مکتوب مشرق بعید (اپریل ۲۰۲۶ء)
مشرق بعید کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی خاتون فوجی جرنیل:
لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوئل
(Susan Coyle)
آسٹریلیا کی ۱۲۵؍سالہ فوجی تاریخ میں اپریل ۲۰۲۶ء ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جب ملک نے پہلی بار ایک خاتون افسر کو اپنی فوج (آرمی) کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ ۱۳؍اپریل ۲۰۲۶ء کو آسٹریلوی وزیرِ اعظم اینتھونی البانیز اور وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوئل آسٹریلوی فوج کی نئی سربراہ (Chief of Army) ہوں گی۔ وہ آسٹریلیا کی تاریخ میں کسی بھی عسکری شاخ (آرمی، نیوی، یا ایئر فورس) کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل سوزن کوئل باقاعدہ طور پر جولائی ۲۰۲۶ء میں اپنا عہدہ سنبھالیں گی اور وہ لیفٹیننٹ جنرل سائمن سٹیورٹ کی جگہ لیں گی۔ ۵۵؍سالہ سوزن کوئل نے ۱۹۸۷ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اپنے ۳۹؍ سالہ طویل کیریئر کے دوران انہوں نے افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور اور دیگر بین الاقوامی مشنز جیسے اہم محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ جدید جنگی تقاضوں، بالخصوص سائبر وارفیئر، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مشترکہ آپریشنز میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔
آسٹریلوی وزیر اعظم نے کہاکہ جولائی سے ہم آسٹریلین آرمی کی ۱۲۵؍سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون چیف آف آرمی دیکھیں گے۔ یہ ایک گہرا تاریخی لمحہ ہے۔
آسٹریلین فوج میں خواتین کی تعداد تقریباً ۲۰-۲۱؍فیصد ہے، اور سینیئر قیادت میں تقریباً ۱۸.۵؍فیصد۔ حکومت کا ہدف ۲۰۳۰ء تک فوج میں خواتین کی شرح ۲۵؍فیصد تک لانا ہے۔ یہ تقرری اس ہدف کی طرف ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
فوج اس وقت جنسی ہراسانی اور امتیاز کے الزامات کا سامنا کر رہی ہے، اس لیے یہ تقرری تنوع اور شمولیت (diversity & inclusion) کی طرف ایک مثبت اشارہ بھی ہے۔
جاپان: Sanriku کے ساحل پر ۷.۷؍شدت کا زلزلہ ور سونامی کا الرٹ
جاپان کے شمالی علاقے ایک بار پھر لرز اٹھے جب ۲۰؍اپریل ۲۰۲۶ء کی شام کو بحرِ اوقیانوس میں سانریکو (Sanriku) کے ساحل کے قریب ۷.۷؍شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں حکام نے فوری طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی اور لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ زلزلے کے فوراً بعد سونامی وارننگ جاری کی گئی۔ تاہم زیادہ سے زیادہ لہریں تقریباً ۸۰؍سینٹی میٹر تک ریکارڈ ہوئیں۔ بعد میں صورتحال قابو میں آنے پر وارننگ کو کم کر کے ایڈوائزری کر دیا گیا۔
اس زلزلہ سے ہوکائڈو (Hokkaido)، آموری (Aomori)، ایواتے (Iwate)، میاگی (Miyagi) اور فوکوشیما (Fukushima) کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے۔ خوش قسمتی سے بڑے پیمانے پر تباہی نہیں ہوئی۔ تاہم صرف چند افراد زخمی ہوئے۔ اور تقریباً ۴۰ عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بیجنگ آٹو شو ۲۰۲۶ء
چین کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والا Beijing ۲۰۲۶ء Auto Show عالمی آٹو انڈسٹری کی سب سے بڑی اور بااثر نمائشوں میں سے ایک ہے، جہاں الیکٹرک گاڑیوں، مصنوعی ذہانت اور خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی نے مرکزِ نگاہ بن کر مستقبل کی ٹرانسپورٹیشن کا واضح نقشہ پیش کیا۔ یہ آٹو شو ۲۴؍اپریل سے ۳؍مئی تک منعقد ہواجس میں دنیا بھر سے سینکڑوں کمپنیوں نے شرکت کی اور ہزاروں جدید گاڑیاں اور کانسیپٹس پیش کیے۔
