ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر ۲۱۲)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

اولیائے دہلی کی کرامت

ڈاکٹر (یعقوب بیگ صاحب)کو مخاطب کر کے فرمایا:آج کہاں کہاں کی سیر کی؟

انہوں نے عرض کی کہ فیروز شاہ کی لاٹ، پرانا کوٹ، مہابت خاں کی مسجد، لال قلعہ وغیرہ مقامات دیکھے۔ فرمایا: ’’ہم تو بختیار کاکی۔ نظام الدین صاحب اولیاء حضرت شاہ ولی اﷲ صاحب وغیرہ اصحاب کی قبروں پر جانا چاہتے ہیں۔ دہلی کے یہ لوگ جو سطح زمین کے اُوپر ہیں نہ ملاقات کرتے ہیں اور نہ ملاقات کے قابل ہیں۔ اس لیے جو اہلِ دل لوگ ان میں سے گذر چکے ہیں اور زمین کے اندر مدفون ہیں ان سے ہی ہم ملاقات کر لیں تا کہ بِدوں ملاقات تو واپس نہ جائیں۔ میں ان بزرگوں کی یہ کرامت سمجھتا ہوں کہ انہوں نے قسی القلب لوگوں کے درمیان بسر کی۔ اس شہر میں ہمارے حصہ میں ابھی وہ قبولیت نہیں آئی جو ان لوگوں کو نصیب ہوئی

چشم باز و گوش باز و این ذکا

خیرہ ام از چشم بندیٔ خدا

اسلام پر یہ کیسا مصیبت کا زمانہ ہے ۔اندرونی مصائب بھی بے انتہا ہیں ۔اور بیرونی بھی بے حد ہیں پھریہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس وقت کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔‘‘ (ملفوظات جلد ہشتم صفحہ ۱۷۹ مطبوعہ ۱۹۸۴ء)

تفصیل: اس حصہ ملفوظات میں آمدہ فارسی شعر مولانا روم کا ہے،جس کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔مثنوی معنوی کے تیسرے دفتر میں جہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ کا ذکر چل رہاہے،میں زیر عنوان ’’فرعون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مہلت دینا،تا کہ وہ شہروں سے جادو گروں کو جمع کرلے‘‘ سے لے کر اگلے عنوان یعنی ’’فرعون کا جادوگروں کو بلانے کے لئے شہروں کی طرف لوگوں کو روانہ کرنا‘‘ تک کے واقعہ اور گفتگو کو تقریباً ۶۰ اشعار میں پیش کیا گیا ہے۔مضمون کو سمجھنے کے لیے مذکورہ شعر کو ماقبل کے دواشعار کےساتھ تحریر کیا جاتاہے۔

تَکْیِہ بَرْوَےْ کَرْد و مِیْ گُفْت اَےْ عَجَبْ

پِیْشِ مَا خُوْرشِیْد و پِیْشِ خَصْم شَبْ

انہوں (حضرت موسیٰؑ)نے اس (سونٹے) پر ٹیک لگائی اور کہہ رہے تھے تعجب ہے یہ معجزہ ہمارے لیے سورج اور دشمن کے لیے رات ہے۔

اَےْ عَجَبْ چُوْں مِیْ نَہْ بِیْنَدْ اِیْں سِپَاہْ

عَالَمِےْ پُر آفْتَابِ چَاشتگَاہ

تعجب ہے یہ لشکر کیوں نہیں دیکھتاہے؟ دنیا کو جو چاشت کے وقت کے سورج سے بھری ہوئی ہے۔

چَشْم بَازْوگُوْش بَازْواِیْن ذُکَا

خِیْرِہْ اَمْ اَزْچَشْم بَنْدِیِ خُدَا

ترجمہ : آنکھیں کھلی ہیں اور کان کھلےہیں اور یہ ذہانت، میں اللہ (تعالیٰ)کی چشم بندی پر حیرا ن ہوں ۔

یعنی ان کے حواس اور ذہانت موجود ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی نظر بندی کردی ہے۔غالباً ان اشعارمیں سورۃ البقرہ کی آیت۸ میں بیان شدہ مضمون کی طرف اشارہ ہے۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَعَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَعَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّلَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ۔ ترجمہ : اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اوران کی شنوائی پر بھی ۔اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب (مقدر) ہے۔

لغوی بحث: چَشْم(آنکھ) بَازْ(کھلی/کھلا) و(اور)گُوْش(کان) بَازْ(کھلی/کھلا) و(اور) اِیْن(یہ) ذُکَا(ذہانت) خِیْرِہْ(حیران) اَمْ(میں ہوں) اَزْ(سے) چَشْم بَنْدِیِ خُدَا(اللہ کی چشم بندی)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button