جُود و سخا کی روشنی میں آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۹؍جون ۲۰۲۶ء
٭… جو مال بھی میرے پاس ہوگا مَیں اسے ہرگز تم سے چھپا کر نہیں رکھوں گا۔ اورجو سوال سے بچے گاتو اللہ تعالیٰ بھی اسے بچائےگا اور جو دنیا کے مال سے بےنیازہونا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسےبےنیاز کردے گا اور جو اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر صبرکرےگا اللہ تعالیٰ بھی اس کو صبر دےگا اور صبرسے بہتر اور وسیع کسی کو کوئی نعمت نہیں دی گئی
٭… ابوسفیان بول اٹھے کہ یا رسول اللہﷺ! آپ کریم ہیں۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ مَیں نے آپؐ سے جنگیں کی ہیں اور آپؐ کیا ہی اچھے جنگجو ہیں اور مَیں نے آپؐ سے صلح کی ہے اور آپؐ کیا ہی اچھی صلح کرنے والے ہیں(حدیث نبویﷺ)
٭… آپؐ کے پاس ایک موقعے پر بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں۔ ایک کافر نے کہا کہ آپؐ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں جمع ہیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی اس قدر نہیں۔ آپؐ نے اسی وقت سب اس کو بخش دیں وہ اسی وقت ایمان لے آیا کہ نبی کے سوا کوئی اس قدر عظیم الشان سخاوت نہیں کرسکتا(حضرت مسیح موعودؑ)
٭… ان[اخلاقِ فاضلہ] میں کمال درجے کااعتدال پایا جاتا تھا، اور ہر ایک خُلق اپنے اپنےمحل اور موقعے پر ظاہر ہوتا تھا اور ان اخلاقِ فاضلہ میں آپؐ کی سخاوت بھی فی محلہٖ تھی اور ایثار بھی فی محلہٖ ہی تھا اور کرم بھی فی محلہٖ ہی تھا (حضرت مسیح موعودؑ)
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۹؍جون ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۹؍احسان ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۱۹؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
آنحضرتﷺ کی جُود و سخا کے حوالےسے بعض روایات پیش کروں گا۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ انصار کے بعض لوگوں نےرسول اللہﷺ سے مانگا۔آپؐ نے انہیں دیا۔پھرانہوں نے مانگا اور آپؐ نےدیا۔ انہوں نے پھرمانگا اور آپؐ نے پھردیا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جوکچھ تھا وہ ختم ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا
جو مال بھی میرے پاس ہوگا مَیں اسے ہرگز تم سے چھپا کر نہیں رکھوں گا۔اورجو سوال سے بچے گاتو اللہ تعالیٰ بھی اسے بچائےگا اور جو دنیا کے مال سے بےنیازہونا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسےبےنیاز کردے گا اور جو اپنے نفس پر بوجھ ڈال کر صبرکرےگا اللہ تعالیٰ بھی اس کو صبر دےگا اور صبرسے بہتر اور وسیع کسی کو کوئی نعمت نہیں دی گئی۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کےساتھ ا یک سفر میں تھےاور مَیں ایک منہ زور اونٹ پر سوار تھاجو دوسری سواریوں سے آگے بڑھ جاتا تھا۔ حضرت عمرؓ اسے روکتے اورڈانٹتے تھے۔یہ دیکھ کر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے قیمتاً دے دیں۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یہ آپؐ کا ہی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مجھے یہ فروخت کردو۔چنانچہ انہوں نے وہ اونٹ آپؐ کو فروخت کردیا۔ پھر نبیﷺ نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن عمر! اب یہ اونٹ تمہارا ہے۔اب اس سے جو چاہو کرو۔
حضورِانورنےفرمایا کہ تحفہ دینے کا بھی انداز ہے۔ پھر یہ بھی سمجھادیا کہ یہ تو جانور ہے اگر سواریوں سے آگے بڑھ جاتا ہے تو کوئی بات نہیں اور اب تو یہ اونٹ رسول اللہﷺ نے خرید لیا تو اگر یہ دوسری سواریوں سے آگے بڑھے گا بھی تو یہی کہا جائے گا کہ رسول اللہﷺ کا اونٹ ہی آگے بڑھا ہے۔
ایک غزوے میں حضرت جابرؓ کا اونٹ تھک گیا اور چلنے میں سست ہوگیاجس وجہ سے وہ لشکرسے پیچھے رہ گئے۔ رسول اللہﷺ اُن کے پاس آئے اور خیریت دریافت کی۔جابر ؓنے اونٹ کی تھکاوٹ کا ذکر کیا۔آنحضورﷺ نے اپنی کھونٹی سے اونٹ کو کھینچا اور فرمایا کہ اب اس پر سوار ہوجاؤ۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ مَیں سوار ہوگیا اور مَیں نے دیکھا کہ وہ اتنا تیز ہوگیا کہ رسول اللہﷺ کی سواری سے بھی آگے بڑھنے لگا۔ رسول اللہﷺ نے وہ اونٹ جابرؓ سےایک اوقیہ چاندی پر خرید لیا اورمدینے پہنچ کر وہ اونٹ اور اس کی قیمت دونوں حضرت جابرؓ کو دے دیے۔
ایک شخص رسول اللہﷺ کے پاس حاضرہوا اور کچھ مانگا۔ آپؐ نےفرمایا کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے۔ تم میرے نام سے چیزیں خرید لو جب میرے پاس کچھ آئے گا تو مَیں قیمت ادا کردوں گا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ! آپ اس کو پہلے دے چکے ہیں اور جو آپ کی طاقت میں نہیں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ آنحضورﷺنے حضرت عمرؓ کی بات ناپسند فرمائی۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! آپ خرچ کریں اور خدائے ذوالعرش کی طرف سے فقرسےنہ ڈریں۔ انصاری کی اس بات پر آپؐ نے تبسّم فرمایا اور خوشی آپؐ کے چہرے سےظاہرہونے لگی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔
آنحضورﷺ کو ایک صحابیؓ نے کھجوریں اور ککڑیاں پیش کیں۔ اسی وقت آپؐ کے پاس بحرین سے سونے کے زیورات آئے۔ آنحضرتﷺ نے مٹھی بھر زیور ان کھجوروں اور ککڑیوں کے بدلے میں عطا فرمادیے۔
ایسا شخص جو مقروض فوت ہوجائے اور اس کی ادئیگی کے لیےاس نے مال نہ چھوڑا ہو تو آنحضورﷺ مسلمانوں کو ارشاد فرماتے کہ تم اپنے بھائی کی نمازِ جنازہ پڑھ لو۔ آپؐ فرماتے مَیں مسلمانوں کا اُن کے رشتے داروں سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔ اس لیے مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرضہ چھوڑ جائے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمہ ہےاور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اُس کے وارثوں کا ہے۔
حضورِانورنے رسول اللہﷺ کے قرض کی ادائیگی کے حوالے سے حضرت بلالؓ کی تفصیلی روایت پیش فرمائی جس میں اللہ تعالیٰ نے غیرمعمولی انداز میں قرض کی ادائیگی کا سامان اپنی جناب سے فرمایا۔ جب تمام قرض اداہوگیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اے بلال!قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ گیا ہے اُسے غریبوں پر خرچ کردو۔ وہ رات آپؐ نے مسجد میں گزاری اور گھر تشریف نہ لےگئے۔ اگلے روز پوچھنے پر بلالؓ نے بتایا کہ تمام مال خرچ ہوگیا ہے تو آپؐ نے اللہ کی بڑائی اور حمد بیان کی اور پھر آپؐ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے گئے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت زبیرؓ کو جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ ے وہاں تک جاگیر عطا کرنے کا ارشاد فرمایا۔ گھوڑا دوڑ کر رُک گیا تو زبیرؓ نے اپنا کوڑا پھینکا جو دُور تک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اسے وہاں تک زمین دےدو جہاں تک اس کا کوڑا گیا ہے۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے ایک دفعہ اپنے گھر میں آکر پوچھا کہ ہمارے گھر میں کیا ہے؟ عائشہؓ نے دو اشرفیاں نکال کر دیں کہ یہی ہیں۔ آنحضورﷺ نے ہتھیلی پر وہ اشرفیاں رکھ لیں اور فرمایا کہ کیا حال ہے اُس نبی کا جو پیچھے دو اشرفیاں چھوڑ جائے اور پھر اُسی وقت وہ اشرفیاں تقسیم فرمادیں۔
حنین کی جنگ میں چھ ہزار یا آٹھ ہزار لونڈیاں اور غلام ، چوبیس ہزار اونٹ اور چالیس ہزار سے زائد بھیڑ بکریاں، چار ہزار اوقیہ (چارسَو نوے کلو گرام) چاندی مالِ غنیمت میں حاصل ہوئی۔ آپؐ نے مالِ غنیمت کی تقسیم کا آغاز تالیفِ قلب سے کیا۔ یہ عرب کے بڑے لوگ تھے اور اپنے اپنے قبیلوں میں شرف اور بزرگی کا مقام رکھتے تھے۔ آپؐ نے انہیں مانوس کرنے کے لیے مال عطا فرمایا۔
آپؐ نے اس موقعے پر ابوسفیان اور اُن کے بیٹوں کو اس قدر مال عطا فرمایا کہ
ابوسفیان بول اٹھے کہ یا رسول اللہﷺ! آپ کریم ہیں۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ مَیں نے آپؐ سے جنگیں کی ہیں اور آپؐ کیا ہی اچھے جنگجو ہیں اور مَیں نے آپؐ سے صلح کی ہے اور آپؐ کیا ہی اچھی صلح کرنے والے ہیں۔
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیںکہ
آپؐ کے پاس ایک موقعے پر بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں۔ ایک کافر نے کہا کہ آپؐ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں جمع ہیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی اس قدر نہیں۔ آپؐ نے اسی وقت سب اس کو بخش دیں وہ اسی وقت ایمان لے آیا کہ نبی کے سوا کوئی اس قدر عظیم الشان سخاوت نہیں کرسکتا۔
غزوہ حنین والے دن ایک عورت آئی ا ور اس نے اشعار پڑھے جن میں آپؐ کےبنو ھوازن میں رضاعت کے دنوں کا ذکر تھا۔آپؐ نے یہ اشعار سن کر بنو ھوازن کا سارا مال انہیں واپس کردیا اور ساتھ ہی انہیں مزید اتنا مال عطا فرمایا کہ جس کی مالیت پانچ لاکھ درہم کے برابر تھی۔
حضرت مسیح موعودؑ آنحضور ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا ذکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ
ان میں کمال درجے کااعتدال پایا جاتا تھا، اور ہر ایک خُلق اپنے اپنےمحل اور موقعے پر ظاہر ہوتا تھا اور ان اخلاقِ فاضلہ میں آپؐ کی سخاوت بھی فی محلہٖ تھی، اور ایثار بھی فی محلہٖ ہی تھا اور کرم بھی فی محلہٖ ہی تھا۔
حضورِانور نے فرمایا کہ جس طرح آنحضورﷺ کی تعلیم متوازن ہے اسی طرح آپؐ کا ہرعمل بھی اس کے مطابق متوازن تھا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرتﷺ کی سیرت کے ہر پہلو پر غور کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: جود و سخا کی روشنی میں آنحضورﷺ کے اخلاقِ فاضلہ کا دل آویز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۲؍جون ۲۰۲۶ء