نمائش میں سب سے نمایاں پہلو الیکٹرک اور نیو انرجی گاڑیوں (NEVs) کا غیر معمولی غلبہ رہا۔ چینی کمپنیوں جیسے BYD، XPeng اور Geely نے جدید ترین ماڈلز متعارف کرائے، جن میں لمبی رینج اور تیز رفتار چارجنگ کی سہولیات شامل تھیں۔ BYD نے نئی Blade بیٹری ٹیکنالوجی دکھائی جو ۹؍منٹ میں تقریباً مکمل چارج کر سکتی ہے۔ CATL کی Shenxing بیٹری ۱۰؍سے ۹۸؍فیصد تک اڑھائی منٹ میں چارج ہو سکتی ہے۔ نیز منفی ۳۰؍ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی فاسٹ چارجنگ کا مظاہرہ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق نئی بیٹری ٹیکنالوجی گاڑیوں کو چند منٹوں میں چارج کرنے کے قابل بنا رہی ہے جو روایتی پٹرول گاڑیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔شو میں مصنوعی ذہانت پر مبنی سسٹمز نے بھی بھرپور توجہ حاصل کی۔ کئی گاڑیوں میں خودکار پارکنگ، وائس کنٹرول اور ڈرائیور لیس ٹیکنالوجی پیش کی گئی۔ ٹیکنالوجی کمپنی Huaweiنے جدید خودکار ڈرائیونگ سسٹمز متعارف کرائے، جو مستقبل میں انسانی مداخلت کے بغیر سفر کو ممکن بنا سکتے ہیں۔ نمائش میں چینی کمپنیوں نے یورپی اور عالمی برانڈز جیسے BMW اور Mercedes-Benz کو سخت مقابلہ دیا۔ کم قیمت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی نے چینی آٹو انڈسٹری کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش: مشرقِ بعید میں تیل و گیس کا شدید بحران
آبنائے ہرمز کی بندش نے مشرقِ بعید کے ممالک میں تیل اور گیس کا ایک سنگین بحران پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات چین سے لے کر جاپان، جنوبی کوریا، جنوب مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔چین، جاپان اور جنوبی کوریا تینوں ممالک دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس کے درآمد کنندگان ہیں اور ان کی سپلائی لائن براہِ راست آبنائے ہرمز سے جڑی ہے۔
چین: دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہونے کے ناطے چین کے سٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر (SPR) تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ اگرچہ چین روس سے پائپ لائن کے ذریعے تیل لے رہا ہے، لیکن اس کی سمندری درآمدات کا ۴۰؍فیصد رک چکا ہے۔ شنگھائی اور گوانگ زو کے صنعتی علاقوں میں بجلی کی جزوی معطلی (Power Rationing) شروع کر دی گئی ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا: ان دونوں ممالک کا ۹۰؍فیصد تیل خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ ٹوکیو اور سیول میں حکومتوں نے ‘انرجی ایمرجنسی’ نافذ کر دی ہے۔ جاپان میں ایل این جی (LNG) کے ذخائر صرف دو ہفتوں کے باقی رہ گئے ہیں، جس سے وہاں کے پاور پلانٹس کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ویت نام، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن جیسے ممالک جو مینوفیکچرنگ کے بڑے مراکز ہیںوہاں پیداواری لاگت میں ۵۰؍فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
سنگاپور: ایشیا کا سب سے بڑا آئل ریفائننگ ہب (Refining Hub) ہونے کے ناطے سنگاپور کو خام تیل کی قلت کا سامنا ہے۔ ریفائنریوں کے پاس پراسیسنگ کے لیے تیل ختم ہو رہا ہے، جس سے پورے خطے میں جہازوں اور طیاروں کے ایندھن (Jet Fuel) کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
انڈونیشیا اور فلپائن: ان ممالک میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہڑتالیں شروع ہو گئی ہیں کیونکہ پیٹرول کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں۔
آسٹریلیا: دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا خود گیس (LNG) کا بڑا برآمد کنندہ ہے، لیکن وہ بھی اس عالمی بحران سے محفوظ نہیں رہا۔چونکہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اس لیے آسٹریلوی کمپنیوں کو بیرونِ ملک گیس بیچنا زیادہ منافع بخش لگ رہا ہے، جس کی وجہ سے گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
نیوزی لینڈ: نیوزی لینڈ جو کہ اپنی پیٹرولیم ضروریات کے لیے درآمدات پر منحصر ہے، وہاں حکومت نے غیر ضروری سفر پر پابندی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے زیادہ استعمال کی اپیل کی ہے۔
مشرقِ بعید میں پیدا ہونے والے تین بڑے بحران
اوّل۔ مائع قدرتی گیس (LNG) کی شدید قلت: جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان اپنی بجلی کی پیداوار کے لیے قطری گیس پر منحصر ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایل این جی کے بحری جہاز پھنس گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ بلیک آؤٹس (بجلی کی طویل بندش) کی صورت میں نکل رہا ہے، جو ان ممالک کی ہائی ٹیک صنعتوں کے لیے تباہ کن ہے۔
