نظام جماعت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہافراد اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی اصلاح کریں(قسط اوّل)
خلیفۂ وقت کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت بھی ضروری ہے
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۳؍ستمبر ۱۹۴۰ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو عہدیدارن کی اطاعت کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
کوئی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیداران کی اطاعت لوگ اپنے لئے ضروری خیال نہ کریں
تشہد، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:
نظام جہاں اپنے اندر بہت سی برکات رکھتا ہے اور دینی و دنیوی ترقیات کے لئے ایک نہایت ضروری چیز ہے۔ وہاں ا س میں بہت سی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں اور جتنا نظام بڑھتا چلا جاتا ہے اتنی ہی اس میں پیچیدگیاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں جتنی کوئی چیز منفرد اور اکیلی ہو اتنی ہی وہ سادہ ہوتی ہے۔ پس جہاں نظام کے ذریعہ قوموں اور مذہبوں کو فوائد پہنچتے ہیں وہاں اس کی وجہ سے بعض دفعہ غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں اور جو لوگ نظام سے سچا فائدہ اٹھانا چاہیں ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان غلطیوں کی اصلاح کریں اور اصلاح کرتے چلے جائیں۔ اگر ان غلطیوں کی وہ اصلاح نہ کریں تو آہستہ آہستہ وہی نظام جو نہایت مفید ہوتا ہے کسی وقت لوگوں کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔ یہ جو آجکل ڈکٹیٹر شپ نازی ازم اور فیسی ازم رائج ہیں یہ بھی نظام کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔ یہ جو کمیونزم اور بالشوزم کہلاتے ہیں یہ بھی نظام کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔ ہیں وہ نظام ہی لیکن ان کی کَل ٹیڑھی چل گئی اور کَل کے بگڑ جانے کی وجہ سے ان میں ایسی خرابیاں پیدا ہو گئیں کہ وہ دنیا کے لئے مصیبت اور عذاب بن گئے۔ اسلام نے بھی ایک نظام قائم کیا ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ نظام ہے مگر جس طرح باقی نظام پیچیدہ ہیں ویسے ہی وہ بھی پیچیدہ ہے۔ چنانچہ مسلّمہ میں سے ہی وہ ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اسے اٹھا کر دوسروں کے لئے ان کی اطاعت واجب کر دیتا ہے۔ بعض لوگ غلط فہمی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف خلیفہ ہی واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ حالانکہ
قرآن کریم نے صاف طور پر ایسا نظام بتایا ہے جس میں صرف خلیفہ ہی نہیں بلکہ خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیدار بھی واجب الاطاعت ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ۔ (النساء:۶۰)
اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ کئے گئے ہیں کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کے بعد اُولِی الْاَمْر کی۔ مگر اس کے معنے یہ بھی ہیں بلکہ قریب ترین معنے یہی ہیں کہ تم اللہ کی اطاعت کرو، تم رسول کی اطاعت کرو اور تم اس زمانہ کے اُولِی الْاَمْر کی بھی اطاعت کرو۔ گویا اللہ بھی موجود ہے، رسول بھی موجود ہے اور اُولِی الْاَمْر کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ اور یہ وہ معنے ہیں جن کی قرآن کریم کی متعدد آیات سے تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً جہاں خبروں کے پھیلانے کا ذکر ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ کیوں تم ان لوگوں تک خبریں نہیں پہنچاتے جو بات کو سمجھنے کے اہل ہیں اور جن کے سپرد اس قسم کے امور کی نگرانی ہے۔(النساء:۸۴)تو یا وہ ایک جماعت تھی جو رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں موجود تھی اور لوگوں کو حکم تھا کہ بجائے پبلک میں غیرذمہ دارانہ طور پر خبریں پھیلانے کے اسے پہنچائی جائیں۔ پس یہ آیت بتاتی ہے کہ خود رسول کریمﷺ کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو عام لوگوں سے ایک امتیاز رکھتے تھے اور لوگوں کو حکم تھا کہ وہ ضروری باتیں ان تک پہنچائیں۔ پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ اُولِی الْاَمْر کی اطاعت اللہ اور رسول کی موجودگی میں ہی ضروری ہے یہ ہے کہ اللہ کے بعد رسول کی اطاعت نہیں ہوتی بلکہ اس کی موجودگی میں ہی رسول کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔ یہ معنے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ فوت ہو جائے تو تم رسول کی اطاعت کرو اور رسول فوت ہو جائے تو اُولِی الْاَمْر کی اطاعت کرو بلکہ اللہ کی موجودگی میں ہی اُولِی الْاَمْر کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری کا حکم ہے۔
