متفرق مضامین

دریائے حمزہ۔ زیرِ زمین بہنے والا دنیا سے پوشیدہ دریا

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ’’یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں اُس (سامان) کے ساتھ چلتی ہیں جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کے مُردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیا اور اُس میں ہر قسم کے چلنے پھرنے والے جاندار پھیلائے اور اسی طرح ہواؤں کے رخ بدل بدل کر چلانے میں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، عقل کرنے والی قوم کے لئے نشانات ہیں۔ (البقرہ:۱۶۵)

زمین اپنے سب سے گہرے راز آسمانوں میں نہیں بلکہ اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہے اور یہ حقیقت سب سے زیادہ ڈرامائی انداز میں دریائے ایمازون (Amazon River) کے سائے میں ظاہر ہوتی ہے، جہاں زمین کی گہرائیوں میں ایک خاموش، نظر نہ آنے والا دریا بہ رہا ہے۔ یہ پوشیدہ دھارا، جسے دریائے حمزہ Hamza River یا Rio Hamzaکہا جاتا ہے، ہمارے دریاؤں، جغرافیہ اور زمین کی ساخت کے بارے میں تصورات کو چیلنج کرتا ہے۔

صدیوں سے دریائے ایمیزون کو دنیا کے سب سے طاقتور اور حیرت انگیز دریاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً ۶۴۰۰کلومیٹر طویل یہ دریا دنیا میں سب سے زیادہ پانی بہاتا ہے اور بے شمار جانداروں اور گھنے جنگلات کو زندگی دیتا ہے۔ اس کا منظر انتہائی شاندار ہے۔ گھنے جنگلات، تیز بہاؤ، اور حیرت انگیز حیاتیاتی تنوع۔ لیکن اس ظاہری شان کے نیچے ایک اور بھی پراسرار حقیقت چھپی ہوئی ہے: زمین کے ہزاروں میٹر نیچے بہنے والا ایک سست رفتار دریا۔

حمزہ دریا عام دریاؤں کی طرح نہیں ہے۔ جہاں ایمیزون تیزی اور طاقت کے ساتھ بہتا ہے، وہیں حمزہ دریا انتہائی سست رفتار سے حرکت کرتا ہے، صرف چند میٹر سالانہ۔ یہ زمین کی سطح سے تقریباً چار ہزار میٹر نیچے واقع ہے اور چٹانوں کے مسام دار حصوں میں سے گزرتا ہے۔ یہ کوئی واضح راستہ نہیں بناتا بلکہ مٹی اور چٹانوں کے درمیان پھیل کر بہتا ہے، جیسے ایک خاموش سایہ۔

اس حیرت انگیز دریافت کا آغاز کسی مہم جوئی سے نہیں بلکہ سائنسی تحقیق سے ہوا۔ ۲۰۱۱ء میں، ماہرین نے ایمیزون کے علاقے میں تیل کے کنوؤں کے درجہ حرارت کا مطالعہ کرتے ہوئے غیر معمولی تبدیلیاں نوٹ کیں۔ ان تبدیلیوں نے اشارہ دیا کہ زمین کی گہرائیوں میں پانی حرکت کر رہا ہے۔ اس دریا کا نام ایک ہندوستانی سائنسدان پروفیسر Valiya Mannathal Hamza کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی۔ Prof. Hamza کو برازیل کے نیشنل آبزرویٹری میں جیو فزکس کی اسپیشلائزیشن میں مستقل پروفیسر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔

دریائے حمزہ کی سب سے حیران کن بات اس کا حجم ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بھی تقریباً ایمیزون جتنا ہی طویل ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بہتا ہے۔ مگر جہاں ایمیزون کی چوڑائی بعض جگہوں پر سو کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے، وہاں حمزہ دریا اس سے بھی زیادہ وسیع ہو سکتا ہے—سینکڑوں کلومیٹر تک۔ اس کے باوجود، اس میں پانی کی مقدار کم ہے کیونکہ اس کا بہاؤ انتہائی سست اور زیر زمین ہے۔

یہ دریافت سائنسدانوں کو پانی کے نظام کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم عام طور پر دریاؤں کو زمین کی سطح پر بہنے والے پانی کے طور پر سمجھتے ہیں، لیکن حمزہ دریا ظاہر کرتا ہے کہ زمین کے اندر بھی پانی کے پیچیدہ نظام موجود ہیں، جو لاکھوں سال میں تشکیل پاتے ہیں۔

اس کا تعلق زمین کی قدیم تاریخ سے بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق، یہ دریا قدیم ارضیاتی عمل کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جیسے ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت یا مٹی اور چٹانوں کا طویل عرصے میں جمع ہونا۔ اس کی سست رفتار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو وقت کے ساتھ خاموشی سے تشکیل پایا۔

حمزہ دریا ہمیں ایک گہرا سبق بھی دیتا ہے کہ ہر عظمت نظر آنے والی نہیں ہوتی۔ جہاں دریائے ایمیزون اپنی طاقت سے دنیا کو متاثر کرتا ہے، وہیں حمزہ دریا خاموشی سے اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے۔اس کے ماحولیاتی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ دریا براہ راست جانداروں کو سہارا نہیں دیتا، مگر یہ زیر زمین پانی کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور ایمیزون کے پورے خطے کے استحکام میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

ابھی بھی اس دریا کے بارے میں بہت کچھ نامعلوم ہے۔ اس کی درست حدود، رفتار اور مکمل ساخت ابھی تحقیق کا موضوع ہیں۔ چونکہ یہ زمین کے اندر ہے، اس لیے اس کا مطالعہ مشکل ہے اور جدید سائنسی طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔دریائے حمزہ کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم اپنی ہی زمین کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود، ایسے راز اب بھی موجود ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ جب سائنس زمین کی گہرائیوں کو مزید کھوجے گی، تو حمزہ دریا ایک علامت کے طور پر سامنے آئے گا۔ایک خاموش مگر عظیم حقیقت، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زمین ہماری سوچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پراسرار ہے۔

پس زمین وآسمان کی پیدائش میں غور فکر کرنے کے لیے وسیع میدان موجود ہے اور بطور مسلمان اس میدان میں آگے آنے کی ضرورت ہے۔

(ابو الفارس محمود)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: نونی پھل: قدرتی شفا کا خزانہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button