نمازِ جنازہ حاضر و غائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۱؍مئی ۲۰۲۶ء بروز سوموار بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ نصرت الٰہی صاحبہ اہلیہ مکرم ناصر محمود تنویر صاحب (ساؤتھال۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور پانچ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔
نماز جنازہ حاضر
مکرمہ نصرت الٰہی صاحبہ اہلیہ مکرم ناصر محمود تنویر صاحب (ساؤتھال۔یوکے)
8؍مئی2026ء کو 75سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق گولیکی ضلع گجرات سے تھا۔ 2023ء میں یوکے آئیں۔ مرحومہ پابند صوم و صلوٰۃ، ایک نیک اورمخلص خاتون تھیں۔ تلاوت قرآن کریم کے ساتھ غیر معمولی رغبت رکھتی تھیں۔ خلافت کے ساتھ گہری عقیدت کا تعلق تھا۔ اپنے بچوں اور پوتوں کو بھی خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی تلقین کرتی رہیں۔ بیماری کا تمام عرصہ بڑے صبر اور حوصلہ کے ساتھ گزارا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔
نماز جنازہ غائب
۱۔مکرم سیّد ہدایت اللہ ہادی صاحب (مدیر احمد یہ گزٹ کینیڈا)
25؍اپریل 2026ء کو 80 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم سید ولایت حسین شاہ صاحب کے ذریعہ ہواجنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیعت کی سعادت حاصل کی۔مرحوم نے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ 1962ء سے 1967ء تک کالج کے مجلہ المنار کے ایڈیٹر رہے۔ بعد ازاں 1967ء میں اعلیٰ تعلیم کے لئے ربوہ سے کراچی اور پھر 1983ء میں نائیجیریا چلے گئے۔ جہاں 6 سال تک ا ٓپ کو احمدوبیلو یونیورسٹی کے Centre for Islamic Legal Studies میں فیکلٹی آف لاء نائیجیریامیں کام کرنے کا موقع ملا۔1988ء میں آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کے ارشاد پر اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا ہجرت کی جہاں مختلف جگہوں پر کام کر تے رہے۔ کینیڈا آتے ہی آپ احمدیہ گزٹ کینیڈا کی ادارت سے وابستہ ہو گئے اور تاحیات اس کے مدیر رہے۔ آپ نہایت محنت، لگن اور جانفشانی سے کام کرتے اور وقت سے بہت پہلے اگلے شماروں کا مواد تیار کر لیا کرتے تھے۔ آپ کے کئی مضامین جماعتی اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ممبرخلافت لائبریری بورڈ، ممبر قضاء بورڈ کینیڈا اور تاریخ جماعت احمدیہ کینیڈاکی تدوین کمیٹی کے رکن رہے۔ بڑے محنتی، فرض شناس اور مخلص خادم سلسلہ تھے۔ مشن ہاؤس بڑی باقاعدگی سے آتے۔ اپنے ساتھیوں کا بہت خیال رکھنے والے اور بڑے ہردلعزیز انسان تھے۔ نماز باجماعت کے پابند، تہجد گزار اور دعاگو وجودتھے۔ طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی۔ بڑے علم دوست، خلیق، ملنسار، صلہ رحمی کے جذبہ سے سرشار، عزیزو اقارب کا خیال رکھنے والے،ہمدرد اور بڑے حلیم الطبع انسان تھے۔ نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ صدق و وفاکا گہرا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔
۲۔مکرم محمد اکبر صابر صاحب ابن مکرم محمد انور صاحب (سابق کار کن دفتر وصیت ربوہ )
17؍مارچ 2026ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم نے تقریباً دس سال دفتر صدر انجمن میں اور پچیس سال دفتر وصیت میں خدمت کی توفیق پائی۔ کچھ عرصہ ناصر بائی سکول دار الیمن وسطی حلقہ سلام میں بھی خدمت انجام دیتے رہے۔ آپ بہت ہنس مکھ، ملنسار، ہر کسی کے کام آنے والے مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا شامل ہے۔آپ مکرم شمس اقبال صاحب (مربی سلسلہ واستاد جامعہ احمدیہ جرمنی) کے خالو تھے۔
۳۔مکرمہ امۃالحفیظ صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری غلام احمد صاحب مرحوم ( واہ کینٹ)
19؍مارچ 2026ء کو 89سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ عبادت گزار اور بڑی پر ہیز گار خاتون تھیں۔ قرآنِ کریم پڑھنے اور پڑھانے سے خاص لگاؤر کھتی تھیں۔ جماعت اور خلافت سے گہرا تعلق تھا۔ قرآن کریم اور در ثمین کا ایک بڑا حصہ آپ کو زبانی یاد تھا۔ غرباء اور مستحقین کی مدد کرنا آپ کا نمایاں وصف تھا۔ بہت سے مستحق خاندانوں کو باقاعدگی سے راشن اور مالی امداد فراہم کرتی رہیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی، چار بیٹے، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک پوتے مکرم اعزاز احمد صاحب (مربی سلسلہ) اس وقت بیجنگ چین میں چینی زبان کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
۴۔مکرم بشیر احمد امینی صاحب ابن مکرم رانا عمر دین صاحب (آف جرمنی)
30؍مارچ 2026ء کو 85سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ 1962ء میں جرمنی آئے اور پھر کچھ عرصہ بعد انگلینڈ منتقل ہو گئے۔ لیکن 1976ءمیں آپ پھر واپس جرمنی چلے گئے۔ آپ کو مختلف حیثیتوں سے جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔ مالی قربانی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ آپ کو اپنے والدین کی طرف سے سیرالیون میں دو مساجد اور مربی ہاؤس تعمیر کروانے، واٹر پمپ لگوانے اسی طرح برکینا فاسو میں تعمیر ہونے والے Masroor Eye Institute میں بھی مالی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں ایک بیٹی، ایک بہن اور تین بھائی شامل ہیں۔
۵۔مکرمہ مسرت جہاں بخاری صاحبہ اہلیہ مکرم مبشر احمد بخاری صاحب (فرینکفرٹ جرمنی)
31؍مارچ 2026ء کو 79سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کے والد نے برّی فوج سے استعفیٰ دے کر فرقان فورس میں شمولیت اختیار کی اور شہادت کا رتبہ پایا۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجدگزار، ملنسار، مہمان نواز،ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ آپ جماعتی پروگراموں میں بڑی باقاعدگی سے شامل ہوتیں اوراپنے چندے بھی بر وقت اور باقاعدگی سے ادا کرتی تھیں۔ سیالکوٹ میں بطور صدر لجنہ اماءاللہ اور جرمنی میں بھی لجنہ کے متفرق شعبہ جات میں خدمت بجالاتی رہیں۔آپ کو پاکستان اور جرمنی میں بچوں کو قرآنِ کریم پڑھانے کی بھی توفیق ملی۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اوردو بیٹے شامل ہیں۔آپ کے سب بچے کسی نہ کسی رنگ میں جماعتی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭…٭…٭




