عیادتِ مریض، وفات، تجہیز و تکفین،جنازہ اور عدّت سے متعلق اسلامی تعلیم
’’بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں ہوسکتا۔ وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی دروازہ ہے۔کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
کچھ دن ہوئے ایک دوست نے فون کیا کہ ہماری جماعت میں ایک فوتگی ہوگئی ہے اور ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے اور وہ یہ ہے کہ میّت کو غسل دینے کے بعد فوری تدفین کرنی ہے جب کہ میّت کوغسل دینے کے بعد ہمیں خود غسل کرنے اور جنازہ میں شامل ہونے کے لیے بہت تھوڑا وقت ہے جو ناممکن ہے۔ خاکسار نے انہیں جواب دیا کہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ وضو کرکے نماز جنازہ میں اور تدفین میں شامل ہوجائیں۔
اس کے بعد خاکسار کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسے دوست ہوں جو غسل میّت کے بعد غسّال کا نہانا ضروری سمجھتے ہوں۔ اور پھر نماز جنازہ اور تدفین میں شامل ہوتے ہوں۔ اس لیے اس خیال کےآتے ہی خاکسار کو اس مضمون کے لکھنے کی تحریک ہوئی۔
حیات و ممات کا سلسلہ ازل سے ابد تک جاری ہے۔جو اس دنیا میں آیا ہےایک دن اس نے اس زمین کے نیچے بھی جانا ہے۔ یعنی اس نے فوت ہونا ہے اور زمین میں دفنایا جانا ہے۔ اسلام نے ’’انسان‘‘ اور ’’مسلمان‘‘کے لیے یہ بھی ایک احترام اور عزت کے لیے کیا ہے کہ اس کی تدفین کی جائے۔
’’ کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ‘‘(آل عمران: ۱۸۶) قرآنی ارشاد ہے اور یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہے کہ جب تم پیدا ہوئے ہو تو زندگی کے ایام گزار کر پھر تمہیں اپنے پیدا کرنے والے خالق و مالک کے حضور بھی حاضر ہونا ہے۔
قرآن کریم میں یہ آیت کریمہکُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ تین جگہ آئی ہے:آل عمران آیت نمبر ۱۸۶، الانبیاء آیت نمبر ۳۶ اور سورۃ العنکبوت آیت نمبر ۵۸۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کے ترجمہ اور تفسیر میں یوں بیان فرمایا ہے: ’’بغیر مرنے کے کوئی اس جہان سے ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں ہوسکتا۔ وجہ یہ کہ اس دنیا سے نکلنے اور بہشت میں داخل ہونے کا موت ہی دروازہ ہے۔کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ۔‘‘
فرمایا: ’’ہر نفس موت کا مزا چکھے گا اور پھر ہماری طرف واپس کئے جاؤ گے۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد ۶ صفحہ ۲۷۷)
پس یہ ایک قانون قدرت ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے ایک دن اس جہان سے رخصت بھی ہونا ہے۔ اسلام نے اس بارے میں کیا تعلیم دی ہے۔ وہ آپ کی خدمت میں لکھنے لگا ہوں:
۱۔ پہلی بات تو اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کو کسی شخص کی بیماری اور علالت کا علم ہو تو اس کی عیادت کریں اور اس کی صحت کے لیے دعا کریں۔
حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مریض کی عیادت کرنے (بیمار پُرسی)جنازہ کے ساتھ چلنے ، چھینک والے کی چھینک کا جواب دینے ، قسم دینے والی کی قسم پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام کے پھیلانے اور عام کرنے کا حکم دیا۔ (ریاض الصالحین حدیث نمبر۸۹۸۔کتاب عیادۃ المریض)
