سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مولوی چراغ علی کی مدداور اعانت کا ذکر محض ایک شوشہ اور بددیانتی اور تعصب پرمبنی ایک الزام واتہام کے سواکچھ بھی نہیں

(تسلسل کے لیے دیکھیںالفضل انٹرنیشنل ۲۵؍اپریل ۲۰۲۶ء)

(گذشتہ سے پیوستہ)مشتے ازخروارے صرف دومثالیں یہاں درج کی گئی ہیں تا واضح ہو کہ ایسے چوٹی کے انسان کو اوّل تو دوسرے کی ایسی علمی مدد لینے کی ضرورت ہی کیاتھی اورکیا اس وقت کوئی ایسا پائے کا تھا کہ اس کی تحریر اورتحقیق براہین احمدیہ میں ایسی مل جاتی کہ پتہ ہی نہ چلتا کہ کون سی تحریرمولوی چراغ علی صاحب کی ہے اورکون سی حضرت مرزاصاحبؑ کی۔ یہ ایک بچگانہ بات سے زیادہ کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ براہین احمدیہ میں کوئی دوسری عبارت توایسے لگے جیسےریشم میں ٹاٹ کا پیوند۔

IV: ایک اورامراس معاملہ میں بہت اہم ہے اوروہ ہےکہ کسی دوسرے عالم یا محقق کی تحقیق سے فائدہ اٹھانا یا اس کو Quoteکرنا کتاب یا صاحب کتاب کے مقام کو کم نہیں کیا کرتا۔

V: اورایساہی ایک دیانتدار عالم اورمصنف کی حیثیت سے جب کوئی مصنف یا عالم کسی دوسرے کی تحقیق اورتصنیف سے کوئی فائدہ اٹھائے تو وہ کھلے دل سے اس کا اعتراف کرتاہے۔ اورجب کوئی عالم اورمصنف ہو اوروہ عارف باللہ بھی ہومامورمن اللہ بھی ہوتو پھر بات کچھ اَورہواکرتی ہے۔ہرچند کہ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُاکے مصداق سب سے زیادہ خشیت ان کے دلوں میں ہوتی ہے۔ تودوسری طرف وہ عَبۡدًا شَکُوۡرًاکے ایک عظیم مقام پر بھی فائز ہوتے ہیں۔ اوریہ تمام تر خوبیاں ہم اس مصنف میں پاتے ہیں جو براہین احمدیہ کا مصنف تھا۔ اوریہ کوئی عام اورمعمولی مصنف نہ تھا۔یہ خداکا ایک فرستادہ تھا جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ کا مصداق ہونے والا تھا۔اس نے اپنی زندگی کےایک ایک پہلو کو جرح وتنقید کے لیے ہرمخالف اورمعترض کے سامنے پیش کرنا تھا۔اگر اس نے آج کسی دوسرے عالم کی محنت اورتحقیق اورعلمی کاوش کو لے کر اپنے نام پر شائع کیا ہوتا تو کل کو جب اس نے دعویٰ کیا تو یہ سارے لوگ ابھی زندہ تھے۔ اس کے معاونین زندہ تھے۔ سارے اپنے مخالف بن گئے اورمخالف دشمن ہوگئے جنہیں اب ہرصفت عیب کے طورپرنظر آنے لگی۔ وہ تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اورکھوج کھوج کر عیب نکالنے لگے تھے۔ وہ تواب بتیس دانتوں میں زبان بن گیا۔ہرناکردہ کام اس کی طرف منسوب ہونے لگا تو جو بقول مولوی عبدالحق صاحب کے حقیقت تھی وہ کیونکر چھپی رہ گئی اوراس حقیقت اور زبردست تحقیق کی توفیق ملی تو مولوی عبدالحق صاحب کو۔ یہ ایک سوچنے والی بات ہے۔

VI: حضرت اقدسؑ کاایک اَورطریق کار مولوی صاحب کے اس دعویٰ کوجھٹلا رہاہے اوروہ یہ کہ ہم حضرت اقدسؑ کی سیرت اورآپؑ کی تصنیفات میں یہ وصف بہت بڑھا ہواپاتے ہیں کہ آپؑ چھوٹی سے چھوٹی بات کی بھی قدرفرماتے ہیں اوربڑے شکریہ کے ساتھ اس کو قبول فرماتے ہیں۔ اب یہی براہین احمدیہ ہی لے لیں۔ جن لوگوں نے اس کی اعانت میں آنہ دوآنے بھی دیے ان کے نام دل کی ایسی گہرائی سے شائع کیے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کیسا غَفُوۡرٌ شَکُوۡرٌ کا یہ عبد شکورتھا۔آپؑ ان سب معاونین کا شکریہ اداکرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اُس خداوند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے اوّل مجھ ناچیز کو محض اپنے فضل اور کرم اور عنایت غیبی سے اس کتاب کی تالیف اور تصنیف کی توفیق بخشی اور پھر اس تصنیف کے شائع کرنے اور پھیلانے اور چھپوانے کے لیے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کردیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے اور میری محنتیں برباد جانے سے بچ رہیں۔ میں ان صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکر ادا کرسکوں بالخصوص جب میں دیکھتا ہوں کہ بعض صاحبوں نے اس کارِخیر کی تائید میں بڑھ بڑھ کے قدم رکھے ہیں اور بعض نے زائد اعانتوں کے لیے اور بھی مواعید فرمائے ہیں تو یہ میری ممنونی اور احسان مندی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔

میں نے اسی تقریر کے ذیل میں اسماء مبارک ان تمام مردان اہل ہمت اور اولی العزم کے کہ جنہوں نے خریداری اور اعانت طبع اس کتاب میں کچھ کچھ عنایت فرمایا مع رقوم عنایت شدہ ان کی کے زیب تحریر کئے ہیں اور ایسا ہی آئندہ بھی تا اختتام طبع کتاب عملدرآمد رہے گا کہ تا جب تک صفحہٴ روزگار میں نقش افادہ اور افاضہ اس کتاب کا باقی رہے ہر یک مستفیض کہ جس کا اس کتاب سے وقت خوش ہو مجھ کو اور میرے معاونین کو دعائے خیر سے یاد کرے۔‘‘(براہین احمدیہ،روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۵)

یہ الفاظ دوبارہ دیکھنے چاہئیں کہ “میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکریہ اداکرسکوں۔’’ توایسا شکرگزار انسان جو ایک ایک آنے پر ایسا شکریہ اداکرے کہ قیامت تک ان کے لیے دعائے خیرکی تلقین کرجائے وہ ایک ایسے عالم اورمحقق کے قیمتی مضمون کو اپنی کتاب میں شائع کرے اوراس کا کہیں بھی ذکر نہ کرے۔ اورخاص طورپر جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہی چراغ علی صاحب وہ ہیں کہ جب انہوں نے مالی اعانت کی تو حضرت اقدسؑ نے دوجگہ اسی براہین احمدیہ میں پورے اعزاز ماوجب کے ساتھ ان کا ذکر فرمایا۔(براہین احمدیہ ،روحانی خزائن جلد ۱صفحہ۳۔براہین احمدیہ صفحہ د،روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ۱۱) اورجہاں تک علمی تحقیقات کے استفادہ کا تعلق ہے تو آپؑ نے چشمۂ معرفت روحانی خزائن جلد۲۳ صفحہ۲۵۵ پر پرکاش دیوجی کی تصنیف ’’سوانح عمری حضرت محمدصاحب‘‘ کے اقتباسات نقل کیے توباقاعدہ ان کا نام لے کر اور اپنی اس کتاب میں یہ اقتباسات نقل کرنے کے لیے آپؑ نے پہلے اس مصنف سے تحریری اجازت حاصل کی۔

حضرت اقدس علیہ السلام اپنی تصنیف ’’چشمۂ معرفت‘‘ میں رقم فرماتے ہیں: ’’اب ہم اس جگہ مذکورہ بالا بیان کی شہادت کے لیے ایک برہمو صاحب کی کتاب سے ذیل میں چندعبارتیں اختصار کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ برہمو صاحب کا نام پرکاش دیوجی ہے جوبرامھ درھم لاہور کے پرچارک ہیں اورکتاب کا نام سوانح عمری حضرت محمدصاحب ہے …‘‘

دوسری طرف حضرت اقدسؑ نے اس کتاب کے مصنف کی خدمت میں یہ چنداقتباسات درج کرنے سے پہلے باقاعدہ ایک خط لکھا جس میں آپؑ نے مصنف سے اجازت کا ذکرکیا۔یہ خط الگ سے تو ہمیں نہیں مل سکا البتہ مصنف نے اپنی کتاب کے تیسرے ایڈیشن میں اس خط کا ایک حصہ شامل اشاعت کیا۔وہ حصہ یہاں پیش کیاجاتاہے۔ کتاب کے صفحات ۱۳۴تا۱۳۸ پر ’’سوانح عمری حضرت محمدؐ صاحب پر مختلف رائیں‘‘ کے زیرعنوان دوسرے نمبر پر مصنف لکھتاہے : ’’ازمرزا غلام احمدصاحب قادیانی: آپ کی کتاب مجھ کو پہنچی اس کے دیکھنے سے آپ کی انصاف پسندی اور حسن اخلاق اور خداترسی اور وسعت معلومات ثابت ہوتی ہے …درحقیقت دوسری قوموں میں اس طبیعت اور سلامت روشی اور حق گوئی کی عادت کے لوگ بہت کم ہیں۔ میں آپ کی کتاب دیکھنے سے بہت خوش ہوامیراارادہ تھا کہ ایک رسالے میں جس کا تالیف کرنا میں نے شروع کیاہے اورجس کی نسبت مجھے امیدہے کہ انشاء اللہ ایک ماہ تک اس کو چھاپ کر شائع کردوں گا۔آپ کی کتاب کا کچھ ذکر کروں۔ میں نے آپ کی اجازت کے بغیر مناسب نہیں سمجھا کہ ذکر کیاجاوےاگرآپ دلی خواہش سے ایک ہفتہ کے اندریا دس دن تک مجھے اجازت دیں تو کسی موقع پر اس کا ذکر کرسکتاہوں بہرحال ہم آپ کی اس کوشش کا شکرکرتے ہیں اور آپ کے شکر گزارہیں۔ ‘‘ (’’سوانح عمری حضرت محمدصلعم صاحب بانیٔ اسلام‘‘ مرتبہ شردھے پرکاش دیوجی پرچارک برامھ دھرم،صفحہ ۱۳۵ پبلشر نرائن دت سہگل اینڈ سنز بک سیلرز اندرون لوہاری گیٹ لاہور،ایڈیشن دہم )

اسی طرح روحانی خزائن جلد۲ صفحہ ۴۳۵-۴۳۸ پر لفظ’’ہندو‘‘کی تحقیق شائع فرمائی جو ایک مشہورمخالف عیسائی پادری کی تھی توباقاعدہ اس کے نام ’’الراقم۔ ٹامس ہاول ازپنڈدادنخان‘‘ کے ساتھ اس کو درج فرمایا۔حیرت کی بات ہے کہ ہندواور عیسائی کا مضمون اپنی کتاب میں درج فرمائیں تو ان کے نام کے ساتھ اوراپنے ایک مالی اعانت کرنے والے ایک دوست کا مضمون اگرلیاتھا تو اس کانام بھی نہیں دیابلکہ ظاہرہی نہیں ہونے دیا کہ یہ اس کی تحقیقات ہیں۔ حضرت اقدسؑ کا معمول اور ۱۹۰۸ء تک کا طریق کار(چشمہ ٔمعرفت ۱۹۰۸ء کی تصنیف ہے )مولوی عبدالحق کے اس دعویٰ کی مسلسل تردیدکررہاہے۔

VII: ایک اَور اہم بات اس ضمن میں یہ ہے کہ براہین احمدیہ جب شائع ہوئی تو جہاں اس کے حق میں لکھاگیاوہاں اس کے خلاف بھی لکھاگیا اورلکھنے والوں میں ہندوبھی تھے عیسائی بھی تھے اور مسلمان بھی تھے۔ اسی کتاب کی تصنیف پر کفر کے فتوے بھی لگے ، اسی کتاب کے باعث آپؑ کو نعوذباللہ۔ ’’اور ان لوگوں نے زبان درازی اور بدظنّی سے اس قدر اپنے نامہٴ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا۔ اس عاجز کو چور قرار دیا۔ مکار ٹھہرایا۔ مال مردم خور کر کے مشہور کیا۔حرام خور کہہ کر نام لیا۔دغا باز نام رکھا۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۳۱اشتہار مورخہ یکم مئی ۱۸۹۳ء) لیکھ رام نے براہین احمدیہ کی مخالفت میں ’’تکذیب براہین احمدیہ‘‘ کتاب لکھی۔ وہ گندہ اوردریدہ دہن مصنف تھا۔جھوٹ اورفریب اوراتہام اورلچرزبان استعمال کرنے کا عادی تھا۔بڑے بڑے الزام اوراتہام اس نے لگائے لیکن ان تمام مخالفین میں سے کسی ایک مخالف نے بھی اس وقت یہ الزام نہیں لگایا کہ براہین احمدیہ میں تواَوروں سے مدد لی گئی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ مولوی چراغ علی صاحب بھی اس وقت زندہ تھے ۱۸۹۵ء تک وہ زندہ رہے۔ اوریہ وہ زمانہ ہے کہ ہندوستان کے کونے کونے میں آپؑ کے خلاف کفرکے فتوے عام ہوچکے تھے اوراپنے بھی مخالف ہوچکے تھے۔ لیکن کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیاکہ براہین احمدیہ میں مولوی چراغ علی صاحب نے مدددی تھی۔

سو یہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مولوی چراغ علی کی مدداور اعانت کا ذکر محض ایک شوشہ اور بددیانتی اور تعصب پرمبنی ایک الزام واتہام کے سواکچھ بھی نہیں۔

(جاری ہے)

مزید پڑھیں: آپ بھی جا مِ مے اُڑا غیر کو بھی پلائے جا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button