متفرق شعراء
’’صداقت کے نشاں کیا پوچھتے ہو‘‘

ہماری داستاں کیا پوچھتے ہو
ہمارے امتحاں کیا پوچھتے ہو
جو گزری ہے سرِ مقتل ہی گزری
نصیبِ عاشقاں کیا پوچھتے ہو
گواہی چاند اور سورج نے دی ہے
‘‘صداقت کے نشاں کیا پوچھتے ہو’’
زہے قسمت کہ اپنی جھونپڑی ہے
تمنائے جہاں کیا پوچھتے ہو
جلا ہے یہ تعصب کی نظر سے
مرا یہ گلستاں کیا پوچھتے ہو
نگاہِ دل میں ہے آباد ہر دم
کہاں ہے قادیاں کیا پوچھتے ہو
مرا محبوب ہے اور میں ہوں زاہد
ہمارے درمیاں کیا پوچھتے ہو
(سید طاہر احمد زاہد)
مزید پڑھیں: گمراہیوں سے ہر گھڑی یا رب بچا مجھے



