مومن کی زندگی کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کا تعلق ہے
مومن کامادہ ”ام ن“ (امن)سےہے۔مومن کےلغوی معنی :اللہ اوراس کےرسول پرایمان لانےوالا،کامل اطاعت اورفرمانبرداری کرنےوالا۔ایمان میں بڑھنے والا، امن میں رہنے والابیان ہوئے ہیں ۔اس عالم رنگ و بو میں انسان کی حیثیت ایک مسافر کی سی ہے جس کی زندگی کا ہر لمحہ تلاش وجستجو سے عبارت ہے۔ وہ سکون چاہتا ہے، اُسے محبت کی ضرورت ہے اوراُسے ایک ایسی پناہ گاہ کی تلاش ہے جہاں اُس کے دل کو قرار ملے اور وہ سکون کی زندگی جی سکے۔آج کا انسان مادی ترقی کے عروج کے باوجود تنہا، اندر سے کھوکھلا اور بے سکون نظر آتا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُس نے اپنے پیدا کرنے والےسے اپنا تعلق کمزور کرلیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دلوں کا سکون اور اطمینان اللہ تعالیٰ کی یاد اوراُس کے ساتھ مضبوط تعلق میں پنہاں ہے ۔ ہماری زندگی محض سانسوں کے چلنے کا نام نہیں بلکہ ایک اعلیٰ مقصد کا حصول ہے۔ اور یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ اور مضبوط تعلق ہے اس لیےہر مومن کو اس تعلق کی مضبوطی کے لیے کوشش کرنی چاہیے ۔ذیل میں چند ذرائع کامختصر ذکر کیا جارہا ہے :
عبادت الٰہی
اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے : یٰۤاَیُّہَاالنَّاسُ اعۡبُدُوۡارَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔(سورۃ البقرۃ:۲۲) اے لوگو! تم عبادت کرو اپنے رب کی جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے۔ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
اللہ تعالیٰ کےساتھ گہرااورمضبوط تعلق قائم کرنےکےلیےرسول اللہ ﷺ کا مبارک اسوۂ حسنہ بہترین راہنما ہے۔
آپؐ کی زندگی کےشب و روزخداتعالیٰ کی محبت اوراُس کےذکروشکرسےعبارت تھے۔ آپؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نمازمیں تھی۔
آپ ﷺکی نمازوںمیں طوالت اور رکوع وسجودکاذکرپڑھ کرہر مومن کا دل عش عش کراٹھتاہے۔ ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں: مَیں نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپؐ نے رکوع کیا یہاں تک کہ مَیں نے اپنی ناک پکڑ لی ۔یعنیاتنا لمبا رکوع تھا کہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں ناک سے خون نہ بہنے لگ جائے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ۔ کتاب النساء، حرف السین – سودہؓ بنت زمعۃ جلد ۸ صفحہ۱۹۶-۱۹۷ دارالکتب العلمیۃ ۱۹۹۵ء)
نمازکامیابی کی راہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:یقیناً مومن کامیاب ہوگئے۔ وہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔(المؤمنون:۲-۳)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیرکرتےہوئےفرماتے ہیں:’’اوراوّل مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقّت اور سوزوگداز کی حالت ہے جو نماز اور یاد الٰہی میں مومن کو میسر آتی ہے یعنی گداز ش اور رقت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا۔ اورہر ایک خوف کی حالت اپنےپرواردکرکےخدائے عزّوجلّ کی طرف دل کوجھکاناجیساکہ اس آیت میں بیان فرمایاگیاہے … یعنی وہ مومن مرادپاگئےجواپنی نمازمیں اورہر ا یک طور کی یادِ الٰہی میں فروتنی اور عجزونیاز اختیار کرتےہیں اوررقت اورسوزگدازاورقلق اورکرب اوردلی جوش سےاپنے رب کےذکرمیں مشغول ہوتےہیں۔ ‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱صفحہ ۱۸۸)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ان آیات پرروشنی ڈالتےہوئےفرماتےہیں:’’ان آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ کہہ کر مومنوں کی کامیابی کی یقینی خوشخبری عطا فرمائی ہے۔ لیکن کونسے مومن؟ …پہلی خصوصیت یا حالت یہ ہے کہ وہ فِیْ صَلَاتِھِمْ خٰشِعُوْنَ۔ اپنی نمازوں میں خشوع دکھانے والے ہیں …پس دیکھیں اس ایک لفظ میں ایک حقیقی مومن کی نماز اور عبادت کا کیسا وسیع نقشہ کھینچا گیا ہے اور جو انسان خدا تعالیٰ کے آگے اپنی عبادتوں کے یہ معیار حاصل کرنے کے لیے جھکے گا، اپنی عاجزی کو انتہا پر پہنچانے والا ہو گا، اپنے نفس کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے مٹانے والا ہو گا اور جو دوسری خصوصیات بیان کی گئی ہیں ان کو اپنانے والا ہو گا تو پھر وہ جہاں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا ہو گا وہاں وہ اس طرف بھی توجہ دے گا کہ مَیں نے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مخلوق کا بھی حق ادا کرنا ہے اور پھر یہ نمازیں اس کے دنیاوی معاملات سلجھانے والی بھی بن جائیں گی…پس کئی برائیوں کا جن کا روزانہ کے معمولات سے تعلق ہے ایک مومن اپنی نمازوں اور عبادتوں کی وجہ سے ان کا بھی خاتمہ کر لیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ایسی نمازوں اور ایسے اثر اپنے پر قائم کرنے والے جو لوگ ہیں وہ فلاح پا گئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ ۱۰؍اپریل ۲۰۱۵ء۔ الفضل انٹرنیشنل یکم تا ۷؍مئی ۲۰۱۵ء)
تہجد کی ادائیگی
پھر قرآن کریم کہتا ہے کہ رات کا اٹھنا نفس کی اصلاح کرتاہےاورانسان کی زندگی کا مقصدبھی یہی ہے۔یہی وجہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کوفرماتےخواہ تہجد دو رکعت ہی پڑھو مگر پڑھو ضرور۔قرآن کریم اوراحادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ قریب آ جاتا ہے اور اپنے بندے کی دعائیں قبول کرتا ہے۔
تلاوت قرآن کریم
حضرت ابو موسیٰ ؓسے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : وہ مومن جو قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے وہ ترنج(نارنگی) کی طرح ہےجس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بُوبھی اچھی ہے۔اور وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اوراس پر عمل کرتا ہے کھجور کی طرح ہے جس کا مزہ اچھا ہے اس کی مطلق بُو نہیں۔اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے نیاز بو کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اور اس کا مزہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا حنظل کی طرح ہے جس کا مزہ بھی کڑوا،یا (فرمایا)بُرا اور بُوبھی کڑوی ہوتی ہے۔ (بخاری کتاب فضائل القرآن باب اثْمُ مَنْ رَاءَی بِقِرَاءَۃِ الْقُرْآنِ اَؤْ تَأَکَّلَ بِہِ أَوْ فَجَرَحدیث:۵۰۵۹)
شرک سے اجتناب اورتوحیدخالص کاقیام
اللہ تعالیٰ نےفرمایا ہے :اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ کے مقابل پر شریک بنا لیتے ہیں۔ وہ ان سے اللہ سے محبت کرنے کی طرح محبت کرتے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ کی محبت میں (ہر محبت سے) زیادہ شدید ہیں۔(البقرۃ:۱۶۶)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ اس آیت کےآخری حصہ کی تفسیرمیں فرماتےہیں:لیکن مومنوں کی جماعت سب چیزوں سےزیادہ اللہ تعالیٰ سےمحبت کرتی ہے۔اس آیت میں یہ بھی بتادیاکہ ایسےمومن لوگ فی الواقع موجودہیں جوخداتعالیٰ سےسب سےزیادہ محبت کرنےوالےہیں۔(تعلق باللہ۔ انوارالعلوم جلد ۲۳صفحہ ۱۵۶) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اس آیت پرروشنی ڈالتےہوئے فرماتےہیں:” مومنوں کو بتایا کہ اگر مومن ہونے کا دعویٰ ہے تو حقیقی مومن کی یہ تعریف ہے کہ اس کو خداتعالیٰ سے محبت سب محبتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی محبت ہر قسم کی محبت پر حاوی ہوتی ہے اور جو کچھ اسے دنیاوی اور اُخروی انعامات ملنے ہیں وہ خداتعالیٰ کی محبت کی وجہ سے ہی ملنے ہیں۔ “( خطبہ جمعہ فرمودہ۹؍اکتوبر۲۰۰۹ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳۰؍اکتوبر۲۰۰۹ء)
دین کودنیاپرمقدم کرنا
