جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2024ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب
24-2023ء میں جماعت احمدیہ پر نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کےبے انتہا فضلوں اور تائید و نصرت کے عظیم الشان نشانات میں سے بعض کا ایمان افروز تذکرہ
اس عرصے میں 2لاکھ 38 ہزار 561 افرادکی احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں شمولیت
دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کے احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کے ایمان افروز واقعات
384 نئی جماعتوں کا قیام، 148مساجد کا اضافہ، 117مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز کا اضافہ
لاطینی سپینش، عبرانی اور فنش ترجمہ قرآن سمیت اب تک کل 78 زبانوںمیں جماعت احمدیہ کی طرف سےتراجم قرآن کریم کی اشاعت
18زبانوں میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی متعدد کتب کے تراجم
51 زبانوں میں 409مختلف کتب، پمفلٹس اور فولڈرز وغیرہ کی 40 لاکھ 94 ہزارتعداد میں طباعت
عربک، فرنچ، چینی، ٹرکش، فارسی و دیگر ڈیسکس کے تحت متعدّد کتب کی تیاری نیزخطباتِ جمعہ اور ایم ٹی اے کے پروگرامز کے تراجم
رقیم پریس کے ذریعہ باون کتب کی پہلی مرتبہ اشاعت
دنیا بھر میں اسلام کے پُر امن اور حقیقی پیغام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایم ٹی اے کے تمام چینلز کی بے مثال خدمات
دورانِ سال چار ہزار سے زائد کتب کی نمائش اور ستائیس ہزار سے زائد بُک سٹالز کے ذریعہ چوبیس لاکھ ستانوے ہزار سے زائد افراد تک احمدیت کا پیغام پہنچا
تین ہزار دو سو پچانوے اخبارات و رسائل نے جماعتی مضامین آرٹیکلز اور خبریں شائع کیں۔
ان اخبارات کے قارئین کی مجموعی تعداد تقریباً اٹھارہ کروڑ سے زائد ہے
پریس اینڈ میڈیا ٹیم کو ایک سو بارہ خبریں اور مضامین شائع کرانے کی توفیق ملی جس کے ذریعہ تین کروڑ سے زائد افراد تک جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچا
الفضل انٹرنیشنل کے ذریعہ آٹھ کروڑ اسّی لاکھ سے زائد افراد تک پیغام حق پہنچا
افریقہ اور یورپ میں جماعت احمدیہ کے ریڈیو سٹیشنز نیزدنیاکے مختلف ممالک کے ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے ذریعہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کی اشاعت
الاسلام ویب سائٹ،ریویو آف ریلیجنز،ہفت روزہ الحکم، تحریکِ وقفِ نَو اورمخزن تصاویرکی مختصر رپورٹس
انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس، مجلس نصرت جہاں اور ہیومینٹی فرسٹ کے خدمتِ انسانیت پر مبنی بے لوث کاموں کا تذکرہ
’’اے نادان قوم! یہ سلسلہ آسمان سے قائم ہوا ہے۔ تم خدا سے مت لڑو۔ تم اس کو نابود نہیں کر سکتے۔ اس کا ہمیشہ بول بالا ہے … اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور اس سِلسلہ کو بے قدری سے نہ دیکھو جو خدا کی طرف سے تمہاری اصلاح کیلئے پیدا ہوا۔ اور یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور کوئی پوشیدہ ہاتھ اس کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ سلسلہ کب کا تباہ ہو جاتا اور ایسا مفتری ایسی جلدی ہلاک ہو جاتا کہ اب اس کی ہڈیوں کا بھی پتہ نہ ملتا۔ سو اپنی مخالفت کے کاروبار میں نظر ثانی کرو۔ کم سے کم یہ تو سوچو کہ شائد غلطی ہو گئی ہو اور شائد یہ لڑائی تمہاری خدا سے ہو۔‘‘ (حضرت اقدس مسیح موعودؑ)
جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ 2024ء کے موقع پر دوسرے دن بعد دوپہر کے اجلاس سے سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایمان افروز اور دل نشین خطاب
(فرمودہ 27؍ جولائی 2024ء بروز ہفتہ بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے)
(خطاب کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
دوسرے دن کے اس وقت کی تقریر میں
اللہ تعالیٰ کے جماعت پر فضلوں کا ذکر
ہوتا ہے۔ اس وقت میں مختصرا ًوہ پیش کروں گا۔ میں نے خلاصۃً یہ ساری رپورٹ اب تیار کروائی ہے۔ تفصیلی رپورٹ بعد میں چھپ جائے گی۔ مختصر خلاصے۔
بعض شعبے اس دفعہ ہو سکتا ہے رہ بھی جائیں۔ اس میں بیان نہ ہوں لیکن بہرحال ہر شعبے نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا اچھا کام کیا ہے۔ احمدیت کے قائم ہونے، نئے ملکوں میں قائم ہونے کے بارے میں
جو رپورٹ ہے وہ یہ ہے کہ
دوران سال ایک نیا ملک تائیوان جماعت احمدیہ میں شامل ہوا
اس میں پودا لگا ہے۔ اس طرح ہمارے
ان ممالک کی کُل تعداد جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے 214ہو چکی ہے۔
تائیوان کے مشہور پروفیسر، مستند اسلامی سکالر پروفیسر جان کوان (Chang Kuan Lin) ہیں۔ اسلامی نام ان کا ڈاکٹر نبیل ہے۔ یہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔ یونیورسٹی آف تائیوان کے شعبہ مڈل ایسٹ اسلامک سٹڈیز کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔ تائیوان میں اسلام کے سب سے بڑے اور مستند سکالر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ نیشنل ٹیلیویژن تائیوان پر بھی ان کے انٹرویو زشائع ہوتے ہیں اور ان کو ہماری ایک تائیوانی خاتون حوّا صاحبہ جو مصر میں ہیں ان کے ذریعہ سے جماعت کا تعارف ہوا۔ پھر انہوں نے تحقیق کی ،پڑھا۔ شرائط بیعت کے بارے میں پڑھا اور پھراللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کر لی اور اب وہاں احمدیت کا پیغام پھیل بھی رہا ہے اور اس سال انہوں نے مختصر سا جلسہ سالانہ بھی منعقد کیا جہاں تیس افراد شامل تھے لیکن ان میں سے بارہ تائیوانی شامل تھے۔ جن کو مذہب سے دلچسپی نہیں، اس کے باوجود مذہب میں دلچسپی لینے لگ گئے اور اسلام میں دلچسپی لینے لگ گئے۔
اب دنیا بھر میں جو جماعتیں قائم ہیں ان میں
پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 384ہے
اور
908نئے مقامات ہیں جہاں جماعت باقاعدہ تو قائم نہیں ہوئی لیکن وہاں احمدیت کا پودا لگا ہے۔
جماعت کو دورانِ سال
