نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۳؍مئی ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ اقبال پروین صاحبہ اہلیہ مکرم رانا رشید الرحمٰن صاحب مرحوم (جماعت اسلام آباد۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ اقبال پروین صاحبہ اہلیہ مکرم رانا رشید الرحمٰن صاحب مرحوم (جماعت اسلام آباد۔یوکے)

۲۲؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۸۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت چودھری عبدالحق صاحب کا ٹھگڑھی رضی اللہ عنہ کی بہو اور حضرت چودھری عبدالحمید صاحب کا ٹھگڑھی رضی اللہ عنہ کی بھتیجی تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، تہجد گزار، غریب پرور،بڑی ہردلعزیز، نیک اور مخلص بزرگ خاتون تھیں۔ ربوہ میں اپنے محلہ باب الابواب شرقی میں لجنہ اماءاللہ کے مختلف شعبوں میں خدمت کی توفیق پائی۔ ۲۰۲۱ء میں یوکے آئیں اور چند سال سے اسلام آباد جماعت کی ممبر تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم ثاقب رشید صاحب جماعتی کاموں میں بہت فعال ہیں اوراس وقت نیشنل عاملہ مجلس انصاراللہ یوکے میں معاون صدر کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم شیخ عمران احمد صاحب ابن مکرم شیخ رمضان صاحب (معلم سلسلہ نظارت اصلاح وارشاد مرکزیہ قادیان۔ آف کیرنگ صوبہ اڈیشہ)

۲۳؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۴۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو ۲۰۰۵ء میں جامعۃالمبشرین قادیان سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انڈیا کے مختلف صوبہ جات میں بطور معلم سلسلہ خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔ اس دوران مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا اور زدّوکوب بھی کیا گیا۔ مرحوم پوری اطاعت اور فرمانبرداری اور اخلاص کے ساتھ خدمت کرتے رہے۔ ذاتی رخصت پر جب قادیان آتے تو تب بھی متعلقہ دفتر میں حاضر ہوکر دفتری کاموں میں معاونت کیا کرتے تھے۔ آپ کا خدمت کا عرصہ ۲۱ سال پر محیط ہے۔ مرحوم اچھے اخلاق کے حامل ایک نیک اور مخلص خادم سلسلہ تھے۔ خلافت کے ساتھ وفا کا گہرا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۲۔مکرم راناسعید محمد صاحب (Hannover جرمنی)

۲۰؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۹۰سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت رانا مستری دین محمد صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ مرحوم کا نظام جماعت سے بہت اچھا تعلق تھا اور جب تک صحت نے اجازت دی جماعتی پروگراموں میں بڑی باقاعدگی سےشامل ہوتے رہے۔ اپنے چندہ جات بھی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ آپ بڑے ملنسار اور شفیق انسان تھے اور ضرور ت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ خلافت سے گہرا تعلق تھا۔ جر منی آکر آپ نے مقامی سطح پر سیکرٹری مال اور سیکرٹری تحریک جدید کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک داماد مکرم رانا امتیاز احمد صاحب اس وقت جماعت Hannover میں سیکرٹری تربیت کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۳۔مکرم رشید محمد صاحب ابن مکرم عطا محمد صاحب ننگل والے (دارالعلوم شرقی ربوہ)

۱۰؍فروری ۲۰۲۶ء کوبقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند بڑے نیک، مخلص اور باوفا انسان تھے۔ آپ نے اپنے محلہ میں سیکرٹری مال کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں چار بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ نرگس کریم صاحبہ اہلیہ مکرم مرزا عبد الکریم صاحب (لاہور)

۳۰؍مارچ ۲۰۲۶ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نمازوں کی پابند، صدقہ و خیرات اور دوسروں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنے والی، بڑی نیک اور خدمت گزار خاتون تھیں۔ جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے جایا کرتی تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

۵۔مکرمہ سیدہ نرجس خاتون صاحبہ (ضلع بہاولپور) والدہ مکرم سید شاہد عباس نقوی صاحب (سڈنی۔آسٹریلیا)

۲۷؍مارچ ۲۰۲۶ء کوبقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ احمدی نہیں تھیں اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ بولنے اور سننے کی صلاحیت سے بچپن سے ہی محروم تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم سید شاہد عباس نقوی صاحب (حال سڈنی آسٹریلیا) احمدی ہیں۔ مرحومہ نے بیعت کے دن سے لے کر آخری وقت تک کبھی بھی اپنے اس بیٹے کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس کی ڈھال بنی رہیں۔ آپ کے بیٹے کا کہنا ہے کہ میرا ایمان ہے کہ میری والدہ نے امام الزمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہچان اور مان لیا تھا اگر وہ بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم نہ ہوتیں تو وہ حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کو پہچاننے اور ماننے کا زبانی اقرار بھی ضرور کرتیں۔

۶۔عزیزہ ملیحہ قدوس بنت مکرم عطاء القدوس صاحب (آف کامران شوز سٹور ربوہ)

۷؍مارچ ۲۰۲۶ء کوچودہ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ تحریک وقف نو میں شامل تھی اوربڑی نیک اور فرمانبردار تھی۔پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں۔ مرحومہ مکرم عبدالغفور نسیم صاحب (کامران شوز سٹور ربوہ) کی پوتی اورمکرم نعیم احمد صاحب (نعیم آپٹیکوز فیصل آباد) کی نواسی تھی۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button