حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں

(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)

(گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۴؍جون ۲۰۲۶)

احمدی ڈاکٹر وقف کریں

حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ بھی یتیموں کی خبرگیری کی طرف بہت توجہ دیتے تھے اور دارالیتامیٰ میں اتنے یتیم تھے، ’’دارالشیوخ‘‘ کہلاتا تھا توان کے بارہ میں روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ بخار میں آرام فرما رہے تھے اور شدید بخار تھا۔ نقاہت تھی ، کمزور ی تھی۔ کارکن نے آ کر کہا کہ کھانے کے لئے جنس کی کمی ہے اور کہیں سے انتظام نہیں ہو رہا۔ لڑکوں نے صبح سے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوا۔ آپ نے فرمایا فوراً تانگہ لے کر آئو اور تانگے میں بیٹھ کر مخیر حضرات کے گھروں میں گئے اور جنس اکٹھی کی اورپھر ان بچوں کے کھانے کا انتظام ہوا۔ تو یہ جذبے تھے ہمارے بزرگوں کے کہ بخار کی حالت میں بھی اپنے آرام کو قربان کیا اور یتیم بچوں کی خاطر گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ اوریہ ایسا کیوں نہ ہوتا۔ آپ کو تو اپنے آقا ﷺکی یہ خوشخبری نظروںکے سامنے تھی کہ مَیں اور یتیم کی پرورش کرنے والا اس طرح جنت میں ساتھ ساتھ ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں ہوتی ہیں۔ شہادت کی اور درمیانی انگلی آپ نے اکٹھی کی۔ تو یہ نمونے تھے ہمارے بزرگوں کے۔

پھر حضرت حافظ معین الدین صاحب ؓکے بارہ میں روایت آتی ہے کہ آپ کو نظر نہیں آتا تھا ، آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سرد رات میں جب کہ قادیان کی کچی گلیوں میں سخت کیچڑ تھا ، بہت مشکل سے گرتے پڑتے کہیں جارہے تھے۔ ایک دوست نے پوچھا تو فرمایابھائی یہاں ایک کُتیا نے بچے دیئے ہیں۔ میرے پاس ایک روٹی پڑی تھی۔ مَیں نے کہا کہ جھڑی کے دن ہیں یعنی بارش ہو رہی ہے اس کو ہی ڈال دوں۔ اور یہ بھی سنت کی پیروی تھی جو حافظ صاحب نے کی کہ جانوروں پر بھی رحم کرو۔ اوریاد رکھو وہ واقعہ جب کسی کنوئیں میں اتر کر ، اپنے جوتے میں پانی بھرکر کتّے کو پانی پلایا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کے عو ض اسے بخش دیا۔ اس پرصحابہ بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ کیاجانوروں کی وجہ سے بھی اجر ملے گا۔ تو آپﷺنے فرمایا تھا کہ ہاں ہر ذی روح اور جاندار کے ساتھ نیکی اوراحسان کا اجر ملتاہے۔ (تلخیص از اصحاب احمد جلد ۱۳۔ صفحہ۲۹۶۔ مطبوعہ ۱۹۶۷ء)

پھر ایک واقعہ ہے ایک احمدی حضرت نور محمد صاحب کا۔ ’’سخت سردی کا موسم تھا۔ اور آپ کے پاس نہ کوٹ تھا نہ کمبل۔ صرف اوپر نیچے دو قمیصیں پہن رکھی تھیں کہ گاڑی میں سوار تھے۔ ایک معذور بوڑھا ننگے بدن کانپتا ہوا نظر آیا۔ اسی وقت اپنی ایک قمیص اتار کر اسے پہنادی۔ ایک سکھ دوست بھی ساتھ سفر کر رہاتھا وہ یہ دیکھ کر کہنے لگا: ’’بھائیاجی ہُن تہاڈاتے بیڑا پار ہوجائے گا، آپاں داپتہ نئیں کی بنے؟‘‘ (تو یہ نمونے تھے)۔ پھرچند دن بعد یوں ہؤا کہ یہی نور محمد صاحب ایک نیا کمبل اوڑھ کر بیت الذکر مغلپورہ میں نماز فجر کے لئے آئے تو دیکھا کہ فتح دین نامی ایک شخص جو کسی وقت بہت امیر تھا بیماری اور افلاس کے مارے ہوئے سردی سے کانپ رہے تھے۔ تو نور محمد صاحب نے فوراً اپنا نیا کمبل اتارا اور اسے اوڑھا دیا‘‘۔ (ملخص از روح پرور یادیں۔ صفحہ۶۸۷۔ طبع اوّل)

