تازہ ترین: اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لیے، اپنے بچوں کی اعلیٰ رنگ میں تربیت کرنے کے لیے اور اپنے عہدوں کو نبھانے کے لیے بھرپور کوشش کریں (واقفاتِ نَو برطانیہ کے سالانہ اجتماع سے حضورِ انور کے خطاب کا خلاصہ)
٭…آپ کو آئندہ نسل کی تربیت اور کردار سازی کے لیے اپنا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا تاکہ احمدیت کی آئندہ نسلیں دین اور مذہب کے ساتھ مضبوطی سے منسلک رہیں۔ آپ نے ترقی یافتہ دنیا کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہے جس کے مواقع آپ کےگذشتہ بزرگان کو نہیں ملے تھے ، پس اس اعتبار سے بھی آپ کا دوہرا فرض ہے کہ اُس تعلیم کو بھی بروئے کار لائیں اور احمدی بچوں کی تربیت اور تعلیم میں مثالی کردار ادا کریں
٭…یاد رکھیں! آپ کا دنیاوی علم اُس وقت تک کسی کام کا نہیں جب تک وہ لوگوں کی بہبود کے لیے استعمال نہیں ہورہا۔ آپ کاتو فرض ہے کہ آپ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں اپنا کردار اداکریں۔ ورنہ آپ کی اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ حقیقی رنگ میں دین کی اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے کام کریں تو آپ کامیاب ہیں ورنہ آپ میں اور دیگر دنیادار تعلیم یافتہ لوگوں میں کیا فرق ہوا
٭… مسیح محمدی کی خواتین خدمت گار ہونے کے ناطے آپ کا فرض ہے کہ مسیح موسویؑ پر ایمان لانے والی خواتین سے بڑھ کر اخلاص اور قربانی کی مثالیں قائم کریں
(۲۵؍اپریل ۲۰۲۶ء، اسلام آباد، ٹلفورڈ، نمائندگان الفضل انٹرنیشنل) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ برطانیہ کی واقفاتِ نَو کا سالانہ اجتماع مورخہ ۲۵؍اپریل ۲۰۲۶ء کو اسلام آباد ٹلفورڈ میں منعقد ہوا جس میںں ۱۷۰۰ واقفاتِ نو نے شرکت کی۔
اجتماع کے اختتامی اجلاس کی صدارت کے لیے امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایوانِ مسرور اسلام آباد میں برطانیہ کے وقت کے مطابق پانچ بج کر تین منٹ پر تشریف لائے۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمایا۔ اس کے بعد اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ سجیلہ نور صاحبہ نے سورت آل عمران کی آیت نمبر۲۶ اور ۲۷ کی تلاوت کی۔ متلوّ آیات کا انگریزی ترجمہ مشعل چودھری صاحبہ نے پیش کیا۔ بعد ازاں عائلہ الدین صاحبہ نے حضرت مصلح موعودؓ کا منظوم کلام “میں تیرا در چھوڑ کر جاؤں کہاں” میں سے منتخب اشعار پیش کیے۔ ان اشعار کا انگریزی ترجمہ بارعہ طاہر صاحبہ نے پیش کیا۔ بعد ازاں معاونہ صدر واقفاتِ نو ملیحہ منصور صاحبہ نے اجتماع رپورٹ پیش کی۔
پانچ بج کر ۱۸؍ منٹ پر حضور انور منبر پر تشریف لائے اور انگریزی زبان میں اختتامی خطاب کا آغاز فرمایا۔
خلاصہ خطاب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ
تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعدحضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
الحمدللہ! آج آپ سب یہاں واقفاتِ نَو کے سالانہ اجتماع کےلیے جمع ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقفِ نَو کی تحریک کے اجرا کو تقریباً چالیس برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ آپ میں سے بہت سی واقفاتِ نَو اپنی عمر کی دوسری تیسری دہائی میں قدم رکھ چکی ہیں، اور واقفینِ نَو کی ایک نئی نسل کی مائیں بھی بن چکی ہیں۔ اس حیثیت میں آپ پر نہ صرف اپنی بلکہ اپنےواقفین بچوں کی بھی اخلاقی اور روحانی تربیت کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ گوکہ یہ ماں اور باپ دونوں کا فرض ہے لیکن چونکہ ماں اپنے بچوں کے ساتھ عموماً زیادہ وقت گزار رہی ہوتی ہے لہٰذا اس اعتبار سے زیادہ ذمہ داری بھی اُسی پر عائد ہوتی ہے۔
