خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند نظر آنے کے بعد عیدالاضحی۲۷؍مئی کو منائی جائے گی۔ یکم ذوالحجہ ۱۸؍مئی بروز سوموار مقرر ہوا ہے جبکہ حج کا رکن اعظم وقوفِ عرفہ ۲۶؍مئی کو ہوگا۔اسی طرح انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آ گیا ہے اور وہاں بھی عید الاضحی ۲۷؍مئی کو منائی جائے گی۔ ترکی اور تیونس نے بھی ذوالحجہ کے آغاز اور عید کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔پاکستان میں بھی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد یکم ذوالحجہ ۱۸؍مئی اور عید الاضحی ۲۷؍مئی مقرر کی گئی ہے۔
٭…سعودی عرب کے مختلف شہروں میں شدید گرمی کی لہر ریکارڈ کی گئی ہے جس کے باعث عازمینِ حج کے لیے خصوصی احتیاطی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق مکہ اور جدہ میں درجہ حرارت ۴۸؍ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے، جبکہ عرفات اور منیٰ میں ۴۷؍ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مدینہ میں درجہ حرارت ۴۱؍ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔حج حکام نے عازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ دھوپ سے بچنے کے لیے چھتری استعمال کریں، ماسک پہنیں اور زیادہ سے زیادہ ٹھنڈا پانی پئیں تاکہ ہیٹ سٹروک اور پانی کی کمی سے محفوظ رہ سکیں۔
٭…ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ’’پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘‘ کے نام سے نیا ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ادارہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی نگرانی اور تازہ معلومات فراہم کرے گا۔ ایران اس اہم آبی راستے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس لینے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد ایران نے یہاں بحری آمدورفت محدود کر دی تھی۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خاص طور پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جس پر ایران اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔
٭…امریکہ میں کالج اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو شدید معاشی دباؤ اور کمزور جاب مارکیٹ کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومتی فنڈنگ میں کمی، عالمی تنازعات، ٹیرف پالیسیوں اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے نئی ملازمتوں کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق نئے گریجویٹس کی بے روزگاری کی شرح ۵.۶؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے جو مجموعی بے روزگاری سے زیادہ ہے۔ صحت، تحقیق، میڈیا، بین الاقوامی امور اور ٹیکنالوجی کے شعبے خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ماہرین کے مطابق ابتدائی سطح کی وائٹ کالر ملازمتوں میں سولہ فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ کئی کمپنیاں بھرتیوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہیں، جس پر نوجوان امیدواروں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
٭…چین کے شہر Guangxi کے جنوب مغربی علاقے میں ۵.۲؍شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور ۱۳؍عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے کی گہرائی آٹھ کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز Liuzhou کے لیونان ضلع میں واقع تھا۔ رپورٹس کے مطابق متعدد مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک شخص اب بھی لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔
٭…Marco Rubio نے کہا ہے کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ کو روکنے کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا۔ ان کے مطابق پاکستانی حکام نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر یہ منصوبہ روک دیا جائے تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ نے سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے اس منصوبے کو معطل کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
٭…اسرائیلی فوج کو شدید افرادی بحران کا سامنا ہے اور مسلسل جنگی محاذوں کے باعث فوجی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فوج میں تقریباً بارہ ہزار اہلکاروں کی کمی ہے، جس سے جنگی کارروائیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ۲۰۲۵ءمیں ۵۳۰۰؍خواتین کو فوج میں شامل کیا گیا جبکہ خواتین جنگجوؤں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق مختلف ممالک سے تقریباً سات ہزار یہودی افراد بھرتی کیے گئے ہیں۔ فوج کو مزید سات ہزار جنگجو سپاہیوں کی ضرورت ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ریزرو اہلکاروں پر بڑھتا دباؤ اور طویل ڈیوٹیاں بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر Xi Jinping کے درمیان دو روزہ ملاقات کے بعد جاری بیانات میں کئی اہم معاملات پر اختلافات سامنے آئے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ چین نے امریکی طیارہ ساز کمپنی سے ۲۰۰؍طیارے خریدنے اور امریکی زرعی مصنوعات کی درآمد بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی، تاہم چین نے ان تجارتی معاہدوں کی تصدیق نہیں کی۔منشیات کی سمگلنگ کے معاملے پر امریکہ نے کہا کہ دونوں ممالک نے فینٹانائل کی ترسیل روکنے پر اتفاق کیا ہے، لیکن چینی بیان میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ایران کے معاملے پر امریکی موقف تھا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ چین نے کہا کہ ایران جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی اور مسئلہ مذاکرات سے حل ہونا چاہیے۔تائیوان کے معاملے پر چینی صدر نے خبردار کیا کہ غلط امریکی پالیسی دونوں ممالک کے درمیان تصادم کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ امریکی بیان میں تائیوان کا ذکر شامل نہیں تھا۔
٭…٭…٭




