خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 10؍اپریل 2026ء

’’ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ء ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دینِ واحد پر جمع کرے۔ یہی خداتعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لیے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

انسان کو ہر وقت یہی خیال چاہیے کہ جو نعمتیں، جو اولاد ہمیں ملی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ملی ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہیں۔ اس کی توحید کا اپنے ہر قول و فعل سے اظہار کریں اور کبھی ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ ہم میں پیدا نہ ہو۔ کبھی یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی اللہ تعالیٰ پر حق ہے۔ ذرا سی عبادت کرنے سے کوئی حق نہیں ادا ہو گیا بلکہ ہم اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں

’’جب تک انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے ذاتی جوش نہ ہو اور نفس کی ملونی اور اپنے دنیوی فوائد و منافع کے خیال سے انسان خالی نہ ہو جائے تب تک اس کی کوئی عبادت و صدقہ قابلِ قبول نہیں ہوتا‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)

’’میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔ میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشتِ خاک کو ربّ العالمین سمجھا گیا ہے۔ میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر و توانا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت دنیا میں قائم ہو ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: خُذُوالتَّوْحِیْدَ اَلتَّوْحِیْدَ یَااَبْنَاءَ الْفَارِسِ۔ اے ابنائے فارس !توحید کو پکڑو۔ توحید کو پکڑو۔ یہ الہام اپنی بقااور اندر کی ترقی کے لیے آپؑ کی نسل بلکہ ہر ماننے والے کو سامنے رکھنا چاہیے۔ہر بیعت میں آنے والے کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آپؑ کی بیعت میں آ کر سب آپؑ کے ابناء میں شامل ہو گئے ہیں، بچوں میں شامل ہیں، نسل میں شامل ہیں۔ اگر توحید کو پکڑے رہیں گے تو دین و دنیا میں عزّت ملے گی ورنہ نہ کوئی خونی رشتہ فائدہ دیتا ہے نہ صرف بیعت کرنا فائدہ دیتا ہے

انبیاء دنیا میں شرک مٹانے آتے ہیں اور ہمارا کام بھی شرک مٹانا ہے نہ کہ شرک قائم کرنا۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

بڑے غور سے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارا تصویر لگانے کا مقصد کیا ہے ۔کسی بھی طرح شرک کی طرف لے جانے والا یہ مقصد نہ ہو۔ تصویروں کو سلام کرنا ،ان کے آگے جھکنا یہ سب مشرکانہ خیالات ہیں

’’ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے اللہ کا اسم ہی کافی ہے اور درود شریف وہ پڑھنا چاہیے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مہر ہو‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

’’بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظر غایت دیکھا جائے تو ازروئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کے ذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنون احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف و تحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالق اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

بیماری اور مصروفیت کے ہونے کے باوجود اسلام کا پیغام اور توحید کے پیغام پہنچانے کے لیے آپؑ نے کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں کی

یہ توحید کا پیغام پہنچانے اور اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے لیے بھرپور کوشش ہی ہے جو آج مسیح محمدی کے غلاموں کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے

دنیا کے حالات خاص طور پر مسلم دنیا کے لیے دعاؤں کی تحریک

ہمیں دعا کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان دنیا پررحم فرمائے

اپنے آقا و مولیٰ آنحضرتﷺکی اتباع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی توحیدالٰہی کے قائم کرنے کے لیے کوشش ،آپؑ کے عملی نمونے اور اپنے ماننے والوں کو نصائح اور اس کے لیے ان کی تربیت کا دلنشین اور ایمان افروز تذکرہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 10؍اپریل 2026ء بمطابق 10؍شہادت 1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اپنے آقا ؐکی اتباع میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی توحید کے قائم کرنے کے لیے کوشش ،آپؑ کے عملی نمونے اور اپنے ماننے والوں کو نصائح اور کس طرح ان کی تربیت آپؑ فرمایا کرتے تھے اس کے کچھ واقعات پیش کروں گا۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرمایا کرتے تھے کسی شخص کا بیٹا مر گیا اور اس کا ایک دوست تعزیت کے لیے اس کے پاس گیا تو وہ چیخ مار کر رو پڑا اور اس سے کہنے لگا خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ گویا اس کے خیال میں اس کا کوئی حق خدا تعالیٰ نے مار لیا تھا۔ ‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ بات بیان فرماتے ہوئے آپؓ نے آگے فرمایا ’’ مگر سوچنا چاہیے وہ کون سا حق ہے جو بندہ نے خدا تعالیٰ پر قائم کیا ہے۔ مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی نماز، روزہ، زکوٰة، حج اور تقویٰ و طہارت پر فخر کرتے ہیں وہ تو کسی تکلیف کے موقع پر چلّا اٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم کیا لیکن ہندوستان کا وہ شرابی شاعر جو دین سے بالکل غافل تھا ایک سچائی کی گھڑی میں باوجود شراب کا عادی ہونے کے خداتعالیٰ کا الہام اس کے دل پر نازل ہوتا ہے اور وہ کہہ اٹھتا ہے

جان دی دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا‘‘

(دنیا میں ترقی کرنے کے گُر، انوارالعلوم جلد12صفحہ311-312)

پس

انسان کو ہر وقت یہی خیال چاہیے کہ جو نعمتیں، جو اولاد ہمیں ملی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ملی ہے اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے رہیں، اس کی توحید کا اپنے ہر قول و فعل سے اظہار کریں اور کبھی ہلکا سا بھی شرک کا شائبہ ہم میں پیدا نہ ہو۔ کبھی یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی اللہ تعالیٰ پر حق ہے۔ ذرا سی عبادت کرنے سے کوئی حق نہیں ادا ہو گیا بلکہ ہم اپنے فائدے کے لیے کرتے ہیں۔

پس جس شاعر کا آپؓ نے ذکر کیا وہ تو یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جان دی تھی ،اس دنیا میں پیدا کیا تھا اور ہم آئے اس دنیا میں لیکن جو حق اس کے شکرانے کا ہمیں ادا کرنا چاہیے وہ ہم ادا نہیں کر سکے۔حضرت مصلح موعودؓ اسی طرح

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے ایک بیٹے مبارک احمد، یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چھوٹے بیٹے تھے کی وفات پر ردّ عمل کا واقعہ

بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ’’مبارک احمد سے آپؑ کو بڑی محبت تھی اور اس کی بیماری میں آپؑ نے بڑی تیمارداری کی۔ اس سے حضرت خلیفہ اوّلؓ تک کو بھی یہ خیال تھا کہ اگر مبارک احمد فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعودؑ کو بڑا صدمہ ہوگا۔ آخری وقت حضرت مولوی صاحبؓ اس کی نبض دیکھ رہے تھے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو کہا مُشک لائیں اور چونکہ اس کی نبض بند ہو رہی تھی آپ پر اس خیال کا کہ اس کی وفات سے حضرت مسیح موعود ؑکو بہت صدمہ ہوگا اس قدر اثر ہوا کہ آپ‘‘ یعنی حضرت خلیفہ اوّلؓ ’’کھڑے کھڑے زمین پر گر گئے ‘‘یہ سوچ کر ہی کہ اس کے فوت ہونے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کتنا صدمہ ہوگا ’’مگر جب حضرت مسیح موعودؑ کو معلوم ہوا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے تو اسی وقت نہایت صبر کے ساتھ دوستوں کو خطوط لکھنے لگ گئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے مگر اس امر پر گھبرانا نہیں چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک مشیت تھی جس پر ہمیں صبر کرنا چاہیے اور پھر باہر آ کر مسکرا مسکرا کر تقریر کرنے لگے کہ مبارک احمد کے متعلق خدا تعالیٰ کا جو الہام تھا وہ پورا ہو گیا۔ چنانچہ آپؑ کا شعر بھی ہے

بلانے والا ہے سب سے پیارا

اسی پہ اے دل تُو جاں فدا کر‘‘

(نجات، انوارالعلوم جلد7 صفحہ65تا 66)

اسی طرح حضرت مصلح موعود ؓحضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے ایک بات میں نے بارہا سنی ہے۔ آپؑ ترکیہ کے سلطان عبدالحمید خان کا جو معزول ہو گئے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبدالحمید خان کی ایک بات مجھے بڑی ہی پسند ہے۔‘‘ باوجود اس کے کہ بہت ساری اس کی باتیں غلط تھیں لیکن آپؑ فرماتے تھے کہ یہ بات مجھے بڑی پسند ہے ۔وہ کیا ہے ؟کہ ’’جب یونان سے جنگ کا سوال اٹھا تو وزراء نے بہت سے عذرات پیش کر دیے۔ دراصل سلطان عبدالحمید کا منشاء تھا کہ جنگ ہو مگر وزراء کا منشاء نہیں تھا اس لیے انہوں نے بہت سے عذرات پیش کیے۔ آخر انہوں نے کہا جنگ کے لیے یہ چیز بھی تیار ہے اور وہ چیز بھی تیار ہے لیکن کسی اہم چیز کا ذکر کر کے کہہ دیا کہ فلاں امر کا انتظام نہیں ہے۔‘‘ ٹھیک ہے۔ باتیں کیں کہ ہم تیار ہیں ،تیار ہیں لیکن یہ کمی ہے اور اس کمی کی وجہ سے بڑا مشکل ہے جنگ کرنا۔ ’’مثلاً یوں سمجھ لو کہ انہوں نے کہا( اور غالباً یہی کہا ہوگا )کہ تمام یورپین طاقتیں اس وقت اس بات پر متحد ہیں کہ یونان کی امداد کریں اور اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ

جب وزراء نے اپنا مشورہ پیش کیا اور مشکلات بتائیں اور کہا کہ فلاں چیز کا انتظام نہیں تو سلطان عبدالحمید نے جواب دیا کہ کوئی خانہ تو خدا کے لیے بھی چھوڑنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سلطان عبدالحمید کے اس فقرہ سے بہت ہی لطف اٹھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات بہت ہی پسند ہے‘‘ کہ خدا پر اس نے اعتماد کیا۔

(تفسیر کبیر جلد9 صفحہ163-164، جدید ایڈیشن)

توحید کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیرت کا ایک واقعہ

بیان کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ

’’منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دوران سر کا عارضہ تھا۔ ‘‘چکروں کی تکلیف تھی۔’’ ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔‘‘ چکروں کی تکلیف کا علاج کرنے کا بڑا ماہر ہے تو ’’اسے بلوایا گیا،کرایہ بھیج کر اور کہیں دُور سے‘‘ بلایا خرچہ دے کر۔ ’’اس نے حضورؑ کو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں آپ کو آرام کردوں گا ‘‘یہ تو کوئی ایسی بات نہیں۔ دو دن میں آپ کو ٹھیک کر دوں گا۔’’ یہ سن کر حضرت صاحبؑ اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے مَیں علاج ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔یہ کیا خدائی دعویٰ کرتا ہے۔ اس کو واپسی کرایہ کے روپیہ اور مزیدبیس پچیس روپے بھیج دیے کہ یہ دے کر اسے رخصت کر دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 38روایت نمبر 1038)

اسی طرح حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  حضرت مسیح موعود کی سیرت بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ

’’خدا ان سے محبت کرتا ہے جو اس کی عظمت و عزّت کے واسطے جوش رکھتے ہوں۔ایسے لوگ ایک باریک راہ سے جاتے ہیں اور ہر کس و ناکس ان کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ جب تک خدا کے لیے جوش نہ ہو کوئی لذّت انسان کو حاصل نہیں ہو سکتی۔

جب تک انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے لیے ذاتی جوش نہ ہو اور نفس کی ملونی اور اپنے دنیوی فوائد و منافع کے خیال سے انسان خالی نہ ہو جائے تب تک اس کی کوئی عبادت و صدقہ قابلِ قبول نہیں ہوتا۔‘‘

بڑی اہم چیز ہے۔ جب تک اپنے نفس کی ملونی اور دنیوی فوائد و منافع کے خیال سے انسان خالی نہ ہو اس وقت تک اس کی کوئی عبادت اور صدقہ قبول نہیں ہوتا۔

’’ جو شخص خدا کے لیے جوش رکھتا ہے وہ اپنے ابنائے جنس سے بڑھ جاتا ہے۔ ایسے لوگ خدا سے برکتیں پاتے ہیں۔‘‘

(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ  صفحہ 182)

پس

قبولیت دعا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ توحید پر کامل یقین ہو اور ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت حاصل کرنے کے لیے دعا سب سے پہلے ہو۔ جو لوگ لکھتے ہیں کہ ہم نے بہت دعا کی۔ ہم نے یہ کیا وہ کیا ۔نفل پڑھے ۔صدقے دیے۔ ہماری دعا قبول نہیں ہوئی۔ وہ ذرا اس بات پر غور کریں ۔یہ نسخہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا ہے۔

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت بیان کرتے ہوئے ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ خدا نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس محبت کو ایسی قدر شناسی سے نوازا کہ جو اسی کی بے پایاں رحمت کا حق اور اس کی بے نظیر قدرشناسی کے شایانِ شان ہے۔ چنانچہ آپؑ کو مخاطب کر کے‘‘ اللہ تعالیٰ’’ فرماتا ہے: اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَ تَفْرِیْدِیْ۔ اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِیْ۔ اِنِّیْ مَعَکَ یَابْنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ…‘‘ یعنی چونکہ اس زمانہ میں تُو میری توحید کا علمبردار ہے اور توحید کے کھوئے ہوئے متاع کو دنیا میں دوبارہ قائم کر رہا ہے اس لیے اے مسیح محمدی !تُو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے کہ میری توحید اور تفرید اور چونکہ عیسائیوں نے جھوٹ اور افتراء کے طور پر اپنے مسیح کو خدا کا اصلی بیٹا بنا رکھا ہے اس لیے میری غیرت نے تقاضا کیا کہ میں تیرے ساتھ ایسا پیار کروں کہ جو اولاد کا حق ہوتا ہے تاکہ دنیا پر ظاہر ہو کہ محمد رسول اللہ ؐکے شاگرد تک اطفال اللہ کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں اور چونکہ تُو میرے محبوب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت میں دن رات مستغرق اور اس کی محبت میں محو ہے اس لیے میں تجھے اپنے اس محبوب کے روحانی فرزند کی حیثیت میں اپنی لازوال محبت اور اپنی دائمی معیت کے تمغہ سے نوازتا ہوں۔‘‘