ممکن ہے کوئی اعتراض کر دے کہ رسول کی اطاعت کا تو حکم ہؤ امگر خلیفہ کی اطاعت کا کہاں حکم ہے؟ سو ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ خلیفہ رسول کا قائم مقام ہوتا ہے۔ چنانچہ خلیفہ کے معنے نائب کے ہیں مگر وہ نائب اور قائم مقام اُولِی الْاَمْر کا نہیں بلکہ رسول کا ہوتا ہے۔
پس قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اللہ او ررسول کی اطاعت کرو اور جب رسول فوت ہو جائے تو تم اس کے خلیفہ کی اطاعت کرو اور اس زمانہ میں اُولِی الْاَمْر کی بھی اطاعت کرو کیونکہ کوئی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک خلیفہ کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت لوگ اپنے لئے ضروری خیال نہ کریں۔ اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَ مَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ۔(بخاری کتاب الصیام باب یقاتل من وراء الامام ویتقی بہ) یعنی جس نے میرے مقرر کردہ حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی کیونکہ میں ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا۔ مجھے لازماً کام کو عمدگی سے چلانے کے لئے اپنے نائب مقرر کرنے پڑیں گے اور لوگوں کے لئے ضروری ہو گا کہ ان کی اطاعت کریں۔ اگر وہ اطاعت نہیں کریں گے تو نظام ٹوٹ جائے گا۔ پس ان کی اطاعت درحقیقت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی ۔ تو اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں ایک ایسا مکمل نظام پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہی زمانہ میں اللہ کی اطاعت بھی ضروری ہے، رسول کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اگر رسول نہ ہو تو اس کے خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے اور اس زمانہ میں اُولِی الْاَمْر کی اطاعت بھی ضروری ہے۔
اللہ ایک ہے ، رسول ایک ہے، خلیفہ بھی ایک ہی ہو گا لیکن اُولِی الْاَمْر کئی ہو سکتے ہیں اس لئے اُولِی الْاَمْر میں جمع کا صیغہ رکھا گیا ہے کیونکہ یہ کئی ہوں گے اور گو خلیفہ ایک ہو گا مگر اس کے تابع بہت سے عہدیدار ہوں گے۔
یہ اسلامی نظام ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے اور وہ امت محمدیہ کو حکم دیتا ہے کہ اُولِی الْاَمْر کی اطاعت کرو لیکن اس میں بعض دفعہ ایک بگاڑ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ غلطی سے اُولِی الْاَمْر یہ خیال نہیں کرتے کہ لوگوں پر ان کی جو اطاعت فرض ہے وہ اُولِی الْاَمْر ہونے میں ہے، زید اور بکر ہونے میں نہیں، زید اور بکر ہونے میں تو رسول کی اطاعت بھی نہیں۔ یوں تو رسول کا مقام ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہی حکم دیتا ہے کہ اس کی اطاعت کرو مگر خدا نے انہیں جو حق دیا ہے وہ ہر بات میں نہیں اور نہ ہر بات میں انہوں نے کبھی اپنے حق کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً رسول کریم ﷺ کو یہ حق نہیں تھا اور نہ آپ نے کبھی ایسا دعویٰ کیا کہ کسی کی بیٹی کا اپنی مرضی سے کسی دوسرے سے نکاح کر دیں۔ اسی طرح آپ نے کبھی کسی سے نہیں کہا کہ اپنا مکان فلاں کو دے دو بلکہ آپ نے ان امور میں ان کے اختیارات کو بحال رکھا۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک لڑکی جو غلام تھی اور اس کا خاوند بھی غلام تھا کچھ عرصہ کے بعد آزاد ہوئی تو اسے شریعت کے ماتحت اس امر کا اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے غلام خاوند کے نکاح میں رہے اور چاہے تو نہ رہے۔ اتفاق کی بات ہے بیوی کو اپنے خاوند سے شدید نفرت تھی اور ادھر خاوند کی یہ حالت تھی کہ اسے بیوی سے عشق تھا۔ جب وہ آزاد ہوئی اور غلام نہ رہی تو اس نے کہا کہ مَیں اب اس کے پاس نہیں رہ سکتی۔ خاوند کو چونکہ اس کے ساتھ شدید محبت تھی اس لئے جہاں وہ جاتی وہ پیچھے پیچھے چلا جاتا اور رونا شروع کر دیتا۔ رسول کریم ﷺ نے اسے اس حالت میں دیکھا تو آپ کو رحم آیا اور آپ نے اس لڑکی سے کہا کہ اگر تم اس کے پاس رہو تو تمہارا کیا حرج ہے۔ اس نے کہا یا رسول اللہؐ!یہ آپ کا حکم ہے یا مشورہ؟ آپؐ نے فرمایا مشورہ ہے ،حکم نہیں۔ کیونکہ اب تم آزاد ہو چکی ہو اور شریعت کی طرف سے تمہیں اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ چاہو تو تم اپنے غلام خاوند کے پاس رہو اور چاہو تو نہ رہو۔ اس نے کہا یَارَسُوْلُ اللّٰہ! اگر یہ آپ کا مشورہ ہے تو پھر میں اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ مجھے اس سے نفرت ہے۔ (بخاری کتاب الطلاق باب شفاعۃ النبی علی زوج بریرۃ)تو ذاتی معاملات میں رسول کریم ﷺ کبھی دخل نہیں دیتے تھے۔
