تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے
حضرت حاجی الحرمین مولانا نورالدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کےغیرمعمولی عشق قرآن کےبارےمیں امام الزماں مہدیٔ دوراں،حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےاپنی تحریرات میں متعددمرتبہ ذکرفرمایاہے۔آپؑ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی قرآن کریم سےعقیدت ومحبت کاذکرکرتےہوئے اپنی کتاب ‘آئینہ کمالاتِ اسلام ‘ میں فرماتےہیں:مَیں نےکسی دل میں اس طرح قرآن کریم کی محبت نہیں پائی جس طرح آپ کادل فرقانِ حمید کی محبت سےلبریزہے۔(ترجمہ :آئینہ کمالات اسلام ۔روحانی خزائن جلد۵صفحہ ۵۸۶) آپؓ کی تفسیرکی چھ جلدیں جو ‘حقائق الفرقان ‘کےنام سےجانی جاتی ہیں،الاسلام ڈاٹ آرگ پرموجودہیں۔ ان میں حضوررضی اللہ عنہ کےدرس ہائےقرآن کریم،خطبات اورارشادات سےمرتبہ تفسیری نکات شامل ہیں۔ان کےمطالعہ سے قاری نہ صرف قرآن کریم کےمضامین کوسمجھتا،ان سےآگاہی حاصل کرتاہےبلکہ قرآنی تعلیمات کےنورسےاپنی جھولیاں بھی بھرتاہے۔آپؓ سورۃ مریم کی آیت نمبر:۳۸، فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ مَّشۡہَدِ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ پس ان کےاندرہی گروہوں نےاختلاف کیا۔پھرہلاکت ہوگی ان کےلئےجنہوں نےکفرکیاایک بہت بڑےدن میں حاضری کےنتیجہ میں۔کی تفسیربیان فرماتےہیں:”فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ :تم میں اگر اس قسم کی بحثیں ہوں کہ خلیفہ اور فلاں کے کیا تعلقات ہیں؟ اور پھراس پر فیصلہ کرنے لگ جاؤ تو مجھے سخت رنج پہنچتا ہے ! تم مجھے خلیفۃالمسیح کہتے ہو۔ مَیں تو اس خطاب پر کبھی پُھولا نہیں۔ بلکہ اپنی قلم سے کبھی لکھا بھی نہیں ۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس بیہودہ بحثیں کرنے والے لوگوں کو اپنی جماعت میں نہیں سمجھتا۔ میں تمام جماعت کیلئے دعا کرتا ہوں مگر ایسے لوگوں کیلئےدعا بھی پسند نہیں کرتا ۔ ان کو کیا حق ہے کہ تفرقہ اندازی کی باتیں کریں؟ آگ پہلے دیا سلائی سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر آخرکار گھرپھر محلہ پھر شہرکے شہر جلادیتی ہے۔ ایسے لوگ اگر میری مدد کے خیال سے ایسا کرتے ہیں تو سن رکھیں کہ میں ان کی مدد پر تھوکتا بھی نہیں ۔ اگر مخالفت میں کرتے ہیں تو وہ خدا سے جا کر کہیں جس نے مجھے خلیفہ بنایا ۔
سنو! میرا صدیق اکبرؓ کی نسبت یہی عقیدہ ہے کہ سقیفہ بنی ساعد ۃنے خلیفہ نہیں بنایا ۔ نہ اس وقت ممبر پر لوگوں نے بیعت کی ۔ نہ اجماع نے ان کو خلیفہ بنایا ۔ بلکہ خدا نے بنایا ۔ خدا نے چار جگہ قرآن میں خلافت کا ذکر کیا ہے اور چار بار اپنی طرف اس کی نسبت کی ہے ۔ حضرت آدم کے بارہ میں فرمایا اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة:۳۱) پھر حضرت داؤد کی نسبت ارشاد کیا یٰدَاوٗدُاِنَّاجَعَلۡنٰکَ خَلِیۡفَۃً فِی الۡاَرۡضِ (صٓ: ۲۷) پھر صحابہ کرامؓ کے لیے فرمایا لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور:۵۶) پھر سب کیلئے فرمایا ۔جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ (يونس: ۱۵) پس میں بھی خلیفہ ہوا تو مجھے خدا نے بنایا۔ اور اللہ کے فضل ہی سے ہوا۔ جو کچھ ہوا اور اس کی طاقت کے بغیر انسان کچھ نہیں کر سکتا …