(سیرت طیبہ از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ13-14)

یہ ہے اس الہام کا مطلب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہوا جو مَیں نے ابھی پڑھا ہے۔

آپؑ کی سیرت کے ضمن میں ہی مرزا بشیر احمد صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی بھاری غرض و غایت اسلام کی خدمت اور توحید کا قیام تھی

اور اس زمانہ میں حقیقی توحید کا سب سے زیادہ مقابلہ مسیحیت کے ساتھ ہے ‘‘اس وقت تو تھا۔ آج بھی بعض علاقوں میں ہے’’ جو توحید کی آڑ میں خطرناک شرک کی تعلیم دیتی اور حضرت مسیح ناصری کو نعوذ باللہ خدا کا بیٹا قرار دے کر حضرت احدیت کے پہلو میں بٹھاتی ہے۔ اس لیے حضرت مسیح موعودؑ کو عیسائیت کے خلاف بڑا جوش تھا اور ویسے بھی آپؑ کے منصب مسیحیت کا بڑا کام حدیثوں میں کسرِ صلیب ہی بیان ہوا ہے۔ اس لیے آپؑ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر بہت زیادہ زور دیتے تھے کیونکہ صرف اس ایک بات کے ثابت ہونے سے ہی عیسائیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یعنی وفاتِ مسیح کے نتیجہ میں نہ تو الوہیت مسیح باقی رہتی ہے اور نہ تثلیث کا نام و نشان قائم رہتا ہے اور نہ کفارہ کا مسئلہ اپنی بودی ٹانگوں پر کھڑا رہ سکتا ہے۔ بے شک وفاتِ مسیح ناصری کا عقیدہ طبعاً حضرت مسیح موعود ؑکی اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے بھی ایک پہلا زینہ ہے مگر اس مسئلہ کی اصل اہمیت جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ اس پر زیادہ زور دیتے تھے وہ موجودہ مسیحیت کے کھنڈن ‘‘یہ ہندی لفظ ہے اس کا مطلب ہے کہ ردّ کرنا ۔اس کے ردّ کرنے ’’سے تعلق رکھتی ہے۔ چنانچہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ

‘‘ تم مسیح کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے’’…کاش! ہمارے دوسرے مسلمان بھائی اس نکتہ کو سمجھ کر کم از کم مسیحیت کے مقابلہ میں تو ہمارے ہمنوا ہوجائیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کے دعوے کو ماننا یا نہ ماننا دوسری بات ہے‘‘ لیکن یہاں تو کم از کم مان لیں جہاں اسلام کی برتری ثابت ہوتی ہے

’’مسیحیت کے باطل عقائد اور اس زمانہ میں ان عقائد کے عالمگیر انتشار کا حضرت مسیح موعودؑ کے دل پر اتنا بوجھ تھا کہ آپؑ ایک جگہ درد و کرب سے بے قرار ہو کر بڑے جلال سے فرماتے ہیں کہ

’’میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔ میرا دل مُردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔ اس سے بڑھ کر اَور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشتِ خاک کو ربّ العالمین سمجھا گیا ہے۔ میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر و توانا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے۔ ‘‘

(سیرت طیبہ ازصاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ  صفحہ 106تا108)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ’’خدا تعالیٰ اس بات کو جانتا ہے اور وہ ہر ایک امر پر بہتر گواہ ہے کہ وہ چیز جو اس کی راہ میں مجھے سب سے پہلے دی گئی وہ قلبِ سلیم تھا یعنی ایسا دل کہ حقیقی تعلق اس کا بجز خدائے عزّوجلّ کے کسی چیز کے ساتھ نہ تھا۔ مَیں کسی زمانہ میں جوان تھا اور اب بوڑھا ہوا مگر مَیں نے کسی حصہ عمر میں بجز خدائے عزّوجلّ کسی کے ساتھ اپنا حقیقی تعلق نہ پایا… اسی تپشِ محبت کی وجہ سے میں ہرگز کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہوا جس کے عقائد خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت کے برخلاف تھے یا کسی قسم کی توہین کو مستلزم تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب مجھے پسند نہ آیا کیونکہ اس کے ہر ایک قدم میں خدائے عزّوجلّ کی توہین ہے۔ ایک عاجز انسان جو اپنے نفس کی بھی مدد نہ کر سکا اس کو خدا ٹھہرایا گیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد22صفحہ59-60)

