امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے ایک مصنف و عالمِ موازنۂ مذاہب کی ملاقات
مَیں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ(سائنس اور مذہب)میں بالکل کوئی فرق نہیں ہے۔ مَیں یہی ثابت کرنے کے لیے کام کر رہا ہوں۔ مَیں شواہد اکٹھے کر رہا ہوں اور ان دونوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں اور خاص طور پر جو کچھ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب سے بچ جانے کے حوالے سے پڑھا ہے
مورخہ ۹؍ مئی ۲۰۲۶ء ، بروزہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ زمبابوے سے تعلق رکھنے والےایک مصنف و عالمِ موازنۂ مذاہب مکرم آرچیبالڈ گانڈا (Archibald Ganda) کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ موصوف آکسفورڈ یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے برطانیہ تشریف لائے ہوئے تھے اور ان کی درخواست پر یہ ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں حضورِ انور کے دفتر میں منعقد ہوئی۔

مکرم آرچیبالڈ صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب سے بچ جانے اور ان کے کشمیر کے سفر کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے۔ دورانِ ملاقات انہوں نے اپنی تحقیق کے متعلق بھی ذکر کیا۔
حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے؟
اس پر انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ مَیں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ان میں بالکل کوئی فرق نہیں ہے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے تصدیق کی کہ ہمارا بھی یہی عقیدہ ہے۔
جس پر موصوف نے اپنی تحقیق اور مطالعے کی بابت مساعی کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ مَیں یہی ثابت کرنے کے لیے کام کر رہا ہوں۔ مَیں شواہد اکٹھے کر رہا ہوں اور ان دونوں کو آپس میں جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوں اور خاص طور پر جو کچھ مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب سے بچ جانے کے حوالے سے پڑھا ہے۔
بعد ازاں حضورِ انور نے علمی مصادر کی طرف راہنمائی فرماتے ہوئے اس اَمرکا جائزہ لیا کہ موصوف نے کن کُتب و تحریرات کا مطالعہ کیا ہے، اسی تناظر میں حضورِ انور نے استفسار فرمایا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے کچھ اقتباسات لیے ہیں؟
انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئےعرض کیا کہ مَیں ان کے اقتباسات سے بے حدّ متأثر ہوا ہوں۔ مَیں نے آپ علیہ السلام کی تصنیف ’مسیح ہندوستان میں ‘بھی پڑھی ہے۔
پھر حضورِ انور نے مزید استفسار فرمایا کہ کیا آپ نے ہمارے چوتھے خلیفہ کی تصنیف ’الہام، عقل، علم اور سچائی‘پڑھی ہے؟
موصوف نے اس حوالے سے عرض کیا کہ مَیں نوٹ کر لیتا ہوں۔جس پر حضورِ انور نے ارشاد فرمایا کہ وہ بھی آپ کی کافی مدد کرے گی۔
مزید برآں حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ کیا آپ نے ’اسلامی اصول کی فلاسفی‘ پڑھی ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے اس کتاب کے کچھ حصّے پڑھے ہیں۔
اس پر حضورِ انور نے اظہارِ خوشنودی فرمایا کہ اچھا! آپ نے وہ پڑھی ہے۔
موصوف نے اپنی مساعی کی بابت مزید بیان کرتے ہوئے عرض کیا کہ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ کی نجات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی ٹرانسکرپٹ بھی دستیاب ہے، وہ بھی مَیں نے پڑھی ہے اور وہ میری تحقیق کے دوران بڑی مددگار ثابت ہوئی ہے اور مَیں اس سے بھی بے حدّ متاثر ہوا تھا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے ایک غیر معمولی معرفت پر مبنی کلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے تبصرہ کیا کہ یعنی مختصرا ًیہ کہ آپ ہماری تعلیمات سے خوب واقف ہیں۔
دورانِ ملاقات موصوف کو اپنی نئی کتاب بعنوان I Will Not Die But Live حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں پیش کرنے کی توفیق بھی ملی۔
اس کی بابت حضورِ انور نے دریافت فرمایا کہ لیکن اس کتاب میں آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر وفات نہیں پائےاور یہ بھی کہ انہوں نے ایک طویل عمر پائی اور وہ آسمان پر نہیں اُٹھائے گئے؟
موصوف نے اثبات میں تصدیق کرتے ہوئے عرض کیا کہ انہوں نے ایک طویل عمر گزاری، تقریباً ایک سو بیس سال تک عمر پائی اور طبعی وفات پائی۔
ملاقات کے اختتام پر موصوف کو حضورِ انور کے ساتھ تصویر بنوانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
٭…٭…٭