اللہ تعالیٰ کے حضور جو مساجد پیش کرنے کی توفیق ملی ان کی مجموعی تعداد 148ہے جس میں سے 106نئی مساجد تعمیر ہوئیں اور 48بنی بنائی ملیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوران سال
مشن ہاؤسز میں 117کا اضافہ ہواہے۔ وکالت تصنیف یو کے
کی رپورٹ یہ ہے کہ نئی زبان لاطینی سپینش میں قرآن کریم کا ترجمہ پہلی مرتبہ طبع ہوا ہے۔ عبرانی ترجمہ ٔقرآن نئی زبان میں شائع ہوا ہے۔ فنش ترجمہ قرآن۔ یہ بھی نئی زبان ہے۔ یہ بھی ترجمہ طبع ہوا ہے۔
الحمد للہ! اب جماعت احمدیہ کی طرف سے تیار کیے گئے تراجم قرآن کریم کی کل تعداد 78ہو گئی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درج ذیل تصانیف کے انگریزی ترجمے اس سال ہوئے ہیں جوطبع کروائے گئے ہیں :سچائی کا اظہار، سناتن دھرم، سراج منیر،الھدیٰ والتبصرۃ لمن یری، اربعین، ملفوظات جلد دوم نصف آخر۔ نیز جلد ہفتم، جلد ہشتم اور جلدنہم۔
حضرت مصلح موعود ؓکی تصانیف ’’اتحاد المسلمین‘‘ اور ’’بانی سلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے‘‘ کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری کتب انہوں نے شائع کی ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی کتاب ’’مرقاۃ الیقین‘‘ کا عربی ترجمہ شائع ہوا ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓکی کتاب ’’ملائکۃ اللہ‘‘ بنگلہ زبان میں، ’’صداقت احمدیت‘‘ انگریزی، ’’نظام نو‘‘ ڈچ، ’’دیباچہ تفسیر القرآن‘‘ جرمن، ’’ذکر الٰہی‘‘ پولش، ’’دس ثبوت ہستی باری تعالیٰ‘‘ سپینش اور ’’فضائل القرآن حصہ اول‘‘ ہندی اور تامل زبان میں شائع ہوئی ہیں۔ ’’سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ جلد پنجم اور ششم اردو زبان میں شائع ہوئی ہیں۔فضائل القرآن، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت راشدہ ٹرکش میں شائع ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری کتابیں ہیں، لٹریچر ہے۔
اردو کتب کی رپورٹ یہ ہے کہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آٹھ جلدوں پر مشتمل سیٹ پہلی مرتبہ یہاں طبع کروایا گیا ہے۔ پہلے چار جلدوں میں تھا۔ اس کو اب پھر دوبارہ آٹھ جلدوں میں شائع کیا گیا ہے جس طرح اوریجنل شکل میں تھا۔ تاریخ احمدیت جلد تیس حصہ اول جو 1974ء کی جماعتی تاریخ پر مشتمل ہے طبع ہو چکی ہے۔ تفسیر کبیر کا نیا پندرہ جلدوں پر مشتمل کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن طبع ہو کر آ گیا ہے۔ پہلے دس جلدیں تھیں۔ اب نیا ایڈیشن تیار کر کے پندرہ جلدوں میں شائع ہوا ہے اور بڑا اچھا خوبصورت کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن شائع ہوا ہے۔
وکالت اشاعت طباعت
کی رپورٹ یہ ہے کہ بہتّر ممالک سے موصولہ رپورٹس کے مطابق دوران سال 409 مختلف کتب پمفلٹس اور فولڈرز وغیرہ 51زبانوں میں چالیس لاکھ چورانوے ہزارکی تعداد میں طبع ہوئے ہیں۔ اس میں مختلف زبانیں بھی ہیں ، اس کی تفصیل میں مَیں نہیں جاتا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم
کے بارے میں یہ رپورٹ ہے کہ دوران سال حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے درج ذیل تراجم شائع ہوئے ہیں۔ جرمن زبان میں سات کتب کے تراجم شائع ہوئے۔ انگریزی زبان میں سات کتب کے تراجم شائع ہوئے۔ آذربائیجانی ،ٹرکش ،سپینش، بنگلہ زبان میں تین تین کتب کے تراجم ہوئے۔ فارسی، ہاؤسا، لوگنڈا اور تامل زبان میں دو دو کتب شائع ہوئیں۔ عربی، چینی ،بوزنین، پولش،تیلیگو ،اوڈھیا،نیپالی اور انڈونیشین زبان میں ایک ایک کتاب کا ترجمہ شائع ہوا۔
وکالت اشاعت ترسیل
کی رپورٹ یہ ہے کہ چالیس ممالک کو چوالیس زبانوں میں دو لاکھ تیرہ ہزار سے اوپر کتب بھجوائی گئیں۔
جماعت کے ذریعہ فری لٹریچر کی تقسیم
کے بارے میں یہ رپورٹ ہے کہ مختلف ممالک میں پندرہ ہزار دو سو انچاس مختلف عناوین کی کتب، فولڈرز اناسی لاکھ اٹھہتر ہزار بیالیس کی تعداد میں فری تقسیم کیے گئے۔ اس ذریعہ سے ایک کروڑ چورانوے لاکھ سے اوپر افراد تک پیغام پہنچایا گیا۔
نمائش اور بک سٹالز اور بک فیئرز
کی جو رپورٹس موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چار ہزار سات سو ایک نمائشوں کے ذریعہ دس لاکھ باسٹھ ہزار سے اوپر افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا۔ اس سال ستائیس ہزار آٹھ سو چالیس بک سٹالز بھی لگائے گئے اور اس کے ذریعہ سے بھی چودہ لاکھ پینتیس ہزار سے اوپر افراد تک پیغام پہنچا۔
دنیا بھر میں اس وقت جماعت اور ذیلی تنظیموں کے تحت تئیس زبانوں میں ایک سو اٹھائیس اخبارات اور رسائل شائع ہو رہے ہیں۔
رقیم پریس
کے تحت باون کتب پہلی مرتبہ طبع ہوئی ہیں۔ قرآن کریم ناظرہ کی بڑے سائز اور حروف میں بھی طباعت ہوئی ہے۔ بک سٹالز میں بھی یہ دستیاب ہے۔ باقی کتب بھی دستیاب ہوں گی۔
عربی ڈیسک
کی رپورٹ یہ ہے کہ اس سال ملفوظات کی دس جلدوں پر مشتمل مکمل سیٹ کا عربی ترجمہ شائع ہوچکا ہے۔ دیگرکتب میں روحانی خزائن کی جملہ اردو کتب اور حضرت مصلح موعود ؓکی تفسیر کبیر کی دس جلدوں کا سیٹ سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ کتابوں کی بےشمار لمبی لسٹ ہے جو شائع ہوئیں۔
فرنچ ڈیسک
کی رپورٹ یہ ہے کہ فرنچ ویب سائٹ کو اب تک پانچ اعشاریہ ایک آٹھ ملین سے زائد زائرین نے وزٹ کیا ہے۔ اس سال ویب سائٹ پر چھیاسٹھ نئے مضامین لگائے گئے ہیں۔
چینی ڈیسک
کی رپورٹ ہے کہ مسیح ہندوستان میں کتاب کا چینی ترجمہ مکمل کر کے طبع کروایا گیا۔
ٹرکش ڈیسک
کی رپورٹ یہ ہے کہ ایم ٹی اے پر ترکی زبان میں ایک گھنٹے کا سوال و جواب کا لائیو پروگرام فرینکفرٹ سٹوڈیو سے ہر اتوار نشر ہوتا ہے۔ ترکی ریڈیو انٹرنیٹ پر چوبیس گھنٹے جاری ہے۔ اس پر ایک سو چوہتر نئے پروگرام ریکارڈ کروائے گئے۔ ٹرکش ویب سائٹ کو اس سال ایک لاکھ ستائیس ہزار سے اوپر لوگوں نے وزٹ کیا۔
فارسی ڈیسک
کی رپورٹ ہے کہ فارسی زبان کی ویب سائٹ کا جو افتتاح کچھ عرصہ ہوا میں نے کیا تھا۔اس پر فارسی زبان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے تراجم اور میرے خطبات کا مواد ڈالا جا چکا ہے۔
