نمازِ جنازہ حاضر و غائب (۴؍اپریل ۲۰۲۶ء)
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۴؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرم چودھری عطاء اللہ باجوہ صاحب (آف ظفر وال ضلع نارووال۔ حال یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرم چودھری عطاء اللہ باجوہ صاحب (آف ظفر وال ضلع نارووال۔ حال یوکے)
۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء کو ۸۴ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت چودھری فضل دین صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے اور حضرت چودھری حسن دین صاحب رضی اللہ عنہ کے بیٹے تھے۔ مرحوم کو یوکے آنے سے پہلے ناروال میں قائمقام امیر جماعت اور نائب امیر ضلع کے علاوہ ظفر وال میں مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق ملی۔ آپ نماز اور روزہ کے پابند، صلح پسند، سادہ مزاج، خلافت کے ساتھ گہری محبت رکھنے والے، بڑے بے نفس، نیک اور مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرمہ نصرت بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالغفور صاحب مرحوم (ربوہ)
۲۰؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۸۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذآپ کے دادا مکرم غور دین صاحب کے ذریعہ ہوا جنہیں حضرت مسیح موعود کے دورمبارک میں بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، سادہ طبیعت کی مالک، صفائی پسند، غریب پرور، مہمان نواز، متوکل علی اللہ،بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ مہینہ شروع ہوتے ہی بڑی خوشی سے سب سے پہلے چندہ اداکرتیں۔ آپ کے گھر میں اکثر جماعتی پرو گرام ہوتے اور باوجود بیماری کے ان میں بڑے شوق سے شامل ہوتیں۔ گھر میں کام کرنے والیوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرتیں اور جو خود کھاتیں وہی ان کو کھلاتیں۔ اپنے حلقہ میں یتیم بچوں کا وظیفہ لگایا ہوا تھا اور ہر ماہ با قاعدگی سے ان کی مدد کر تیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں چار بیٹے،چار بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک نواسے مکرم حافظ احتشام احمد مومن صاحب (مربی سلسلہ) اس وقت برازیل میں اور ایک پوتے مکرم نعمان احمد صاحب…خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
۲۔مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری ناصر احمد صاحب مرحوم(ربوہ )
۲۷؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۹۵سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت رحیم بخش صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔مرحومہ نمازاور روزہ کی پابند، خلافت سے گہرا تعلق رکھنے والی، ہر تحریک پر لبیک کہنے والی، بڑی ملنسار اور خوش اخلاق خاتون تھیں۔ اولاد کی اچھی تربیت کی۔ رشتہ داروں سے حسن سلوک کرنے والی تھیں۔ جب تک صحت رہی جماعتی خدمت اور دعوت الی اللہ کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں دو بیٹے، پانچ بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔
۳۔مکر مہ جمیلہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم نواز احمد بھلی صاحب مرحوم (کینیڈا)
۲۲؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۸۱سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، بڑی ملنسار، خوش اخلاق اور نافع الناس خاتون تھیں۔ خلافت اور جماعت کے ساتھ انتہائی محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ چندہ جات کی ادائیگی میں بڑی مستعد تھیں اور ہرماہ با قاعدگی سےچندہ ادا کرتی تھیں۔ مرحومہ نے شادی سے قبل لجنہ کے مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور چاربیٹیاں شامل ہیں۔ مرحومہ کے ایک پوتے مکرم ابتسام کا شف صاحب جامعہ احمدیہ…میں درجہ خامسہ کے طالبعلم ہیں۔
۴۔مکرمہ زاہدہ خانم صاحبہ اہلیہ مکرم محمد افضل صاحب (آف پٹنی ہیتھ۔ یوکے)
۱۵؍نومبر ۲۰۲۵ء کو ۷۶سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت عطا محمد صاحب رضی اللہ عنہ (آف لنگڑوعہ)صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، غریبوں کا خیال رکھنے والی،بڑی ہمدرد، ملنسار،نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ چک نمبر ۱۳۲ ضلع ساہیوال میں بطور صدر لجنہ اماءاللہ خدمت کی توفیق پائی اور احمدی اور غیر احمدی بچیوں کو قرآن کریم بھی پڑھاتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔
۵۔مکرم ملک منور احمد خان صاحب ابن مکرم ملک محمد احمد خان صاحب ( دیپال پور ضلع اوکاڑہ)
۲۵؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۶۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، پر ہیز گار، صاف گو، بڑے شفیق،ہمدرد، ملنسار، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ حقوق العباد کا بہت خیال رکھتےاور بیماروں کی بیمار پرسی آپ کی شخصیت کا ا یک نمایاں پہلوتھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
۶۔مکرم لعل دین صاحب ابن مکرم حاجی غلام رسول صاحب (کینیڈا)
۳۱؍جنوری ۲۰۲۶ء کو ۵۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کینیڈا جماعت کے فعال رکن تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، بڑے خوش اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ آپ نے مختلف شعبہ جات میں خدمت کی توفیق پائی۔ کینیڈا میں مربی اطفال کے طور پر بھی خدمت بجالاتے رہے۔ رمضان میں مسجد میں معتکفین کی خدمت کے لیے بھی پیش پیش رہتے تھے۔ آپ نے زندگی میں متعدد بار عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




