بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۷)
٭… جلسہ یوم مصلح موعود پر لوگوں میں سبز کپڑے پہننے کا رواج کافی بڑھ گیا ہے، یہاں تک کہ ساری مسجد کو سبز رنگ سے سجایا جاتا ہے اور سب کو تلقین کی جاتی ہے کہ اس دن سبز کپڑے پہن کر آئیں۔ کیا یہ رواج صحیح ہے اور اس کے آغاز کی تفصیل کیا ہے؟
٭… اگر سونے سے پہلے نماز وتر پڑھ لی جائے تو کیا اس کے بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ ۲۔ وتروں کا ادا کرنا افضل ہے یا ان کو ہر گز نہیں چھوڑنا چاہیے؟ ۳۔ شدید سردی میں نجاست یا حیض سے پاک ہونے کا کیا طریقہ ہے؟ ۴۔شعبان کے روزے رکھنا افضل ہے یا رمضان کی تیاری کے لیے شعبان کے روزے نہ رکھنا بہتر ہے؟ ۵۔ کیا ماہواری کے دوران قرآن پاک حفظ کرنا جائز ہے؟
٭… کیا قرآن کریم میں کوئی ایسی سورت ہے جس کا نام قباء ہے یا کوئی ایسی آیت ہے جس میں قباء کا ذکر ہو؟
سوال: امریکہ سے ایک مربی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار کیا کہ جلسہ یوم مصلح موعود پر لوگوں میں سبز کپڑے پہننے کا رواج کافی بڑھ گیا ہے، یہاں تک کہ ساری مسجد کو سبز رنگ سے سجایا جاتا ہے اور سب کو تلقین کی جاتی ہے کہ اس دن سبز کپڑے پہن کر آئیں۔ کیا یہ رواج صحیح ہے اور اس کے آغاز کی تفصیل کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۱؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس بارے میں درج ذیل راہنمائی فرمائی۔ حضور نے فرمایا:
جواب: اس بارے میں پہلی بات یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عطا ہونے والی عظیم الشان پیشگوئی مصلح موعود کو سبز پیشگوئی نہیں کہا جاتا۔ کیونکہ اس میں کسی سبز رنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ اور نہ اس پیشگوئی کا سبز رنگ سے براہ راست کوئی تعلق ہے۔ یہ پیشگوئی جو ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کہلاتی ہے اور یکم مارچ ۱۸۸۶ء کو ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر میں شائع ہوئی وہ عام سفید کاغذ پر ہی شائع ہوئی تھی۔ سبز رنگ والا اشتہار اس مذکورہ بالا پیشگوئی سے مختلف ہے اور وہ اشتہار حقانی تقریر برواقعہ وفات بشیر کے نام سے موسوم ہے، جویکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو ریاض ہند امرتسر میں شائع ہوا۔ اس اشتہار میں پیشگوئی مصلح موعود ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کے بعض حصوں کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت فرمائی ہے، اور اس عظیم الشان فرزند کی بعض نشانیاں اور نام جو پیشگوئی مصلح موعود ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء میں مذکور ہیں، درج فرمائے ہیں۔ یہ اشتہار چونکہ سبز رنگ کے کاغذ پر شائع ہوا تھا اس لیے اسے سبز اشتہار کہا جاتا ہے۔ اور چونکہ اس میں پیشگوئی مصلح موعود ۲۰؍فروری ۱۸۸۶ء کی وضاحت اور اس کے بعض حصوں کا ذکر ہے، اس لیے پیشگوئی مصلح موعود کے ساتھ بھی سبز رنگ کا ایک تعلق بنا لیا گیا ہے۔اور جماعت میں یہ روایت چلی آتی ہے کہ ۲۰؍فروری کو ہونے والے جلسوں میں لجنہ کی طرف کچھ بچیاں اور خواتین سبز رنگ کے کپڑے یا دوپٹے پہن لیتی ہیں اور بعض مساجد کی سجاوٹ میں جن میں پیشگوئی مصلح موعود کے جلسے ہونے ہوتے ہیں، کسی قدر سبز رنگ کی اشیاء کا استعمال کر لیتے ہیں۔