ایم ٹی اے انٹرنیشنل
کی رپورٹ یہ ہے کہ ایم ٹی اے کے سولہ ڈیپارٹمنٹس میں کل پانچ سو چوالیس کارکنان دن رات خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ان میں طوعی طور پر کام کرنے والے دو سو ترانوے مرد اور ایک سو تہتر خواتین ہیں۔
اس وقت ایم ٹی اے کے آٹھ چینلز چوبیس گھنٹے کی مستقل نشریات دے رہےہیں۔
ایم ٹی اے 1 ورلڈ، ایم ٹی اے 2یورپ، ایم ٹی اے 3 العربیہ، ایم ٹی اے 4 افریقہ، ایم ٹی اے 5 افریقہ ، ایم ٹی اے 6 ایشیا، ایم ٹی اے 7 ایشیا، ایم ٹی اے 8 امریکہ۔ یہ چینلز گیارہ سیٹلائٹس کے ذریعہ دنیا کے تمام کناروں تک نشریات پہنچا رہے ہیں۔نیز افریقہ میں لوکل سیٹلائٹ چینلز ایم ٹی اے گھانا اور ایم ٹی اے گیمبیا بھی جاری ہیں۔ اس طرح ایم ٹی اے کے زیر انتظام دو Terrestrial channels جو بغیر کسی ڈش انٹینا کے دیکھے جا سکتے ہیں، سرینام اور بیلیز میں جاری ہیں۔
ایم ٹی اے پر اس وقت تئیس مختلف زبانوں میں رواں تراجم نشر کیے جا رہے ہیں۔
ایم ٹی اے افریقہ
کی رپورٹ یہ ہے کہ ایم ٹی اے افریقہ کی برانچز کی تعداد تیرہ ہو چکی ہے۔ اس سال سیرالیون اور یوگنڈا میں دو نئے سٹوڈیوز کی تعمیر کے کام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سال ایم ٹی اے کو افریقہ کے ایک اہم ادارے افریقین یونین آف براڈ کاسٹرز میں شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ ادارہ ایک اہم اور تسلیم شدہ تنظیم کی حیثیت رکھتا ہے اور افریقہ کے تمام مشہور چینلز کی نمائندگی کرتا ہے۔ افریقہ میں ایم ٹی اے اب پہلے سے بڑھ کر قبولیت کا درجہ حاصل کر گیا ہے۔ دوران سال گیمبیا کے مختلف لوکل ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر ایک لاکھ گھنٹے پر مشتمل چوالیس ہزار سے اوپر پروگراموں کے ذریعہ اسلام احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔
افریقہ میں ریڈیو سٹیشنز کی رپورٹ
یہ ہے۔ اس وقت جماعت احمدیہ کے اپنے ریڈیو سٹیشنز کی تعداد 26ہے۔ ان ریڈیو سٹیشنز پر ایک لاکھ چھتیس ہزار سات سو سے اوپر گھنٹوں پر مشتمل دو لاکھ سات ہزار پروگرام نشر ہوئے۔
ریڈیو وائس آف اسلام یوکے
کی نشریات یوکے کے دس شہروں میں سنی جا سکتی ہیں۔ نیز آن لائن نشریات دنیا بھر میں سنی جاسکتی ہیں۔ دوران سال آٹھ ہزار سات سو سے اوپر گھنٹوں پر مشتمل پروگرام نشر کیے گئے۔ یوکے میں اس ریڈیو کی نشریات ایک کروڑ آٹھ لاکھ سے زائد افراد تک پہنچ رہی ہیں۔
یورپ کے ریڈیو سٹیشنز
میں ایک جرمنی میں قائم عربی ریڈیو سٹیشن ہے جس کا نام ’’الاحمدیۃ صوت الاسلام‘‘ہے۔ ترک ریڈیو سٹیشن ہے ’’صدائے اسلام ‘‘۔ اسی طرح جرمن ریڈیو سٹیشن ہے ’’وائس آف اسلام‘‘۔ ان تینوں ریڈیو سٹیشنز پر سات سو اٹھہتر گھنٹوں پر مشتمل سات سو اٹھہتر پروگرام نشر ہوئے۔
دنیاکے مختلف ممالک کے ٹی وی اور ریڈیو پروگرام
کے بارے میں رپورٹ ہے کہ ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کے علاوہ تہترممالک میں ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر بھی جماعت کو اسلام کا پرامن پیغام پہنچانے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس سال دو ہزار سات سو اکاون ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ دو ہزار آٹھ سو سے زائد گھنٹوں کا وقت ملا۔ اسی طرح جماعتی ریڈیو سٹیشنز کے علاوہ مختلف ممالک میں ریڈیو سٹیشنز پر پندرہ ہزار سے اوپر گھنٹوں پر مشتمل سترہ ہزار آٹھ سو پروگرامز نشر ہوئے۔ ٹی وی اور ریڈیوکے ان پروگراموں کے ذریعہ محتاط اندازے کے مطابق اٹھارہ کروڑ سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔
اخبارات میں جماعتی خبروں
کے بارے میں جو رپورٹ ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر تین ہزار دو سو پچانوے اخبارات رسائل نے جماعتی مضامین، آرٹیکلز اور خبریں وغیرہ شائع کیں۔ ان اخبارات کے قارئین کی مجموعی تعداد تقریباً اٹھارہ کروڑ سے زائد ہے۔
پریس اینڈ میڈیا آفس
کی رپورٹ یہ ہے کہ دوران سال پریس اینڈ میڈیا ٹیم کو ایک سو بارہ خبریں اور مضامین شائع کرانے کی توفیق ملی۔ اس کے ذریعہ تین کروڑ سے زائد افراد تک جماعت کا پیغام پہنچا۔ جس میڈیا نے خبریں شائع کیں ان میں سکائی نیوز، آئی ٹی وی، بی بی سی لندن، آئی نیوز پیپر، بی بی سی نیوز، گارڈیئن اور دوسرے مختلف پوڈ کاسٹ شو وغیرہ جیسے پوڈ کاسٹ شو لندن اور اسی طرح دا ویک جونیئر (The Week Junior)وغیرہ یہ میڈیا شامل ہے۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ کے ذریعہ انیس ملین سے زائد افراد تک پیغام پہنچا ہے۔ دوران سال ایک ہزار چار سو اکاسی صحافیوں سے انفرادی طور پر رابطہ کیا گیا۔ دو سو چالیس جرنلسٹ اور ایک سو چھ دیگر میڈیا سے متعلقہ افراد سے میٹنگز کی گئیں۔ پریس اینڈ میڈیا آفس کے سٹاف نے مختلف میڈیا کانفرنسز میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیز اور سکولز میں اسلام پر لیکچرز دیے۔ مختلف ٹی وی پروگرامز میں اسلام کا تعارف پیش کیا اور مہمانوں کو مساجد کے ٹورز کروائے۔
الاسلام ویب سائٹ
آن لائن قرآن میں بنگلہ اور نارویجین ترجمہ کا اضافہ کیا گیا۔ قرآن سرچ انجن میں مزید بہتری لائی گئی ہے اور صوتی الفاظ سے قرآنی آیات تلاش کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ نئی ڈیجیٹل لائبریری مع انگریزی کتب اور روحانی خزائن سرچ انجن کا اجرا کیا گیا ہے۔ چالیس نئی انگریزی کتب ایمازون، گوگل اور ایپل پر شائع کی گئی ہیں۔ اب تک ان فورمز پر کل ایک سو نوے انگریزی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ روحانی خزائن اردو کی ستائیس کتب بھی ایپل اور گوگل پر ای بکس کی صورت میں دی گئی ہیں جوموبائل فون پر باآسانی پڑھی جا سکتی ہیں۔
ریویو آف ریلیجنز
