قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)
این چنیں بالا ز بالا چُوں پری
یا مگر زاں ذاتِ بیچوں مُنکری
تُو اتنا اونچا اونچا کیوں اڑتا ہے؟ شاید تُو اس بے مثل ذات کا منکر ہے
کاخِ دنیا را چه دیدستی بِنا
کت خوش افتادست ایں فانی سرا
دنیائے ہستی کی بنیاد کو تو نے کیا سمجھا ہے؟ کیا تجھے یہ سرائے فانی اچھی لگنے لگی
دل چرا عاقل بہ بندد اندریں
نا گہاں باید شدن بیروں ازیں
عاقل اس سے کیوں دل لگائے۔جب کہ اچانک اس سے نکلنا پڑے گا
از پئے دُنیا بُریدن از خدا
بس ہمیں باشد نشانِ اشقیا
دنیا کے لئے خدا سے تعلق توڑنا یہی بد بختوں کی علامت ہے
چوں شود بخشائشِ حق بر کسے
دل نمے ماند به دنیائش بسے
جب خدا کی کسی پر مہربانی ہوتی ہے تو اس کا دل دنیا سے اکھڑ جاتا ہے
ہوش کن کیں جائگہ جائے فناست
با خدا میباش چوں آخر خداست
خبر دار ہو کہ یہ دنیا تو سرائے فانی ہے باخدا بن جا کیونکر آخر کو خدا سے ہی معاملہ پڑے گا
زہرِ قاتل گر بدستِ خود خوری
من چساں دانم که تو دانشوری
اگر تو اپنے ہاتھ سے ہی زہر قاتل کھالے تو میں کیونکر سمجھوں کہ تو عقلمند ہے
آں گرو ہے بیں کہ از خود فانی اند
جاں فشاں بر گفتهٔ ربّانی اند
ان لوگوں کو دیکھے جو فانی ہیں۔اور خدا کے کلام پر جان چھڑکتے ہیں
فارغ افتاده ز نام و عزّ و جاه
دل ز کف واز فرق افتاده کلاه
نام۔عزت اور وجاہت سے فارغ ہو گئے۔دل ہاتھ سے جاتا رہا اور ٹوپی سر سے گر گئی
دور تر از خود به یار آمیخته
آبرو از بہرِ رُوئے ریخته
خودی سے دور ہو کر یار سے واصل ہو گئے۔اور اس (حسین) چہرہ کی خاطر عزت و آبرو کی پروانہ کی
دیدنِ شاں میدہد یاد از خدا
صدق ورزان در جنابِ کبریا
ان کو دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے کیونکہ وہ خدائے کبریا کی جناب میں راستباز ہیں
تو ز اِستکبار سر بر آسماں
پا زده بیرون ز راهِ بندگاں
تیرا تو سر تکبر سے آسمان تک پہنچا ہے اور بندوں کے راستہ کو تو نے چھوڑ دیا ہے
(براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱-۱۷۲ بحوالہ درثمین فارسی مترجم صفحہ ۹۲-۹۳)
مزید پڑھیں:’’صداقت کے نشاں کیا پوچھتے ہو‘‘