پھر ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے وقت لاکھوں لٹے پٹے مہاجر لوگ قافلوں کی صورت میں قادیان کا رُخ کرتے تھے اور اس وقت انتہائی برے حالات تھے۔ مسلمانوں کی عورتوں کی عزت و حرمت کی کوئی ضمانت نہیں تھی اور سب مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ قادیان پہنچ جائیں تو ہم محفوظ ہو جائیں گے۔ تو اس وقت بھی جو بھی جماعت کے افراد وہاں موجود تھے اور اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو وہاں انچارج بنایا ہوا تھاتو سب آنے والوں کو جو بڑی کسمپرسی کی حالت میں وہاں پہنچے تھے۔ بعض کپڑوں کے بھی بغیر تھے تو حضور نے سب سے پہلے اپنے گھر کے ، خاندان والوں کے بکسوں سے کپڑے نکالے اور پھر ان کو دیئے۔ پھر وہیں سے قافلے ایک انتظام کے تحت روانہ ہوئے اور پاکستان پہنچتے رہے اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے محفوظ طریقے سے پہنچتے رہے۔ اور احمدیوں نے اپنی جانوں کو قربان کر کے ان لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی۔

حضرت اقد س مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں ایک یہ شرط بھی ہے کہ ہم اب اس عہد کے ساتھ جماعت میں شامل ہوتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اب ہمارا اپنا کچھ نہیں رہا۔ اب سارے رشتے اور تمام تعلقات صرف اس وقت تک ہیں جب تک کہ وہ نظام جماعت اور حضور اقدس کی ذات کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کوئی رشتہ ، کوئی تعلق ہمیں حضور علیہ السلام سے دور نہیں لے جا سکتا۔ ہم تو اُس دَر کے فقیر ہیں اور یہی ہمیں مقدم ہے۔ پھراس عہد کو نبھایا گیا اور خوب نبھایا۔ اس کی بھی چند مثالیںپیش کرتاہوں اور اکثر ایسے ہیں جن کو زمانے کے امام نے خود اپنے الفاظ میں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’ایسا ہی ہمارے دلی محب مولوی محمد احسن صاحب امروہی جو اس سلسلہ کی تائید کے لئے عمدہ عمدہ تالیفات میں سرگرم ہیں اور صاحبزادہ پیر جی سراج الحق صاحب نے تو ہزاروں مریدوں سے قطع تعلق کرکے اس جگہ کی درویشانہ زندگی قبول کی۔ اور میاں عبداللہ صاحب سنوریؔ اور مولوی برہان الدین صاحب جہلمی ، اور مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی اور قاضی ضیاءالدین صاحب قاضی کوٹی اورمنشی چوہدر ی نبی بخش صاحب بٹالہ ضلع گورداسپورہ اور منشی جلال الدین صاحب یلانی وغیرہ احباب اپنی اپنی طاقت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ مَیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتاہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیرالدین اور امام الدین کشمیری میرے گائوں سے قریب رہنے والے ہیں۔ وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سوروپیہ دے گیاکہ مَیں چاہتاہوں کہ یہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔ وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیاہوگا مگر للّہی جوش نے خدا کی رضا کاجوش دلایا۔‘‘ (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم۔ صفحہ ۲۹-۳۰ حاشیہ۔ روحانی خزائن۔ جلدنمبر۱۱۔ صفحہ ۳۱۳-۳۱۴ حاشیہ)

پھر آپ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ کے متعلق فرماتے ہیں: ’’کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانایہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں دیکھی …جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں‘‘۔ (نشان آسمانی۔ روحانی خزائن۔ جلد ۴۔ صفحہ۴۰۷)

پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ، مولانانورالدین صاحب نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں لکھا کہ : ’’میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے، میرا نہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجا ئے تو میں مراد کو پہنچ گیا‘‘۔ (فتح اسلام۔ صفحہ ۶۱۔ روحانی خزائن۔ جلد۳۔ صفحہ ۳۶)

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۵۸تا۲۶۳)

مزید پڑھیں: حضرت امام حسینؓ…سردارانِ بہشت میں سے ہیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button