خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍مئی 2026ء
’’وہ شخص جو تمہیں سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب افترا یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہو گا۔ کون تم میں سے ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتدا سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اورسوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
مَیں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں۔ ان کے دعاوی پر میرا اعتقاد نہیں۔ اس کی وجہ خواہ کچھ ہو لیکن مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا قائل ہوں۔ مَیں وکیل ہوں اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگ مقدمات کے سلسلہ میں میرے پاس آتے ہیں۔ اور ہزاروں کو میں نے اس سلسلہ میں دوسرے وکیلوں کے ذریعہ بھی دیکھا ہے۔ بڑے بڑے نیک نفس آدمی جن کے متعلق کبھی وہم بھی نہیں آ سکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی نمائش یا ریاء کاری سے کام لیں گے انہوں نے مقدمات کے سلسلے میں اگر قانونی مشورہ کے ماتحت اپنے بیان کو تبدیل کرنے کی ضرورت سمجھی بلا تامل بدل دیا لیکن میں نے اپنی عمر میں مرزا صاحب کوہی دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا(مولوی فضل دین صاحب)
مَیں دنیا میں راستی کو قائم کرنے کے لیے آیا ہوں۔ مَیں ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا خواہ مجھے پھانسی دے دی جائے۔ مَیں عبدالحمید کو جانتا ہوں۔ وہ قادیان میں آیا کرتا تھا۔ مَیں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا خواہ کچھ ہو جائے(حضرت مسیح موعودؑ)
خدا نے مجھے دنیا میں اپنا نمونہ پیش کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ میں جان بچانے کی خاطر ایسا نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اگر سچ بولتے ہوئے ہماری جان بھی جائے تو تب بھی ہم کامیاب ہو گئے (حضرت مسیح موعودؑ)
سچا، امانتدار، نیک۔ مَیں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پرمیشور مرزا صاحب کی شکل اختیار کر کے زمین پر اترا ہے۔ اور پرمیشور اپنے جلوے آپ دکھا رہا ہے(بچپن سے جاننے والے ایک ہندو کی شہادت)
مَیں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا۔ مگر مجھ پر جس بات نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحبؑ کی ذات تھی جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص مَیں نے نہیں دیکھا۔ انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ باقی مَیں تو ان کے منہ کا بھوکا تھا۔ مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں ہے۔ یہ کہہ کر منشی صاحب مرحومؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں اس قدر بےچین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی(حضرت منشی اروڑا خان صاحبؓ کی روایت)
وہ تو ایک سادھو آدمی ہے اور ایک نہایت صادق اور امین آدمی ہے۔ وہ ایسا مشہور ہے کہ لوگ اس کی مثال پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی سچ بولے تو ہمارے ہاں لوگ کہتے ہیں کہ کیا تُو مرزا غلام مرتضیٰ کا لڑکا ہے؟ یہ تو مثال بن چکا ہے ہمارے لیے صداقت سچائی ان کی(بچپن سے جاننے والے سکھوں کی گواہی) حضرت صاحبؑ کا چہرہ دیکھ کر ہی میرے دل میں تسلی ہو گئی کہ دنیا جھوٹی ہے مگر یہ چہرہ جھوٹا نہیں۔ حضورؑ کے چہرے میں خاص کشش تھی۔ ایک ایسا نور برستا تھا جو دلوں کو موہ لیتا تھا(حضرت خلیفہ نظام الدیں صاحبؓ کی روایت)
جو اثر بھی میرے دل میں اس وقت ہوا وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کہتا ہے وہ سچ ہے اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لیے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہے۔مَیں گو اس وقت بچہ ہی تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی (حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کی روایت )
یاد رکھو جب سچائی پورے طور پر اپنا اثر پیدا کر لیتی ہے تو وہ ایک نور ہو جاتی ہے جو کہ ہر تاریکی میں اس کےاختیار کرنے والے کے لیے رہنما ہوتا ہے اور ہر مشکل میں بچاتا ہے(حضرت مسیح موعودؑ)
سچائی اور راستبازی :حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرتِ مبارکہ کا ایک درخشاں پہلو
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 08؍مئی 2026ء بمطابق 08؍ہجرت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی سیرت بیان کرتے ہوئے مَیں نےآپؑ کی صداقت کے معیار کے کچھ حوالے بیان کیے تھے۔ واقعات بیان کیے تھے۔
آج بھی چند ایک واقعات بیان کروں گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک مقدمہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی طرف سے دائر ہوا تھا اور اقدام قتل کا مقدمہ تھا۔
انتہائی خطرناک مقدمہ تھا۔ آپؑ فرماتے ہیںیہ مقدمہ ہنری مارٹن کلارک کا مقدمہ ایسا خطرناک تھا کہ پھانسی کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔ مثال دیتے ہیں کہ یہود کی طرف سے رومی عدالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر کیے جانے والے مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس قسم کا مقدمہ مجھ پر بھی ہوا تھا۔ مسیح علیہ السلام کے خلاف تو یہودیوں نے مقدمہ کیا تھا مگر اس سلطنت میں میرے خلاف جس نے مقدمہ کیا وہ معزز پادری تھا اور ڈاکٹر بھی تھا۔ یعنی ڈاکٹر مارٹن کلارک جس نے مجھ پر اقدام قتل کا مقدمہ بنایا اور اس نے شہادت پوری بہم پہنچائی یہاں تک کہ مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی جو اس سلسلے کا سخت مخالف دشمن ہے وہ شہادت دینے کے واسطے عدالت میں آیا اور جہاں تک اس سے ہو سکا اس نے میرے خلاف شہادت دی اور پورے طور پر مقدمہ میرے خلاف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ مقدمہ کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے اجلاس میں تھا جو شاید اب شملہ میں آپؑ فرما رہے ہیں اس وقت ان کی ٹرانسفر ہوگئی تھی۔ بہرحال ان کے روبرو مقدمہ پورے طور پر مرتب ہو گیا۔ تمام شہادتیں آپؑ فرماتے ہیں کہ میرے خلاف بڑے زور شور سے دی گئیں۔ ایسی حالت اور ایسی صورت میں کوئی قانون دان اہل الرائے بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں بری ہو سکتا ہوں۔ تقاضۂ وقت اور صورتیں ایسی واقع ہو چکی تھیں کہ مجھے سیشن سپرد کر دیا جاتا اور وہاں سے پھانسی کا حکم ملتا یا عبور دریائے شور کی سزا دی جاتی۔ یعنی عمر قید کی سزا دی جاتی۔ مگر خداتعالیٰ نے جیسے مقدمہ سے پہلے مجھے اطلاع دی تھی اسی طرح یہ بھی قبل از وقت ظاہر کر دیا تھا کہ میں اِس میں بری ہوں گا۔ چنانچہ یہ پیشگوئی میری جماعت کے ایک گروہ کثیر کو معلوم تھی۔ غرض جب مقدمہ اس مرحلہ پر پہنچا اور دشمنوں اور مخالفوں کا یہ خیال ہوگیا کہ اب مجھے مجسٹریٹ سیشن سپرد کرے گا۔ اس موقعہ پر اس نے کپتان پولیس سے یعنی کیپٹن ڈگلس نے کپتان پولیس سے کہا کہ میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ یہ مقدمہ بناوٹی ہے۔ یقین نہیں آیا کپتان صاحب کو جو جج تھے۔ میرا دل اس کو نہیں مانتا کہ فی الواقعہ ایسی کوشش کی گئی ہو اور انہوں نے ڈاکٹر کلارک کے قتل کےلیے آدمی بھیجا ہو۔ آپ اس کی پھر تفتیش کریں۔ جج کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ ڈالا کہ پولیس کمانڈر کو یہ کہو کہ دوبارہ تفتیش کرو۔آپؑ فرماتے ہیں کہ یہ وہ وقت تھا کہ میرے مخالف میرے خلاف ہر قسم کے منصوبوں ہی میں نہ لگے ہوئے تھے بلکہ وہ لوگ جن کو قبولیت دعا کے دعوے تھے وہ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے۔ صرف کوشش نہیں کر رہے تھے بلکہ دعائیں بھی کر رہے تھے اور رو رو کر دعائیں کرتے تھے کہ میں سزایاب ہو جاؤں۔مگر خدا تعالیٰ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ کپتان ڈگلس صاحب کے پاس بعض سفارشیں بھی آئیں مگر وہ ایک انصاف پسند مجسٹریٹ تھا۔ اس نے کہا ہم سے ایسی بدذاتی نہیں ہو سکتی۔یعنی کہ غلط اگر کوئی فیصلہ ہے تو میں غلط فیصلہ نہیں کر سکتا۔
غرض جب یہ مقدمہ دوبارہ تفتیش کے لیے کپتان لیمارچند کے سپرد کیا گیا تو کپتان صاحب نے عبدالحمید کو بلایا اور اس کو کہا کہ تُو سچ سچ بیان کر۔ عبدالحمید نے اس پر بھی وہی قصہ جو اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر کے رو برو پیش کیا تھا دوہرایا۔ اس کو پہلے سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر ذرا بھی خلاف بیانی ہوگئی تو تُو پکڑا جاوے گا۔ اِس لیے وہ وہی کہتا رہا۔مگر کپتان صاحب نے اس کو کہا کہ تُو تو پہلے یہی بیان کر چکا ہے۔ صاحب اس سے تسلی نہیں پاتے یعنی مجسٹریٹ کو تسلی نہیں ہے کیونکہ تُو سچ سچ بیان نہیں کر رہا۔ جب دوبارہ کپتان لیمارچند نے اس کو کہا تو وہ روتا ہوا اس کے پاؤں پر گِر پڑا اور کہنے لگا کہ مجھے بچا لو۔ کپتان صاحب نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ بیان کرو۔ اس پر اس نے اصلیت کھول دی اور صاف اقرار کیا کہ مجھے دھمکا کر یہ بیان کرایا گیا تھا۔ مجھے ہرگز ہرگز مرزا صاحب نے قتل کے لیے نہیں بھیجا۔ کپتان اس بیان کوسن کر خوش ہوا اور اس نے ڈپٹی کمشنر کو تار دیا کہ ہم نے مقدمہ نکال لیا ہے۔ چنانچہ پھر گورداسپور کے مقام پر یہ مقدمہ پیش ہوا اور وہاں پر کپتان لیمارچند کاحلف دیا گیا اور اس نے اپنا حلفی بیان لکھوایا۔ مَیں دیکھتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس وقت کورٹ میں مَیں دیکھتا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اصلیت کے کھل جانے سے بڑا خوش تھا اور ان عیسائیوں پر اسے سخت غصہ تھا جنہوں نے میرے خلاف جھوٹی گواہیاں دی تھیں۔ اس نے مجھے کہا کہ آپ ان عیسائیوں پر مقدمہ کر سکتے ہیں مگر
چونکہ میں مقدمہ بازی سے متنفّر ہوں میں نے یہی کہا کہ میں مقدمہ نہیں کرنا چاہتا۔ میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔
اس پر اسی وقت ڈگلس صاحب نے فیصلہ لکھا۔ ایک مجمع کثیر اس دن جمع ہوگیا ہوا تھا۔اس نے فیصلہ سناتے ہوئے مجھے کہا کہ آپ کو مبارک ہو۔ آپ بری ہوئے۔
میں دیکھتا تھا کہ اس وقت میری دشمن تو ایک دنیا تھی اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب دنیا دکھ دینے پر آتی ہے تو درو دیوار نیش زنی نہیں کرتے ہیں۔ خدا ہی ہوتا ہے جو اپنے صادق بندوں کو بچا لیتا ہے۔ مَیں سچا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے بچایا۔
(ماخوذ از لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 268تا 270)
اسی مقدمہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی راستبازی اور اعلیٰ اخلاق
کا بیان اس مقدمہ میں پیش ہونے والے ایک شخص نے بیان کیا ہے جو ایک غیراز جماعت وکیل تھے اور نام ان کا مولوی فضل دین تھا۔ اس کو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے اپنی کتاب حیات احمد میں درج کیا ہے لکھا ہے کہ دوسرا عظیم الشان اخلاقی واقعہ جو آپؑ کے صادق ہونے کا مؤید ہے
اس مقدمہ میں بھی ظاہر ہوا کہ آپؑ کو سچ سے کس قدر محبت تھی۔
اس کا بیان مکرم مولوی فضل دین صاحب مرحوم وکیل کے الفاظ میں سنو جو میرے ایک مخلص ہم عصر لالہ دینہ ناتھ ایڈیٹر دیش اور ہندوستان تھے۔یہ دو اخبار تھے ان کے ایڈیٹر تھے۔ ہندو تھے اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ کے دوست تھے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ’’ آپ کو معلوم ہے کہ میرے دل میں مرزا صاحب… کی کس قدر عظمت ہے؟ میں ان کا مقام اور مرتبہ بہت عظیم الشان سمجھتا ہوں۔اگرچہ ان کی دعاوی کے متعلق علم النفس کی رو سے‘‘یہ وکیل صاحب نے کہا کہ ان کے دعاوی کے متعلق تو’’ میں یہ جانتا ہوں کہ ان کو سمجھنے میں غلطی ہو ئی‘‘ دعاوی سچے نہیں لیکن نیک انسان بہرحال ہیں۔ ’’لیکن ایک مہا پرش اور روحانی آدمی کے لحاظ سے بہت بڑے مرتبہ کے انسان تھے اور میرا یہ عقیدہ ان کے متعلق ایک واقعہ سے ہوا‘‘ اور وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ’’ حکیم غلام نبی زُبْدَةُ الْحُکَمَاءکو آپ جانتے ہیں اور مولوی فضل الدین صاحب کو بھی۔ ‘‘ہاں، یہ تو ہندونے بیان کیا جو ایڈیٹر تھے انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔ اب وہ مولوی فضل دین صاحب کی بات بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مولوی فضل دین صاحب وکیل کو بھی آپ جانتے ہیں’’ حکیم صاحب کے مکان پر اکثر دوستوں کا اجتماع شام کو ہوا کرتا تھا۔ میں بھی وہاں چلا جاتا تھا۔ ایک روز وہاں کچھ احباب جمع تھے۔ اتفاق سے مرزا صاحب کا ذکر آ گیا۔ ایک شخص نے ان کی مخالفت شروع کی لیکن ایسے رنگ میں کہ وہ شرافت و اخلاق کے پہلو سے گری ہوئی تھی ‘‘تو یہ ہندو جو اخبار کے ایڈیٹر ہیں یہ کہتے ہیں کہ اس پر’’ مولوی فضل الدین صاحب مرحوم کو یہ سن کر بہت جوش آ گیا اور انہوں نے بڑے جذبہ سے کہا کہ
مَیں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں۔ ان کے دعاوی پر میرا اعتقاد نہیں۔ اس کی وجہ خواہ کچھ ہو لیکن مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا قائل ہوں۔ مَیں وکیل ہوں اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگ مقدمات کے سلسلہ میں میرے پاس آتے ہیں۔ اور ہزاروں کو میں نے اس سلسلہ میں دوسرے وکیلوں کے ذریعہ بھی دیکھا ہے۔‘‘
ہزاروں کو میں نے اس سلسلے میں دوسرے وکیلوں کے ذریعے بھی دیکھا ہے۔
’’ بڑے بڑے نیک نفس آدمی جن کے متعلق کبھی وہم بھی نہیں آ سکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی نمائش یا ریاء کاری سے کام لیں گے انہوں نے مقدمات کے سلسلے میں اگر قانونی مشورہ کے ماتحت اپنے بیان کو تبدیل کرنے کی ضرورت سمجھی بلا تامل بدل دیا لیکن میں نے اپنی عمر میں مرزا صاحب کوہی دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں ہٹایا۔
میں ان کے ایک مقدمہ میں وکیل تھا۔ (یہ مقدمہ یہی پادری ہنری مارٹن کلارک والا مقدمہ ہے۔) اس مقدمہ میں مَیں نے ان کے لیے ایک قانونی بیان تجویز کیا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔ انہوں نے اسے پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے۔ مَیں نے کہا کہ’’ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہوتا اور قانوناً اسے اجازت ہے کہ جو چاہے وہ بیان کرے۔ ‘‘ اس پر ’’آپ ‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام ’’نے فرمایا
’’قانون نے تو اسے یہ اجازت دے دی ہے کہ جو چاہے بیان کرے مگرخدا تعالیٰ نے تواجازت نہیں دی کہ وہ جھوٹ بھی بولے اور نہ ہی قانون ہی کا یہ منشا ءہے۔پس میں کبھی ایسے بیان کے لیے آمادہ نہیں ہوں جس میں واقعات کا خلاف ہو۔ میں صحیح صحیح امر پیش کروں گا۔
مولوی صاحب، وکیل صاحب کہتے تھے کہ میں نے کہا آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس پر فرمایا کہ
جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ میں قانونی بیان دے کر ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے خدا کو ناراض کر لوں۔ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا خواہ کچھ بھی ہو۔
یہی لالہ دینہ ناتھ صاحب جو ایڈیٹر تھے بیان کرتے تھے شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کو کہ مولوی فضل الدین صاحب کہتے تھے کہ یہ باتیں مرزا صاحب نے ایسے جوش سے بیان کیں کہ ان کے چہرے پر ایک خاص قسم کا جلال اور جوش تھا۔ مَیں نے یہ سن کر کہا۔ وکیل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا کہ آپ کو میری وکالت سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔ اس پر آپؑ نے فرمایا کہ
مَیں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہوگا یا کسی اَور شخص کی کوشش سے فائدہ ہوگا اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مخالفت مجھے تباہ کر سکتی ہے۔ میرا بھروسہ تو خدا تعالیٰ پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے۔ آپ کو وکیل اس لیے کیا ہے کہ رعایت اسباب ادب کا طریق ہے اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ آپ اپنے کام میں دیانتدار ہیں اس لیے آپ کو مقرر کیا۔
یہ تو ایک ظاہری ذریعہ ہے جو استعمال ہونا چاہیے۔ اس لیے مَیں کر رہا ہوں۔ کوئی انحصار نہیں ہے آپ پہ۔ مولوی فضل دین صاحب کہتے تھے کہ مَیں نے پھر کہا کہ مَیں تو یہی بیان تجویز کرتا ہوں۔ مرزا صاحب نے کہا کہ
نہیں !جو بیان مَیں خود لکھتا ہوں نتیجہ اور انجام سے بےپرواہ ہو کر وہی داخل کر دو۔ اس میں ایک لفظ بھی تبدیل نہ کیا جاوے اور میں پورے یقین سے آپ کو کہتا ہوں کہ آپ کے قانونی بیان سے وہ زیادہ موثر ہوگا اور جس نتیجہ کا آپ کو خوف ہے وہ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ انجام انشاء اللہ بخیر ہوگا۔اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ دنیا کی نظر میں انجام اچھا نہ ہو یعنی مجھے سزا ہو جاوے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں کیونکہ میں اس وقت اس لیے خوش ہوں گا کہ مَیں نے اپنے ربّ کی نافرمانی نہیں کی۔
لالہ دینہ ناتھ کہتے تھے کہ مولوی فضل دین صاحب نے بڑے جوش اور اخلاص سے اس طرح پر مرزا صاحب کا ڈیفنس پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے پھر قلم برداشتہ اپنا بیان لکھ دیا اور
خدا کی عجیب قدرت ہے کہ جیسا وہ کہتے تھے اسی بیان پر وہ بری ہو گئے۔
مولوی فضل دین صاحب نے ان کی راست بازی اور راست بازی کے لیے ہر قسم کی مصیبت کو قبول کر لینے کی جرأت اور بہادری کا ذکر کر کے حاضرین مجلس پر ایک کیف آور حالت پیدا کر دی۔ جو بھی وہاں غیر بیٹھے ہوئے تھے، مخالفت کر رہے تھے وہ سب چپ ہو گئے۔ اس پر بعض نے پوچھا کہ آپ پھر مرید کیوں نہیں ہو جاتے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ میرا ذاتی فعل ہے اور تمہیں یہ حق نہیں کہ سوال کرو۔ میں انہیں ایک کامل راستباز یقین کرتا ہوں اور میرے دل میں ان کی بہت بڑی عظمت ہے۔
(کتابیات پاکستان کے اخبارات و رسائل 1947ء تک۔ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری صفحہ 120، 236 مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد1987ء) (الحکم نمبر41 جلد37 مؤرخہ14 نومبر1934ء صفحہ3 ،4) (حیات احمدؑ جلد4صفحہ 566تا569)
اسی واقعہ کی بابت ماسٹر نذیر حسین صاحب کی ایک روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مولوی فضل دین صاحب مرحوم ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایک گہری عقیدت تھی اور عموماً حضورؑ کے مقدمات میں جایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں انہوں نے مجھے بیان کیا کہ وہ مسیح موعود علیہ السلام کو اعلیٰ درجہ کے کامل راستباز یقین رکھتے ہیں۔ میرے دریافت کرنے پر انہوں نے حضور ؑکا ایک واقعہ بیان کیا اور بیان کیا کہ ہم ایک مقدمہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ڈپٹی مارٹن کلارک صاحب کے مابین تھا گئے اور مقدمہ میں جب ایک شخص مسمیٰ عبدالحمید نے بیان دیا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مارٹن کلارک کو قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا تو مولوی فضل دین صاحب مرحوم وکیل لاہور نے بحیثیت وکیل کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا کہ آپ نے عدالت میں یہ کہنا ہے کہ میں عبدالحمید کو نہیں جانتا۔ اس کے بعد باقی کارروائی ہم خود سنبھال لیں گے۔ آپؑ یہ بیان دے دیں میں نہیں جانتا۔ وکیل صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ ہم نے حضورکو ہر طرح سے یقین دلایا کہ صرف حضور اپنا اتنا بیان دے دیں تو حضور کی کامیابی یقینی ہے ورنہ رہائی ناممکن ہے۔ وکیل صاحب فرماتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہماری ساری تجاویز کو سن کر فرمایا کہ
مَیں دنیا میں راستی کو قائم کرنے کے لیے آیا ہوں۔ مَیں ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا خواہ مجھے پھانسی دے دی جائے۔ مَیں عبدالحمید کو جانتا ہوں۔وہ قادیان میں آیا کرتا تھا۔ مَیں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا خواہ کچھ ہو جائے۔
مولوی فضل دین صاحب مرحوم وکیل فرماتے تھے کہ ہم نے حضور سے عرض کیا کہ جان بچانا فرض ہے۔ اس لیے اگر حضور جھوٹ نہ بولنا چاہیں تو کم از کم ایسا جواب دیں جس میں صاف طور پر یہ نہ پایا جائے کہ حضور اس کو جانتے ہیں۔ جھوٹ نہیں لیکن گول مول سی بات کر دیں۔ تو حضورؑ نے فرمایا کہ
مَیں تو ایسا بھی نہیں کر سکتا۔خدا نے مجھے دنیا میں اپنا نمونہ پیش کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ میں جان بچانے کی خاطر ایسا نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اگرسچ بولتے ہوئے ہماری جان بھی جائے تو تب بھی ہم کامیاب ہو گئے۔
مولوی فضل دین صاحب مرحوم فرماتے تھے ، یہ غیر احمدی تھےکہ ہم اس وقت بالکل مایوس ہو گئے اور جب حضور کا بیان عدالت میں ہوا تو حضور نے صاف طور پر اقرار کر لیا کہ مَیں عبدالحمید کو جانتا ہوں۔ اس پر ہم نے یقین کر لیا کہ اب رہائی ناممکن ہے۔ مگر
خدا کی نصرت اس مقدمہ میں حضور کو جو نصیب ہوئی یہ دیکھ کر ہم حیران ہو گئے کہ خدا نے کس طرح سے اپنے مامور کی مدد کی اور وہ اس سنگین مقدمہ میں باعزّت طور پر بری ہو کر کامیاب ہو گئے۔
(روایات اصحاب احمد جلد3صفحہ173-174)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ ذبح ہو گئے مگر حق کہنے سے نہ رکے۔ انہوں نے ایسی کِشْوَرْ کُشَائی کی کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کی وجہ کیا تھی ؟ان میں اخلاص تھا۔ صدق اور وفا تھی۔ اس قسم کے مصلحت اندیش دہرئیے ہوتے ہیں۔ جو خدا تعالیٰ پر وثوق رکھتے ہیں اور خدا کے لیے ایک بات کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت آئے گی اس لیے وہ ایسا نہیں کرتے۔ جو اللہ کے بندے ہوتے ہیں وہ جھوٹ نہیں بولتے کہ حق بات کہنے سے رکیں۔ مجھ سے اگر سوال ہو کہ تم مسیح موعود کا دعویٰ کرتے ہو تو پھر میں بتاؤں کہ اس کا کیا جواب دیتا ہوں۔ سوا صدق اور مردانہ ہمت کے کام نہیں چلتا۔ ہم پر اس قدر مقدمے کیے گئے مگر ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان باتوں سے ڈر کر ہم نے قدم پیچھے ہٹایا ہو۔ یہ شرک ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ اپنے مخلص بندوں کی مدد فرماتا ہے۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہتا ہے خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسلام ہی ایک مذہب ہے جس سے یہ جوہر پیدا ہوتا ہے۔
(ملفوظات جلد9صفحہ254ایڈیشن2022ء)
یہ صرف آپؑ کے لیے مخصوص نہیں۔ آپؑ نے فرمایا سب کے لیے ہے۔ جو بھی سچے دل سے کہے گا، اللہ تعالیٰ پر یقین رکھے گا وہ بچایا جائے گا۔
ایک بچپن کے جاننے والے ہندو کی ایک شہادت
کا ذکر آتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے بچپن سے مرزا غلام احمد کو دیکھا ہے۔ میں اور وہ ہم عمر ہیں۔ قادیان میرا آنا جانا ہمیشہ رہتا ہے اور اب بھی دیکھتا ہوں جیسی عمدہ عادات اب ہیں ایسی نیک خصلتیں اور عادات پہلے بھی تھیں۔ آپؑ کی زندگی کی بات وہ کر رہے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ
سچا، امانتدار، نیک۔ مَیں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پرمیشور مرزا صاحب کی شکل اختیار کر کے زمین پر اترا ہے۔ اور پرمیشور اپنے جلوے آپ دکھا رہا ہے۔
(تذکرة المہدی حصّہ دوم از حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ صفحہ 303)
آپؑ کے بڑے صاحبزادے مرزا سلطان احمد صاحب لکھتے ہیں کہ والد صاحب ہر وقت دین کے کام میں لگے رہتے تھے۔ گھر والے ان پر پورا اعتماد کرتے تھے۔ گاؤں والوں کو بھی ان پر پورا اعتبار تھا۔ شریک جو ویسے مخالف تھے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیکی کے اتنے قائل تھے کہ جھگڑوں میں کہہ دیتے تھے کہ جو کچھ یہ کہہ دیں ہم کو منظور ہے۔
ہر شخص ان کو امین جانتا تھا۔ سچا جانتا تھا۔
( سیرت المہدی جلد 1 حصہ اول صفحہ 200 روایت نمبر 196)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق آپ کے والد صاحب کا خیال تھا کہ ان کا گزارہ کس طرح چلے گا۔ نہ تو یہ جائیداد کا انتظام کر سکتے ہیں اور نہ نوکری کرنا چاہتے ہیں۔ قریب کے گاؤں کا ایک سکھ تھا اس کے دو بیٹے حضرت مصلح موعود ؓکہتے ہیں ہمارے دادا کے پاس آیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک نے مجھے سنایا۔ یعنی حضرت مصلح موعودؓ کو واقعہ سنایا کہ بڑے مرزا صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ تم جاؤ غلام احمد تمہاری عمر کا ہے اسے سمجھاؤ کہ اگر وہ جائیداد کا انتظام نہیں کر سکتا تو اسے ملازم کرا دوں۔ مَیں نے جا کر کہا کہ آپ کے والد صاحب ناراض ہو رہے ہیں کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے۔ اور وہ کہتے ہیں، والد صاحب نے کہا اسے کہو کہ کیا ساری عمر بھائی کے ٹکڑوں پر پڑے رہو گے۔ جب میں چلا جاؤں گا کیا کرو گے؟ اور اگر تم کہو تو میں ملازمت کروا دوں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے سن کر فرمایا: والد صاحب تو یونہی فکر کرتے ہیں۔ انہیں کہہ دو میں نے جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا ہوں۔باوجودیکہ دادا صاحب دنیا دار آدی تھے اس سکھ کا بیان ہے کہ جب میں نے انہیں جاکر کہا کہ وہ تو یہ کہتے ہیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ کہتے ہیں تو وہ خاموش ہو گئے۔ اور پھر کہا
اگر اس نے، میرے بیٹے مرزا غلام احمد نے یہ کہا ہے تو سچ کہتا ہے وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔
(حالاتِ حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات۔انوارالعلوم جلد13صفحہ512-513)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے خوب یاد ہے اور میں اس واقعہ کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ جب 1916ءمیں مسٹر والٹر آنجہانی جو آل انڈیا وائی ایم سی اے کے سیکرٹری تھے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق تحقیق کرنے کے لیے قادیان آئے تھے۔ انہوں نے قادیان میں یہ خواہش کی کہ مجھے بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحابی سے ملایا جائے۔ اس وقت منشی اروڑا صاحب مرحومؓ قادیان میں تھے۔مسٹر والٹر کو منشی صاحب مرحوم ؓکے ساتھ مسجد مبارک میں ملایا گیا۔ مسٹر والٹر نے منشی صاحبؓ سے رسمی گفتگو کے بعد یہ دریافت کیا کہ آپ پر جناب مرزا صاحب کی صداقت میں سب سے زیادہ کس دلیل نے اثر کیا۔ منشی صاحبؓ نے جواب دیا کہ
مَیں زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں ہوں اور زیادہ علمی دلیلیں نہیں جانتا۔ مگر مجھ پر جس بات نے سب سے زیادہ اثر کیا وہ حضرت صاحبؑ کی ذات تھی جس سے زیادہ سچا اور زیادہ دیانتدار اور خدا پر زیادہ ایمان رکھنے والا شخص مَیں نے نہیں دیکھا۔ انہیں دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔ باقی مَیں تو ان کے منہ کا بھوکا تھا۔ مجھے زیادہ دلیلوں کا علم نہیں ہے۔ یہ کہہ کر منشی صاحب مرحومؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں اس قدر بےچین ہو گئے کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔
اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا جو ان کا انٹرویو لے رہے تھے کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ بالکل چہرہ سفید ہو گیا۔ ان کے چہرے کا رنگ ایک دھلی ہوئی چادر کی طرح سفید پڑ گیا اور بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ’’احمدیہ موومنٹ‘‘ میں اس واقعہ کا خاص طور پر ذکر بھی کیا اور لکھا کہ
جس شخص نے اپنی صحبت میں اس قسم کے لوگ پیدا کیے ہوں اسے ہم کم از کم دھوکے باز نہیں کہہ سکتے۔
(اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ94-95)
حضرت میاں رحیم بخش صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شخص محمد ابراہیم احمدی ملا۔ چند باتیں میری ان سے ہوئیں۔ میں قائل ہو گیا۔ رات کو مجھے خواب آئی کہ ہم چاروں بھائی ایک پہاڑ کی غار میں بھولے ہوئے ہیں۔راستہ نہیں ملتا۔ مَیں ایک طرف سے چڑھ کر اوپر آ گیا ہوں۔ مَیں نے دیکھا کہ ریل گاڑی چل رہی ہے یعنی ٹرین چل رہی ہے مگر زمین سے بہت اونچی ہے۔ مَیں حیران ہوں کہ اس پہ کیسے چڑھوں۔ اوپر ایک شخص کھڑا ہے وہ کہتا ہے کہ نیچے جو رسی آسمان سے لٹک رہی ہے اس کو پکڑو تب اوپر چڑھ سکتے ہو۔ خواب میں یہ سارا نظارہ دیکھ رہے ہیں تو کہتے ہیں کہ صبح ابراہیم صاحب میرے پاس آئے۔ میں نے اپنی خواب سنائی۔ انہوں نے قرآن کریم نکال کر مجھے بتایا کہ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ (آل عمران: 104) کا مفہوم بتایا کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ مَیں نے بیعت کا خط لکھ دیا۔ جواب آیا کہ بیعت منظور ہے مگر قادیان میں ضرور آؤ۔ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کا یہ جواب آیا یا جس لکھنے والے نے بھی لکھا۔ تو میں نے اسی وقت قادیان کی تیاری کر لی۔ امرتسر کے اسٹیشن پر جب میں بٹالہ والی گاڑی پر سوار ہوا تو دو تین سکھ میرے کمرے میں تھے۔ بہت بوڑھے تھے۔ مجھے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو؟ مَیں نے کہا کہ قادیان تو ان سکھوں نے کہا کہ مرزے کے قادیان؟ مَیں نے کہا ہاں !مَیں وہیں جا رہا ہوں۔ بتاؤ تو صحیح وہ کیسا ہے؟ مَیں نے ویسے ہی باوجود یہ کہ خواب دیکھ لی تھی پھر بھی ذرا اپنے دل کی مزید تسلی کے لیے ان سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق پوچھا کہ وہ کیسا ہے۔ وہ کہنے لگے بڑا مشہور ہے۔ وہ خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ سکھوں نے کہا۔ یہ تو ان کی عقل کے مطابق سوچ تھی۔ آپؑ کا دعویٰ تو یہ تھا کہ خدا تعالیٰ سے الہام پا کر مَیں بھیجا گیا ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں نے ویسے ہی شرارتاً باوجود اس کے کہ بیعت بھی کرلی تھی، پھر بھی شرارت سوجھی ان کو کہ مَیں مرزا صاحب کو جانتا ہوں۔ مَیں نے انہیں کہا مَیں مرزاصاحب کو جانتا ہوں۔ سیالکوٹ میں وہ اور میرا باپ دونوں ملازم تھے۔ وہ مل کر بھنگ وغیرہ پیا کرتے تھے۔ مَیں نے ویسے ہی ان سے مذاق میں کہہ دیا۔ شروع شروع میں ایمان کی کمزوری ہوتی ہے۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں نے مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا وہ تو میرے والد کے ساتھ بھنگ پیا کرتے تھے۔ اس پر ان سکھوں نے کہا کہ میاں !یہ ہرگز مت کہو۔
وہ تو ایک سادھو آدمی ہے اور ایک نہایت صادق اور امین آدمی ہے۔ وہ ایسا مشہور ہے کہ لوگ اس کی مثال پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی سچ بولے تو ہمارے ہاں لوگ کہتے ہیں کہ کیا تُو مرزا غلام مرتضیٰ کا لڑکا ہے؟ ان کی یہ صداقت سچائی تو ہمارے لیے مثال بن چکا ہے۔
وہ ہمارے ساتھ بچپن میں کھیلتا رہا۔ کتاب سنایا کرتا تھا۔ رئیس کا لڑکا تھا۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام رئیس قادیان کے بیٹے تھے۔ ہم ادب کرتے تھے۔ وہ دن بدن تبدیل ہوتا گیا۔ ہم اس لیے ادب کرتے تھے کہ رئیس کا بیٹا ہے۔ بہرحال وہ کہتے ہیں تو ان میں تبدیلی آتی گئی اور ایک زمانہ اس پر ایسا آیا کہ اندر ہی رہنے لگا باہر نکلتا نہیں تھا۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ اندر ہی اندر جادو پکاتا رہا۔ ان کے آدمی تو وہمی ہوتے ہیں،مذہب کا تو پتہ نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اندر بیٹھ کے جادو کر رہے ہیں۔ اور قادیان کے اردگرد چار چار میل پر اس نے جادو کر دیا۔یعنی کہ اپنا قائل کر لیا اور سچائی کا لوہا منوا لیا۔ کسی مذہب کا کوئی شخص اس کے پاس آئے تو وہ اس کے مذہب سے اپنے آپ کو سچا ثابت کر کے دکھا دیتا اور اس کے مذہب کو جھوٹا ثابت کر دیتا۔ وہ کہتا ہے میں آسمانوں سے آیا ہوں۔ سکھ نے یہ باتیں ان کو بتائیں۔ تو میں نے ان سے یہ باتیں سن لیں۔پھر جب قادیان میں مہمان خانے میں اترا تو وہاں تین چار لڑکے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا چلو آزماؤں کہ میں نے صحیح قبول کیا ہے کہ نہیں۔ تو مَیں ان لڑکوں سے تیزی کے ساتھ یعنی سختی سے باتیں کرتا تھا مگر وہ نرمی سے پیش آتے تھے۔ اور باوجود میری بداخلاقی کے بڑے اخلاق سے پیش آتے تھے۔ مگر ان کی تربیت کو دیکھنا چاہتا تھا کیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ میری سختی کے مقابلے میں بڑی نرمی اور اخلاق سے پیش آتے تھے۔ مَیں نے کہا مَیں مرزا صاحب کو ملنا چاہتا ہوں۔ وہ کہنے لگے اس وقت سیر کو تشریف لے گئے ہیں۔ ملنا مشکل ہے۔ قادیان پھرتے پھرتے میرا بڑا دل گھبرایا۔ انہوں نے کہا سخت گرمی کی وجہ سے ارادہ کیا کہ واپس چلا جاؤں۔ ایمان کی مضبوطی ابھی ان میں نہیں تھی۔ تو راستہ میں ایک عرب ملا۔ اس نے کہا بھائی صاحب! آپ قادیان آئے ہیں۔حضرت صاحب کو ضرور دیکھ کے جائیں۔ اگر یہاں آئے ہو تو پھر مل کے جاؤ مسیح موعود علیہ السلام سے۔ یہ زمانہ پھر ہاتھ نہیں آئے گا۔ لوگ آئیں گے مگر یہ وجود پھر نہیں ملے گا۔ موقع ہے مل کے جاؤ۔ مگر مَیں نے پرواہ نہ کی اور ٹانگے والے کو کہا کہ ابھی چلو۔ گرمی سے میں تنگ آیا ہوا تھا، ملاقات بھی نہیں ہو رہی تھی۔ مَیں نے واپس جانے کا ارادہ کیا۔ بہرحال کہتے ہیں اتنے میں اذان ہو گئی۔ مَیں نے کہا اب نماز پڑھ کے جاؤں گا۔مَیں مسجد کی طرف واپس آیا۔ وہ عرب ملا جنہوں نے کہا تھا کہ نہ جاؤ۔ اس نے مجھے کہا کہ بھائی صاحب !مَیں اس وقت سے سجدے میں پڑ کر آپ کے لیے دعا کرتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ٹھہرا دے تا آپ حضرت صاحب کو دیکھ لیں۔ اب یہ ان عرب صاحب کا بھی اخلاص تھا۔ انہوں نے کہا مَیں جا رہا ہوں تو پھر انہوں نے کہا ایک ہی حل ہے کہ اللہ کے حضور حاضر ہو۔ سجدے میں پڑ جاؤ۔ کہتے ہیں مَیں تو سجدے میں پڑا ہوں اس وقت سے اور تمہارے لیے یہ دعا کر رہا ہوں کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھ کے جاؤ۔ پھر کہتے ہیں کہ مَیں نے حضرت صاحب ؑکو دیکھا۔ حضور ؑمجلس میں آ کر بیٹھ گئے۔ مَیں سامنے کھڑا تھا اور میری داڑھی سر اور مونچھیں سب منڈھی ہوئی تھیں۔ سب شیو تھا۔ اب آج کل کے زمانے کے نہیں اس زمانے میں بھی فیشن ایبل لوگ اس طرح کیا کرتے تھے۔ حضرت صاحبؑ سر نیچے کر کے بیٹھے تھے۔ مَیں نے دل میں کہا کہ جب تک مَیں اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھوں گا یقینِ کامل نہیں ہوگا۔ گو خط سے بیعت مَیں نے کر لی تھی۔ یقین کامل ابھی تک نہیں ہوسکا تھا اور باتوںسے لگ بھی رہا ہے کہ نہیں تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحبؑ نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ مَیں نے دل میں کہا کہ آپؑ صادق ہیں۔جب آپؑ کا چہرہ دیکھا تو دل سے آواز آئی صادق ہیں، سچے ہیں۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر دیکھا تو میں نے کہا اٰمنّا۔ مَیں ایمان لے آیا وصدقنا۔آپ صادق ہیں۔ تیسری دفعہ پھر دیکھا تو پھر کہتے ہیں کہ مَیں قربان ہی ہو گیا۔ پھر نماز کھڑی ہوئی۔ حضرت صاحبؑ نماز پڑھتے ہی اندر جانے لگے۔ ایک شخص دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا عرض کی حضور !میرے لیے دعا کریں۔فرمایا آپ تو میری بیعت میں ہیں۔ مَیں تو دشمنوں کے لیے بھی دعا کرتا ہوں۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد4صفحہ362-363)
حضرت خلیفہ نظام الدین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میں سیالکوٹ سے شکارپور سندھ نوکری کے لیے گیا تھا۔ حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف بہت شور سنا۔ امرتسر میں میرے دوست تھے۔ وہاں سے میں امرتسر آیا۔ امرتسر سے سیالکوٹ جانے کا ارادہ تھا مگر میں سویا ہی رہا اور دو گاڑیاں سیالکوٹ کو چلی گئیں۔ جب بیدار ہوا تو معلوم ہوا کہ گاڑیاں چلی گئی ہیں۔ معاً دل میں خیال پیدا ہوا کہ مرزا صاحب کا گاؤں نزدیک ہے ان کو دیکھنا تو چاہیے۔ پھر پوچھا کہ بٹالے کو کب گاڑی جائے گی ؟خیر انہوں نے کہا، لوگوں نے بتایا کہ آدھے گھنٹے بعد جائے گی۔ مَیں نے ٹکٹ لیا بٹالہ پہنچ گیا اور وہاں سے پھر پیدل قادیان چلا گیا۔ عصر کے وقت میں وہاں پہنچا اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ سے ملا۔ وہ سیالکوٹ سے ان کے واقف تھے۔ یہ بھی سیالکوٹ سے تھے۔ کہتے ہیں مجھے دیکھ کے وہ بڑے خوش ہوئے۔ عصر کی نمازیں ہم نے پڑھیں۔ دوسرے روز صبح مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی اور پھر کہتے ہیں کہ مسجد میں سے کھڑکی کھلتی تھی وہاں طاقی کے پاس حضورؑ نے میری بیعت لی۔ کہتے ہیں کہ
حضرت صاحبؑ کا چہرہ دیکھ کر ہی میرے دل میں تسلی ہو گئی کہ دنیا جھوٹی ہے مگر یہ چہرہ جھوٹا نہیں۔ حضورؑ کے چہرے میں خاص کشش تھی۔ ایک ایسا نور برستا تھا جو دلوں کو موہ لیتا تھا۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد4صفحہ365)
اسی طرح حضرت حکیم عبدالرحمان صاحبؓ بیان کرتے ہیں۔میرے والد صاحب جب بیعت کر کے چک نمبر 276 ڈاک خانہ گوجرہ ضلع لائلپور میں گئے تو اس علاقے میں انہوں نے خوب تبلیغ کی اور لوگوں نے ان کو اپنا امام مقرر کر لیا اور جب قرآن مجید پڑھانے لگے اور وفات مسیح کا ذکر آیا تو خوب کھول کر وفات مسیح کو بیان کیا۔ وہ لوگ حیران ہو گئے۔ کہتے ہیں ایک شخص وزیر دین تھا۔ نمبردار تھا گاؤں کا۔ تو وزیر دین نے ایک دن حکیم صاحب سے کہا کہ مجھے دیگ کی ضرورت ہے۔ وہاں بڑی بڑی دیگیں بڑے لوگ وہاں بنواتے تھے۔ عام طور پہ لوگ غریبوں کو کھانا کھلانے کے لیے یا بعض فنکشنز کے لیے بھی بنواتے تھے جو ان چودھریوں کے ہاں ہوا کرتے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا انہیں دیگ کی ضرورت ہے تو گوجرانوالہ میں دیگیں اچھی بنتی ہیں وہاں چلتے ہیں۔میرے ساتھ چلیں آپ۔ وہاں سے لے لیں۔ تو میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ نے جانا ہی ہے اچھی دیگ لینے تو پھر بٹالہ چلیں وہاں وہ زیادہ اچھی بنتی ہیں۔ اور جب وہ بٹالہ پہنچے تو کہتے ہیں چودھری وزیر دین کو مَیں نے کہا کہ یہاں نزدیک ہی قادیان میں مرزا صاحب رہتے ہیں۔ مَیں ان کی بیعت کر چکا ہوں وہ سچے ہیں۔ آپ بھی چلیں تو چودھری صاحب نے کہا کہ مَیں شہادت دیتا ہوں کہ ضرور سچے ہیں کیونکہ سیالکوٹ میں مَیں اور مرزا صاحب اکٹھے ملازم تھے۔ چودھری صاحب ان کو پہلے سے جانتے تھے۔ مَیں پٹواری تھا اور وہ دفتر میں کام کیا کرتے تھے۔ یہ حکیم صاحب کے ساتھ جو چودھری صاحب دیگ لینے گئے ۔ پھر جب وہاں حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر شروع ہو گیا تو وہ کہتے ہیں :
ہاں !ضرور سچے ہوں گے۔اور دفتر میں کیونکہ مَیں نے کام کرتے دیکھا ہے۔ انہوں نے کبھی رشوت نہیں لی، نہ کبھی جھوٹ بولا۔ بڑے پرہیزگار اور متقی تھے۔ ایسا شخص کبھی جھوٹا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
مَیں نے تو ان کی جوانی دیکھی ہوئی ہے ایسے شخص کا دعویٰ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔ چلو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ چودھری صاحب نے فوراً جا کے بیعت کر لی۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد4صفحہ372-373)
میاں فیروزدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دادا صاحب کا نام میاں نظام دین تھا۔ جس زمانے میں حضرت اقدس علیہ السلام ملازمت کے سلسلے میں سیالکوٹ میں تشریف لائے تھے، میرے دادا صاحب نے ان کو محلہ سالو گجر میں مکان کرائے پر لے کر دیا تھا۔ حضور علیہ السلام نے میرے دادا صاحب سے ایک چھ ماشہ سونے کی انگوٹھی بھی بنواکر گھر بھیجی تھی۔ اپنے گھر بنواکے بھیجی تھی۔ تو میرے دادا صاحب کے ساتھ حضور علیہ السلام کے گہرے تعلقات تھے۔ جب حضور علیہ السلام نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو میرے دادا صاحب نے کچھ عرصے کے بعد حضور علیہ السلام کی بیعت کر لی اور سارے خاندان کو کہا کہ مَیں ان کا اس زمانے سے واقف ہوں جبکہ حضور یہاں ملازم تھے۔اس لیے آپ لوگ میرے سامنے بیعت کر لیں۔
یہ منہ جھوٹوں کا نہیں ہو سکتا
کہتے ہیں۔ چنانچہ1892ءمیں ہمارے سارے خاندان نے بیعت کر لی۔
(ماخوذ ازروایات اصحاب احمد جلد4صفحہ374)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ منشی عبدالعزیز صاحب اوجلوی نے بیان کیا کہ مَیں 1890ء کے قریب موضع جگت پور کوہلیاں تحصیل گورداسپور میں پٹواری تھا۔اور کہتے ہیں 1891ء میں کوشش کر کے مَیںنے اپنی تبدیلی موضع سیکھواں تحصیل گورداسپور میں کروا لی۔ اس وقت مَیںاحمدی نہیں تھا لیکن حضرت صاحبؑ کا ذکر سنا ہوا تھا۔ مخالفت تو نہیں تھی لیکن زیادہ تر یہ خیال روک ہوتا تھا کہ علماء سب حضرت صاحبؑ کے مخالف ہیں۔ سیکھواں جا کر میری واقفیت میاں جمال دین اور امام دین اور خیر دین صاحب سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے حضرت صاحبؑ کی کتاب ازالہ اوہام پڑھنے کے لیے دی۔ مَیںنے دعا کرنے کے بعد کتاب پڑھنی شروع کی۔ اس کے پڑھتے پڑھتے میرے دل میں حضرت صاحبؑ کی صداقت میخ کی طرح گڑ گئی اور سب شکوک رفع ہو گئے۔ اس کے چند روز بعد مَیںمیاں خیر دین کے ساتھ قادیان گیا تو گول کمرے کے قریب پہلی دفعہ حضرت صاحب ؑکی زیارت کی۔ حضرت صاحبؑ کو دیکھ کر مَیںنے میاں خیر الدین صاحب کو کہا کہ
یہ شکل جھوٹوں والی نہیں ہے۔
چنانچہ مَیں نے بیعت کر لی۔
(سیرت المہدی جلد 1 حصہ سوم صفحہ617 روایت نمبر659)
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک اَور روایت حضرت چودھری ظفراللہ خانصاحبؓ کی بیان کرتے ہیں کہ آنریبل چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحبؓ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں نے پہلی ہی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاہور میں زیارت کی تو میرے دل میں اس وقت کسی قسم کے عقائد کی تنقید نہیں تھی
جو اثر بھی میرے دل میں اس وقت ہوا وہ یہی تھا کہ یہ شخص صادق ہے اور جو کہتا ہے وہ سچ ہے اور ایک ایسی محبت میرے دل میں آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈال دی گئی کہ وہی میرے لیے حضور علیہ السلام کی صداقت کی اصل دلیل ہے۔مَیں گو اس وقت بچہ ہی تھا لیکن اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کسی وقت بھی کسی دلیل کی ضرورت نہیں پڑی۔
بعد میں متواتر ایسے واقعات رونما ہوتے رہے جو میرے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوئے لیکن میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی مانا تھا اور وہی اثر اب تک میرے لیے حضورؑ کے دعاوی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس لحاظ سے مَیں سمجھتا ہوں کہ مَیں تین ستمبر 1904ء کے دن سے ہی احمدی ہوں۔ جب مَیں نے پہلی دفعہ دیکھا۔
(سیرت المہدی جلد 2 حصہ چہارم صفحہ 37،روایت نمبر1036)
اسی طرح حضرت میاں صدر دین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت مَیں نے بیعت کی اپنے باپ کو کہا کہ کیا تمہیں علم ہے کہ لوگ یکوں پر قادیان کیوں آ رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ مجھے علم نہیں۔ مَیں نے کہا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ مَیں مسیح موعود ہوں۔ میرے باپ نے کہا کہ یہ بات درست ہوگی۔ میں نے اس شخص کو بچپن سے ہی دیکھا ہے۔ وہ غلط نہیں کہتے۔
(روایات اصحاب احمدجلد4صفحہ93-94)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں :
اب دیکھو خدا نے اپنی حجت کو تم پر اس طرح پر پورا کر دیا ہے کہ میرے دعویٰ پر ہزارہا دلائل قائم کرکے تمہیں یہ موقعہ دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ
وہ شخص جو تمہیں سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب افترا یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افترا کا عادی ہے یہ بھی اُس نے جھوٹ بولا ہو گا۔ کون تم میں سے ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتدا سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔
(تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20صفحہ 64)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
یاد رکھو جب سچائی پورے طور پر اپنا اثر پیدا کر لیتی ہے تو وہ ایک نور ہو جاتی ہے جو کہ ہر تاریکی میں اس کےاختیار کرنے والے کے لیے رہنما ہوتا ہے اور ہرمشکل میں بچاتا ہے۔
(ملفوظات جلد2صفحہ 140، ایڈیشن 2022ء)
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے سچائی پر قائم رہنے والے ہوں اور ہمیشہ اعلیٰ سچائی کے معیار پر عمل کرنے والے ہوں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم مئی 2026ء