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتےہیں:پس مومن کا اصل کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے اپنے دل کی کیفیت کو ڈھالے۔ مقصود اس کا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو اور اس میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے دل کی کیفیت کو اس کے مطابق ڈھالتا ہے تو اسی میں اس کی فلاح اور کامیابی ہے۔ اور یہی دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔(خطبہ جمعہ ۱۷؍کتوبر۲۰۱۴ء)
حقوق العبادکی ادائیگی
اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ﷺنےحقوق اللہ اورحقوق العبادپربہت زوردیاہے۔ایک حقیقی مومن جس کی بنیادہی خداتعالیٰ سےمضبوط تعلق قائم کرناہےجس کو اللہ تعالیٰ نےفطرت صحیحہ پرپیداکیاہے،وہ اپنے والدین،دوست احباب،ہمسائیوں،عزیزواقارب،غرض کہ تمام بنی نوع انسان کوخداتعالیٰ کی دی ہوئی استطاعت اورہرصلاحیت سے فائدہ پہنچاتاہے۔نبی کریم ؐنے فرمایا ہے :ایمان کے لحاظ سے کامل مومن وہ ہے جس کا خُلق سب سے بہتر ہے۔( مشکوٰۃ:۴۳۳)
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:متقی بنو،سب سے بڑے عابد بن جاؤگے۔ قناعت اختیار کرو،سب سے زیادہ شکرگزار بن جاؤگے۔ لوگوں کے لیے وہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو،حقیقی مومن بن جاؤگے۔ اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو، حقیقی مسلمان بن جاؤگے۔ کم ہنسو،کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔( ابن ماجه كتاب الزہد باب الورع والتقویٰ ۴۲۱۷)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتےہیں :’’…یعنی مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم محض خدا کی محبت اور اس کے منہ کے لئے تمہیں دیتے ہیں۔ ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ شکر گذاری چاہتے ہیں۔ (سورۃالدھر:۹- ۱۰)
غرض قرآن شریف ایسی آیتوں سے بھرا پڑا ہے جہاں لکھا ہے کہ اپنے قول اور فعل کے رو سے خدا کی محبت دکھلاؤ اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرو۔‘‘(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶۸)
اجرعظیم کاوعدہ اورجنت کی بشارت
اللہ تعالیٰ نےان لوگوں سےجوایمان لائےاور نیک اعمال بجا لائےیہ وعدہ کیا ہے (کہ) اُن کے لیے مغفرت اور ایک بہت بڑا اجر ہے۔(سورۃ المائدہ:۱۰)
خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اُس کے ساتھ خالص تعلق ہی ایک مومن کی زندگی کی بنیاد،اس کا مطمح نظر اور اُس کی روح کی غذا ہوناچاہیے۔جب یہ تعلق مضبوط ہوجاتا ہے تو انسان کے اندر یقین کی شمع روشن ہوجاتی ہے جو اُسے ہر اندھیرے سے بچاتی اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔اس لئے مشکلات اور آزمائشوں میں اُس کی قدم ڈگمگاتے نہیں بلکہ وہ ہر حالت میں اپنے ربّ پر توکل کرتا ہے۔وہ دعاؤں سے کام لیتا ہےکیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کا رب اُس کے ساتھ ہے۔اُس کی موجودگی کا یہ احساس اُسے مایوس نہیں ہونے دیتا بلکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے اور اُس کی دعاؤں کو سن کر اُن کا جواب دیتا ہے ۔پس جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کا تعلق مضبوط ہوتا جائے گا یہ تعلق اُسے اُس کی اصل منزل، یعنی آخرت میں کامیابی کی طرف لے جائے گا۔ دنیا کی زندگی عارضی قیام گاہ ہے جبکہ اصل زندگی اللہ کی رضا میں پنہاں ہے۔ پس جو شخص اپنے ربّ سے جُڑ جاتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں رہتا اور آخرت میں کامیابی اُس کا مقدر بنتی ہے۔
؎ اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب
لگاتے ہیں دل اپنا اس پاک سے
وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے
(نشان آسمانی،روحانی خزائن جلد۴ صفحہ ۴۳۴-۴۳۵)