اسی طرح خلفاء نے بھی کبھی ذاتی معاملات میں دخل نہیں دیا۔ خود میرے پاس کئی لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری لڑکی کا آپ جہاں چاہیں نکاح پڑھا دیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا مگر باوجود اس کے کہ آج تک مجھے سینکڑوں لوگوں نے ایسا کہا ہو گا میں نے کسی ایک کی بات بھی نہیں مانی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ مجھ پر کیا آگے ذمہ داریاں کم ہیں کہ اب میں اَور ذمہ داریوں کو بھی اٹھا لوں۔ ممکن ہے میں انتخاب میں کوئی غلطی کر جاؤں اور اس طرح قیامت کے روز خداتعالیٰ کے حضور مجھے جوابدہ ہونا پڑے۔ پس میں کیوں اس بوجھ کو برداشت کروں۔
شاید ماں باپ یہ سمجھتے ہوں کہ لڑکیوں کا نکاح کرتے وقت ان پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی مگر میرے نزدیک والدین پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اور ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر اور دعاؤں سے کام لینے کے بعد اپنی لڑکیوں کا نکاح کیا کریں۔ اگر وہ بےاحتیاطی سے کام لیں گے تو یقیناً وہ خداتعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔
پس جبکہ نکاح کرانا ایک خاص ذمہ داری کا کام ہے تو بالکل ممکن ہے مجھ سے کسی کے معاملہ میں کوئی بےاحتیاطی ہو جائے اور قیامت کے دن باپ تو آزاد ہو جائے اور میں اس کا جوابدہ ٹھہر جاؤں۔ پس باوجود اس کے کہ میرے زمانہ خلافت میں سینکڑوں لوگوں نے مجھے یہ کہا ہو گا کہ آپ جہاں چاہیں میری لڑکیوں کا نکاح کردیں مجھے اس وقت ایک مثال بھی ایسی یاد نہیں جس میں مَیں نے دخل دیا ہو اور اپنی مرضی سے ان کی لڑکیوں کا کہیں نکاح کر دیا ہو۔ مَیں ہمیشہ انہیں یہی جواب دیتا ہوں کہ جب مجھے کسی رشتہ کا علم ہؤا تو آپ کو اطلاع دے دوں گا۔ آگے یہ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ غور کرلیں کہ وہ رشتہ ان کے لئے موزون ہے یا نہیں۔ ایسے موقع پر بعض لوگ اصرار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے اپنی لڑکیوں کا معاملہ آپ کے سپرد کر دیا ہے مگر میں یہی کہتا ہوں کہ میں اس کے لئے تیار نہیں۔ ہاں جب بھی مجھے رشتوں کا علم ہو گا میں لڑکے آپ کے سامنے پیش کرتا چلا جاؤں گا۔ آپ کو پسند آئیں تو لیتے جائیں اور اگر پسند نہ آئیں تو ردّ کرتے جائیں۔ تو
اللہ تعالیٰ نے اُولِی الْاَمْر کو جو حکومت دی ہے وہ ذاتی معاملات میں نہیں قومی معاملات میں ہے۔
رسول کو بھی اورخلیفہ کو بھی اور اُولِی الْاَمْر کو بھی یہ قطعاً حق حاصل نہیں کہ وہ ذاتی معاملات میں لوگوں پر رعب جتائیں۔ مثلاً مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ میں جماعت کے کسی آدمی سے یہ کہوں کہ میں چونکہ خلیفہ ہوں اس لئے تم میری نوکری کرو اور جو تنخواہ مَیں دوں وہ قبول کرو۔ یہ خلافت کا کام نہیں بلکہ ایک دنیوی کام ہے اور دوسرے شخص کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے۔ چاہے یہی کہے کہ میں نوکر نہیں ہونا چاہتا اور چاہے یہ کہے کہ جو تنخواہ آپ دیتے ہیں وہ مجھے منظور نہیں۔ اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا کیونکہ شریعت نے ان معاملات میں اسے آزادی بخشی ہے۔ یا فرض کرو میں اپنا مکان بنانے کے لئے کسی دوست سے کوئی زمین خریدنا چاہتا ہوں تو ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے مثلاً یہی کہہ دے کہ جو قیمت آپ دینا چاہتے ہیں اس پر میں زمین فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں یا یہ کہہ دے کہ میں زمین بیچنا ہی نہیں چاہتا۔ بہرحال یہ اس کا حق ہے جسے وہ استعمال کر سکتا ہے۔ یہی حال اُولِی الْاَمْر کا ہے۔ ہماری جماعت میں بھی کچھ ناظر ہیں اور کچھ ناظروں کے ماتحت عہدیدار مقرر ہیں۔ ان ناظروں اور عہدہ داروں کو بھی وہی محدود اختیارات حاصل ہیں جو جماعتی نظام سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں ایسے کاموں کا سوال آجائے گا جو نظام جماعت سے تعلق نہیں رکھتے وہاں اگر بعض لوگ ان کے کرنے سے انکار کر دیں تو یہ ان کا حق سمجھا جائے گا۔
(جاری ہے)




