تاریخ کا آئینہ: روشن یادوں کی بازگشت(قسط سوم۔ آخری)
مکرم ومحترم مبارک احمد انصاری سابق پروفیسر تعلیم الاسلام کالج ربوه و جامعہ احمدیہ کینیڈا
تعلیم الاسلام کالج قادیان پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی زندگی میں ۱۹۰۵ء میں قائم ہوا لیکن یونیورسٹی کے قواعد پورا نہ کرنے کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔دوسری دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں قادیان میں دوبارہ اس کا ۱۹۴۴ء میں اجرا کیا گیا
[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۱۶؍اپریل ۲۰۲۶ء]جماعت کے ایک قیمتی خزانہ کی بازیافت
۱۹۳۵ء میں جب کوئٹہ میں ہلاکت خیز زلزلہ آیا تو میرے والد محترم قاضی محمد رشید صاحب اس وقت راولپنڈی میں تھے۔ اس وقت ان کا تبادلہ راولپنڈی سے کوئٹہ کر دیا گیا۔ وہاں اس وقت چودھری احمد جان صاحب کو کوئٹہ سے کسی دوسرے شہر تبدیل کر دیا گیا تھا۔
چودھری صاحب اس وقت کوئٹہ کے امیر جماعت تھے۔ اور مرکز کی طرف سے انہیں ملفوظات حضرت مسیح موعود ؑکی تالیف کا کام بھی سپر د تھا جس کے لیے انہیں مواد کے طور پر پر انے اخبارات بدر، الحکم وغیرہ کے فائل بھی مہیا کیے گئے تھے۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ جس مکان میں ان کی رہائش تھی وہ کچھ اس طرح گر گیا کہ اس کا کوئی نشان نہ ملتا تھا بلکہ اس علاقےکا بھی پتا نہ چلتا تھا کہ کون سی جگہ کہاں ہے کیونکہ زلزلہ نے سارے علاقےکو ملبے کا ایک ڈھیر بنادیا تھا۔ محترم چودھری صاحب کو ان فائلوں کا بہت فکر تھا جو ان کے سپر د تھیں۔ وہ جماعت کے نوجوانوں کو لے کر ہر روز اس کی تلاش میں جایا کرتے تھے کہ گھر کا کچھ سراغ ملے۔ ایک دن دیکھا کہ لوگ ایک طرف سے کپڑے کے بوٹ پہن کر آرہے ہیں ان سے پتا لگا کہ اس جگہ کھدائی میں ایک جوتوں کی دکان دریافت ہوئی ہے۔ چودھری صاحب اس دکان کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ دکان ان کے گھر سے کس طرف تھی اور یہ بھی اندازہ تھا کہ اند ازاًکتنے فاصلے پر تھی۔ چنانچہ اس دکان کو Bearing بنا کر اند ازاً ہر چہار اطراف میں گھر کی تلاش کے سلسلہ میں کھدائی شروع کی۔ کئی دنوں کی کوشش کے بعد جب ان میں سے ایک شخص نے ملبہ پر گینتی (Pick Axe) چلائی تو اس میں ایک دیگچی پروئی ہوئی آگئی جس کو چودھری صاحب نے پہچان لیا کہ یہ تو ان کی دیگچی ہے اور اس کو باورچی خانہ میں ہونا چاہیے تھا۔ اس طرح انہوں نے اپنے باورچی خانہ کا پتا لگا لیا۔ اور پھر اس کی مدد سے اس کمرے کا بھی پتا لگا لیا جس کی ایک الماری میں وہ جماعت کا قیمتی خزانہ رکھا گیا تھا۔ یہ خدا کا خاص فضل ہوا کہ یہ سب فائل ایسی حالت میں دستیاب ہو گئے کہ وہ آسانی سے پڑھے جاسکتے تھے۔ یہ سب باتیں مجھے اب کھٹک رہی ہیں، لیکن اس وقت مجھے والد صاحب سے یہ پوچھنے کا خیال نہ آیا کہ آیا چودھری احمد جان صاحب کو ہی ملفوظات تالیف کرنے کی سعادت حاصل ہوئی یا کسی اَور کو بھی۔ بہرحال ہمیں یہ گم شدہ علمی خزانہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بازیاب ہوا۔ الحمد للہ علی ذالک۔
میرے والد خان صاحب قاضی محمد رشید صاحب جب حکومت کے محکمہ آرڈننس سے بطور سویلین گزیٹڈ آفیسر ۱۹۵۲ء میں ریٹائر ہوئے تو اپنی زندگی وقف کے لیے پیش کی جسے حضورؓ نے قبول فرمایا اور انہیں دفتر تحریک جدید میں بطور وکیل المال ثالث تعینات کیا ان سے پہلے دو وکیل المال موجود تھے۔ جن میں وکیل المال اوّل چودھری برکت علی صاحب کا تعلق تحریک جدید کے دفتر اوّل کے ساتھ تھا اور وکیل المال ثانی قریشی عبدالرشید کے ذمہ دفتر دوم تھا۔ وکیل المال ثالث کے ذمہ بجٹ اور اس سے متعلقہ امور مقرر ہوئے۔
تعلیم الاسلام کالج قادیان
تعلیم الاسلام کالج قادیان پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی زندگی میں ۱۹۰۵ء میں قائم ہوا لیکن یونیورسٹی کے قواعد پورا نہ کرنے کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔دوسری دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں قادیان میں دوبارہ اس کا ۱۹۴۴ء میں اجرا کیا گیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں کچھ عمارات تعمیر کی جاچکی تھیں۔ ان عمارات میں تعلیم الاسلام ہائی اسکول کی عمارت جو اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور کے نقشہ کے عین مطابق تعمیر ہوئی۔ اس کے بورڈنگ ہاؤس کی عالیشان عمارت اور مسجد نور بھی اسی وقت تعمیر کی گئیں۔ ان سب عمارتوں میں استعمال ہونے والی اینٹیں عمدہ قسم کی استعمال کی گئیں اور چنائی میں بجائے اینٹوں کو توڑ لگانے کے، اینٹوں کے عام سائز کے چھوٹے ٹکڑے بھی تیار کرائے گئے جس سے عمارتوں کے حسن میں بھی اضافہ ہوگیا اورچنائی بھی آسان ہوگئی۔ اور چنائی چونا اور سرخی (اینٹوں کو پیس کر پوڈر) سے تیار مصالحہ سے کی گئی ۔جب ۱۹۴۴ء میں کالج کھولا گیا تو اسکول کو اور جگہ منتقل کردیا گیا اور کالج کو اسکول کی اس عمارت میں کھولا گیا۔ تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ایم اے (آکسن) مقرر ہوئے۔ ابتدا میں آپ اکنامکس کا مضمون پڑھاتے رہے۔ بعد میں بی اے کی کلاسیں شروع ہونے پرپولیٹکل سائنس پڑھانی شروع کی جس کی کلاسیں آپ اپنے دفتر میں ہی لیتے تھے۔
انگریزی:اس کے لیے دو نام زیر تجویز تھے ایک تو حضرت ملک غلام فرید صاحب ایم اے ؓکا اور دوسرے اس وقت کے ہیڈ ماسٹر محترم اخوند محمد عبد القادر صاحب ایم اے بی ٹی کا۔ جن میں سے مؤخر الذکر کو چنا گیا۔