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس رسالے کا اجرا فرمایا تھا۔ اس کو ایک سو بائیس سال ہو چکے ہیں۔ریویو آف ریلیجنز کا انگریزی پرنٹ ایڈیشن ایک سو چھبیس ممالک ،فرانسیسی ایڈیشن چھبیس ممالک اور جرمن ایڈیشن تین ممالک اور ہسپانوی ایڈیشن تیرہ ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ریویو کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل کو دو ملین سے زائد ویوز ملے جبکہ ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹا گرام پر ویڈیوز کو دس ملین سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔
الفضل انٹرنیشنل
پاکستان میں الفضل کی ویب سائٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ دوران سال الفضل کی ویب سائٹ ،ٹوئٹر فیس بک وغیرہ کے ذریعہ آٹھ کروڑ اسّی لاکھ سے زائد لوگوں تک پیغام حق پہنچا۔
ہفت روزہ الحکم
کے قارئین میں غیراز جماعت احباب کی تعداد نمایاں ہے۔ان میں اضافہ بھی ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ویب سائٹ کی گنجائش بھی بڑھانی پڑی۔ قارئین کی تین ماہ کے عرصہ کی جو اوسط تعداد ہے وہ ایک ملین ہے۔
تحریک وقف نو
اس وقت دنیا میں واقفین نو کی کل تعداد تراسی ہزار پچپن ہے جس میں اڑتالیس ہزار پانچ سو بیاسی لڑکے اور چونتیس ہزار چار سو تہتر لڑکیاں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس وقت کل دو ہزار نو سو سینتالیس واقفین نو بشمول مربیان مختلف فیلڈز میں خدمات بجا لا رہے ہیں۔
شعبہ مخزن تصاویر
کے ریکارڈمیں اب تک چودہ لاکھ چوراسی ہزار نو سو چالیس تصاویر کو محفوظ کیا جاچکا ہے۔ ویب سائٹ پر کل پانچ ہزار چار سو چونسٹھ تصاویر ہیں۔ سوشل میڈیا پر تصاویر کو پانچ لاکھ پچانوے ہزار سے زائد بار دیکھا گیا۔
مجلس نصرت جہاں
کے تحت افریقہ کے تیرہ ممالک میں چالیس ہسپتال اور کلینک قائم ہیں۔ ان میں چھتیس مرکزی ڈاکٹرز، ترپن لوکل اور چوہتر وزٹنگ ڈاکٹرز خدمت میں مصروف ہیں۔ افریقہ کے تیرہ ممالک میں ہمارے چھ سو بیس پرائمری اور مڈل سکول اور دس ممالک میں اکاسی سیکنڈری سکول کام کر رہے ہیں۔
دوران سال برونڈی، سیرالیون، بینن، زمبابوے ،فن لینڈ ،اٹلی ،کیمرون، پرتگال اور سپین کے علاقہ الحضیرہ میں چھ زمینیں اور چار عمارات خریدی گئیں۔ اس کے علاوہ دوران سال مختلف ممالک میں پندرہ تعمیراتی پراجیکٹس مکمل ہوئے اور مزید پندرہ کی تعمیر اس وقت شروع ہو چکی ہے۔
انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس
نے پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لیے اس سال اکتیس نئے سولر well لگائے۔انتالیس ہینڈ پمپ لگائے۔ ان سے چوہتر ہزار سے زائد افراد مستفیض ہو رہے ہیں۔
ہیومینٹی فرسٹ
پینسٹھ ممالک میں رجسٹر ہو چکی ہے۔اس کے تحت نو ممالک میں دوران سال ایک لاکھ آٹھ ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔ بارہ ممالک میں جنگی حالات اور قدرتی آفات سے متاثرہ ایک لاکھ تیس ہزار افراد کی امداد کی گئی۔ غزہ جنگ کے متاثرین کے لیے ایمرجنسی شیلٹر، خوراک، پانی ،کپڑے اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
نومبائعین سے رابطے اور بحالی
کی رپورٹ یہ ہے کہ دوران سال پچھتر ممالک میں کل اڑتیس ہزار پانچ سو اڑتالیس نومبائعین سے رابطہ بحال ہوا اور
تربیتی کلاسز
کے بارے میں یہ رپورٹ ہے کہ دوران سال نومبائعین کے لیے اڑتیس ہزار ایک سو پچاسی تربیتی کلاسز، تعلیمی کلاسز اور ریفریشر کورسز کا انعقاد ہوا۔
اس سال ہونے والی بیعتیں
جو ہیں ان کی تعداد اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو لاکھ اڑتیس ہزار پانچ سو اکسٹھ ہے۔ گذشتہ سال کی نسبت اکیس ہزار تین سو ترانوے کا اضافہ ہے۔ ایک سو سترہ ممالک سے تقریباً چار سو بیاسی سے زائد اقوام احمدیت میں داخل ہوئی ہیں۔
ان میں بہت سارے مختلف ممالک شامل ہیں۔ پانچ ممالک کی تفصیل مَیں دے دیتا ہوں یا بتا دیتا ہوں۔ پہلے نمبر پہ نائیجیریا ہے جہاں چالیس ہزار سے اوپر سب سے زیادہ بیعتیں ہوئی ہیں۔ گنی کناکری میں پچیس ہزار سے اوپر۔ کانگو برازاویل میں چوبیس ہزار سے اوپر اور گنی بساؤ میں تئیس ہزار سے اوپر اور اس طرح باقی ممالک شامل ہیں ان کی ایک پوری فہرست ہے۔
اب میں بعض واقعات جو دوران سال
بیعتوں سے متعلق یا احمدیوں کے دوسرے ایمان افروز واقعات
ہیں وہ بیان کر دیتا ہوں۔
عدنان صاحب
نیروبی
کے ریجن کے مربی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ گذشتہ چھ سات ماہ سے ہم نیروبی کے شہر کے ایک علاقہ جکارانڈا (Jacaranda) میں باقاعدگی سے بک سٹال لگا کر سپیکر پر لوگوں کو کھلے عام تبلیغ کر رہے تھے۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں اس علاقے میں جماعتی لٹریچر بھی تقسیم کیا جا چکا ہے۔ جماعتی تبلیغ کی وجہ سے اس علاقے کے عیسائی پادریوں میں کافی تشویش اور بے چینی کی ایک لہر پیدا ہو گئی ہے ۔کبھی سرکاری طور پر پولیس کو شکایت کر کے ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی اور کبھی علاقے کے اوباش لوگوں کے ذریعہ ہمیں ڈرانے دھمکانے کی اور یہاں سے چلے جانے کی دھمکیاں دی گئیں اور اب تو سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک پوری کمپین ہمارے خلاف چلائی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کے بدارادوں سے ہمیں محفوظ رکھا بلکہ غیبی مدد سے انہی لوگوں میں سے بعض کو ہماری تائید میں کھڑا کیا۔ ایک دن جب کہ کچھ اوباش لڑکے ہمارے سٹال پر شورو غوغا کر رہے تھے اور ایک طرح سے ہم پر حملہ آور ہونے لگے تھے تو اس دوران ایک شخص اچانک کہیں سے آیا اس نے آتے ہی ان کو دھمکایا اور کہا کہ یہ میرے لوگ ہیں اگر تم نے ان سے اونچ نیچ کی تو میں تم سب کو سبق سکھا دوں گا۔ اس کی یہ دھمکی سنتے ہی وہ سب لوگ تِترّ بِتّر ہو گئے۔ اس شخص نے کہا کہ آئندہ اگر کوئی بھی آپ کو تنگ کرے تو فوراً مجھے بتائیں۔ بہرحال وہ شخص جو بھی تھا، جیسا بھی تھا اس وقت وہ مدد کے لیے پہنچ گیا اور ہمارے تبلیغی پروگراموں میں بہرحال کوئی روک نہیں پیدا ہوئی اور نہ ہو رہی ہے۔ خوف کے بغیر ہم کر رہے ہیں۔ اب تک چالیس کے قریب بیعتیں اس ایریا سے ہو چکی ہیں اور ان کی تعلیم کے لیے ایک نماز سینٹر بھی قائم کر لیا گیا ہے۔
آئیوری کوسٹ
