڑھیں: نونہالانِ جماعت مجھے کچھ کہنا ہے