محترم اخوند صاحب ابتدائی عمر میں بہت مشکلات کا شکار رہے۔ اس زمانے میں یونیورسٹی کے قوانین کی رو سے اضافی امتحان (Compartment) نہ ہوتی تھی۔ اور نہ ہی بہتر نمبر حاصل کرنے کے لیے Division Improve کرنے کے لیے امتحان دوبارہ دیا جاسکتا تھا۔ اگر تو ٹوٹل مضامین کے نمبروں میں کوئی طالبعلم پاس ہے تو اسے پاس کر دیا جاتا ورنہ وہ فیل شمار ہوتا۔ امتحان کے دوران اخوند صاحب بیمار ہو گئے اور ان کے دو پرچے رہ گئے مگر ان کے کل مضمونوں کے نمبروں کے لحاظ سے انہیں تھرڈ ڈویژن میں پاس کر دیا گیا۔ انہوں نے بی ٹی کا امتحان دیا تو وہ پورے طلبہ میں فرسٹ آئے۔ابتدا میں ایک عارضی ملازمت ایمرسن کالج ملتان میں انگریزی کے ایک پر وفیسر کے چھٹی پر جانے کی وجہ سے ملی لیکن اس کے چھٹی سے واپس آنے پر وہ بھی ختم ہو گئی۔ طلبہ نے پرنسپل سے اخوند صاحب کی بہت سفارش کی کہ ہمیں ایسا استاد چاہیے مگر کچھ نہ ہو سکا۔ اس وقت اخوند صاحب کا نام غلام حسین ہوتا تھا حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بدل کر عبدالقادر رکھا۔ پھر حضور ؓکی کوششوں سے ان کے افریقہ جانے کا انتظام کردیا گیا۔ وہاں سے جب چند سال بعد ان کی ہندوستان واپسی ہوئی تو ان کو پہلے تو تعلیم الاسلام ہائی اسکول کا سیکنڈ ماسٹر اوربعد میں ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا اور کالج کھلنے پر ان کو اس میں انگریزی کا استاد لگایا گیا۔
۱۹۴۵ء میں سید فضل احمد صاحب (آئی جی پولیس) جن کا تعلق بہار سے ہے، بھی شعبہ انگریزی سے منسلک ہو گئے اور وہ ہمارے استاد ہوئے۔ اخوند صاحب کتابیں پڑھاتے تھے اور سید فضل احمد صاحب کمپوزیشن۔ دونوں استاد اپنے اپنے کام میں ماہر تھے۔ پارٹیشن سے پہلے سید فضل احمد صاحب انڈین پولیس سروس میں چلے گئے۔ مجھے ۱۹۸۹ء میں جماعت کی صد سالہ جوبلی کے موقع پر جلسہ سالانہ برطانیہ کے ایام میں سید فضل احمد صاحب سے ملاقات کا موقعہ ملا۔ ان دنوں وہ پولیس کی نوکری سے ریٹائر ہو چکے تھے۔
فلاسفی : چودھری محمد علی صاحب اس شعبہ کے انچارج تھے اور کالج کے بنیادی اساتذہ میں سے تھے۔ ان کے اکثر حالات سے تو اکثر احباب واقف ہوںگےکیونکہ ایم ٹی اے پر بہت سے پروگرام آئے ہیں جن سے اتنی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو میں پہلے نہیں جانتا تھا تاہم میری کوشش ہوگی کہ ان کے ان حالات سے پردہ اٹھاؤں جن سے اکثر احباب واقف نہیں۔ جب۱۹۴۵ء میں مَیں داخل ہوا تو میرے ٹیوٹوریل گروپ (Tutorial Group) کے انچارج محترم چو ہدری محمد علی صاحب تھے۔ وہ اپنے شاگردوں کی انگریزی درست کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایک دفعہ مجھےچھٹی کی ضرورت پڑی موقع ایسا تھا کہ میری والدہ حیدر آباد دکن سے آرہی تھیں اور مجھے ان کو امر تسر لینے جانا تھا میں نے درخواست پیش کی جس میں وجہ یہ لکھی کہ To fetch my mother چودھری صاحب نے فرمایا لفظFetch بے جان چیزوں کے لیے آتا ہے جاندار چیزوں کے لیے Bring کا لفظ آتا ہے اس کے بعد میں نے کبھی ایسی غلطی نہیں کی۔
اکثر اداروں میں جہاں بھی وہ گئے انہوں نے انگریزی پڑھائی ہے۔مثلاً جامعہ احمد یہ ربوہ، ایف سی کالج وغیرہ۔ آپ کی انگریزی نہایت اعلی درجہ کی تھی اس لیے اعلیٰ حکومتی اداروں کو خطوط لکھوانے کا کام اکثر آپ کے سپرد کیا جاتا یا تھا جس کے کرنے کے لیے پورا سکون چاہیے ہوتا تھا۔