کے بالو احمد (Ballo Ahmed) مشنری ہیں، لکھتے ہیں کہ اپنے ریجن میں تبلیغی دورے پر تھا اور متعدد گاؤں میں تبلیغ کے باوجود کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں مل رہا تھا۔ اس پر کہتے ہیں میں بہت پریشان ہوا۔ دعائیں کررہا تھا کہ اسی دوران مجھے ایک گاؤں سَالفکرو (Salifkro) کا خیال آیا جو کہ کافی دور تھا اور وہاں جانے والا راستہ انتہائی خراب تھا۔ بارشوں کے موسم میں وہاں جانا انتہائی مشکل تھا۔ چنانچہ دعا کے بعد ادھر جانے کا فیصلہ کیا۔ راستہ انتہائی خراب تھا گاؤں میں پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی۔ رات نماز کے بعد تبلیغی پروگرام شروع ہوا۔ جماعت کا پیغام پہنچایا۔ سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت دیر تک جاری رہا۔ صبح کے بعد وہ لوگ دوبارہ اکٹھے ہوئے اور ان کے امام نے کہا کہ سال کے اس حصہ میں جب بارشیں زیادہ ہو رہی ہوں اور کچا راستہ بارش کی وجہ سے انتہائی خراب ہو اس طرف آنا مشکل ہوتا ہے۔ کل جب آپ لوگ آئے اور اپنے آنے کا مقصد صرف احمدیت کا پیغام دینا بتایا تو ہمارے لیے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ صرف آپ اس پیغام کے لیے آئے ہیں اور رات آپ کی تبلیغ سن کر دل میں یقین ہو گیا کہ آپ جو پیغام لے کر آئے ہیں وہی حقیقتاً حق ہے۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے اس گاؤں کے ایک سو چالیس افراد نے بیعت کر کے اسلام احمدیت میں شمولیت اختیار کی اور اس طرح یہاں ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔
کونگو برازاویل
کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کیمپومبو کے چرچ کے پادری صاحب کے ساتھ کافی دفعہ مذہب کے حوالے سے بحث ہو چکی تھی۔ اس سال انہوں نے ہمارے ملکی جلسہ سالانہ میں بھی شرکت کی۔ جلسہ کے بعد انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی جماعت احمدیہ کے دلائل سے قائل ہو چکا تھا۔ جلسہ کا ماحول دیکھ کر اور جماعت کی ترقی کو دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب جماعت احمدیہ مسلمہ میں داخل ہو جاؤں۔ جماعت میں شمولیت کے لیے اس نے اپنے چرچ میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا جس میں اس نے اپنے علاقے کے ہیڈ پادری کو مدعو کیا اور معلم سلسلہ کو بھی بلایا۔ پروگرام شروع کرتے ہوئے اس نے اپنے ہیڈ پادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے درمیان ایک مسلمان بھی موجود ہے جس کے ساتھ میں کئی دفعہ بحث کر چکا ہوں لیکن میں اس کے سوالوں کے جواب نہ دے سکا۔ میں چاہتا ہوں کہ آج آپ ان کے سوالات کے جواب دیں۔ جب معلم صاحب نے ان سے حضرت عیسیٰ ؑکے مشن کے بارے میں پوچھا کہ انجیل سے ہمیں بتاؤ کہ کیا وہ افریقہ کے لیے آئے تھے جبکہ وہ اپنے حواریوں کو کہتے ہیں کہ صرف بنی اسرائیل کے پاس جانا ہے اور یہاں تک کہہ دیاکہ لڑکوں کی روٹی کتوں کو دینا مناسب نہیں جس پر وہ ہیڈ پادری کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا تو لوکل پادری صاحب نے کہا کہ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اسلام میں داخل ہو جاؤں کیونکہ جس مذہب کے پاس اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے دلائل نہ ہوں وہ مذہب سچاکیسے ہو سکتا ہے؟ چنانچہ اس نے فیملی سمیت جماعت میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ساتھ اس کے چرچ کے مزید پچاس افراد نے بھی بیعت کی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں پر ایک مضبوط جماعت قائم ہو گئی ہے اور ایک قطعہ زمین جماعت کو دیا گیا ہے تا کہ اس پر وہاں مسجد بنائیں۔
نائیجیریا
سے عبدالفتاح صاحب لکھتے ہیں کہ دوران تبلیغ ایک غیر احمدی سکالر سے بات ہو رہی تھی لیکن وہ میری کوئی بات سننے پر آمادہ نہ تھا۔ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی ‘‘اس کے ہاتھ پر رکھی اور کہا اس کو پڑھ لینا ۔یہ اس زمانے کے امام نے لکھی ہے۔ وہ چلا گیا اور کچھ دنوں کے بعد واپس آیا اور مجھ سے حیرت سے پوچھا کہ کیا واقعی یہ کتاب حضرت امام مہدی علیہ السلام نے لکھی ہے؟ اس نے کہا اس میں جو علم ہے وہ کسی عام انسان کی تحریر نہیں اور یہ خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ پھر حیرت سے پوچھنے لگا کہ لوگ ان کو کافر کیوں کہتے ہیں ؟ میرے خیال سے تو جو اس شخص کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہے۔ اس کے بعد اس نےاس کتاب کی ایک اور کاپی مانگی اور کچھ اَور کتابوں کی درخواست کی اور جاتے ہوئے وعدہ کیا کہ میں جلد احمدی ہو جاؤں گا۔
کلکتہ انٹرنیشنل بک فیئر
کے دوران وہاں آسام کے ایگریکلچر افسر ہیں یہ اور ایک اَور صاحب جو برپیٹا گرلز کالج (Barpeta Girls College) کے پروفیسر ہیں دونوں ہمارے سٹال پر آئے۔ دونوں اقبال علی اور مقبول حسین مسلمان ہیں۔ کہنے لگے کہ آپ کا بینر جس میںاحمدیہ مسلم جماعت لکھا ہے اسے دیکھ کر تو میں خود کو روک نہیں سکا اور آپ کے سٹال پر آ گیا۔ موصوف نے سوال کیا کہ آپ لوگوں میں اور دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ اس پر موصوف کے سوال کا تسلی بخش جواب دیتے ہوئے جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی گئی۔ موصوف کے مزید استفسار پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ختم نبوت کے حقیقی معنی قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائے گئے جسے سن کر ہر دوصاحبان بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ لوگ جو دلائل پیش کر رہے ہیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ دراصل ہماری آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے جوآپ سے بات کرنے کے بعد اٹھ گیا اور ساری سچائی ہمارے سامنے آ گئی ہے۔ ہمارے علماء اپنا کاروبار چلانے کے لیے جماعت احمدیہ کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں جبکہ جماعت احمدیہ بالکل برحق ہے۔ اگرچہ ہم بعض وجوہات کی بنا پر جماعت میں شامل نہ ہو سکیں پھر بھی ہم دل سے احمدیت کی سچائی کو قبول کرتے ہیں۔ ایسے بھی لوگ ہیں۔
