متفرق شعراء

قرآن ترا چہرہ

تو کھوجنے والوں کو رہ اپنی دکھاتا ہے
چل کر کوئی آئے تو، تُو دوڑ کے آتا ہے

جس سمت نگہ اُٹھے دیدار ہو تیرا ہی
ہر شَے میں ترا پیارا جلوہ نظر آتا ہے

تصنیف مصنف کے اوصاف بتاتی ہے
قرآن ترا چہرہ خُوبی سے دکھاتا ہے

ہیں نقش محمدؐ کے سب وصل کی راہوں میں
جو نقش قدم پا لے وہ گھر ترے آتا ہے

ہم خاک میں مل جائیں تو قرب میسر ہو
تو اُس کو اُٹھاتا ہے جو خود کو گراتا ہے

تو خود ہی سمجھتا ہے تقدیر کی حکمت کو
خوش رہنا مقدر پہ بندوں کو سکھاتا ہے

لا ریب تری رحمت ہر چیز پہ حاوی ہے
ستّار ہے تو میرے سب عیب چھپاتا ہے

آئی ہوں ترے در پہ دے بھیک تو بخشش کی
انسان تو ناداں ہے بس ٹھوکریں کھاتا ہے

اک تو ہی تو بھرتا ہے کشکول کو رحمت سے
قادر ہے، توانا ہے، غفّار ہے، داتا ہے

(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

مزید پڑھیں: خوبیاں تو عنقا ہیں عہد نو کے رہبر میں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button