مکتوب افریقہ(مارچ ۲۰۲۶ء)
بر اعظم افریقہ کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
گریٹ گرین وال منصوبہ
گریٹ گرین وال (Great Green Wall) ایک ماحولیاتی اور ترقیاتی منصوبہ ہے جس کا مقصد صحارا صحرا کے جنوب میں پھیلے ہوئے صحرائی علاقوں کو سبز کرنا، زمین کی زرخیزی بحال کرنا اور ماحولیاتی تباہی کو روکنا ہے۔ یہ منصوبہ افریقہ کے متعدد ممالک میں شروع کیا گیا جن میں سینیگال، ایتھوپیا، نائیجر، مالی، چاڈ، سوڈان سمیت کُل ۲۲ ممالک شامل ہیں۔ اس منصوبے میں اہم پیش رفت ہو رہی ہے۔ سینیگال اور ایتھوپیا میں لاکھوں نئے درخت لگانے کا ہدف کامیابی سے مکمل کیا گیا جس سے زمین کی زرخیزی بحال ہو رہی ہے اور ماحولیاتی توازن بہتر ہو رہا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف صحرا کی زمین کو سبز بنایا جا رہا ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز کو نئی معاشی مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں جیسے پھلوں، بیجوں اور شہد کی پیداوار سے آمدنی حاصل کرنا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی بلکہ پانی کے ذخائر میں بھی بہتری آئے گی اور مقامی کسانوں کے لیے ماحول دوست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
Lincoln Universityکی طرف سے گھانا کے صدر کو اعزازی ڈگری دینے کی تقریب منسوخ
امریکہ کی Lincoln Universityنے گھانا کے صدر John Dramani Mahama کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کی تقریب اچانک منسوخ کر دی ہے جو مارچ ۲۰۲۶ء میں منعقد ہونا تھی۔ یونیورسٹی نے مختصر بیان میں اسے ’’غیرمتوقع حالات‘‘ قرار دیاہے۔ مقامی اور بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق منسوخی کی بنیادی وجہ گھانا میں زیرِ بحث Human Sexual Rights and Family Values Bill پر مغربی ممالک میں تشویش اور صدر کا اس قانون کو سپورٹ کرنے کا اعلان ہے۔ یہ بل LGBTQ کمیونٹی کے حقوق سے متعلق سخت پوزیشن رکھتا ہے جس پر کئی انسانی حقوق کے گروپ اور بین الاقوامی حلقے اعتراض کر چکے ہیں۔ یونیورسٹی کے بعض ذرائع نے بتایا کہ ان گروپس کی تشویش کے باعث تقریب کو منسوخ کرنا پڑا۔ امریکہ میں گھانا کے سفارتخانے نے اس اقدام کو حیران کن اور افسوسناک قرار دیا کیونکہ تقریب کی تمام تیاریاں پہلے ہی مکمل ہو چکی تھیں اور صدر جان مہاما کا دورہ بھی طے شدہ تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور تیل کی قیمتوںمیں اضافہ کے اثرات
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات کے سبب افریقہ کے کئی ممالک میں ایندھن کی شدید قلّت دیکھی گئی۔ تمام افریقی ممالک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بلند ہو گئی ہیں جس سے عوام کو طویل قطاروں اور ایندھن کی محدود دستیابی کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین نے عوامی نقل و حمل اور روزمرہ زندگی میں مشکلات کی شکایت کررہے ہیں جبکہ حکومتیں سپلائی بڑھانے اور ایندھن کی غیرقانونی فروخت روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کررہی ہیں۔
نائیجیریا کی Dangote Mega-Refinery نے افریقی ممالک کو ترجیحی بنیاد پر ایندھن کی برآمدات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی بندشن کے بعد سے مطابق مارچ میں نائیجیریا کی صاف پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ برآمدات دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ Dangote Refineryکے مالک نے بتایا ہے کہ کمپنی نے دوران ماہ ۱۲؍کارگو بیچے ہیں جن کا مجموعی وزن ۴۵۶۰۰۰ ٹن ایندھن بنتا ہے اور موجودہ برآمدات تقریباً ۹۰ ہزار بیرل فی دن کی سطح پر ہیں۔ اب تک ایندھن وصول کرنے والے ممالک میں آئیوری کوسٹ، کیمرون، تنزانیہ، گھانا اور ٹوگو شامل ہیں۔
ایتھوپیا میں لینڈ سلائیڈنگ