ایک اَور حدیث میں بیمار پُرسی کرنے کی اس طرح تاکید آتی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں۔ سلام کا جواب دینا۔بیمار کی مزاج پُرسی کرنا۔جنازوں میں پیچھے چلنا۔(یعنی جنازہ کے ساتھ قبرستان تک جانا)دعوت کا قبول کرنا اور چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا۔ (ریاض الصالحین حدیث نمبر۸۹۹۔ کتاب عیادۃ المریض )
ایک اَور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی عیادت اور مزاج پُرسی کرنے کی اہمیت کو یوں بیان فرمایا۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی صبح کے وقت مزاج پُرسی کرتا ہے تو شام تک ستّر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے خیر کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر شام کے وقت مزاج پُرسی اور عیادت کرتا ہے تو صبح تک ستّر ہزار فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے رہتے ہیں۔(ریاض الصالحین حدیث نمبر۹۰۳۔ کتاب عیادۃ المریض)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص کسی مریض کی عیادت کرے اور اس کی موت کا وقت ابھی نہ آیا ہو تو اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:اَسْأَلُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ۔ ربَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ اِلَّا عَافَاہُ اللّٰہ مِنْ ذَلِکَ الْمَرض۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ جو عظیم و برتر ہے اور عرش عظیم کا مالک ہے یہ سوال کرتا ہوں۔ کہ وہ تجھے شفا عطا فرمائے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے عافیت بخشے گا۔ (سنن ابی داؤد۔ کتاب الجنائزباب الدعاء للمریض عندالعیادۃ)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی (اعرابی)کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ اور آپؐ جس کی عیادت کے لیے بھی تشریف لے جاتے تو فرماتے: ’’لَا بَأْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللّٰہ‘‘ کہ فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ بیماری گناہوں سے پاک کرنے والی ہے۔ (ریاض الصالحین ،حدیث نمبر۹۱۱۔ کتاب عیادۃ المریض)
ان احادیث نبویہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیادتِ مریض کی طرف بہت توجہ دلائی ہے اور اس پر آپؐ خود بھی عمل فرماتے۔ اور جس کی عیادت یا بیمارپُرسی کرتے اسے دعا دیتے۔ اور حوصلہ دلاتے تھے۔ یہ سنّتِ نبویؐ ہے۔
اس کے بعد اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ مقدر ہے کہ کوئی شخص بیماری کے بعد وفات پاگیا ہے تو وفات کا سُن کر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ پڑھنا چاہیے۔ اور صبر کی تلقین کرنی چاہیے۔
یہ بھی آتا ہے کہ جب کسی کی وفات کا وقت قریب ہو تو اس کے پاس سورۂ یٰسین پڑھی جائے۔ (ابن ماجہ ۔ کتاب الجنائز)
اور پھر دھیمے دھیمے بلند آواز سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت بھی پڑھنا چاہیے۔ وفات واقع ہوجانے پر جیسا کہ خاکسار لکھ چکا ہے پھر موجود لوگ بھی اور جن جن کو وفات کی خبر ملے۔ وہ سب اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ہی پڑھیں۔ جزع فزع کی بجائے صبر اور حوصلہ کے ساتھ متعلقین تجہیز و تکفین کا اہتمام کریں۔ (ماخوذ از فقہ احمدیہ صفحہ ۲۳۸)
غسلِ میّت اور چند مسائل
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَکَتَمَ عَلَیْہِ غَفَرَ اللّٰہُ لَہٗ اَرْبَعِیْنَ مَرَّۃً۔جو شخص کسی میّت کو غسل دے اور وہ اس میں کوئی عیب دیکھے پس وہ اس کی پردہ پوشی کرے تو اللہ تعالیٰ اسے چالیس۴۰ مرتبہ معاف فرمائے گا۔ (ریاض الصالحین حدیث نمبر۹۳۲)گویا میّت کو غسل دینے والا بہت ثواب کا مستحق ہے۔