باقی سبز رنگ ایک خوبصورت رنگ ہے جو آنکھوں کو اچھا لگتا ہے۔ اور اس رنگ کی آنحضرتﷺ کی ذات سے ایک ظاہری نسبت صوفیا نے بیان کی ہے کہ آپ کے روضہ مبارک پر جو گنبد ہے وہ سبز ہے ، جسے گنبد خضراء کہا جاتا ہے۔اور صوفیاء اور اہل طریقت کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ حضورﷺ کے سچے عاشق کے دل و دماغ میں ہر وقت اپنے آقا و مطاعﷺ کی یاد رہنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آپ کے روضہ مبارک کا عکس جم جاتا ہے، جس سے اس کی آنکھوں کا رنگ سبز دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ برصغیر پاک و ہند کے ممتاز ادیب مرزا فرحت اللہ بیگ (ولادت ۱۸۸۶ء وفات۱۹۴۷ء) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: میرے ایک چچا تھے جن کا نام مرزا عنایت اللہ بیگ تھا۔ یہ بڑے فقیر دوست تھے۔ تمام ہندوستان کا سفر فقیروں سے ملنے کے لیے کیا۔ بڑی بڑی سخت ریاضتیں کیں۔ چنانچہ اس سے ان کی محنت کا اندازہ کر لیجیئے کہ تقریباً چالیس سال تک یہ رات کو نہیں سوئے۔ صبح کی نماز پڑھ کر دو ڈھائی گھنٹے کے لیے سو جاتے ورنہ سارا وقت یاد الٰہی میں گزارتے۔ ایک دن میں جومرزا غلام احمد صاحب کے یہاں جانے لگا تو چچا صاحب قبلہ نے مجھ سے کہا ’’بیٹا میرا ایک کام ہے وہ کر دو اور وہ کام یہ ہے کہ جن صاحب سے تم ملنے جا رہے ہو ان کی آنکھوں کو دیکھو کہ کس رنگ کی ہیں۔‘‘ میں سمجھا بھی نہیں اس سے ان کا کیا مطلب ہے۔ مگر جب مرزا صاحب کے پاس گیا تو بڑے غور سے ان کی آنکھوں کو دیکھتا رہا۔ میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں میں سبز رنگ کا پانی گردش کرتا معلوم ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں مَیں نے خود بھی ان کو ذرا غور سے دیکھا۔ کیونکہ اس سے پہلے جو میں ان کے پاس جاتا تھا تو ہمیشہ نیچی آنکھیں کر کے بیٹھتا تھا۔اس دفعہ میں نے دیکھا ان کا چہرہ بہت بارونق تھا۔ سر پر کوئی دو، دو انگل کے بال ہیں، داڑھی خاصی نیچی ہے۔ آنکھیں جھکی جھکی ہیں۔ بات کرتے ہیں تو بہت متانت سے کرتے ہیں مگر بعض وقت جھلا بھی جاتے ہیں۔ بہرحال وہاں سے واپس آنے کے بعد میں نے چچا صاحب قبلہ سے تمام واقعات بیان کئے۔(انہوں نے مجھے کہا) ’’فرحت دیکھو اس شخص کو بُرا کبھی نہ کہنا۔ فقیر ہے اور یہ حضرت رسول اکرمﷺ کے عاشق ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ یہ آپ نے کیوں کر جانا۔ فرمایا کہ جو آنحضرتﷺ کے خیال میں ہر وقت غرق رہتا ہے اس کی آنکھوں میں سبزی آجاتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ سبز رنگ کے پانی کی ایک لہراُن میں دوڑ رہی ہے۔
میں نے اس وقت تو ان سے اس (کی) وجہ نہیں پوچھی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ سب فقراء اور اہل طریقت اس پر متفق ہیں کہ رسول اکرمﷺ ( کے روضہ) کا رنگ سبز ہے۔ اس کا عکس آپ کے زیادہ خیال کرنے سے آنکھوں میں جم جاتا ہے۔ (عالمی ڈائجسٹ کراچی نمبر۱۰ ، اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحہ ۷۴،۷۳)
پس اگر کوئی شخص پیشگوئی یوم مصلح موعود کے جلسے کے روز کی ان مناسبتوں اور خوشی کے اظہار کے لیے سبز رنگ کو اپنے لباس میں شامل کر تا ہے یا کسی مسجد میں سبز رنگ سے کچھ سجاوٹ کر دی جاتی ہے تو اس میں کوئی ہرج کی بات نہیں۔ ہاں یہ بات غلط ہے کہ اس کے لیے لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ضرور ہی سبز لباس پہن کر آئیں۔ اور جو لوگ سبز لباس نہ پہن کر آئیں، انہیں بُرا سمجھا جائے یا انہیں سبز لباس پہننے پر مجبور کیا جائے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے سبز اشتہار میں سبز رنگ کی حکمت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپؒ نے فرمایا: سبز رنگ اچھا رنگ ہے اور کیونکہ خوشخبری تھی ،لڑکے کے متعلق ایک پیشگوئی تھی اور وہ خوشخبری تھی اس وجہ سے شاید سبز رنگ چن لیا گیا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ قادیان میں یوم مصلح موعود پہ لڑکیاں سبز اشتہار کی نسبت سے سبز رنگ کے کپڑے پہنا کرتیں تھیں۔ (مجلس عرفان مورخہ ۳۱؍مارچ ۲۰۰۳ء)
پس جلسہ یوم مصلح موعود کے موقعہ پر اگر بعض بچیاں سبز دوپٹے وغیرہ لے لیں، یا بعض لوگ سبز رنگ کا کوئی کپڑا پہن لیں تو اس میں کچھ ہرج کی بات نہیں۔ میرے ساتھ بچیوں کی کلاسوں میں بھی بچیوں کی ایک تعداد سبز دوپٹے یا سبز چادریں لے کر آجاتی ہیں۔ مَیں انہیں اس سے نہیں روکتا۔ ہاں جب یہ کام بدعت کا رنگ پکڑنے لگے گا تو خلیفۂ وقت خود ہی ان شاءاللہ اس سے روک دے گا۔
سوال: سیریا سے ایک خاتون نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ اگر سونے سے پہلے نماز وتر پڑھ لی جائے تو کیا اس کے بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ ۲۔ وتروں کا ادا کرنا افضل ہے یا ان کو ہر گز نہیں چھوڑنا چاہیے؟ ۳۔ شدید سردی میں نجاست یا حیض سے پاک ہونے کا کیا طریقہ ہے؟ ۴۔شعبان کے روزے رکھنا افضل ہے یا رمضان کی تیاری کے لیے شعبان کے روزے نہ رکھنا بہتر ہے؟ ۵۔ کیا ماہواری کے دوران قرآن پاک حفظ کرنا جائز ہے؟حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۱۲؍مارچ ۲۰۲۴ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔ حضور نے فرمایا:
جواب: وتر رات کے پہلے حصہ میں پڑھنا بھی درست ہے، جس کے بعد سوکر اٹھنے پر رات کے کسی بھی حصہ میں تہجد پڑھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح تہجد کے بعد بھی وتر پڑھ سکتے ہیں۔ دو نوں طریق ہی احادیث سے ثابت ہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر ادا کیے ہیں۔ (صحیح بخاری کتاب الجمعۃبَاب سَاعَاتِ الْوِتْرِ)تاہم آپؐ کی عمومی سنّت یہی تھی کہ آپؐ نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد وتر پڑھا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری کتاب الجمعۃبَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ) حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺنے حضرت ابوبکرؓ سے دریافت فرمایا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کی کہ شروع رات میں۔ پھر حضورﷺ نے حضرت عمر ؓسے دریافت فرمایا کہ آپ وتر کب پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے عرض کی کہ اخیر رات میں۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا:ابوبکر نے احتیاط کا پہلو اختیار کیا اور عمر نے عزیمت اور طاقت کا پہلو اختیار کی۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ بَاب فِي الْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ) اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے مجھے تاکیدی حکم دیا کہ میں سونے سے پہلے وتر ضرور پڑھ لیا کروں۔(سنن ترمذی کتاب الصلاۃ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النَّوْمِ قَبْلَ الْوِتْرِ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً اوّل شب میں وتر پڑھ لیتے تھے اور نماز تہجد آٹھ رکعت دو دو رکعت کر کے آخر شب میں ادا فرماتے تھے۔ (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۲۹۵، روایت نمبر ۳۲۰۔ مطبوعہ فروری ۲۰۰۸ء)
۲۔آپ کے دوسرے سوال کہ وتروں کا ادا کرنا افضل ہے یا ان کو ہر گز نہیں چھوڑنا چاہیے؟ کا جواب یہ ہے کہ نماز وتر فرض نماز کی طرح تو نہیں ہے لیکن احادیث میں اس کی بہت زیادہ تاکید آئی ہے۔ چنانچہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جو وتر نہیں پڑھتا اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ بَاب فِيمَنْ لَمْ يُوتِرْ) نیز اس نماز کی اہمیت اور فضیلت بیان کرتے ہوئے حضورﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ایسی نماز عطا فرمائی جو تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر کی نماز ہے جس کا وقت عشاء کے بعد سے لے کر طلوع فجر تک ہے۔ (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ بَاب اسْتِحْبَابِ الْوِتْرِ)
پس نماز وتر کا درجہ سنت نماز سے زیادہ ہے کیونکہ نمازیں جمع ہونے کی صورت میں یا سفر کی حالت میں سنتیں تو معاف ہو جاتی ہیں لیکن وتر معاف نہیں ہوتے۔ چنانچہ حضورﷺ نے ان حالتوں میں بھی وتر کی نماز ادا فرمائی ہے۔(صحیح بخاری کتاب الجمعۃ بَاب الْوِتْرِ فِي السَّفَرِ)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نماز وتر کو سنت و نوافل سے زیادہ اہم ٹھہراتے ہوئے فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے تمام کاموں میں طاق مد نظر رکھا گیا ہے اس لئے پانچ نمازوں میں سے ایک فرض نماز کی رکعتیں تین کر دی گئیں تا کہ طاق کے متعلق اللہ تعالیٰ کا جو قانون ہے وہ نمازوں میں بھی آ جائے۔ اسی طرح وتروں کی نماز کو طاق اس لئے بنایا گیا ہے کہ نوافل بھی طاق ہو جائیں اور اسی وجہ سے وتروں کو معمولی سنتوں سے زیادہ وقعت دیدی گئی ہے تا کہ مسلمان انہیں ضرور ادا کرے اور اس کے نوافل طاق ہو جایا کریں اور یہی وجہ ہے کہ وتروں کے سوا اور کوئی نفل طاق نہیں ہوتا۔ تا دو طاق مل کر جفت نہ ہو جائیں۔ (خطبات محمود جلد۲۰ صفحہ۱۷۱۔ فرمودہ ۱۷؍مارچ ۱۹۳۹ء)
۳۔ آپ کا تیسرے سوال کہ شدید سردی میں نجاست یا حیض سے پاک ہونے کا کیا طریقہ ہے؟تو اس کا جواب ہے کہ سردی میں بھی جنابت اور حیض سے پاک ہونے کا طریق تو غسل ہی ہے۔ لیکن اگر گرم پانی میسر نہ ہو اور ٹھنڈے پانی سے نہانے کی صورت میں بیمار ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم کر لیا جائے۔ جس کے بعد وضو کر کے نماز وغیرہ ادا کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن العاصؓ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ ذات السلاسل میں ایک بہت سرد رات مجھے احتلام ہو گیا۔ مجھے خوف ہوا کہ اگر میں غسل کروں گا تو کہیں ہلاک نہ ہو جاؤں۔ چنانچہ میں نے تیمم کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ بعد میں صحابہؓ نے اس بات کا ذکر نبی کریمﷺ سے کیا تو آپﷺ نے فرمایا :’’اے عمرو! کیا تم نے اپنے ساتھیوں کو اس حال میں نماز پڑھائی کہ تم جنبی تھے؟‘‘ میں نےوہ وجہ عرض کردی جس نے مجھے غسل سے روکا تھا اور عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہےکہ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمۡ رَحِیۡمًا۔ (النساء:۳۰) یعنی اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔یہ سن کر رسول اللہﷺ مسکرا دیے اور کچھ نہ فرمایا۔ (سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ بَاب إِذَا خَافَ الْجُنُبُ الْبَرْدَ أَيَتَيَمَّمُ)
۴۔ ماہ شعبان کے روزوں کے متعلق آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس ماہ کے روزوں کے بارے میں حضورﷺ کی اپنی سنّت یہی تھی کہ آپ بڑی کثرت سے اس مہینہ میں روزے رکھا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ بعض اوقات اس قدر نفلی روزے رکھتے کہ ہمیں محسوس ہوتا کہ اب آپؐ روزے رکھنا نہیں چھوڑیں گے۔ اور جب آپؐ روزے رکھنا چھوڑ دیتے تو ہمیں لگتا کہ اب آپؐ روزے رکھیں گے ہی نہیں۔ مَیں نے رسول اللہﷺ کورمضان کے علاوہ کبھی پورے مہینے کے روزےرکھتے نہیں دیکھا۔ اور جتنے روزے آپؐ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپؐ کو نہیں دیکھا۔(صحیح بخاری کتاب الصوم باب صوم شعبان)لیکن اس کے ساتھ حضورﷺ نے اپنے متبعین کو یہ حکم بھی دیا کہ نصف شعبان گزرنے کے بعد نفلی روزے نہ رکھے جائیں۔(سنن ترمذی كتاب الصيام باب فِي كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ فِي النِّصْفِ الثَّانِي مِنْ شَعْبَانَ لِحَالِ رَمَضَانَ)
نصف شعبان کے بعد روزوں کی ممانعت کی وجہ علماءو فقہا نے یہ لکھی ہے کہ تا ان نفلی روزوں کے رکھنے سے رمضان کے فرض روزے متاثر نہ ہوں، لیکن اگر کوئی شخص طاقت رکھتا ہو اور اسے یقین ہو کہ شعبان کے روزوں سے اس کے رمضان کے روزے متاثر نہیں ہوں گے، یا اس کے رمضان کے کچھ روزے رہتے ہوں، جن کی قضا وہ کر رہا ہو، یا وہ ہر ماہ کے بعض دنوں کے روزے رکھتا ہو تو ایسا شخص شعبان میں بھی ان دنوں کے روزے رکھ سکتا ہے۔ البتہ رمضان کے استقبال کی نیت سے اس کے شروع ہونے سے ایک دو روز پہلے روزے رکھنے سے حضورﷺ نے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری کتاب الصوم بَاب لَا يَتَقَدَّمُ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ)
۵۔ آپ کے اگلے سوال کہ کیا ماہواری کے دوران قرآن پاک حفظ کرنا جائز ہے؟ کا جواب ہے کہ عورت کو اپنے ایام مخصوصہ میں جس طرح باقی عبادات سے رخصت ہے، اسی طرح تعبدی تلاوت سے بھی رخصت ہے۔ لیکن اگر کوئی عورت قرآن کریم حفظ کر رہی ہو یا کسی کو قرآن پڑھانے کی اس کی ڈیوٹی ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ قرآن پڑھتی یا پڑھاتی ہے تو اس میں کوئی ہرج کی بات نہیں تا کہ وہ اپنے حفظ کو یاد رکھنے کے لیے اس کی دوہرائی کر سکے یا اپنی ڈیوٹی کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کو قرآن پڑھا سکے۔
سوال: مصر سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں اپنے ایک خواب کا ذکر کرکے دریافت کیا کہ کیا قرآن کریم میں کوئی ایسی سورت ہے جس کا نام قباء ہے یا کوئی ایسی آیت ہے جس میں قباء کا ذکر ہو؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ ۲۵؍مارچ ۲۰۲۴ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور نے فرمایا:
جواب: میرے علم کے مطابق تو قرآن کریم کی کسی سورت کا نام قباء نہیں ہے اور نہ کسی آیت میں اس لفظ کا براہ راست ذکر آیا ہے۔ البتہ قرآن کریم کی آیت لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ۔(التوبہ:۱۰۸)(یعنی وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے کہ تو اس میں (جماعت کرانے کے لیے) کھڑا ہو۔ اس میں (آنے والے) ایسے لوگ ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ بالکل پاک ہو جائیں۔ اور اللہ کامل پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)کے بارے میں تفاسیر میں دو اقوال ملتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے مراد مسجد قباء ہے۔ (احکام القرآن لابن عربی، زیر آیت سورۃ التوبہ:۱۰۸)
مزید پڑھیں: بنیادی مسائل کے جوابات(قسط نمبر ۱۱۶)