۱۰؍مارچ کو جنوبی ایتھوپیا کے Gamo Zone میں شدید بارشوں کے باعث سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کے واقعات رُونما ہوئے جنہوں نے کئی دیہی علاقوں کو بُری طرح متاثر کیا۔ ان لینڈسلائیڈز کی وجہ سے اب تک کم از کم ۱۲۵؍افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ۱۱؍ہزار سے زائد لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ کئی رہائشی علاقے زمین کے بڑے ٹکڑوں کے نیچے دب گئے یا تباہ ہو گئے ہیں۔ امدادی رپورٹس کے مطابق طوفانی بارشوں نے مٹی کو کمزور کردیا جس سے کئی مقامات پر مٹی اور پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے نیچے کی طرف سرک گئے، گھروں اور سڑکوں کو نقصان پہنچا اور متعدد گاؤں کے رہائشی فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے تھے۔ ایتھوپیا کے وزیراعظم Ali Ahmed، متاثرہ علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں اور حکومت نے متاثرین کے لیے خوراک، پناہ گاہ، طبی امداد اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک ہنگامی جواب کا اعلان کیا ہے۔ کئی راستے اب بھی بند ہیں اور ریسکیو ٹیمیں نقصان کا جائزہ لے رہی ہیں، جبکہ بےگھر افراد عام طور پر چرچوں، سکولوں یا عارضی کیمپس میں پناہ لے رہے ہیں۔
برطانیہ کی طرف سے کیمرون ،سوڈان کے شہریوں کے لیےتعلیمی ویزوں کی معطلی
برطانیہ نے کیمرون، سوڈان، میانمار اور افغانستان کے شہریوں کے لیے تعلیمی ویزوں کی فوری معطلی کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے بعض درخواست دہندگان طالب علمی کے ذریعے پناہ گزینی کے لیے راستہ اختیار کر رہے تھے۔ ہوم آفس کے مطابق ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران ان چار ممالک کے طلبہ سے متعلق پناہ گزینی کی درخواستوں میں ۴۷۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔۲۰۲۱ء کے بعد سے تقریباً ایک لاکھ پنتیس ہزار پناہ گزین قانونی ذرائع سے برطانیہ پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ حالات میں برطانیہ میں سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کی تعداد کم کی جائے۔اس سلسلہ میں فرانس سے چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ ’انگلش چینل‘ عبور کرکے برطانیہ آنے والوں کو روکنے کی خصوصی کوشش کی جا رہی ہے۔
صومالیہ کی فوج کا اپنے ہی ایک شہر پر قبضہ
صومالیہ کی وفاقی فوج نے Baidoa شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا جو South West State کی انتظامی اہمیت کا حامل ہے۔ فوج کے اس اقدام کے بعد ریاست کے صدر نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ۔ صومالیہ کی سیاسی ساخت وفاقی نظام پر مبنی ہے جس میں مختلف علاقائی ریاستیں، جیسے South West State، اپنی خود مختاری کے لیے دعوے کرتی رہی ہیں۔اس واقعہ سےقبل وفاقی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کے درمیان کئی ماہ سے تنازعات چل رہے تھے۔ خاص طور پر ریاستی انتخابات، وسائل کی تقسیم اور سکیورٹی کے مسائل پر اختلافات موجود تھے۔ وفاقی فوج کے شہر پر قبضے کا مقصد ریاستی انتظامیہ کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کرنا اور مرکزی حکومت کو مضبوط کرنا تھا۔
کانگو برازاویل میں صدارتی انتخابات
۱۵؍مارچ کوRepublic of the Congoکے صدراتی انتخابات منعقد ہوئے انتخابات میں موجود صدر Denis Sassou Nguesso نے ۹۴ فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے پانچویں مدت کے لیے کامیابی حاصل کی۔ سابق فوجی جنرل اور موجودہ صدر ۱۹۹۷ء سے اقتدار میں ہیں۔ انتخابات کے دوران عوامی ردّعمل اور بین الاقوامی مبصرین نے شفافیت اور انتخابی عمل پر نظر رکھی اور بعض حلقوں میں مقامی سیاسی کشیدگی بھی سامنے آئی۔ اس کامیابی کے بعد Sassou Nguesso نے نئی مدت میں حکومت کی قیادت جاری رکھنے کا اعلان کیاہے۔
روانڈا کی فوج پر امریکہ کی طرف سے پابندیاں
