نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۱؍اپریل ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ ناصرہ پروین صاحبہ بنت مکرم عبدالکریم بھٹی صاحب (تھارٹن ہیتھ۔یوکے) اور مکرم کفایت اللہ لودھی صاحب (نارتھ لندن۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
۱۔مکرمہ ناصرہ پروین صاحبہ بنت مکرم عبد الکریم بھٹی صاحب( تھارٹن ہیتھ۔یوکے)
29؍مارچ 2026ء کو 75سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ کا تعلق جھنگ سے تھا۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم ایس سی کیمسٹری کرنے کے بعد گورنمنٹ کالجوں میں بطورلیکچرر ملازمت کی اورپرنسپل کے عہدے تک ترقی پائی۔ دوران ملازمت مخالفت کا بڑی جرأت کے ساتھ مقابلہ کرتی رہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ربوہ میں سکونت اختیار کی اور پہلے نصرت جہاں اکیڈمی اور پھر نصرت جہاں کالج میں پڑھاتی رہیں۔ مرحومہ پابند صوم وصلوٰۃ،باقاعدگی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والی،بڑی دعا گو، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ خلافت سے گہری اطاعت کا تعلق تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بہن اوردو بھائی شامل ہیں۔
۲۔مکرم کفایت اللہ لودھی صاحب( نارتھ لندن۔یوکے)
یکم؍اپریل 2026ء کو 86 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ نے جرمنی میں بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ چند سال قبل جرمنی سے یو کے آگئے اور نارتھ لندن میں رہائش اختیار کی۔ لازمی چندوں کے علاوہ مالی تحریکات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ آپ نے بیت الفتوح اورنارتھ لندن کی مسجدوں کے لیے گرانقدر عطیات پیش کیے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، غریب پرور، بڑے نیک اور خُدا ترس انسان تھے۔ خلافت کےساتھ بڑی عقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔ اپنی فیملی میں اکیلے احمدی تھے۔ اہلیہ چند سال قبل جرمنی میں وفات پاگئی تھیں۔ آپ کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ مرحوم موصی تھے۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرمہ منصورہ سمیع صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری سمیع اللہ وڑائچ صاحب مرحوم (سرگودھا)
13؍مارچ 2026ء کو 92 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت چودھری حاکم علی صاحب پنیاررضی اللہ عنہ کی بہو اور مکرم مرزا عبدالحق صاحب (سابق امیر جماعت ضلع سرگودھا) کی بیٹی تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار،نرم مزاج، نفاست پسند، صابر و شاکر،بڑی صائب الرائے، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ، ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ نے کئی سال تک صدر لجنہ اماءاللہ سرگودھا شہر و ضلع کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ خلافت کے ساتھ عقیدت کا گہرا تعلق تھا۔ اپنی صدارت کے دوران ممبرات کی نمازوں میں باقاعدگی اور خلیفہ وقت کا خطبہ سننے کے بارے میں خصوصی طور پر جائزہ لیتیں اور مسلسل اس بارے میں تلقین کرتی رہتی تھیں۔ ہر جگہ لجنہ اور بچیوں کو ترجمۃ القرآن سیکھنے کی طرف بھی توجہ دلاتی رہیں اور سینکڑوں ممبرات کو خود ترجمہ سکھانے کی بھی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ اگرچہ آپ کی اپنی کوئی اولاد نہ تھی مگر آپ نے اپنے شوہر کی دوسری شادی کے بعد ہونے والے بچوں کی تربیت اپنی ذمہ داری سمجھ کر کی اور انہیں اپنی اولاد سے بڑھ کر محبت دی۔آپ مکرم نسیم احمد باجوہ صاحب (مربی سلسلہ یوکے) کی ممانی تھیں۔
۲۔محترم چودھری مشتاق احمد صاحب ابن مکرم چودھری محمد طفیل صاحب(امریکہ)