پس
آپ کو آئندہ نسل کی تربیت اور کردار سازی کے لیے اپنا عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا تاکہ احمدیت کی آئندہ نسلیں دین اور مذہب کے ساتھ مضبوطی سے منسلک رہیں۔ آپ نے ترقی یافتہ دنیا کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہے جس کے مواقع آپ کےگذشتہ بزرگان کو نہیں ملے تھے ، پس اس اعتبار سے بھی آپ کا دوہرا فرض ہے کہ اُس تعلیم کو بھی بروئے کار لائیں اور احمدی بچوں کی تربیت اور تعلیم میں مثالی کردار ادا کریں۔
اپنی نسلوں کی تربیت کے لیے سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ آپ کا خدا تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط ہو۔ آپ نمازوں کی پابند ہوں۔ آپ کو دعا کی عادت ہو، قرآن کریم سے ذاتی لگاؤہو۔ اگر آپ کا عملی نمونہ ایسا ہوگا تو یقیناً آپ کی اولادوں پر اس کا نیک اثر پڑے گا۔ واقفینِ نَو کو اُس عہد کی فکر ہونی چاہیے جو انہوں نے خدا کے ساتھ کیا ہے، یہ نہ ہو کہ آپ اپنے حقوق کے لیے فکر مند ہوں اور خد اسے کیا اپناوعدہ کہیں پسِ پُشت ڈال دیں۔
اپنے بچوں میں دینی علوم کے حصول کا شوق پیدا کریں۔ اسی طرح آپ اپنے ایمان اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرسکتی ہیں۔ تبلیغ صرف مردوں کا کام نہیں بلکہ عورتوں کو بھی اس میدان میں آگے آنا ہوگا۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان عورتوں نے اس میدان میں بھی اپنے عمدہ نمونے قائم فرمائے۔ حضرت عائشہؓ کی مثال تو سب کے سامنے ہے حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ آدھا دین عائشہ سے سیکھو۔ پس
آپ کو دینی عُلوم سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ اسلام پر ہونے والے اعتراضات کے جواب دے سکیں۔ بالخصوص آپ اس سوال کا جواب دے سکیں کہ اسلام عورتوں کے حقوق سلب نہیں کرتا۔ یورپ نے تو چند سَو سال قبل عورتوں کو حقوق دیے ہیں مگر اسلام تو ان حقوق کو چودہ سَو سال پہلے قائم فرما چکا تھا۔
پس احمدی عورتیں پردے میں رہتے ہوئے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کےجواب دے سکتی ہیں بلکہ دیتی ہیں اور بہت عمدہ رنگ میں اسلامی تعلیم کو پیش کرتی ہیں۔ اس حوالے سے یقیناً حضرت عائشہؓ میں آپ کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ مغربی ممالک آزادی کے نام پرکیا کرتے ہیں؟ حال ہی میں اس کی کئی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ یہ آزادی کے نام پر جنگیں کرتے ہیں اور پھر بچیوں کے تعلیمی اداروں کو تباہ کرتے ہیں۔ کیا یہ عورتوں کے حقوق کی ادائیگی ہے؟ مغرب نے گذشتہ صدی میں عظیم جنگیں کرکے عورتوں کے کون سے حقوق قائم کیے؟ کون سی خدمت کی؟حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے عورتوں کے لیے ایسے مسائل کھڑے کیے جن سے نبرد آزما ہوناعورتوں کے لیے سہل نہیں تھا۔
اسلام نے عورتوں کے بہت سے حقوق قائم کیے ہیں مثلاً بچے پیدا کرنے کےبارے میں عورت کی مرضی کو شامل کیا گیا ہے،عورت کے لیے حق مہر کا انتظام کیا گیا ہے۔ پس اسلام کی اس خوبصورت تعلیم کو سمجھنا اور آگے پھیلانا آپ کا کام ہے۔
آپ میں سے بہت سی ایسی خواتین ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ یقیناً یہ بہت خوش آئند بات ہے۔ لیکن آپ کو یہ غور کرنا چاہیے کہ کہیں آپ کی تمام کوششیں صرف دنیا حاصل کرنے کے لیے تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے دین سے دُور ہورہی ہیں۔