عوامی جمہوریہ کانگو میں جنگ بندی کے باوجود کانگو اور روانڈا کے درمیان بدستور کشیدگی موجود ہے کیونکہ باغی گروہ M23 کی طرف سے حملے جاری ہیں۔اسی تناظر میں امریکہ نے روانڈا کی دفاعی افواج پر غیر معمولی پابندیاں عائد کیں جس سے خطے میں سفارتی اور فوجی توازن متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ امریکی حکومت کا کہنا تھا کہ پابندیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی امن کے اصولوں کی خلاف ورزی کی شکایات کی بنیاد پر لگائی گئی ہیں۔اسی دوران کانگو کی فوج نے ملک کے مشرقی علاقوں میں سرگرم باغی گروپ M23 کے خلاف فضائی حملوں کی شدت بڑھا دی۔علاقے میں سیکیورٹی کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔
براعظم افریقہ میں امن وامان کی ابتر صورتحال
افریقہ کے متعدد ممالک میں امن و امان کی صورتحال ابتری کی طرف جا رہی ہے جس سے افریقی عوام پہلے سے زیادہ مشکلات کا شکار بن رہی ہے۔
۲۸؍مارچ کو جنوبی سوڈان میں سونے کی کان پر ہونے والے حملے میں کم از کم ۷۳مزدور ہلاک اور ۲۵ زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ ہفتے کے اختتام پر دارالحکومت جوبا سے تقریباً ۷۰؍کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ’’خور کلتان‘‘کے کان کنی کے علاقے میں ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طورپر یہ حملہ ملک کے با اثر اپوزیشن لیڈر Macharکی حامی اپوزیشن فورسز نے کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے رپورٹس متضاد ہیں۔ دوسری جانب، ایک سال سے نظر بند Riek Macharکے ترجمان نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور اس کی بجائے جنوبی سوڈانی فوج پر ذمہ داری عائد کی ہے۔
سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران مارچ ۲۰۲۶ء میں مشرقی دارفور میں واقع Al Deain Teaching Hospital پر حملے میں کم از کم ۷۰؍افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ۱۳؍بچے بھی شامل ہیں۔ حملے میں سو کے قریب لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حملے میں ہسپتال کے تمام اہم وارڈز، بشمول ایمرجنسی، بچوں اور میڈیکل یونٹس تباہ ہو گئے اور ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا جس سے ۲؍ملین سے زیادہ لوگوں کے لیے طبی خدمات کی رسائی خطرے میں پڑ گئی۔ RSF – Rapid Support Forces نے اس حملے کا ملزم سوڈانی فوج کو ٹھہرایا ہے جبکہ فوج نے اس کی تردید کی ہے۔
دوران ماہ نائیجیریا میں تشددکے متعدد واقعات رُو نما ہوئے ہیں۔۱۶؍مارچ کو ریاست بورنو کے دارالحکومت میں تین مختلف مقامات(یونیورسٹی ہسپتال اور دو مقامی بازاروں) پر خودکش حملوں ہوئے جن میں۲۳؍افراد ہلاک اور ۱۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے۔ ان حملوں کا شبہ بوکو حرام پر ظاہر کیا گیا ہے۔Kebbi ریاست میں ایک حملے میں ۹؍فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔۲۹؍مارچ کو ریاست پلیٹیو کے ایک شہر میں ایک کھلے بار پر مسلح افراد نے اندھادھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم از کم ۲۶ سے ۳۰؍افراد ہلاک ہوگئے۔
۱۸؍مارچ کو جنوبی سوڈان اور چاڈ کی سرحد پر سرحدی قصبہ Tiné پر ڈرون حملہ ہوا جس میں کم از کم ۱۷؍افراد ہلاک ہو گئے اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔یہ حملہ ایک جنازہ کے اجتماع پر ہوا۔ اسی لیے ہلاکتیں زیادہ ہوئیں۔چاڈ کی حکومت نے اس حملے کا الزام سوڈان میں جاری اندرونی جنگ میں ملوث مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے جوڑا، خاص طور پر ایسے ڈرونز کا استعمال جسے وہ سوڈان کی جنگ شدہ فضا سے آئے ہوئے قرار دیتے ہیں، لیکن واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ کس مسلح گروپ نے ڈرون بھیجے تھے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مومن کی زندگی کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کا تعلق ہے