حضرت مفتی فضل الرحمٰن صاحبؓ مہاجر ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ’’ میرے گھر میں یکے بعد دیگر سے دو لڑکیاں تولّد ہوئیں‘‘ دو بیٹیاں پیدا ہوئیں ایک دوسرے کے بعد ’’جو خدا کے فضل سے‘‘ جب وہ بیان کررہے ہیں کہتے ہیں’’اس وقت تک موجود ہیں ۔اس کے بعد ایک لڑکا تولّدہوا وہ بھی نہ بولتا تھا نہ سنتا تھا۔ پہلا لڑکا عموماً بیمار رہتا تھا ۔دوسرا ہوشیار اور تندرست تھا۔ ‘‘پہلے والا بتایا ناں اس کے بعد ہوا وہ بیمار رہتا تھا۔ بولتا سنتا نہیں تھا ۔پھر دوسرا لڑکا پیدا ہوا وہ تندرست تھا۔’’اور اس کی عادات اور شکل و صورت کچھ ایسے دل لبھانے والے تھے کہ چھوٹی سی عمر میں وہ گھر کے سارے کام کرتا تھا اور ذرا سےاشارہ سے بات کو سمجھ لیتا تھا۔‘‘ کہتے ہیں بہت ہوشیار لڑکا تھا۔ بڑا ذہین تھا۔’’کچھ انہی وجوہات سے میری محبت اس سے بہت ہو گئی۔ پہلا لڑکا چار سال کا ہو کر فوت ہو گیا ‘‘جو بیمار تھا وہ تو فوت ہو گیا چار سال کی عمر میں۔ ’’دوسرا بھی‘‘ یہ جو ذہین تھا’’ جب ساڑھے چار سال کا ہوا تو اسے تپ محرقہ ہوا ۔میں نے بڑا علاج کیا مگر کوئی افاقہ کی صورت نظر نہ آئی۔ جس دن اس کی بیماری کو پندرہ روز گزرے تھے اس کو سرسام ‘‘یعنی Meningitisکی طرح کی بیماری ہے جس میں دماغ کے پردوں میں ورم ہو جاتی ہے یہ ’’ہو گیا ۔ میں نے حضرت صاحب ؑکی خدمت میں دعا کے لیے ایک عریضہ لکھا۔ ’’یہ بڑا پیارا لڑکا ہے میرا۔ اس کے لیے دعا کریں بچ جائے۔ ‘‘آپؑ نے اس پر جواب تحریر فرمایا کہ میں انشاء اللہ دعا کروں گا پر اگر تقدیر مبرم ہے تو ٹل نہیں سکتی۔’’ ساتھ یہ بھی لکھ دیا۔‘‘ یہ پڑھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بچہ بچ نہیں سکتا۔ چنانچہ اس کے چوتھے دن اس کی حالت بہت نازک تھی اور حضورؑ اس دن گورداسپور والی تاریخ پر جانے والے تھے۔ میں چونکہ ہر تاریخ پر ساتھ جایا کرتا تھا ’’حضرت مسیح موعودؑ کے‘‘اس لیے مَیں بھی حاضر ہوا ’’جانے کے لیے‘‘جب آپؑ گھر سے تشریف لائے تو پہلے مجھے مخاطب کر کے فرمایا تمہارے بچہ کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور!چل کر دیکھ لیں’’ساتھ ہی گھر ہے۔ دیکھ لیں بہت بُری حالت میں ہے۔‘‘جب آپؑ نے گھر آکر بچہ دیکھا تو فرمایا یہ بہت بیمار ہے آج تم گورداسپور نہ جاؤ’’ آج تم ہمارے ساتھ نہ جاؤ۔‘‘آپؑ تشریف لے گئے ’’اپنے سفر پہ ‘‘اور دوسرے دن چار بجے کے قریب بچہ فوت ہو گیا۔ اس سے اگلے دن حضورؑ دس بجے گورداسپور سے واپس تشریف لے آئے۔ مَیں بھی سن کر مصافحہ کے لیے آگے بڑھا۔ میری گود میں چھوٹی لڑکی تھی جو اس لڑکے سے چھوٹی تھی۔ مجھے دیکھ کر حضورؑ نے فرمایا مجھے تمہارے بچہ کے فوت ہو جانے کا بڑا رنج ہے مگر مجھے یہ خیال تھا کہ تمہاری محبت اس کے ساتھ شرک کی حد تک پہنچی ہوئی تھی۔ اس لیے اس کا زندہ رہنا محال نظر آتا تھا۔ بہرحال مَیں نے تمہارے بچہ کے لیے بڑی دعائیں کی تھیں۔ اللہ تم کو نعم البدل دے گا اور وہ سننے والا بولنے والا ہو گا۔‘‘ نیا بچہ دے گا جو سننے والا، بولنے والا ہوگا۔صحیح طرح صحت مند ہوگا ’’…چنانچہ اس کے بعد فضل کریم پیدا ہوا ‘‘ان کے ایک بیٹے کا نام فضل کریم تھا ’’پھر عبدالحفیظ۔اس کے بعد دو حمل ساقط ہوئے ۔دونوں لڑکے تھے ‘‘وہ ساقط ہو گئے لیکن بہرحال دو بچے زندہ پیدا ہوئے ’’اس کے بعد‘‘ پھر کہتے ہیں ایک بیٹا پیدا ہوا پھر ’’محمدعبداللہ اس کے بعد عبدالکریم‘‘ پیدا ہوا پھر ’’اوراس کے بعد احمد پیدا ہوا اور خدا کے فضل سےیہ پانچوں‘‘ بچے اس کے بعد پیدا ہوئے۔ اللہ کے فضل سے سارے’’ زندہ موجود ہیں‘‘ لمبی عمر پانے والے تھے۔ پس آپؑ اپنے صحابہ ؓکو بھی توحید کا ہر وقت سبق دیتے تھے اور پھر ان کی دلداری کے لیے دعا بھی کی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرماتے ہوئے پانچ بیٹوں سے بھی ان کو نوازا۔

(سیرت احمد از قدرت اللہ سنوری صاحبؓ  صفحہ 168تا170)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا ء ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لیے مَیں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے۔‘‘

(الوصیت، روحانی خزائن جلد20 صفحہ306-307)

پھر آپؑ فرماتے ہیں :

’’میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت دنیا میں قائم ہو۔ ‘‘

(ملفوظات جلد3صفحہ 85 ایڈیشن2022ء)

حضرت پیر افتخار احمد صاحبؓ  آپؑ کی سیرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک خادم پیراں دتہ نام تھے ‘‘کہتے ہیں ’’ہم سب ان کو اسی نام سے پکارتے تھے ‘‘پیراں دتہ ’’مگر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جب بلاتے تو پیری دتہ فرماتے۔‘‘پیری دتہ، پیراں دتہ نہیں بلکہ پیری دتہ’’یعنی میرے پیر اللہ کا دیا ہوا

یہ وہ توحید ہے جو حضورؑ کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: خُذُوالتَّوْحِیْدَ اَلتَّوْحِیْدَ یَااَبْنَاءَ الْفَارِسِ۔ اے ابنائے فارس !توحید کو پکڑو۔ توحید کو پکڑو۔‘‘

(افتخارالحق یا انعامات خداوندی صفحہ 229)

پس

یہ الہام اپنی بقااور اندر کی ترقی کے لیے آپؑ کی نسل بلکہ ہر ماننے والے کو سامنے رکھنا چاہیے۔ہر بیعت میں آنے والے کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آپؑ کی بیعت میں آکر سب آپؑ کے ابناء میں شامل ہو گئے ہیں، بچوں میں شامل ہیں، نسل میں شامل ہیں۔ اگر توحید کو پکڑے رہیں گے تو دین و دنیا میں عزّت ملے گی ورنہ نہ کوئی خونی رشتہ فائدہ دیتا ہے نہ صرف بیعت کرنا فائدہ دیتا ہے۔

حافظ محمد ابراہیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

’’پہلی دفعہ جبکہ میں، حکیم عبدالعزیز اور حکیم عطا محمد صاحب حضرت مسیح موعود ؑکی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے۔ ان دنوں بھی حضورؑ گورداسپور میں تشریف رکھتے تھے۔ حضورؑ کمرے سے باہر تشریف لانے لگے تو ہم تینوں دروازہ کے پاس کھڑے تھے۔ میں نے اور حکیم عبدالعزیز صاحب نے حضورؑکو السلام علیکم عرض کرکے حضورؑ سے مصافحہ کیا مگر بھائی عطا محمد صاحب حضرت مسیح موعودؑ کے قدموں پر گر پڑے ۔حضور ؑنے ان کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور فرمانے لگے کہ

اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس زمانہ میں اس شرک کو مٹانے کے لیے ہی تو مبعوث فرمایا ہے۔ پیروں کو چومنا شرک ہے۔ پھر آپؑ نے ان سے بھی مصافحہ کیا۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد2 صفحہ 172)

اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ

’’قاضی محمد ؐیوسف صاحب پشاوری نے مجھے بذریعہ خط اطلاع دی کہ میں جب شروع میں قادیان گیا تو ایک شخص نے اپنے لڑکے کو حضرت صاحبؑ کے سامنے ملاقات کے لیے پیش کیا ۔جس وقت وہ لڑکا حضرت صاحب کے مصافحہ کے لیے آگے بڑھا تو اظہارِ تعظیم کے لیے حضرت کے پاؤں کو ہاتھ لگانے لگا جس پر حضرت صاحبؑ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے ایسا کرنے سے روکا اور میں نے دیکھا کہ آپؑ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپؑ نے بڑے جوش میں فرمایا کہ