دوم۔ سپلائی چین اور مہنگائی کا طوفان: مشرقِ بعید دنیا کا مینوفیکچرنگ مرکز ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو فیکٹریوں کی پیداوار اور مال کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے۔ ہانگ کانگ اور سنگاپور جیسے تجارتی مراکز میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ۳۰ سے ۴۵؍فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ بحری مال برداری (Freight) کے کرائے کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔
سوم۔ سٹریٹیجک اور سیاسی تناؤ: خطے کے ممالک اب متبادل راستوں اور سپلائرز (جیسے روس اور امریکہ) کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ چین اور بھارت کے درمیان روسی تیل کے حصول کے لیے مقابلہ سخت ہو گیا ہے، جبکہ فلپائن اور ویت نام جیسے ممالک اپنے دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ اب ایندھن کی خریداری پر صرف کرنے پر مجبور ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز مزید ایک ماہ تک بند رہتی ہے تو ماہرین کا خدشہ ہے کہ مشرقِ بعید کی جی ڈی پی (GDP) میں ۲ سے ۳؍ فیصد کی کمی واقع ہو سکتی ہےجو کہ ایک عالمی معاشی کساد بازاری (Global Recession) کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ ایشیائی ممالک اب مل کر عالمی برادری پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کو فوری طور پر فوجی مداخلت یا سفارت کاری کے ذریعے کھولا جائے۔
آبنائے ہرمز سے جڑے بحران پر قابو پانے کے لیے جاپان اور جنوبی کوریا امریکہ سے بات چیت کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ ممالک کسی لائحہ عمل کو طے کر لیں۔
بیجنگ میں تاریخی ملاقات:
چین اور تائیوان کے تعلقات میں اہم پیش رفت
۱۰؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی، کومینتانگ (KMT) کی چیئرپرسن Cheng Li-wun نے بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ایک انتہائی اہم اور تاریخی ملاقات کی۔
یہ ملاقات اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران یہ پہلا موقع تھا جب کومینتانگ کے کسی برسرِ منصب سربراہ نے چینی صدر سے براہِ راست ملاقات کی۔ سفارتی حلقوں میں اسے ‘‘برف پگھلنے’’ کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب تائیوان کی موجودہ حکومت اور بیجنگ کے درمیان بات چیت کے تمام راستے تقریباً بند ہیں۔ ملاقات کے دوران دونوں راہنماؤں نے تزویراتی اور سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق گفتگو کے بنیادی محور درج ذیل تھے:
۱۹۹۲ء کا اتفاقِ رائے (۱۹۹۲ء Consensus): دونوں راہنماؤں نے ۱۹۹۲ء کا اتفاقِ رائےکی پاسداری پر زور دیا، جس کا بنیادی مقصد یہ تسلیم کرنا ہے کہ ‘‘چین ایک ہی ہے’’ اگرچہ دونوں فریق اس کی تشریح اپنے اپنے انداز میں کرتے ہیں۔
آزادی کی مخالفت: چینگ لی وون اور صدر شی نے تائیوان کی باضابطہ آزادی کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔ چینی صدر نے واضح کیا کہ آبنائے تائیوان میں امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب ‘‘علیحدگی پسند’’ تحریکوں کو روکا جائے۔
عوامی روابط: ملاقات میں تائیوان اور چین کے درمیان معاشی تعاون اور عوامی سطح پر وفود کے تبادلوں کو دوبارہ فعال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اگرچہ بیجنگ میں سفارتی مصافحہ ہو رہا تھا، لیکن زمین پر صورتحال اتنی سادہ نہیں تھی۔ تائیوان کے اندر اس کا شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ تائیوان کی حکمراں جماعت نے اس ملاقات پر کڑی تنقید کی۔ حکومتی ترجمان نے بیان جاری کیا کہ کومینتانگ کو تائیوان کے عوام کی خودمختاری پر سودے بازی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تائیوان کے عوامی حلقوں میں بھی اس ملاقات کے حوالے سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ایک طبقہ اسے امن کی طرف قدم سمجھ رہا ہے جبکہ دوسرا اسے چینی دباؤ کے سامنے جھکنے کے مترادف قرار دے رہا ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکتوبِ ایشیا (اپریل ۲۰۲۶ء)