اب یہاں ایک سوال ہے جس کا خاکسار اوپر ذکر کر چکا ہے۔ کہ کیا میّت کو غسل دینے کے بعد غسال کو خود بھی غسل کرنا چاہیے؟ اس کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں گھانا سے ایک دوست نے تحریر کیا کہ اگر کسی نے میّت کو چھوا ہو تو کیا اس کے لیے غسل جنابت کرنافرض ہے اور کیا وہ غسل جنابت کیے بغیر نماز جنازہ میں شامل ہو سکتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍ اگست ۲۰۲۱ء میں اس مسئلہ کے بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:
جواب: حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي غَسْلِ مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَلْتُمُوْهُ فَإِنَّ مَيِّتَكُمْ لَيْسَ بِنَجَسٍ فَحَسْبُكُمْ أَنْ تَغْسِلُوْا أَيْدِيكُمْ۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم کتاب الجنائز باب ليس عليكم في غسل ميتكم غسل) یعنی جب تم اپنےکسی مردہ کو غسل دو تو اس کے بعد تم پر غسل واجب نہیں۔ کیونکہ تمہارے مردے نجس نہیں ہیں۔ مردے کو غسل دینے کے بعد تمہارا ہاتھ دھو لینا کافی ہے۔
اسی طرح موطا امام مالک میں حضرت اسماء بنت عمیسؓ کے بارہ میں آتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے خاوند حضرت ابوبکرصدیقؓ کی وفات پر انہیں غسل دیا تو غسل دینے کے بعد وہاں موجود مہاجرین سے پوچھا کہ کیا اب میرے لیے غسل کرنا ضروری ہے؟ تو اس کے جواب میں ان لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ (موطا امام مالک کتاب الجنائز بَاب غسل الْمَيِّتِ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓبیان کرتے ہیں کہ ہم مردہ کو غسل دیا کرتے تھے۔ پھر ہم میں سے بعض خود غسل کر لیتے تھے اور بعض غسل نہیں کرتے تھے۔ (سنن دارقطنی کتاب الجنائزباب التَّسْلِيمُ فِى الْجَنَازَةِ وَاحِدٌ وَالتَّكْبِيرُ أَرْبَعًا وَخَمْسًا)
ان احادیث کے مقابل پر سنن ابی داؤد میں مروی حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک روایت میں یہ ذکر آتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مردہ کو غسل دے اسے چاہیے کہ غسل کرے۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ کی ایک روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے،جنابت کی وجہ سے، جمعہ کے روز، سینگی لگوانے سے اور مردہ کو غسل دے کر۔
لیکن اس موضوع کی روایات کو علما ئے حدیث نے ضعیف اور منسوخ قرار دیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ غسل سے مراد صرف ہاتھوں کا دھونا ہے۔
فقہاء اربعہ کے نزدیک بھی میّت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا واجب نہیں، صرف مستحب ہے تا کہ میّت کو غسل دینے کی وجہ سے اگر انسان کو کوئی گندگی لگ گئی ہو یا گندے پانی کے چھینٹے انسان کے بدن پرپڑ گئے ہوں تو غسل کے نتیجہ میں اس کی صفائی ہو جائے۔پس جب میّت کو غسل دینے کی وجہ سے نہلانے والے پر غسل واجب نہیں ہوتا تو میّت کو چھونے والے پر کس طرح غسل واجب ہوسکتاہے۔ لہٰذا میّت کو غسل دینے والا بغیر غسل کے نماز جنازہ میں شامل ہو سکتا ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں۔ ہاں فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ جس طرح باقی نمازوں کے لیے وضو ضروری ہے اسی طرح نماز جنازہ کے لیے بھی وضو کرنا ضروری ہے، وہ اسے کرنا چاہیے۔‘‘ (بنیادی مسائل کے جوابات قسط۴۲، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۴؍نومبر ۲۰۲۲ء صفحہ ۱۰)