انبیاء دنیا میں شرک مٹانے آتے ہیں اور ہمارا کام بھی شرک مٹانا ہے نہ کہ شرک قائم کرنا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 295روایت نمبر 319)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے۔‘‘ تصویر کے بارے میں بھی یہاں وضاحت ہو جاتی ہے۔بہت سارے لوگ غلط طریقے سے اپنی تصویریں بھی ،مسیح موعود علیہ السلام کی بھی، اپنے عزیزوں رشتہ داروں کی بھی رکھتے ہیں اس لیے مَیں یہ بیان کر رہا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ ’’میں اس بات کا سخت مخالف ہوں کہ کوئی میری تصویر کھینچے اور اس کو بت پرستوں کی طرح اپنے پاس رکھے یا شائع کرے۔ مَیں نے ہر گز ایسا حکم نہیں دیا کہ کوئی ایسا کرے اور مجھ سے زیادہ بت پرستی اور تصویر پرستی کا کوئی دشمن نہیں ہو گا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ آج کل یورپ کے لوگ جس شخص کی تالیف کو دیکھنا چاہیں اوّل خواہشمند ہوتے ہیں جواس کی تصویر دیکھیں کیونکہ یورپ کے ملک میں فراست کے علم کو بہت ترقی ہے اور اکثر ان کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں ‘‘اور اکثر ان کی یعنی اکثریت ان کی محض تصویر کو دیکھ کر شناخت کر سکتے ہیں’’ کہ ایسا مدعی صادق ہے یا کاذب۔ اور وہ لوگ بباعث ہزار ہا کوس کے فاصلہ کے مجھ تک پہنچ نہیں سکتے اور نہ میرا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔لہٰذا اس ملک کے اہلِ فراست بذریعہ تصویر میرے اندرونی حالات میں غور کرتے ہیں۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو انہوں نے یورپ یا امریکہ سے میری طرف چٹھیاں لکھی ہیں‘‘ خط لکھے ہیں ’’اور اپنی چٹھیوں میں تحریر کیا ہے کہ ہم نے آپ کی تصویر کو غور سے دیکھا اور علمِ فراست کے ذریعہ سے ہمیں ماننا پڑا کہ جس کی یہ تصویر ہے وہ کاذب نہیں ہے‘‘ جھوٹا نہیں ہو سکتا’’اور ایک امریکہ کی عورت نے میری تصویر کو دیکھ کر کہا۔‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا یہ تصویر دیکھ کر’’ کہ یہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر ہے۔ پس اس غرض سے اور اس حد تک میں نے اس طریق کے جاری ہونے میں مصلحتاً خاموشی اختیار کی۔‘‘اس لیے میں نے تصویر کھینچنے کی اجازت دی ہے ورنہ اگر شرک پھیلے تو قطعاً منع ہے۔فرمایا: ’’ وَاِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ ‘‘اور اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ’’اور میرا مذہب یہ نہیں ہے کہ تصویر کی حرمت قطعی ہے۔ ‘‘میں یہ بھی نہیں کہتا کہ تصویر کھینچنا کوئی حرام ہے۔ ’’قرآن شریف سے ثابت ہے کہ فرقہ جِنّ حضرت سلیمان کے لیے تصویریں بناتے تھے اور بنی اسرائیل کے پاس مدّت تک انبیاء کی تصویریں رہیں ۔‘‘ بنی اسرائیل کے پاس تو انبیاء کی تصویریں ہوتی تھیں ’’جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تصویر تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی تصویر ایک پارچہ ریشمی پر جبرائیل علیہ السلام نے دکھلائی تھی اور پانی میں بعض پتھروں پر جانوروں کی تصویریں قدرتی طور پر چھپ جاتی ہیں۔ ‘‘جہاں زلزلے آتے ہیں وہاں پہاڑوں پہ جہاں جانوردب جاتے ہیں ان کی تصویریں نقش ہو جاتی ہیں’’ اور یہ آلہ جس کے ذریعہ سے اب تصویر لی جاتی ہے‘‘ یعنی کیمرہ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایجاد نہیں ہوا تھااور یہ نہایت ضروری آلہ ہے جس کے ذریعہ سے بعض امراض کی تشخیص ہو سکتی ہے۔‘‘ پس صرف تصویروں والی بات نہیں ہے بلکہ آپؑ نے فرمایا کہ اس سے امراض کی تشخیص بھی ہو سکتی ہے۔ اب تو یہ نظام اَور بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ اس زمانے میں تو ایکسرے کا تھا۔ فرمایا ’’ ایک اور آلہ تصویر کا نکلا ہے جس کے ذریعہ سے انسان کی تمام ہڈیوں کی تصویر کھینچی جاتی ہے ‘‘ایکسرے کے ذریعہ سے’’ اور وجع المفاصِل و نقرس وغیرہ امراض کی تشخیص کے لیے اس آلہ کے ذریعہ سے تصویر کھینچتے ہیں اور مرض کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘اب تو سکیننگ، ایم آر آئی وغیرہ اور بہت ساری چیزیں ہونے لگ گئی ہیں۔ تو ان آلات کا جس حد تک اس زمانے میں استعمال تھا اس کی آپؑ نے وضاحت فرمائی ہے کہ یہ تو بڑا مفید آلہ ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ بالکل اس کے سامنے ہی نہ جاؤ یہ بھی غلط ہے۔ مقصد نیک ہونا چاہیے۔ اِنَّما الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ جب صحیح ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ شرک نہیں ہونا چاہیے۔ فرمایا: ’’ایسا ہی فوٹو کے ذریعہ سے بہت سے علمی فوائد ظہور میں آئے ہیں۔‘‘ تصویر جو عام فوٹو ہے اس کے ذریعہ بھی آئے ہیں ’’چنانچہ بعض انگریزوں نے فوٹو کے ذریعہ سے دنیا کے کل جانداروں یہاں تک کہ طرح طرح کی ٹڈ یوں کی تصویریں اور ہر ایک قسم کے پرند اور چرند کی تصویریں اپنی کتابوں میں چھاپ دی ہیں۔‘‘اور آجکل تو مختلف چینل بھی چل رہے ہیں مثلاً جیسے National Geographic ہے یا اَور ہیں۔ یہ تو بڑی تفصیل سے جانوروں کی تصویریں کھینچ کے تفصیلات بھی دیتے ہیں۔ بہرحال آپؑ فرماتے ہیں:’’جس سے علمی ترقی ہوئی ہے۔ پس کیا گمان ہو سکتا ہے کہ وہ خدا جو علم کی ترغیب دیتا ہے وہ ایسے آلہ کا استعمال کرنا حرام قرار دے جس کے ذریعہ سے بڑے بڑے مشکل امراض کی تشخیص ہوتی ہے اور اہلِ فراست کے لیے ہدایت پانے کا ایک ذریعہ ہو جاتا ہے۔ یہ تمام جہالتیں ہیں جو پھیل گئی ہیں۔‘‘ فوٹو کو کہنا کہ حرام ہے، منع ہے یہ بھی غلط ہے۔ ہاں! نیت نیک ہو۔ فرمایا کہ’’ہمارے ملک کے مولوی چہرہ شاہی سکّہ کے روپیہ اور دونّیاں اور چونّیاں اور اٹھنّیاں اپنی جیبوں اور گھروں میں سے کیوں باہر نہیں پھینکتے۔ ‘‘اگر یہ مولوی جو اتنے شدّت پسند ہیں تو یہ ہمارے جوcoins ہیں، سکّے ہیں، روپے ہیں، نوٹ ہیں ان کے اوپر بادشاہوں کی تصویریں چھپی ہوتی ہیں، وہ کیوں نہیں گھروں سے باہر پھینک دیتے۔ کیوں اپنی جیبوں میں لیے پھرتے ہیں۔’’ کیا ان سکّوں پر تصویریں نہیں ۔افسوس کہ یہ لوگ ناحق خلاف معقول باتیں کر کے مخالفوں کو اسلام پر ہنسی کا موقع دیتے ہیں۔ اسلام نے تمام لغو کام اور ایسے کام جو شرک کے مؤید ہیں حرام کیے ہیں نہ ایسے کام جو انسانی علم کو ترقی دیتے اور امراض کی شناخت کا ذریعہ ٹھہرتے اور اہلِ فراست کو ہدایت سے قریب کر دیتے ہیں۔ لیکن باایں ہمہ