تمہیں چاہئے۔ دنیا کماتے۔ آپ کھاتے بیوی بچوں کو کھلاتے ۔ اس سے بچتا تو دوسرے کے نفع اور مخلوق کی شفقت پر خرچ کرتے۔ پھر اس سے وقت بچے تو اَلْحَمْد پڑھو۔ لاحَوْل پڑھو۔ استغفار کرودرود پڑھو ۔ لَٓا اِلٰهَ اِلَّاللّٰہ کا ذکر کرو۔ تمہارے پاس ان لغو کاموں اور باتوں کیلئےوقت کہاں سے آگیا؟ اپنے اخلاق کی کمزوریوں کی اصلاح کرو۔ گندی گالیاں تمہارے منہ سے نہ نکلیں۔ تم میں طمع وحرص نہ ہو۔ تجارت میں حساب و کتاب رکھو۔ ملازمت میں فرضِ منصبی کو ایمانداری سے ادا کرو۔
ایک اور بحث بھی ہے کہ مسیح بے باپ تھا کہ نہیں ؟ میں کہتا ہوں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کا باپ تھا یا نہیں ۔ شریعت نے ہمیں اس بات پر مامور نہیں کیا کہ ہم پیغمبروں کے ماں باپوں اور بہن بھائیوں کی تحقیق کرتے پھریں۔ یہ باتیں تمہاری روحانیت میں داخل نہیں ۔ ہم نے آج جو کچھ سمجھایا ۔ وہ دردِ دل سے سمجھایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی سمجھ دے ۔ اسی کے قبضہ میں سب کے دل ہیں ۔ تم شکر کرو کہ ایک شخص کے ذریعہ تمہاری جماعت کا شیرازہ قائم ہے۔ اتفاق بڑی نعمت ہے۔ اور یہ مشکل سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ تم کو ایسا شخص دے دیا جو شیرازہ وحدت قائم رکھے جاتا ہے ۔ وہ نہ تو جوان ہے اور نہ اس کے علوم میں اتنی وسعت جتنی اس زمانہ میں چاہیے۔ لیکن خدا نے تو موسیٰؑ کے عصا سے جو بے جان لکڑی تھی اتنا بڑا کام لے لیا تھا کہ فرعونیت کا قلع قمع ہو گیا ۔ اور میں تو اللہ کے فضل سے انسان ہوں ۔ پس کیا عجیب ہے کہ خدا مجھ سے یہ کام لے لے ! تم اختلافات اور تفرقہ اندازی سے بچو !!نکتہ چینی میں حد سے بڑھ جانا بڑا خطرناک ہے!!!اللہ سے ڈرو!!!۱ اللہ کی توفیق سے سب کچھ ہوگا ۔“ ( بدرجلد۱۰نمبر۴۳مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۲) (حقائق الفرقان۔جلدسوم،صفحہ۶۶-۶۷)
آج دنیا میں صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس میں خلافت جیسا بابرکت نظام موجودہے۔اس لیے ہمیں ہمیشہ اس نظام سےچمٹے رہناچاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ خلافت احمدیہ جیسی نعمت کی قدرکرنے،خلیفۃ المسیح کی اطاعت کرنے اورآپ کی تمام ہدایات پرکماحقہٗ عمل کرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمین
مزید پڑھیں: حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کا ترجمہ قرآن بمع تفسیری نوٹس – الفَضل انٹرنیشنل