بہت اعلیٰ درجہ کے شاعر تھے۔ کالج کے زمانے میں ہائیکنگ (Hiking)کے شعبہ کے انچارج رہے۔ تقسیم ملک سے قبل موجودہ ہماچل پردیش کے ایک مقام پانگی میں طالبعلموں کو لے کر گئے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ گئے گو کہ وہ اس کالج کے طالب علم نہ تھے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا قابل دید مقام ہو جہاں وہ طلبہ کے ساتھ نہ گئے ہوں۔ کالج کی کھیلوں کے ساتھ بھی بہت تعلق رہا۔ کشتی رانی اور باسکٹ بال کے بھی انچارج رہے۔ قادیان کالج میں بطور اختیاری مضمون ایک ۵۰؍نمبر کا مضمون I.A.T.C (Indian Arm Training Course) بھی تھا جس کی ٹریننگ لینے کے لیے سکندر آباد دکن بھی تشریف لے گئے۔ گورنمنٹ آف انڈیا سے ایک فائٹر طیارہ Spitfire بھی حاصل کیا۔
کالج کے ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ بھی آپ تھے۔ قادیان میں بطور ہوسٹل جو عمارت بنی اس میں مولوی محمد علی صاحب ایم اے رہا کرتے تھے۔ ان کی اسی عمارت میں جامعہ احمدیہ قادیان بھی رہا ہے۔ اس کی مین بلڈنگ پختہ میں ہوسٹل کا دفتر اور سپرنٹنڈنٹ صاحب کا آفس اور رہائش بھی تھی۔ نیا ہوسٹل کچی اینٹوں سے تعمیر ہواتھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہوسٹل کے افتتاح پر کچھ اس طرح ذکر کیا کہ اس میں رہنے والے دونوں اشخاص کا نام محمد علی ہے۔ اور دونوں ایم۔اے ہیں اور دونوں کا تعلق جالندھر کے ضلع سے ہے۔ ایک کا قول یہ تھا کہ ہمارے بعد یہاں اُلّو بولیں گے اور دوسرے کا عزم یہ کہ یہاں سے وہ لوگ پیدا ہوں گے جو اسلام اور احمدیت کے وارث ہوں گے اور اس کی خدمت کریں گے۔اور غالباً یہ بھی کہ دونوں کا تعلق ارائیں قوم سے ہے۔
بعد میں میرے دریافت کرنے پر یہ بھی بتایا کہ ان کا ذاتی تعلق فیروز پور کے ضلع سے ہے اور حضور ؓکو شاید اس معاملےکا علم نہیں تھا۔
چودھری صاحب کا ذاتی کھانا ہوسٹل میں تیار ہوتا تھا۔ اور اس میں ہر روز قیمہ ہی پکتا تھا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ ہر روز قیمہ کھا کردہ کہیں تنگ تو نہیں آجاتے۔ انہوں نے فرمایا میں بچپن سے ہی گوشت نہیں کھا سکتا تھا کبھی غلطی سے بوٹی کھالی تو سخت بخار ہو جاتا۔ جب میں ایم اے میں تھا تو میرے استاد قاضی محمد اسلم صاحب نے میرا Psychoanalysis کیا جس کی کئی نشستیں (Sittings) ہوئیں جس سے پتا چلا کہ بچپن میں ہمارے گھر کچھ بٹیر آئے۔میں ایک بٹیر سے کھیلتا تھا لیکن گھر والوں نے اسے بھی ذبح کر دیا۔ جس کا مجھے بہت صدمہ ہوا اور سخت بخار ہو گیا۔ آرام آنے کے بعد جب گوشت کھاتا مجھے سخت بخار ہو جاتا۔ اب جب کہ مجھے اس بات کا علم ہوگیا، میرا گوشت کھا نا بغیر کسی تکلیف کے آسان ہو گیا۔ اور قیمہ مجھے پسند ہے اس لیے میں کم و بیش ہر روز قیمہ کھاتا ہوں۔