چیک ریپبلک
میں لامذہب لوگوں کا ایک گروپ ہماری نمائش دیکھنے آیا۔ کہنے لگا کہ جس بات نے سب سے زیادہ ہمارے دل کو مائل کیا ہے وہ تلاوت قرآن کریم تھی جو آپ کے خدا کا کلام ہے۔ اس نے ہمارے دل کو موہ لیا ہے۔ ہم بطور لامذہب کے اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور اب وجود باری تعالیٰ پر سوچنے پر مجبور ہیں۔ جو تعلیمات اس میں پیش ہوئی ہیں وہ صرف ایک زمانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ لامتناہی ہیں۔
جماعت احمدیہ تو قرآن کریم کے ذریعہ دہریوں کو خدا تعالیٰ کے قریب لا رہی ہے اور پاکستان میں ملاں کہتے ہیں کہ ہم قرآن میں تبدیلی کر رہے ہیں، تحریف کر رہے ہیں اور وہاں ہمیں اس کے پڑھنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
سینٹرل افریقہ
کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ بانگی شہر کے ایک سیکٹر وانگو (Wango) میں گئے۔ جماعت احمدیہ کا پیغام پہنچایا حقیقی اسلام کی تعلیم ان کے سامنے رکھی۔ تبلیغ کے بعد ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا میں پہلے مسلمان تھا۔ مسلمانوں کا عمل اور سخت رویہ دیکھ کر مذہب اسلام سے سخت نفرت کرنے لگا۔ میرے دوستوں اور احباب نے مجھے دوبارہ اسلام میں لانے کے لیے بہت زور لگایا کہ میں واپس آ جاؤں۔مجھے اسلام میں داخل ہونے میں خوف آنے لگا۔ آج خدا کے فضل سے آپ کی تبلیغ سن کر میرے تمام خوف دور ہو گئے ہیں۔ آپ نے میرا سینہ حقیقی اسلام کو پیش کر کے روشن کر دیا ہے۔ آپ کی تبلیغ نے میرے اندر اسلام کی محبت کی ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ میں اس وقت سب کے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ میں آج سے احمدی مسلمان ہوں اور بیعت کرتا ہوں۔
گنی بساؤ
کے لوکل مشنری کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن گیدی گالانا (Guidigalana) کے گاؤں میں تبلیغ کے لیے پہنچے۔ مقامی امام نے ہمیں خطبہ جمعہ کے لیے موقع دیا۔ خطبہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچایا۔ موجودہ زمانے میں اسلام کی حالت کا ذکر کیا تو نماز کے بعد گاؤں کے امام راتب الحسن کمارا صاحب نے بلا تردّد اس بات کا اظہار کیا کہ اسلام کی جو حالت اس زمانے میں ہو گئی ہے یقینا ًہمیں امام مہدی جس کا ذکر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بیان کیا ہے ان کی ضرورت ہے کیونکہ باوجود نمازوں اور روزوں اور حج کی ادائیگی کے ہمیں وہ روحانی ترقیات نصیب نہیں ہو رہیں جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو نصیب ہوئیں۔ لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو قبول کر کے جماعت میں شامل ہوا جائے اور ایک امام کے تابع اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی عبادات پیش کی جائیں۔ اس کے بعد انہوں نے مسجد سمیت بیعت کر لی اور بہت سے لوگ بیعت میں ان کے ساتھ شامل ہوئے۔
یاسر فوزی صاحب
ناروے
سے لکھتے ہیں کہ ایک نارویجین دوست امانڈو (Amandus) صاحب نے جو تقریباً دو سال پہلے احمدی ہوئے تھے، دو سال سے جماعت کو چھوڑ دیا تھا۔ دوبارہ ایک رئویا کے ذریعہ بیعت کی ہے۔ کہتے ہیں انہوں نے مجھے بتایا فون کر کے کہ اس نے دو دن پہلے خدا سے سخت الحاح سے دعا کی کہ اسے صحیح رستہ دکھایا جائے۔نیک فطرت تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ میاں احمدیت تو میں نے چھوڑ دی۔ مجھے کچھ تحفظات ہیں لیکن مجھے صحیح رستہ دکھا۔ اس کی خواہش یہ تھی کہ عیسائیت جیسا کوئی آسان رستہ ہی صحیح ہو۔ جس طرح عیسائیت ہے آسان سا راستہ ہو زیادہ مشکل نہ ہو۔ لیکن اسی رات خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور نہایت محبت سے گلے ملے۔ کہتا ہے بہت لطف آیا۔ گو اس کو اس معانقے کا بہت لطف آیا۔ لیکن یہ وہ راستہ نہیں تھا جو وہ چاہتا تھا۔ اس سے تو وہ انکاری ہو چکا تھا۔ اس لیے اس نے اگلے دن پھر اسی طرح خوب زور سے دعا کی اور رو رو کے بڑی دعا کی۔ پھر اگلی رات اس کو کہتا ہے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواب میں نظر آئے، معانقہ کیا۔ اس کھلے نشان کو دو مرتبہ لگاتار دیکھ کر اس نے مجھ سے فون پر اعتراف کیا کہ اب تو مجبور ہوں کہ واپس جماعت کی طرف رجوع کروں۔ کہتے ہیں۔ میں نے اسے کہا کہ خوابوں سے تو واضح ہے کہ فوراً بیعت کرلینی چاہیے لیکن کیا ان امور پر بات کرلیں جن کی وجہ سے جماعت سے بدظن ہوئے تھے؟ اس پر اس کا جواب یہ تھا کہ کوئی ضرورت نہیں۔ اس کی وہ سب باتیں بدظنیاں ہی تھیں سو اس نے بیعت کر لی اور بار بار کہا کہ وہ اس بات پر بہت شرمندہ ہے کہ اس نے اتنا واضح خواب دیکھنے کے بعد دوسری دفعہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں کی۔ اب پھر سے احمدیت کی تبلیغ کے لیے تیار ہے۔ ان کی علیحدگی بھی ہو چکی ہے۔ بیوی بھی جماعت سے دور ہو چکی تھی۔ ایک دن اس نے بچوں کو ملنے جانا تھا۔ بہت پریشان تھا کہ کیسے بیوی کو بتائے گا کہ وہ پھر سے جماعت میں واپس آ گیا ہے لیکن جب ان کے گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ تینوں بیٹیاں جماعتی کتب پھیلا کر پڑھ رہی ہیں اور جب بیوی کو خواب اور بیعت کا بتایا تو اس نے خوشی کا اظہار کیا۔ کہتے ہیں امید ہے کہ وہ بھی انشاء اللہ جماعت کی طرف واپس آ جائے گی۔ پھر سے ایک فیملی بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ تو صاف دل کو جو وہ مانگے پورا کرتا ہے۔
کینیا
نارتھ کوسٹ کے معلم صاحب کہتے ہیں۔ ہماری مسجد کے قریب ہی ایک فیملی رہتی ہے۔ خاوند کرسچن تھا، بیوی سُنّی مسلم تھی۔ انہیں تبلیغ کی گئی اور جماعت کا لٹریچر بھی دیا۔ چند دن بعد وہ دونوں میاں بیوی مسجد آئے اور میاں نے بتایا کہ میں نے رات خواب میں دیکھا ہے کہ ایک سفید فام شخص جس کے سر پر سفید عمامہ ہے میرے پاس آیا ہے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور پھرمجھے کلمہ پڑھنے کا کہا جو میں نے اس کی اقتدا میں پڑھا ہے اور اس کے بعد میں بیدار ہو گیا۔ اس ساری خواب کا میرے دل و دماغ پر بہت گہرا اثر ہے جو اب بھی میں محسوس کر رہا ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے اسے میری تصویر دکھائی تو فوراً کہنے لگا کہ ہاں یہی وہ شخص ہے جو رات خواب میں مجھے ملا تھا۔چنانچہ دونوں میاں بیوی نے بیعت کر لی اور دونوں نمازوں کے پابند اور جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