بدقسمتی سے ایک مسئلہ جو سر اٹھا رہا ہے وہ گھریلو ناچاقیوں کا ہے۔ اگر کہیں خاوند اپنے حقوق درست طور پر ادا نہیں کر رہا تو وہاں احمدی عورت کو احمدی ماں، بیوی کو چاہیے کہ وہ فراست کے ساتھ ان مسائل کا حل نکالے، نہ یہ کہ ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہو۔ صبر اور توکل کے سا تھ،اپنے بچوں کی خاطر اپنے گھر کی اکائی کو سلامت رکھنے کی فکر کریں۔ ہر احمدی خاتون بالخصوص واقفہ نَو احمدی خاتون کو چاہیے کہ عاجزی کا مظاہرہ کرے۔ اگر آپ کو کسی قسم کی خدمت کا موقع ملے تو اسے محض للہ سرانجام دیں، اسے لوگوں کے درمیان تفاخر کا باعث نہ سمجھیں۔
بعض دفعہ عورتوں کی طرف سے یہ عذر سامنے آتا ہےکہ ہم اپنی گھریلوذمہ داریوں کی وجہ سے جماعتی کام حتٰی کہ بعض مواقع پر عبادات کے لیے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم وقت نہیں نکال سکتیں۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ پر خدا کی عبادت کرنا فرض ہے۔ اس کے دین کی خدمت کے لیے وقت نکالنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ صرف پنجوقتہ نمازوں تک محدود نہ رہیں بلکہ خدا کے حضور نوافل کے ذریعے بھی ترقی کی کوشش کریں۔
یاد رکھیں! آپ کا دنیاوی علم اُس وقت تک کسی کام کا نہیں جب تک وہ لوگوں کی بہبود کے لیے استعمال نہیں ہورہا۔ آپ کا تو فرض ہے کہ آپ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے میں اپنا کردار اداکریں۔ ورنہ آپ کی اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر آپ حقیقی رنگ میں دین کی اور بنی نوع انسان کی خدمت کے لیے کام کریں تو آپ کامیاب ہیں ورنہ آپ میں اور دیگر دنیادار تعلیم یافتہ لوگوں میں کیا فرق ہوا۔
حقیقی کامیابی اور کامرانی کے لیے ضروری ہے کہ آپ میں دین کی خدمت کا جذبہ ہو، آپ اور آپ کے بچے حقیقی اسلامی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے والے ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دین کی خاطر قربانی کرنے میں خواتین ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔ مسیحیت کی تاریخ میں مذکور ہے کہ مسیحؑ کے صلیب پر لٹکائے جانے کے بعدجب مرد حواری تتربتر ہوچکے تھے ، تین دن تک یہ مسیحؑ کی خواتین مرید ہی تھیں جو انتہائی خطرناک حالات میں مسیحؑ کی خدمت میں حاضر رہیں۔ پس
مسیح محمدی کی خواتین خدمت گار ہونے کے ناطے آپ کا فرض ہے کہ مسیح موسویؑ پر ایمان لانے والی خواتین سے بڑھ کر اخلاص اور قربانی کی مثالیں قائم کریں۔
اسلامی تاریخ میں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں خواتین نے اسلام کی روحانی فتح کے لیے خود کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ خلافتِ راشدہ میں بےشمار خواتین نے قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ کئی مسلمان عورتیں جنگوں میں پہلی صف میں دشمن سے برسرِ پیکار نظر آتیں۔ کئی خواتین مرہم پٹی کےلیے تلواروں کے سائے تلے بہادری کے ساتھ کام کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ قربانیاں صرف کہانیوں کے رنگ میں نہیں، بلکہ یہ آپ کے سامنے اسوہ اور نمونہ ہیں۔ یہ وہ معیار ہیں جنہیں اب آپ نے قائم رکھنا ہے۔
یوں تو یہ تمام احمدی خواتین کا فرض ہے مگر آپ جو اپنی زندگیاں وقف کرنے کا عہد کرچکی ہیں آپ کا تو بدرجہ اولیٰ یہ فرض ہے کہ ان معیاروں کو حاصل کرنے کی فکر کریں۔
آپ کا فرض ہے کہ اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے لیے، اپنے بچوں کی اعلیٰ رنگ میں تربیت کرنے کے لیے اور اپنے عہدوں کو نبھانے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔یہ سب آپ تب ہی حاصل کرسکتی ہیں جب آپ قرآن کریم اور اس کی تفاسیرکا علم حاصل کریں گی، حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی کتابوں کا مطالعہ کریں گی۔ خلفائے احمدیت کی تصانیف کا مطالعہ کریں گی، جماعتی لٹریچر سے واقفیت حاصل کریں گی۔ اسی طرح آپ اپنی اصلاح بھی کرسکیں گی اور اپنے بچوں کی اصلاح بھی کرسکیں گی۔