عربی: عربی کے استاد کے لیے دو ناموں کی تجویز تھی۔ ایک تو ملک صلاح الدین صاحب ایم اے اور دوسرے صوفی بشارت الرحمٰن صاحب ایم اے۔ مؤخر الذکر عربی کےمضمون میں رکھے گئے۔ میرا ان سے تعارف اس سے پہلے کا ہے جب وہ گورنمنٹ کالج کے طالبعلم تھے اور ہفتہ کی شام کو وہ قادیان آجاتے اور اتوار کو جماعتی کاموں میں مصروف رہنے کے بعد سوموار کے روز جو گاڑی فجر سے پہلے جاتی امرتسر پہنچ جاتےوہاں سے دوسری گاڑی جو پہلے ہی لاہور جانے کے لیے تیار ہوتی اس کے ذریعے کالج کے کھلنے کے وقت لاہور پہنچ جاتے۔ میں جب نویں جماعت میں تھا تو ایک روز انہوں نے ہماری جیومیٹری کی کلاس لی جس میں لوکس (Locus)کے متعلق ایک Preposition ہمیں سکھائی اور اس کی مثال دو متوازی الاضلاع لائنوں اور دائرہ کے سنٹر اور اس کے محیط سے دی۔ کالج میں ہمیں دینیات بھی پڑھاتے رہے۔ ہوسٹل میں چودھری محمد علی صاحب کےساتھ یہ ٹیوٹر بھی تھے۔ ان کی صحت تو ابتدا سے ہی کمزور تھی لیکن جب کسی کام میں جُت جاتے تو دنیا و ما فیہا کا کچھ خیال نہ رہتا۔ اپنی عربی کی کلاسوں کی بہبودی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے۔ ربوہ کی ٹاؤن کمیٹی کے صدر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے اور بہت سے مفید کام جاری کیے۔ ان میں سے ایک اہم کام یہ کیا کہ ہاؤس ٹیکس ختم کر دیا اور اس کی جگہ Development Tax کا اجراکیا۔ جس کے نتیجے میں خالی پلاٹوں پر بھی برائے نام ٹیکس عائد ہو گیا۔کمیٹی کی آمد میں تو کمی نہ آئی اور خالی پلاٹوں پر مکان بننے شروع ہو گئے۔
۱۹۷۲ء میں جب کالج نیشنلائز ہوا تو حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے ارشاد پر استعفیٰ دے کر براہ راست جماعتی خدمت میں آگئے۔ اس کے بعد جماعتی خدمات میں بھرپور زندگی گزاری۔ اور جماعت کے ذمہ دار عہدوں پر بھی فائز رہے۔ غالباً جامعہ احمد یہ ربوہ میں بھی کچھ دیر پڑھانے کا موقعہ ملا ۔ مجلس کار پرداز بہشتی مقبرہ کے صدر بھی رہے اور تحریک جدید میں وکیل التعلیم بھی رہے اور ربوہ میں اپنے محلہ دارالرحمت غربی میں باقاعدگی سے درس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔
ریاضی: پہلے استاد میاں عبدالرحمٰن ناصر صاحب تھے۔ انہیں اپنے مضمون پر بہت عبور تھا۔پارٹیشن کے بعد وہ چلے گئے اور بعد میں انہوں نے انجینئرنگ یونیورسٹی میں ملازمت کرلی۔ دوسرے استاد محمد صفدر چوہان تھے جنہوں نے قادیان میں ہی کالج جائن کر لیا تھا اور وہ کچھ دیر لاہور میں بھی کالج میں رہے۔ بعد میں فوج میں چلے گئے۔
فزکس: فزکس کے استاد میاں عطاء الرحمٰن صاحب بھی کالج کے بنیادی اساتذہ میں سے ہیں اور اپنی پوری زندگی اس کالج میں گذاری ۔بہت سادہ، اپنے مضمون پر بہت گرفت تھی۔ پڑھانے کا انداز بھی بہت اچھا تھا۔۱۹۷۲ء میں جب ہمارا کالج نیشنلائز ہوا تو ان کو بھی فارغ کر دیا گیا۔کالج میں اور دیگر استاد ڈاکٹر نصیر احمدخان صاحب اور ابراہیم صاحب اور مسعود احمد عاطف صاحب ہیں۔