نماز جنازہ اور قبرستان جانا ،
تدفین تک ساتھ رہنے اور دعا کرنے کاثواب
وفات کے بعد حتّی الوسع میّت کی تدفین کے لیے جلدی کرنی چاہیے اوربلاوجہ میّت کو زیادہ دیر تک نہیں رکھناچاہیے۔ نماز جنازہ کے لیے حاضر لوگ امام کے پیچھے صف باندھیں۔ زیادہ لوگ ہوں تو صفیں طاق بنائی جائیں۔ امام صفوں کےآگے درمیان میں کھڑا ہو اور میّت اس کے سامنے ہو۔
بوقت ضرورت نماز جنازہ غائب بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جس کا جنازہ کسی نے نہ پڑھا ہو یا بہت تھوڑے آدمی جنازہ میں شریک ہوسکے ہوں تو اس کی نماز جنازہ غائب پڑھنا بھی جائز ہے۔
نماز جنازہ فرض کفایہ ہے یعنی سب مسلمانوں پر بحیثیت مجموعی فرض ہے۔ اگر کچھ لوگ نماز پڑھ لیں تو باقی سبکدوش ہوجائیں گے لیکن باوجودعلم ہوجانے کے اگر کوئی نہ پڑھے تو سب گناہگار ہوں گے۔ (ماخوذ از فقہ احمدیہ صفحہ ۲۳۹)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے میں حاضر ہوا یہاں تک کہ اُس کی نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط اجر(ثواب) ہے اور جو اس کے دفن تک موجود رہے اس کےلیے دو قیراط اجر ہے۔ دریافت کیا گیا دو قیراط کی مقدار کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بڑے پہاڑوں کی مثل۔ (بخاری کتاب الجنائز باب من انتظر حتی تدفن)ایک جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قیراط احد پہاڑ کی مانند ہے۔(بخاری کتاب الایمان باب اتباع الجنائز من الایمان حدیث نمبر ۴۷)
خواتین کا تدفین میں شامل ہونا
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میںایک خاتون نے جنازے کے ساتھ خواتین کے قبرستان جانے، تدفین کے وقت ان کے مردوں کے پیچھے کھڑے ہونے یا گاڑیوں میں بیٹھے رہنے کے بارے میں حضور انور سے مسئلہ دریافت کیا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۹؍جون ۲۰۱۸ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا، حضورانور نے فرمایا:
جواب: مستند احادیث سے پتہ چلتاہے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عموماً خواتین کوجنازہ کے ساتھ قبرستان جانے سے منع فرمایا ہے لیکن اس بارے میں خواتین پر بہت زیادہ سختی بھی نہیں کی گئی اور اگر کسی خاص وجہ سے کوئی عورت جنازہ کے ساتھ دیکھی گئی تو اس سے آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر فرمایا۔
زمانہ جاہلیت میں میّت پر نوحہ کا بہت زیادہ رواج تھا اور زیادہ تر نوحہ عورتیں ہی کیا کرتی تھی۔ اسلام نے نوحہ کو حرام قرار دیا تو اس کے ساتھ ہی عورتوں کو بھی عموماً میّت کے ساتھ قبرستان جانے سے منع کر دیا گیا تا کہ ان میں سے کوئی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے تدفین کے وقت واویلے کی صورت پیدا نہ کردے۔علماء سلف اور فقہاء نے بھی خواتین کے جنازہ کے ساتھ جانے کوناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک اور آپ کے بعد خلفائے احمدیت کے زمانہ میں عموماً یہی طریق رہا ہے کہ جنازہ پڑھتے وقت عورتوں کو الگ انتظام کے ساتھ نماز جنازہ میں تو شامل ہونے دیا جاتا ہے لیکن تدفین کے وقت عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