مَیں ہر گز پسند نہیں کرتا کہ میری جماعت کے لوگ بغیر ایسی ضرورت کے جو کہ مضطر کرتی ہے وہ میرے فوٹو کو عام طور پر شائع کرنا اپنا کسب اور پیشہ بنالیں۔‘‘ نیک مقصد ہو تو ٹھیک ہے۔ کمانے کا ذریعہ نہ بنا لو ان تصویروں کو۔ ’’کیونکہ اِسی طرح رفتہ رفتہ بدعات پیدا ہوجاتی ہیں اور شرک تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے مَیں اپنی جماعت کو اس جگہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو ایسے کاموں سے دستکش رہیں۔

بعض صاحبوں کے میں نے کارڈ دیکھے ہیں اور ان کی پشت کے کنارہ پر اپنی تصویر دیکھی ہے۔ مَیں ایسی اشاعت کا سخت مخالف ہوں اور مَیں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہماری جماعت میں سے ایسے کام کا مرتکب ہو۔ ایک صحیح اور مفید غرض کے لیے کام کرنا اَور امر ہے اور ہندوؤں کی طرح جو اپنے بزرگوں کی تصویریں جا بجا در و دیوار پر نصب کرتے ہیں یہ اَور بات ہے ۔ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لغو کام منجر بشرک ہو جاتے ہیں‘‘ یعنی شرک کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں ’’اور بڑی بڑی خرابیاں ان سے پیدا ہوتی ہیں جیسا کہ ہندوؤں اور نصاریٰ میں پیدا ہو گئیں اورمَیں امید رکھتا ہوں کہ جو شخص میرے نصائح کو عظمت اور عزّت کی نظر سے دیکھتا ہے اور میرا سچا پیرو ہے وہ اِس حکم کے بعد ایسے کاموں سے دستکش رہے گا ورنہ وہ میری ہدایتوں کے برخلاف اپنے تئیں چلاتا ہے اور شریعت کی راہ میں گستاخی سے قدم رکھتا ہے۔‘‘

( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 365تا367)

پس

بڑے غور سے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارا تصویر لگانے کا مقصد کیا ہے ۔کسی بھی طرح یہ مقصد شرک کی طرف لے جانے والا نہ ہو۔ تصویروں کو سلام کرنا ،ان کے آگے جھکنا یہ سب مشرکانہ خیالات ہیں۔

ہندوؤں میں یہی ہوتا ہے۔ بعض لوگ پرانی تصویریں لگاتے ہیں فوت شدوں کی اور ساتھ ان کے اوپر ہار ٹانگ دیتے ہیں۔ یہاں بھی ہمارے اندر بھی بعض دفعہ بعض جگہوں پہ رواج ہوگیا ہے کہ جو گروپ فوٹو فیملی کا کھینچ رہے ہوتے ہیں تو بعض اپنے فوت شدہ عزیزوں کی تصویریں بناکر اپنے ساتھ ایک بڑی سی فریم میں لگا کے رکھ لیتے ہیں کہ یہ ہمارے بزرگ جو فوت ہو گئے وہ ان کی تصویر ہے اور وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔ تو یہ سب شرک ہے۔ آپؑ نے فرمایا۔ یہ غلط باتیں ہیں، یہ بدعات ہیں اور ان سے بچنا چاہیے۔ بعض رپورٹیں مجھے ملتی ہیں کہ بعض لوگ شادیوں کی تصویروں میں بھی اس طرح کھنچوا لیتے ہیں۔

صرف نیک مقصد کے لیے یا اپنی یادگار کے طور پر اپنے البموں میں رکھنے کے لیے تصویریں اگر کھینچتے ہیں تو یہ تو جائز ہے لیکن اس کو ایک بدعت بنا لینا اور صرف لگا کے پھر اس پہ دیکھنا اور صبح اٹھ کے سلام کرنا یہ چیزیں غلط ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایاہے۔

حضرت صوفی غلام محمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ امریکہ و ولایت کے بعض لوگوں نے خواہش کی تھی کہ ہم مدعی مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے حضورؑ کا فوٹو لیا گیا تھا۔یہاں عبدالمحی نام ایک عرب رہتے تھے انہوں نے بہت سے کارڈ چھپوائے اور اس پر حضورؑکی شبیہ تھی‘‘ اس پہ تصویر شائع کردی۔’’ جب حضورؑ کو یہ معلوم ہوا ‘‘کہ کارڈوں پر شائع ہوئی ہے ،پوسٹ کارڈوں پر تو ’’حضورؑ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ

ہم نے ایک دینی ضرورت کے لیے اپنی تصویر یا فوٹو کھنچوایا تھا۔ ہم اس کو بہت ہی ناپسند کرتے ہیں کہ ہماری تصویر کو ذریعۂ معاش بنایا جائے جو منجر بشرک ’’یعنی شرک کی طرف لے جانے والا ‘‘ہوسکتی ہے۔

چنانچہ وہ کارڈ تلف کر دیے گئےتھے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد3 صفحہ 408)

