ساؤ پاؤلو (برازیل)کے قریبی شہر Guarujá میں پیس سمپوزیم کا انعقاد

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ برازیل کو مورخہ ۶؍اپریل ۲۰۲۶ء کو شہر Guarujá میں واقع کونسل ہاؤس میں ایک پیس سمپوزیم منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
اس پروگرام میں شہر کی متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی جن میں کونسل ہاؤس کے صدر اور نائب صدر، سیکرٹری برائے کھیل، سیکرٹری ثقافت، سیکرٹری دفاع و انسانی حقوق کی نائبین، شہر کی پولیس کے چیف کمانڈر اور ان کے نائب، بین المذاہب فورم کے نائب صدر، مختلف مذاہب کے چار مذہبی راہنما، نیز احمدی اور نومبائع احباب شامل تھے۔
چند مذہبی راہنماؤں اور خصوصی مہمانوں کو اظہار خیال کا موقع بھی دیا گیا۔ مقررین نے جماعت احمدیہ کی امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرام میں شرکت ان کے لیے باعث فخر ہے اور وہ امن کے فروغ کے لیے جماعت احمدیہ کی کاوشوں میں اپنی شرکت کو بھی سعادت سمجھتے ہیں۔
شہر کی ایک یونین کے صدر نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ انہوں نے آئندہ ایسے پروگرام اپنے ہیڈکوارٹر میں منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
خاکسار (مبلغ سلسلہ) نے اپنی تقریر میں قرآن کریم اور آنحضرتﷺ کی تعلیمات و اسوۂ حسنہ کی روشنی میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے انصاف کا ہونا کس قدر ضروری ہے۔ دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا بعد ازاں حاضرین کی تواضع کے لیے ریفریشمنٹ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
پروگرام کے داخلی دروازے کے سامنے قرآن کریم کی نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نیز بڑے بینرز کے ذریعے اسلام اور جماعت احمدیہ کا تعارف اور اسلامی تعلیمات پیش کی گئیں جو شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز رہیں۔

اس پروگرام میں چند افغان احمدیوں کو بھی شرکت کی توفیق ملی جو چند روز قبل ہی برازیل پہنچے تھے۔ اس نوعیت کے تبلیغی پروگرام میں شرکت ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا جس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ اسی موقع پر مہمانوں کے سامنے ان افغان احمدیوں کی مذہبی آزادی کے لیے قربانیوں اور مذہبی بنیادوں پر جیلوں اور تشدد کا سامنا کرنے کے واقعات بھی بیان کیے گئے جن سے حاضرین خاصے متاثر ہوئے۔
پروگرام میں دو ٹی وی چینلز کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنے اپنے چینلز پر اس کی رپورٹس نشر کیں۔ علاوہ ازیں شہر کے ایک بڑے اخبار نے اس کی خبر شائع کی جبکہ ایک آن لائن نیوز پلیٹ فارم جس کے تقریباً چار لاکھ followers ہیں، نے بھی پروگرام کی کوریج کرتے ہوئے اس کی خبر اپنے پلیٹ فارم پر شائع کی۔
(رپورٹ: حافظ احتشام احمد مومن۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