کیمسٹری: کیمسٹری کے پہلے استاد یحییٰ بن عیسیٰ صاحب تھے۔ آپ کا تعلق بہار سے تھا۔ یہ کالج میں قریباً دو سال رہے۔ بعد میں یہ محترم سلطان محمود شاہد صاحب سے تبادلہ کراکے فضل عمر ریسرچ میں چلے گئے اور شاہد صاحب تعلیم الاسلام کالج میں آگئے ۔مکرم شاہد صاحب کو بعد میں لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کی بھی توفیق ملی اور کالج کے دوسرے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ سٹوڈنٹ یونین کے انچارج بھی رہے۔ طلبہ کی ہر قسم کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے اس لیے طلبہ میں بہت ہردلعزیز تھے۔ کئی کتا بیں تصنیف کیں جو بہت مقبول ہوئیں۔ ان کا بھی تبادلہ پہلے گورڈن کالج راولپنڈی میں کر دیا گیا اور بعد میں انہیں پرنسپل بنا کر ننکانہ صاحب بھجوا دیا گیا اور وہ وہاں سے ہی ریٹائر ہوئے۔ ان کے علاوہ خاکسار مبارک احمدانصاری اور برادرم مکرم رفیق احمد ثاقب صاحب کو بھی کام کا موقع ملا۔
فارسی: فارسی کے پہلے استاد عبد الرحمٰن صاحب تھے۔ ان کا تعلق بھی صوبہ بہار سے تھا۔ پارٹیشن تک یہ کالج میں رہے۔ آجکل یہ ڈیٹرائٹ امریکہ میں ہیں جہاں میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔
اکنامکس: اکنا مکس پہلے تو پرنسپل صاحب پڑھاتے تھے بعد میں فيض الرحمٰن فیضی صاحب نے چارج لے لیا۔ قادیان اور لاہور میں یہ پڑھاتے رہے لیکن جب کالج ربوہ میں منتقل ہو گیا تو یہ نہ آئے اور ایف سی کالج میں منتقل ہو گئے۔
تاریخ: تاریخ کے استاد جناب عباس بن عبدالقادر صاحب تھے۔ بہت قابل استاد تھے۔ یہ بھی بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نےآئی سی ایس کا امتحان بھی پاس کر لیا تھا لیکن یہ وقف کرکے قادیان آگئے۔ لاہور میں بھی رہے بعد میں سندھ میں چلے گئے جہاں کسی کالج کے پرنسپل تھے۔ وہاں ہی ان کو شہید کردیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اردو اختیاری: ایک اختیاری مضمون ۵۰؍نمبر کا ہوا کرتا تھا۔ اس وقت غالباً پنجاب یونیورسٹی میں ابھی ایم اے اردو شروع نہیں ہوا تھا اس لیے اس کے لیے قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اس کے سلیبس میں دو کتب رکھی گئی تھیں:
۱۔ مقدمہ شعر و شاعری از مولانا الطاف حسین حالی
۲۔ دیوان غالب
ہمارے ساتھ اس سال ڈی اے وی ہائی سکول رجادہ قادیان کے کچھ لڑکے بھی داخل ہوئے تھے۔ پڑھاتے ہوئے کوئی شعر بہت پسند آتا تو اس کی داد کچھ اس طرح دیتے کہ کہتے’’ آننَّدْ آگیا!‘‘ سب طالب علم ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ ابتدا میں کچھ عرصہ یہ فارسی بھی پڑھاتے رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ نیز خدمتِ اسلام احمدیت کی تادمِ آخر ہمت، طاقت اور توفیق نصیب ہو۔ آمین۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: تاریخ کا آئینہ: روشن یادوں کی بازگشت(قسط دوم)