16؍فروری 2026ء کو 95 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ 1992ء میں امریکہ شفٹ ہو گئے اور وہاں قائد مال مجلس انصار اللہ امریکہ، لوکل ناظم مال میری لینڈ کے علاوہ انچارج بک سٹور مسجد بیت الرحمٰن خدمت کی توفیق پائی۔ اس عرصہ میں مکرم شمشاد احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ کے ساتھ تبلیغی کاموں میں بھی بہت سر گرم رہے۔ آپ کی عادت تھی کہ حضور انور کا خطبہ جمعہ اگلے خطبے تک بار بار سنتے رہتے اور کہا کرتے تھے کہ حضور کا خطبہ ہر دفعہ سننے سے راہنمائی کے لیے کوئی نہ کوئی نئی چیز ملتی ہے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور پوتے اور پوتیاں شامل ہیں۔
۳۔مکرمہ امۃالنصیر صاحبہ اہلیہ مکرم محمد داؤد مجو کہ صاحب مرحوم (ربوہ)
20؍فروری 2026ء کو 85 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم مولوی حافظ عبد الکریم خان صاحب خوشاب کی بیٹی تھیں۔ آپ کے خاندان میں احمدیت حضرت مولوی فضل الدین صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آئی۔ آپ کے دادا مولوی فتح دین صاحب اور دادی مکرمہ غلام بی بی صاحبہ نے 1902ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل کیا تھا۔ آپ نے 15 سال سے زائد عرصہ دارالعلوم غربی ربوہ کی صدر لجنہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ پھر مختلف عہدوں پر کام کیا۔بیماری سے پہلے اپنے محلہ کی سیکرٹری وقف نوکے طورپر خدمت بجالارہی تھیں۔ آپ نے سینکڑوں بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید ناظرہ اورلجنہ کو ترجمہ قرآن پڑھانے کی توفیق پائی۔ مالی قربانی میں صف اول میں شمار ہوتی تھیں۔ اپنا مکمل سونا جو کئی تولے کا تھا وقفہ وقفہ سے مختلف تحریکات میں پیش کرتی رہیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ آپ مکرم عبدالستار خان صاحب (نائب امیر سپین) کی بڑی ہمشیرہ، مکرم حافظ مظفر احمد صاحب …کی خالہ اور مکرم عبدالسمیع خانصاحب (پروفیسر جامعہ احمدیہ کینیڈا) کی پھوپھو تھیں۔
۴۔مکرمہ ڈاکٹر بشریٰ مبارکہ صاحبہ اہلیہ مکرم نصیر احمد شریف صاحب (صدر حلقہ پشاور روڈراولپنڈی کینٹ)
23؍فروری 2026ء کو 70 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم چودھری محمد شریف صاحب مرحوم (مبلغ بلا دعر بیہ وگیمبیا) کی بہوتھیں۔ مرحومہ کے والد مکرم میاں محمد یونس صاحب مرحوم نے 1941ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک کیا اور تحقیق کے بعد بیعت کی توفیق پائی۔ مرحومہ نے بہاولپور سے MBBS اور پھر گائنی میں MCPS کیا۔ 43 سال میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ رہیں۔ بہت امانت دار اور مریضوں سے شفقت کا سلوک کرنے والی ایک نافع الناس مخلص خاتون تھیں۔ احمدی مریضوں اور خاص طور پر واقفین زندگی سے فیس نہیں لیتی تھیں۔ جب آپریشن کرتیں تو مریض کی طرف سے اپنی جیب سے صدقہ دیتی تھیں۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتی تھیں۔ خلافت کے ساتھ مخلصانہ عقیدت کا تعلق تھا۔ اولاد کو بھی جماعت سے منسلک کیا اور اچھی تربیت کی۔ مالی قربانی میں پیش پیش رہتی تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔
۵۔مکرمہ امتل بی بی صاحبہ اہلیہ مکرم لال دین صاحب (قلعہ کالر والا ضلع سیالکوٹ)
13؍فروری 2026ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے دادا مکرم میاں شہاب الدین صاحب آف لودھی ننگل کے ذریعہ ہوا جو خلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔ مرحومہ نماز اور روزہ کی پابند، چندوں میں باقاعدہ ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ کو دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ باوجود ناخواندہ ہونے کے اپنی بات کو بڑے اچھے طریقہ سے سمجھا لیتی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلافت کے ساتھ والہانہ محبت تھی۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین



