یادِ رفتگاں

مکرم منور احمدقیصر صاحب شہید آف سلطان پورہ لاہور

مکرم منور احمد قیصر صاحب شہید دارالذکر لاہور ۲۸؍مئی ۲۰۱۰ء کے اُن اوّلین شہدا میں شامل تھے جو دارالذکر کے مرکزی گیٹ پر حفاظت کی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ گذشتہ دو دہائیوں سے دارالذکر کے داخلی دروازہ پر حفاظتی ڈیوٹی دینے والے شہید مرحوم کہا کرتے تھے کہ’’ اگر کوئی حملہ کرے گا تو میری لاش سے گزر کر ہی جائے گا۔‘‘یہ جملہ اکثر ہم نے ان کے منہ سے سنا تھا۔ سال ہا سال تک خاکسار نے انہیں انتہائی جانفشانی، بیدارمغزی اور ذمہ داری کے ساتھ ڈیوٹی ادا کرتے دیکھا تھا۔ مَیں جب بھی نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے دارالذکر جاتا تو انہیں ہمیشہ چاق و چوبند ڈیوٹی ادا کرتے دیکھتا۔ دوران ڈیوٹی گفتگو کرنے سے مکمل اجتناب کرتے۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ میں شہید مرحوم کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ’’شہادت کے وقت ان کی عمر ۵۷ برس تھی۔ سانحہ کے روز تقریباً گیارہ بجے ڈیوٹی پر پہنچے۔ فرنٹ لائن پر کھڑے تھے کہ ایک بج کر چالیس منٹ پر دہشت گردوں نے آتے ہی فائرنگ شروع کردی۔ ایک کو تو انہوں نے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرے نے آپ پر فائرنگ کرکے شہید کردیا ۔….فوٹو سٹیٹ کا کام بھی کرتے تھے، قریبی کالج کے بچے فوٹو سٹیٹ کروانے آتے تو بغیر گنے ہی پیسے رکھ لیتے۔ کہتے تھے کہ کبھی کسی کے پاس پورے پیسے نہیں بھی ہوتے اسی لیے میں نہیں گنتا۔….بعض مخالفین آپ کی دوکان پر آپ کے سامنے ہی مخالفانہ پوسٹر لگا جاتے تھے۔ آپ ان سے جھگڑا نہ کرتے اور بعد میں اتار دیتے….بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔احساس ذمہ داری بہت زیادہ تھا۔کسی سے شکوہ نہیں کرتے۔ نمازوں کے پابند تھے۔(خطبہ جمعہ فرمودہ۹؍جولائی۲۰۱۰ء)

شہید منور احمد قیصر صاحب کے والد کا نام مکرم عبدالرحمان تھا۔ ان کے دادا حضرت میاں عبد العزیز صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔ خاکسار کا شہید مرحوم سے تعلق اس وقت ہوا جب وہ مجلس خدام الاحمدیہ سلطان پورہ کے قائد تھے اورخاکسار معتمد ضلع تھا۔اس دَور میں لاہور میں بارہ شہری مجالس ہوا کرتی تھیں اور ہر مجلس دُوردُور تک پھیلی ہوتی تھی۔ حلقوں کی تعداد بھی کافی ہوتی تھی ۔ ان کے پاس ویسپا سکوٹر ہوا کرتا تھا جس پر وہ اپنی مجلس کے دورے کرتے تھے۔ وہ فعال اور مستعد قائدین میں شمار ہوتے تھے جن کا مجلس کے خدام و اطفال کے ساتھ گہرا اور ذاتی تعلق تھا۔ وہ ایک خاندانی فوٹو گرافر تھے۔ ریلوے اسٹیشن پر ان کی ’’وینس سٹوڈیو‘‘ کے نام سے دکان تھی جہاں تصاویر کھینچنے کے علاوہ کیمروں کی فلموں کی فروخت اور ان کی ڈیویلپمنٹ بھی کرتے تھے۔ فوٹو سٹیٹ کی مشین بھی رکھی تھی۔ قریب ہی ایک معروف ٹیکنیکل کالج ہونے کے باعث ان کی دکان پر اکثر طلبہ کا رش ہی دیکھنے کو ملتا۔طلبہ کا ان پر اس قدر بھروسہ ہوا کرتا تھا کہ نوٹس کی کتب فوٹو کاپی کرنے کے لیے ان کو دے جاتے اور بعد میں لے جاتے۔ ہمارے سامنے جب طلبہ پیسے دیتے تو وہ بغیر گنے رکھ لیتے تھے۔ یہ ان کا معمول تھا ۔

خدام الاحمدیہ میں ان کے ساتھ جو تعلق قائم ہوا وہ دن بدن بڑھتا ہی چلا گیا تھا اور تادم شہادت قائم رہا۔ ہر ماہ کی دس تاریخ تک ضلع و مجالس کی رپورٹس مرکز بھجوانی ہوتی تھیں۔ اس کام میں اُن کا تعاون نمایاں ہوتا۔ میں رپورٹس پر مشتمل تھیلا لے کر ان کی دکان پر پہنچ جاتا، وہاں سب کی فوٹو سٹیٹ کاپی برائے ریکارڈ دفتر کرواتا، رش ہونے کی صورت میں بنڈل مجھ سے لے کر رکھ لیتے اور میرے لیے چائے منگوا لیتے۔ بہت دفعہ ایسا ہوا کہ میرا چہرہ دیکھتے اور قہقہہ لگاتے اور پھر بیٹے سے کہتے کہ ان کے لیے من پسند چنے اور گرم نان لاؤ۔ اُن کا اور بیٹے کا دوپہر کا کھانا گھر سے آیا کرتا تھا۔ ایسے مواقع پر کئی بار اَور بھی جماعتی مہمان ان کے کھانے میں شریک ہوتے، مجھے بھی کئی بار انہوں نے شریک کیا۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کی عمدہ تربیت کی تھی۔ جب کبھی وہ خود دکان پر نہ ہوتے تو ان کے بیٹے بھی خاکسار سے ویسا ہی سلوک کرتے اور میزبانی کرتے اور بہت احترام سے پیش آتے۔ان کی دکان جماعتی ملاقات پوائنٹ کا رنگ اختیار کر چکی تھی۔ دکان سے کچھ فاصلے پر ہی وہ پلیٹ فارم تھا جہاں سے سرگودھا ایکسپرس چلا کرتی تھی۔ ربوہ سے آنے والے ان کے جاننے والے اکثر مہمان پہلے ان سے ملتے، چائے پیتے، کھانا کھاتے اور پھر گھر کو جاتے۔ ماہانہ رپورٹس مرکز بھجوانے میں ان کی بہت مدد میسر رہی۔ بہت بار میں نے بنڈل ان کے حوالے کردیا کہ مرکز بھجوانا ہے۔ وہ پلیٹ فارم پر جاتے اور وہاں جو قریبی جاننے والا احمدی ملتا تو اس کے حوالے کردیتے۔ کئی بار جب بھروسہ کا بندہ نہ ملا تو خود ہی ٹکٹ لے کر گاڑی میں بیٹھ جاتے اور رپورٹ دیکر اگلی صبح واپس لاہور لوٹ آتے، یہ ان کی احساس ذمہ داری کا بہترین نمونہ تھا جس نے مجھے متاثر ہی نہیں کیا بلکہ ان کی شخصیت کا مزیدگرویدہ بنایا۔ بلاشبہ وہ ایک درویش صفت انسان تھے۔ ملنسار بھی بہت زیادہ تھے۔ دکان کے اندر ہی نماز کی جگہ بھی بنا رکھی تھی، نماز کے وقت باجماعت نمازیں ادا کرتے۔ اپنے حلقہ کے سیکرٹری ضیافت بھی تھے۔جماعتی عہدیداروں کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور اطاعت میں بھی وہ بہت آگے تھے۔ بچوں کے ساتھ ان کی محبت بھی مشہور تھی۔اپنے ہم عصروں کے ساتھ بھی ان کا رویّہ اچھا ہوتا تھا اور ان سے مل کر سبھی خوشی محسوس کرتے تھے۔ ایک بار جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ان کی رفاقت میسّر رہی اور ایک ہی کمرے میں ہمارا قیام رہا اور اکھٹے جلسہ سنا۔ دسمبر ۱۹۸۹ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ان کو ’’لوائے احمدیت‘‘ کی حفاظت کی ڈیوٹی دینے کی بھی سعادت ملی۔مجلس خدام الاحمدیہ و مجلس اطفال الاحمدیہ لاہورکے سالانہ اجتماعات کے مواقع پر علمی مقابلوں میں منصف کے طور پر بھی خدمت بجا لاتے۔

منور احمد قیصر صاحب شہید اپنی ملنسار طبیعت اور اچھے اخلاق کی بدولت جماعتی حلقوں میں ہر دلعزیز تھے۔جماعتی کاموں میں بہت زیادہ فعال اور سرگرم رہتے تھے۔ شہید نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں اور چار بیٹے یاد گار چھوڑے تھے۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کی فیملی کینیڈا شفٹ ہو گئی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو اپنے باپ کی نیکیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکرم سید رشید طارق صاحب شہید اور میرے خاندان کا تذکرہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button