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور میں نے حضور اقدسؑ کی خدمت میں یہ لکھا کہ میں اس قسم کے وظائف کیا کرتا ہوں اور یہ بھی عرض کیا کہ جب سے میں بیعت کر کے آیا ہوں اس طرف سے پیر جن کے مرید ان کے کہنے سے ان کا تصوّر پکاتے ہیں مَیں اس خیال سے کہ جب ادنیٰ پیروں کا ان کے مرید تصوّر پکاتے ہیں تو میرے پیشوا اور مرشد جو خدا کے مسیح موعود اورامام مہدی ہیں مَیں ان کا تصوّر کیوں نہ پکاؤں‘‘ یعنی تصوّر میں تصویر اپنے دل میں بٹھا لوں اور پھر ہر روز اس تصویر کو لے کے اپنے ہر مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کروں تو’’ آپ کا تصوّر جو ان سب پیروں کے تصوّر سے زیادہ بابرکت اور مفید اور مناسب ہوگا‘‘ آپؓ نے فرمایا آپؑ تو مسیح موعود ہیں اور باقی پیر فقیر تو پتہ نہیں جائز ہیں بھی کہ نہیں۔ ان کے تصوّر کو لوگ لیے پھرتے ہیں تو مَیں کیوں نہ آپؑ کا تصوّر ہر وقت دل میں لیے پھروں۔’’ جب حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں مَیں نے یہ خط لکھا ‘‘راجیکی صاحبؓ کہتے ہیں’’ تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ کے ہاتھ کا لکھا ہوا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے موصول ہوا جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ

’’ تصوّرِ مخلوق سے بجز شرک کے اَور کوئی نتیجہ نہیں ‘‘

یہ تصوّر جو تم کرتے ہواس سے سوائے شرک کے اَور کچھ نہیں پیدا ہوگا۔

’’ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے اللہ کا اسم ہی کافی ہے اور درود شریف وہ پڑھنا چاہیے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی مہر ہو‘‘۔

اس والانامہ کے محصول ہونے کے بعد میں نے اسی دم تصور کو بھی ترک کر دیا اور سابقہ سلسلہ وظائف بھی یک دم موقوف کر دیے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد4صفحہ329۔330)

حضرت ماسٹر سید نذیر احمد صاحبؓ  کہتے ہیں’’ مجھ سے سید فضل شاہ صاحب ؓمرحوم مہاجر قادیان نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام سے کیمیا گری کے متعلق دریافت کیا تو حضور ؑ نے فرمایا کہ کیمیا گر رزق کی تلاش میں یوں مارے مارے پھرتے ہیں مگر وہ ان صحیح اسباب سے کام نہیں لیتے جو اللہ تعالیٰ نے جائز طور سے رزق کے حصول کے لیے مقرر کیے ہیں۔ کیمیا گروں کو مقام توکل نہیں ملتا تبھی تو وہ صحیح اور جائز ذرائع کو چھوڑ کر خود ایک راہ بنا لیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ خدا فرماتا ہےفِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۔(الذاریات:23)ہم تو ایسے منحوسوں کو سب سے بڑا مشرک سمجھتے ہیں۔ خدا اپنے کلام پاک قرآن کریم میں مومن کو ایک کیمیا کا نسخہ بتلاتا ہے جس پر عمل کرنے سے ‘‘اللہ تعالیٰ تو آسمان سے رزق دیتا ہے جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے لیکن وہ انہی کو ملتا ہے جو اس کی طرف جھکنے والے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ’’مومن کو ایک کیمیا کا نسخہ بتلاتا ہے جس پر عمل کرنے سے ہر انسان حقیقی کیمیاگر ہو جاتا ہے اور خدا اس کی ہر ضرورت کو خود پورا کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ خدا فرماتا ہے کہ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔ (الطلاق:3-4)دیکھ لو جب متقی کو تمام جہان کی نعمتیں دی جاتی ہے تو وہ پھر کس کا محتاج ہو سکتا ہے۔‘‘ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے ان کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دیتا ہے اور ایسی جگہوں سے رزق عطا فرماتا ہے کہ ان کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ تو فرمایا کہ جب متقی کو جہان کی نعمتیں مل جاتی ہیں تو پھر وہ کس کا محتاج ہو سکتا ہے۔’’میں تو کہتا ہوں کہ اگر کیمیا گر اپنا وہ وقت جو کیمیا گری میں ضائع کرتے ہیں اپنے پیدا کرنے والے کے لیے اتنا وقت صرف کریں تو اپنی سب من مانی مرادیں پا لیں بشرطیکہ وہ تقویٰ پر صحیح طور پر قائم ہو جائیں۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد3 صفحہ 179)

نیک فطرت لوگوں پر آپؑ کی توحید کے کلام اور آپؑ کا اس کے لیے جو عمل تھا اس کا کس طرح اثر ہوتا تھا

اس بارے میں ایک مخلص بزرگ کی روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بیان فرمائی ہے۔

’’ میر عبدالرحمان صاحب رینج افسر بارہ مولا کشمیر نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد صاحب پہلے حنفی تھے۔ پھر اہل حدیث ہوئے۔ اس وقت وہ اپنے دوست مولوی محمد حسن صاحب مرحوم ساکن آسنور… کو کہا کرتے تھے کہ ہم لوگ اب بڑے موحّد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ممکن ہے کوئی ایسی جماعت اَور نکل آئے جو ہم کو بھی مشرک گردانے۔ والد صاحب فرماتے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کیونکہ ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مُردوں( کو زندہ کرنے والے) اور پرندوں کا خالق مانتے ہیں لیکن جب میرے کانوں نے یہ شعر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا سنا

ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا

اس خدادانی پہ تیرے مرحبا

مولوی صاحب! یہی توحید ہے

سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟

اس وقت مجھے ہوش آیا اور میں نے تم دونوں بھائیوں کو سری نگر اپنے ماموں کے پاس چھوڑا اور قادیان پیدل چلا گیا اور وہاں بیعت سے مشرف ہوا۔‘‘اسی بات نے مجھے تبلیغ کر دی۔

(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 160-161روایت 1229)

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ بیان کرتے ہیں’’ غالباً 1901ء کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ میں حضور اقدس علیہ الصلوٰة والسلام کی بارگاہ اقدس میں حاضر تھا کہ حضور علیہ السلام نے توحید باری تعالیٰ پر ایک تقریر فرمائی اور اس میں ارشاد کیا کہ

بعض لوگ کسی کے احسان پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہنے کے بغیر ہی جَزَاکَ اللّٰہُ کہہ دیتے ہیں حالانکہ بہ نظر غایت دیکھا جائے تو ازروئے معرفت یہ کلمہ بھی اپنے اندر ایک گونہ شرک کا پہلو رکھتا ہے کیونکہ احسان کرنے والے کی ذات اور وہ چیز جس کے ذریعے وہ محسن بنا ہے وہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس لیے ممنون احسان کو چاہیے کہ وہ جَزَاکَ اللّٰہُ کہنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی توصیف و تحمید بیان کرے اور احسان ہونے پر اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہے کیونکہ معرفت اور حقیقت کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ سب سے اوّل خالقِ اسباب کا شکریہ ادا کیا جائے‘‘

پھر جَزَاکَ اللّٰہُ اس شخص کا بھی کہہ دے۔

(حیات قدسی صفحہ 134)

حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب قادیانیؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لاہور کی تفصیلات

