حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

نفسانی جوشوں کو دبانا

پھریہ شرط ہے کہ نفسانی جوشوں کو دبانا۔ اس میں کیا مثالیں ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک خوبی بیان فرماتے ہیں کہ ہندئووں کے ساتھ جلسہ تھااور وہاں جھگڑا ہوگیااوربڑے ضبط کانمونہ دکھایا جماعت نے۔ فرماتے ہیں کہ: ’’ اگر پاک طبع مسلمانوں کو اپنی تہذیب کا خیال نہ ہوتا اور بموجب قرآنی تعلیم کے صبر کے پابند نہ رہتے اور اپنے غصہ کو تھام نہ لیتے تو بلا شبہ یہ بدنیت لوگ ایسی اشتعال دہی کے مرتکب ہوئے تھے کہ قریب تھاکہ وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔ مگرہماری جماعت پر ہزار آفرین ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ نمونہ صبر اور برداشت کا دکھایا اور وہ کلمات آریو ں کے جو گولی مارنے سے بدتر تھے، ان کو سن کر چپ کے چپ رہ گئے‘‘۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن۔ جلد ۲۳۔ صفحہ ۱۰)

اسی طرح فرماتے ہیںکہ :’’اگرمیری طرف سے اپنی جماعت کے لئے صبر کی نصیحت نہ ہوتی اوراگر مَیں پہلے سے اپنی جماعت کو اس طور سے تیار نہ کرتا کہ وہ ہمیشہ بدگوئی کے مقابل پر صبر کریں تو وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔ مگر یہ صبر کی تعلیم تھی کہ اس نے ان کے جوشوں کو روک لیا ‘‘۔ (چشمۂ معرفت۔ روحانی خزائن۔ جلد ۲۳۔ صفحہ ۸)

پھرنفسانی جوشوں کو دبانے کی ایک مثال حضرت سید عبدالستار شاہ صاحبؓ کی ہے۔ عجیب نمونہ ہے۔ روایت ہے کہ : ’’ایک روز حضرت شاہ صاحب نماز کی ادائیگی کے لئے نزدیکی مسجد میں تشریف لے گئے۔ اس وقت ایک سخت مخالف احمدیت چوہدری رحیم بخش صاحب وضو کے لئے مٹی کا لوٹا ہاتھ میں لئے وہاں موجود تھے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے ہی (ڈاکٹر صاحب سرکاری ڈاکٹر تھے ، سرکاری ہسپتال میں وہاں تعینات تھے ) مذہبی بات چیت شروع کردی۔ حضرت ڈاکٹرصاحب کی کسی بات پرچوہدری رحیم بخش صاحب نے شدید غصہ میں آ کرمٹی کا لوٹا زور سے آپؓ کے ماتھے پر دے مارا۔ لوٹا ماتھے پر لگتے ہی ٹوٹ گیا۔ ماتھے کی ہڈی تک مائوف ہوگئی اورخون زور سے بہنے لگا۔ ڈاکٹر صاحب کے کپڑے خون سے لت پت ہوگئے۔ آ پ نے زخم والی جگہ کو ہاتھ سے تھام لیا اور فوراً مرہم پٹی کے لئے ہسپتال چل دئے۔ ان کے واپس چلے جانے پر چوہدری رحیم بخش بہت گھبرائے کہ اب کیا ہوگا؟ یہ سرکاری ڈاکٹر ہیں۔ افسر بھی ان کی سنیں گے اور میرے بچنے کی اب کوئی صورت نہیں۔ مَیں کہاں جائوں !اور کیا کروں ! ؟وہ ان خیالات میں ڈرتے ہوئے اور سہمے ہوئے (مسجد )میں ہی دبکے پڑے رہے۔ ادھر ڈاکٹر صاحب نے ہسپتال میں جاکر زخمی سرکی مرہم پٹی کی، دوائی لگائی اور پھرخون آلود کپڑے بدل کردوبارہ نماز کے لئے اسی مسجد میں آگئے۔ جب ڈاکٹر سیدعبدالستار شاہ صاحب دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور چوہدری رحیم بخش صاحب کو وہاں دیکھا تو دیکھتے ہی آپ مسکرائے اور مسکراتے ہوئے پوچھا کہ :’’چوہدری رحیم بخش! ابھی آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوا ہے یا نہیں ؟‘‘۔

یہ فقرہ سنتے ہی چوہدری رحیم بخش کی حالت غیرہوگئی۔ فوراً ہاتھ جوڑتے ہوئے معافی کے ملتجی ہوئے اورکہنے لگے کہ شاہ صاحب! میری بیعت کا خط لکھ دیں۔ یہ اعلیٰ صبر کا نمونہ اور نرمی اورعفو کاسلوک سوائے الٰہی جماعت کے افراد کے اورکسی سے سرزد نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ چوہدری صاحب احمدی ہوگئے اور کچھ عرصہ بعد ان کے باقی اصحاب خانہ بھی جماعت احمدیہ میں داخل ہوگئے۔ (حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب۔ صفحہ ۶۳۔ مرتّبہ احمد طاہر مرزا۔ شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان)

تویہ چند نمونے ہیں جو مَیں نے پیش کئے۔ یہ پہلی تین چار شرائط بیعت کے تعلق میں ہیں۔ انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ آئندہ کچھ اورنمونے بھی پیش کروں کہ لوگوں میں بیعت میں داخل ہونے کے بعد کیاانقلابات آئے تاکہ نئے آنے والوں کو بھی اور آئندہ نسلوں کو بھی پتہ چلے اور وہ بھی اپنے اندرایسی پاک تبدیلیاں پیدا کریں اورکبھی ان پر رعبِ دجال نہ آئے۔ آمین۔ (از خطبہ جمعہ۔ ارشاد فرمودہ ۲۶؍ستمبر ۲۰۰۳ء بمطابق ۲۶؍ تبوک ۱۳۸۲ہجری شمسی۔ بمقام مسجد فضل لندن)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۱۷تا۲۱۹)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button