چھوٹی بچیاں جو یہاں موجود ہیں وہ بھی یاد رکھیں کہ انہوں نے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنی ہے۔ محنت سے کام کرنا ہے، اپنے ایمانوں کو مضبوط سے مضبوط بنانا ہے اور کبھی بھی کسی دوسرے کی رائے سے مرعوب نہیں ہونا۔ آپ نے اپنے اخلاق کو بہترین بنانا ہے یہاں تک کہ آپ دنیا کو اخلاق سکھا سکیں۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب آپ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں۔
ہمیشہ یاد رکھیں حقیقی اطمینان اور سکونِ قلب صرف خدا کی ذات سے وابستگی سے حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے آپ اپنے عہدوں کو نبھانے والیاں ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو نیکیوں میں بڑھائے اور اسلامی تعلیمات کا حقیقی نمونہ آپ سے ظاہر ہو اور دنیا آپ کو دیکھ کر روشنی حاصل کرے۔
حضور انور کا خطاب پانچ بج کر ۵۶؍منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔ پانچ بج کر ۵۸؍منٹ پر حضور انور نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کا تحفہ عنایت فرمایا اور ایوانِ مسرور سے تشریف لے گئے۔
اجتماع رپورٹ
حضور انور کے خطاب سے قبل معاونہ صدر واقفاتِ نَو ملیحہ منصور صاحبہ نے اجتماع رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیارے حضور!خاکسار واقفاتِ نو یوکے کی طرف سے نہایت عاجزی کے ساتھ حضور کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہے کہ حضور نے آج ہمارے اجتماع میں تشریف لا کر ہمیں برکت بخشی۔ ہم اس بات پر بھی دلی طور پر شکر گزار ہیں کہ ہمیں اپنا سالانہ اجتماع اسلام آباد کی بابرکت سرزمین پر منعقد کرنے کا موقع ملا۔ الحمدللہ، یہ ایک نہایت یادگار تجربہ رہا۔
اجتماع کا آغاز صبح دس بجے محترمہ صدر صاحبہ یوکے کی افتتاحی تقریر سے ہوا۔ اس کے بعد واقفاتِ نو کومختلف ورکشاپس میں شرکت کرنے کے لیے عمر کے لحاظ سے چار گروپس میں تقسیم کیا گیا
ان ورکشاپس میں اجتماع کا موضوع، نماز: ہمارے دین کا ستون، حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا سے سیکھا گیا توکل کا سبق، واقفاتِ نو کے طور پر خدمت سے متعلق پینل ڈسکشن، اور قرآنِ کریم کا گہرائی سے مطالعہ شامل تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کے خوبصورت کلام کو سمجھنے کا طریق سیکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ سائنس شو اور نمائش کا بھی انعقاد کیا گیا۔
پیارے حضور! سات سال سے زائد عمر کی واقفاتِ نو کی کل تجنید دوہزار ۷۸۸؍ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ۱۷۰۰؍واقفاتِ نو نے اجتماع میں شرکت کی۔ یہ ہماری تجنید کا ۶۱؍ فیصد ہے، الحمدللہ۔ یہ گذشتہ سال کے اجتماع سے ۳۲۱؍کا اضافہ ہے۔
آج کی کل حاضری بشمول ماؤں اور مہمانوں کے ۲۵۵۳؍تھی۔ میں اس موقع پر نیشنل سیکرٹری وقف نو اور ان کی ٹیم کا تہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اجتماع کے انتظامات میں مدد کی۔ اسی طرح ایم ٹی اے انٹرنیشنل، صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ یوکے، اور ڈیوٹی پر موجودتمام لجنہ ممبرات کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔
خاکسار نہایت عاجزی کے ساتھ حضورِ انور سے واقفاتِ نو کے لیے مسلسل دعاؤں کی درخواست بھی کرنا چاہتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی پوری زندگی اپنے دین کی خدمت کرنے والی ہوں اور اسلام کے غلبہ میں ہم کلیدی کردار ادا کرنے والی ہوں۔ آمین