پہ مشتمل ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ

’’دن چڑھا منتظمین نے دعوت کے انتظامات شروع کیے اور ہوتے ہوتے معزز مہمان اور شرفاء کی سواریاں آنے لگیں مگر حضرت کی طبیعت‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہاں خطاب کرنا تھا لیکن حضرت کی طبیعت ’’بدستور نڈھال وکمزور تھی اور ضعف و نقاہت کا یہ حال تھا کہ اس کی موجودگی میں حضور ؑکو تقریر کر سکنے کی قطعاً کوئی امید نہ تھی اور اسی خیال سے حضورؑ نے حضرت مولانا مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بھیجا کہ آپ ہی آنے والے مہمانوں کی روحانی دعوت کا کچھ سامان کریں۔چنانچہ وقت پر حضرت مولوی صاحب ؓنے تقریر شروع فرما دی مگر تھوڑی ہی دیر بعد وہ ماہِ منوّر اور خورشیدِ انور بہ نفس نفیس ہم پر طلوع فرما ہوا۔ ‘‘یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھوڑی دیر بعد خود ہی تشریف لے آئے۔’’ حضرت مولوی صاحب ؓنے تقریر بند کی اور حضور پُرنور نے کھڑے ہوکر حاضرین کو خطاب فرماتے ہوئے کم و بیش تین گھنٹہ تک ایسی پُرزور،‘‘ کہاں تو بیماری کی یہ حالت تھی کہ آنا مشکل تھا اور کہاں جب آئے تو تین گھنٹے تک پُرزور ’’پُرمعارف اور علم و معرفت سے لبریز تقریر فرمائی کہ اپنے تو درکنار، غیر بھی عش عش کر اٹھے اور ایسے ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے کہ گویا مسحور تھے اور اس روحانی مائدہ کی ایسی لذت ان کو محسوس ہوئی کہ جس نے جسمانی غذا سے بھی ان کو مستغنی کر رکھا تھا… حضورؑ کی تقریر میں ایسی روانی تھی کہ نوٹ کرنا مشکل ہو رہا تھا اور بیان میں اتنی قوّت وشوکت تھی کہ بھرے مجمع میں کسی کے سانس کی حرکت بھی محسوس نہ ہوتی تھی۔ اور حضورؑ اس جوش سے تقریر فرما رہے تھے کہ زورِ تقریر کے ساتھ ساتھ حضور پُر نور خود بھی سامعین کی طرف بڑھے چلے جا رہے تھے۔ مَیں نے اپنی آنکھوں دیکھا اور اس بات کو اچھی طرح نوٹ کیا کہ حضورؑ میز سے کئی مرتبہ چندچند قدم آگے بڑھ جاتے رہےتھے۔ حضورؑ میز کو آگے لے کر نہ کھڑے تھے بلکہ میز حضورؑ کے پشت پر تھی۔‘‘ یعنی جو میز لگی ہوئی تھی یہ نہیں تھا کہ اس کے پیچھے کھڑے ہو کے آپؑ خطاب فرما رہے تھے بلکہ آگے کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے ۔اس لیے تقریر کے دوران جوش میں ایک دو قدم آگے بھی چلے جاتے تھے۔ ’’حضورؑ کی تقریر ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان کے صحن میں زیادہ سے زیادہ حضورؑ کے وصال سے ایک عشرہ پہلے ہوئی تھی۔ ‘‘دس دن پہلے ہوئی ہو گی’’ جس کو تکمیل تبلیغ اور اتمام حجت کے نام سے یاد کیا کرتے تھے اور ماہرِِ علومِ ہیئت انگریز سے مکالمہ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے اوپر کے حصہ میں اس سے قبل ہو چکا تھا‘‘ یعنی وہ بڑا تبلیغی قسم کا دورہ تھا۔ ’’ان تقریروں کے علاوہ کئی چھوٹی بڑی تقاریر حضورؑ نے فرمائیں…‘‘

پھر لکھتے ہیں کہ اسی دوران میں’’ کچھ ہندو مستورات پیغام صلح کی تصنیف کے دوران میں حضرتؑ کے درشن کرنے کی غرض سے ایک وفد کی صورت میں حاضر ہوئیں جبکہ حضور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان میں تشریف فرما تھے ۔حضورؑ چونکہ بہت مصروف تھے ان کو جلدی رخصت فرمانا چاہا مگر انہوں نے عذر کیا‘‘ اور زور دیا’’ اور کوئی نصیحت فرمانے کی درخواست کچھ ایسے رنگ میں کی کہ

حضورؑ نے باوجود انتہائی مصروفیت کے ان کی درخواست کو قبول فرما کر توحید کی تلقین فرمائی اور بت پرستی سے منع فرمایا۔ خدا سے دعاو پرارتھنا کی تاکید فرمائی۔

یہ واقعہ بالکل آخری ایک دو روز کا ہے۔ دراصل وہ مستورات بہت دیر ٹھہرنا اور بہت کچھ حضور ؑکی زبان مبارک سے سننا چاہتی تھیں مگر حضور ؑکی انتہائی مصروفیت کی وجہ سے مجبوراً بادلِ ناخواستہ جلد چلی گئیں۔ اسی طرح حضورؑ کی ایک اَور تقریر اپنے بعض فقرات کی وجہ سے نیز آخری ہونے کی وجہ سے خاص طور پر مشہور اور زبان زدِ خدام ہے جس میں حضورؑ نے فرمایا تھا۔

عیسیٰ مسیح کو مرنے دو کہ اس میں اسلام کی زندگی ہے مسیح محمدی کو آنے دو کہ اسی میں اسلام کی بزرگی ہے۔‘‘

(تتمہ سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 391-394)

یہ تھی آپؑ کی توحیدکے قیام کے لیے تڑپ۔بیماری اور مصروفیت ہونے کے باوجود اسلام کا پیغام اور توحید کا پیغام پہنچانے کے لیے آپؑ نے کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں کی۔

پس

یہ توحید کا پیغام پہنچانے اور اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کے لیے بھرپور کوشش ہی ہے جو آج مسیح محمدی کے غلاموں کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

دنیا کے حالات اور خاص طور پر مسلم دنیا کے حالات کے لیے بہت دعا کی ضرورت ہے۔

ہر ایک کو پتہ ہی ہے کہ کیا ہو رہے ہیں۔ جنگ بندی کہنے کو تو ہوئی ہے لیکن یہ دیر پا نظر نہیں آتی بلکہ ابھی سے اس میں دراڑیں پڑنی شروع ہو چکی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح لبنان پر حملہ کر کے ایرانیوں کو اشتعال دلائے اور وہ جواب دیں۔ اب تو بعض یورپین لیڈروں نے بھی اس کے اس فعل کی مذمّت کی ہے۔ کم از کم کوئی تو آواز اٹھائی۔ ان لوگوں نے کچھ نہ کچھ تو اخلاق کا اظہار کیا ہے لیکن یہ یہیں تک رہیں گے۔ اتنا ہی اخلاق ہے ان میں۔ اس سے زیادہ نہ یہ کوشش کرنا چاہتے ہیں نہ ان میں جرأت ہے اور طاقت ہے۔ بہرحال

ہمیں دعا کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ مسلمان دنیا پررحم فرمائے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍اپریل 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button