برکینا فاسو
کے ڈوری ریجن کے گاؤں بُوکتی چوبی سے ابوبکر صاحب کہتے ہیں۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں باقی انبیاء کا کیا معاملہ ہے ؟تو ساتھ ہی جواب ملتا ہے کہ وہ بھی سب وفات پا چکے ہیں۔ پھر خواب میں ہی کسی نے حضرت عیسیٰ ؑکی وفات کی آیات اور احادیث بیان کیں۔ اس خواب کے کچھ عرصہ بعد وہ ریڈیو پر ایک چینل تلاش کر رہے تھے کہ ریڈیو احمدیہ لگ گیا اور اس وقت جماعتی ریڈیو پر حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے متعلق معلم صاحب کی تقریر نشر ہو رہی تھی جس میں انہوں نے وہی قرآنی آیات اور احادیث بیان کیں جو انہیں خواب میں دکھائی گئی تھیں۔ اس طرح وہ جماعت کے ریڈیو کا پتہ پوچھ کر مشن ہاؤس آئے اور بیعت کر لی۔
نائیجر
کے امیر صاحب کہتے ہیں۔ دوسو شہر میں گذشتہ ماہ جماعت کی پہلی مسجد بنانے کی توفیق ملی۔ ایک بزرگ علی صاحب نماز کے لیے آتے ہیں انہوں نے بتایا کہ لوگ انہیں مسجد میں آنے سے روکتے ہیں کہ احمدیت نے نیا دین بنایا ہے، ان کانبی بھی نیا ہے لیکن باوجود لوگوں کی باتوں کے انہوں نے مسجد آنا نہیں چھوڑا لیکن وہ بیعت کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ مسجد آتے تھے۔ نمازیں ہمارے پیچھے پڑھتے تھے لیکن بیعت نہیں کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے کہا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ ان سے پوچھا گیا کہ پہلے تو آپ تیار نہیں تھے اب کیسے تیار ہو گئے؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ جماعت کی مسجد کے قریب ایک وہابیوں کی مسجد ہے۔اس میں وہاں کے وہابی مولوی نے کل جماعت کے خلاف بہت بڑا پروگرام کیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام لے کر انہیں برابھلا کہا اور کہا کہ جماعت کافر ہے اور جماعت کا کلمہ بھی نیا ہے لیکن میں نے جماعت کو قریب سے دیکھا تھا اس لیے مجھے معلوم تھا کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ اس لیے مجھے یقین ہو گیا کہ جس جماعت کی مولوی لوگ جھوٹ بول کر مخالفت کررہے ہیں وہی درحقیقت سچی ہوتی ہے۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ اب میں بیعت کر لوں۔
انڈیا
سے شاہد صاحب لکھتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دی۔ موصوف کہتے ہیں لکھنؤ شہر میں میڈیکل سٹور ہے۔ قبل ازیں فرقہ اہل حدیث سے تعلق رکھتے تھے۔ قبول احمدیت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں جماعت احمدیہ پر ہونے والے ظلم و ستم کے متعلق میں اکثر نیوز اور خبروں میں پڑھتا رہتا تھا کہ کبھی کسی احمدی کو شہید کر دیا کبھی کسی مسجد کو شہید کردیا۔ وقتاً فوقتاً اس قسم کی آنے والی خبروں سے میرا دل احمدیت کے بارے میں تحقیق کرنے کی طرف متوجہ ہوا کہ آخر کیوں ایک مسلمان قوم کو اس قدر ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ وہ کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں۔ دوران تحقیق کئی مسلمان علماء کے بیان اور آراء میری نظروں سے گزرے جو اگرچہ کہ جماعت احمدیہ کے مخالف ہیں لیکن دبے اور چھپے الفاظ میں جماعت کی سچائی کا اظہار بھی کرتے ہیں مثلاً ڈاکٹر اسرار صاحب اپنے ایک بیان میں کہتے تھے کہ نبوت تو رحمت ہے رحمت کس طرح بند ہو سکتی ہے؟ شاہد صاحب کہتے ہیں کہ اسرار صاحب کی یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی کہ واقعی نبوت رحمت ہے جب انسان ختم نہیں ہوئے تو رحمت کس طرح ختم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح موصوف جاوید غامدی صاحب کے ایک بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میری نظر سے غامدی صاحب کا یہ بیان گزرا کہ میرا یہ حق نہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر کہوں۔ یہ حق اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کرے گا کہ کون مسلمان ہے کون نہیں۔ اس کے بعد میں نے جماعت کے لکھنؤ مشن سے رابطہ کیا۔ وہاں جس نرمی اور اخلاق سے میری راہنمائی کی گئی اس گفتگو نے میرے دل پر بہت اثر کیا۔ مجھے کتاب ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ تحفہ دی گئی۔ مطالعہ کے بعد مجھے شرح صدر ہو گیا۔ میں نے قادیان کی زیارت کی اور وہاں جا کر دعا کی خواہش کا اظہار کیا اور بعد زیارتِ قادیان مکمل اطمینانِ قلب کے ساتھ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوا۔
مبلغ انچارج
لٹویا
لکھتے ہیں کہ آرمند لزدا (Armond Lazda) نے بتایا کہ بارہ تیرہ سال قبل اسلام قبول کرنے کے بعد ایک دفعہ جب میں ریگا (Riga) شہر آیا اور غیر احمدیوں کی مسجد میں گیا تو وہاں ان کو موجود لوگوں کی طرف سے کوئی خاص توجہ اور گرمجوشی نظر نہ آئی جس پر انہوں نے کہا کہ جس خوبصورت مذہب اسلام کو میں نے قبول کیا تھا اس میں تو بہت پیار اور محبت ہونی چاہیے۔ یہ کون سا اسلام ہے جس میں نئے آنے والوں کو خوش آمدید بھی نہیں کہا جاتااور نہ ان پر توجہ دی جاتی ہے۔ کہتے ہیں اس پر میں نے سچے اسلام کی تلاش شروع کر دی اور تلاش کرتے کرتے مجھے احمدیت کا پتہ چلا۔ انٹرنیٹ پر احمدیت کے بارے میں تحقیق کا آغاز کر دیا۔ ایم ٹی اے مل گیا۔ میں نے جماعت کی طرف سے تیار کردہ ویڈیوز دیکھیں۔ جماعت کے بارہ میں معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد یقین ہو گیا کہ احمدیت ہی سچا اسلام ہے۔ جماعت سے رابطہ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ لٹویا میں جماعت نہیں ہے۔ ایک روز تلاش کرتے کرتے ان کو جماعت احمدیہ لٹویا کا فیس بک پیج مل گیا جس پر انہوں نے لکھا کہ وہ احمدی ہونا چاہتے ہیں۔ نیشنل سیکرٹری تبلیغ نے ان سے رابطہ کیا اور وہاں مشن ہاؤس آنے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں 2023ء میں پہلی دفعہ مشن ہاؤس گیا۔ موصوف نے ہمارا استقبال کیا بہت خوش ہوئے اور کہتے ہیں کہ وہاں جماعت احمدیہ کا یہ ماٹو دیکھ کر کہ ’’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں‘‘ میں نے اسلام احمدیت کی خوبصورت تعلیم دیکھی اور واپس جاتے ہوئے لٹوین زبان میں شائع شدہ لٹریچر بھی ساتھ لے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے احمدیت قبول کی اور اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں۔ چندہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔
شرجیل صاحب
مائیکرونیشیا
کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دوست سُوِیْمَرٹالی صاحب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھ تک کتاب ’’ہماری تعلیم‘‘ کا ایک نسخہ پہنچا۔ میں نے اس کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اس کی ہر بات میرے دل کو لگی۔ اس کتاب کو لکھنے والا ہرگز جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔ جب لوگوں کو پتہ چلا تو پورے جزیرہ میں ان کے خلاف شدید مخالفت شروع ہو گئی۔ لوگوں نے ان سے بات کرنا چھوڑ دی اور ان کو دکانوں سے خرید و فروخت سے منع کر دیا گیا۔ وہی پاکستانی مولویوں والی باتیں۔ لوگوں نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو اتنا تنگ کرنا شروع کیا کہ ایک دن ان کے بیٹے نے ان کو کہہ دیا کہ اگر آپ اسلام کو نہیں چھوڑیں گے تو میں خود کشی کر لوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہر روز صبح اٹھ کر خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرنے لگ گیا۔ ایک دن اپنے بیٹے کو کہہ دیا کہ جو بھی ہو اسلام کو نہیں چھوڑوں گا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اکثر کتب انگریزی زبان میں پڑھ لی ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں۔ ایک دن کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جب ہم ان مسلمانوں کو باہر نکال دیں گے تو پھر تم کیا کرو گے۔ یہ پاکستانی مبلغ آئے ہوئے ہیں۔ ان کوتو ہم نکال دیں گے پھر تم کیا کرو گے؟ اس پر وہ کہنے لگے اگر یہ سارے یہاں سے چلے جائیں تب بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب لے کر گھر چلا جاؤں گا اور مرنے تک اپنے گھر میں نمازیں پڑھتا رہوں گا۔ مربی صاحب لکھتے ہیں کہ آج کے اس دور میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت کرنے والے اس دُور کے جزیرے میں موجود ہیں اورمخالفت کے باوجود ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہیں ہوئی۔
مراکش
سے الحسنی صاحب لکھتے ہیں کہ میں 2002ء سے 2019ء تک مغربی ممالک میں رہتا تھا اور نام کا مسلمان تھا۔ میں نے بہت سے کام خدائی مرضی کے خلاف کیے۔کئی دفعہ مجھے جیل ہوئی۔ 2016ء میں آسٹریا کی ایک جیل میں قید ہوا۔ وہاں زندگی میں پہلی بار ایم ٹی اے دیکھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قصائد سن کر ایسا احساس ہوا جو زندگی بھر نہ ہوا تھا۔ دل پر سکینت کا نزول ہوا۔ جیل میں ہر روز ایم ٹی اے دیکھنے لگا۔ عجیب بات ہے کہ ہمارے کمرے میں ایک ہی ٹی وی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ میرے پاس اپنا ٹی وی ہو گیا اور مجھے موبائل فون بھی مل گیا۔ میں نے دیکھا کہ مخالف مولوی اس مبارک جماعت کے خلاف افترا کرتے ہیں۔ میں نے دل میں کہا کہ ان قصائد میں جو باتیں ہیں ناممکن ہے کہ کسی عام مولوی کی ہوں۔ یہ کلام تو دل میں اترنے والا ہے۔ چنانچہ میں ایمان لے آیا اور فیصلہ کیا کہ واپس اپنے ملک آکر نئے سرے سے زندگی شروع کروں گا۔ میں نے ہر بات میں خدا کی حمد کرنا شروع کی۔ جماعت سے تعارف سے قبل مجھے صرف دنیا کی تلاش تھی اور کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔ پھر کہتے ہیں بےشک میرا یہ واقعہ بیان بھی کر دیں تاکہ میری وجہ سے شاید بعض لوگوں کو ہدایت بھی نصیب ہو جائے۔
عبدالرزاق صاحب
ترکی
سے لکھتے ہیں کہ پانچ سال قبل احمدیت سے تعارف ہوا۔ میں نے مخالفت کی۔ پھر ایک احمدی دوست نے جلسہ پر بلایا۔ جلسہ پر انہوں نے مجھے استخارہ کی نصیحت کی۔ میں گھر آیا اور دس رکعتیں ادا کیں۔ جب بھی دو رکعتیں پڑھتا تو ایسا لگتا کہ میں نے کچھ نہیں پڑھا۔ پھر دو رکعتیں پڑھتا حتٰی کہ میں نے دس رکعتیں پڑھ لیں اور بہت زاری کی۔ نماز کے آخر پر میں نے دیکھا کہ حضر ت مسیح موعود علیہ السلام کے انوار میرے دل کو نور اور لذت سے بھر رہے ہیں۔ پھر یکدم ایمان میرے دل میں داخل ہو گیا اور میں نے بیعت کا فیصلہ کر لیا۔ بیعت کے بعد میرا دل مطمئن ہے اور میں بہت خوش ہوں۔ الحمد للہ اس کے بعد قریبیوں سے مخالفت بھی ہوئی۔ اہلیہ اور والدہ کی قبول احمدیت اور میرے ثبات اور ایمان کی ترقی اور بچوں کے مخلص احمدی بننے کے لیے دعا بھی کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدم رکھے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اے نادان قوم! یہ سلسلہ آسمان سے قائم ہوا ہے۔ تم خدا سے مت لڑو۔ تم اس کو نابود نہیں کرسکتے۔ اس کا ہمیشہ بول بالا ہے … اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو اور اس سِلسلہ کو بے قدری سے نہ دیکھو جو خدا کی طرف سے تمہاری اصلاح کے لئے پیدا ہوا۔ اور یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کاروبار انسان کا ہوتا اور کوئی پوشیدہ ہاتھ اس کے ساتھ نہ ہوتا تو یہ سلسلہ کب کا تباہ ہو جاتا اور ایسا مفتری ایسی جلدی ہلاک ہو جاتا کہ اب اس کی ہڈیوں کا بھی پتہ نہ ملتا۔ سو اپنی مخالفت کے کاروبار میں نظر ثانی کرو۔ کم سے کم یہ تو سوچو کہ شائد غلطی ہو گئی ہو اور شائد یہ لڑائی تمہاری خدا سے ہو۔‘‘
(اربعین نمبر 4، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 456)
اللہ کرے کہ دنیا اس بات کو سمجھ جائے۔
آمین۔ جزاک اللہ۔ السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ
٭…٭…٭