پس کسی خاص وجہ کے علاوہ عورتوں کو جنازہ کے ساتھ قبرستان نہیں جانا چاہیے، لیکن اگر کسی مجبوری کے تحت خواتین کو جنازہ کے ساتھ قبرستان جانا پڑ جائے تو جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں تحریر کیا ہے انہیں تدفین کے وقت اپنی گاڑیوں میں ہی بیٹھے رہنا چاہیے اور قبر تیار ہونے پر مردوں کے وہاں سے ہٹ جانے کے بعد اگر وہ چاہیں تو قبر پر دعا کر سکتی ہیں۔‘‘(بنیادی مسائل کے جوابات قسط نمبر ۶، الفضل انٹرنیشنل ۱۵؍جنوری ۲۰۲۱ء صفحہ ۱۱)
خلاصہ کلام یہ عیادت مریض نیز وفات، تجہیز و تکفین اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے ہماری درج ذیل ذمہ داریاں ہیں:
۱۔ مریض کی عیادت کی جائے۔ اسے دعا دی جائے۔ حوصلہ دلایا جائے۔
۲۔ وفات کے وقت سورۂ یٰسین کی تلاوت کی جائے۔ وفات پاجانے پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ کہا جائے اور اسی کی تلقین کی جائے ۔
۳۔ وفات کے بعد میّت کو غسل دیا جائے اورتجہیز و تکفین کا انتظام فوری کیا جائے۔
۴۔ نماز جنازہ ادا کی جائے اور قبرستان میں تدفین تک رہا جائے اور اس کا بہت ثواب ہے۔
۵۔ وفات پاجانے والوں کے عزیزوں کے ساتھ تعزیت کی جائے۔ صبر و حوصلہ کی تلقین کی جائے۔ قریبی یا پڑوسی یا نظام جماعت پسماندگان کے گھر کھانا بھی بھجوائیں۔ رسوم پرستی اور توہمات سے اجتناب کیا جائے ۔ افسوس اور تعزیت کی حالت تین دن تک قائم رکھی جائے ۔ اس کے بعد زندگی معمول پر آجانی چاہیے۔ البتہ جس عورت کا خاوند مرجائے وہ چار ماہ دس دن تک سوگ منائے یعنی بلا اشد ضرورت گھر سے باہر نہ نکلے۔بنا ؤ سنگھار نہ کرے، بھڑکیلے کپڑے نہ پہنے، خوشبو کا استعمال نہ کرے، خوشی کی تقریبات میں شامل نہ ہو اور صبر و شکر کے ساتھ ذکر الٰہی میں یہ دن گذارے۔ (ماخوذ از فقہ احمدیہ صفحہ۲۲۸تا۲۴۲)
عدّت کے بارے میں حضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اسلام نے عورت کو اپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی استثناء نہیں رکھا اور نہ ہی اس حکم میں عمر کی کوئی رعایت رکھی ہے۔ پس بیوہ کےلیے ضروری ہے کہ وہ عدت کا یہ عرصہ حتّی الوسع اپنے گھر میں گزارے، اس دوران اسے بناؤ سنگھار کرنے، سوشل پروگراموں میں حصہ لینے اور بغیر ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔
عدّت کے عرصہ کے دوران بیوہ اپنے خاوند کی قبر پر دعا کےلیے جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ قبر اسی شہر میں ہو جس شہر میں بیوہ کی رہائش ہے۔ نیز اگر اسے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے تو یہ بھی مجبوری کے تحت آتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بیوہ کے خاندان کا گزارہ اس کی نوکری پر ہےیا بچوں کو سکول لانے، لے جانے اور خریداری کےلیے اس کا کوئی اور انتظام نہیں تو یہ سب امور مجبوری کے تحت آئیں گے۔ ایسی صورت میں اس کےلیے ضروری ہے کہ وہ سیدھی کام پر جائے اور کام مکمل کر کے واپس گھر آکر بیٹھے۔ مجبوری اور ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی بس اتنی ہی حد ہے۔ کسی قسم کی سوشل مجالس یا پروگراموں میں شرکت کی اسے اجازت نہیں۔ پس شریعت میں نئی نئی چیزیں داخل کرنے اور نئی نئی بدعتیں پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔‘‘ (الفضل انٹرنیشنل ۵؍مارچ ۲۰۲۱ء صفحہ۱۱)
اسی طرح بعض اوقات خواتین یہ سوال بھی کرتی ہیں کہ کیا عدّت کے دوران لجنہ کے دفتر میں جا کر لجنہ کے کام کیے جا سکتے ہیں؟ اس کا جواب بھی نہیں میں ہی ہے تاہم اگر کوئی خاتون عدت کے دوران گھر میں لجنہ کا کام کرنا چاہتی ہے تو اس کی اجازت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: فلسفہ قربانی




