صداقتِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند دلائل
(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۱۷؍نومبر ۲۰۱۷ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بےشمار تحریروں اور تقریروں اور مجالس میں اپنے دعوے کے سچے ہونے کی دلیلیں دیں۔ زمانے کی ضرورت کے مطابق مسیح موعود کے آنے اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے آپ کے حق میں ہونے کے بارے میں بتایا۔ لیکن جو صاف دل تھے ان کو تو سمجھ آ گئی اور جن کے دلوں میں بُغض تھا، کینہ تھا، مفاد پرستی تھی، ان کو سمجھ نہیں آئی۔
اس وقت مَیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں ہی بعض دلیلیں بیان کروں گا جو آپ نے بیان فرمائی ہیں۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اسلام میں بدعات داخل ہو چکی ہیں۔ دین اپنی اصلی حالت میں نہیں رہا۔ علماء اور مشائخ نے اپنی اپنی توجیہات کر لی ہیں اور بے شمار بدعات مسلمانوں میں داخل ہو چکی ہیں۔ عملاً مسلمان دین سے دُور جا چکے ہیں اور غیر مذاہب خصوصاً عیسائی پادری بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ اسلام پر حملے کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی آپ نے فرمایا کہ ان حالات کی پیشگوئی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے کی تھی اور اسلام کی نشا ٔۃ ثانیہ کے لئے ایک شخص کے بھیجنے کی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے پیشگوئی کی تھی۔ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:’’اب کوئی ہمارے دعویٰ کو چھوڑے اور الگ رہنے دے مگر ان باتوں کو سوچ کر جواب دے۔ میری تکذیب کرو گے تو اسلام کو ہاتھ سے تمہیں دینا پڑے گا۔‘‘(مجھے جھوٹا کہو گے تو پھر تم اسلام سے بھی دور ہٹتے ہو) فرمایا کہ’’مگر مَیں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوئی کیونکہ عین ضرورت کے وقت خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سچی ہیں۔ ظالم طبع ہے وہ انسان جو اِن کی تکذیب کرتا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۶-۷۔ ایڈیشن ۱۹۸۵ء مطبوعہ انگلستان)
آپ نے ۱۹۰۳ء میں یہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ میرے دعوے کو ۲۲برس گزر چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات میرے ساتھ ہیں۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ کی تائیدات میرے ساتھ کیوں ہیں۔ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۷۔ ایڈیشن ۱۹۸۵ء مطبوعہ انگلستان)
دوسرے آپ نے فرمایا کہ زمانے کی ضرورت ہے اور سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس زمانے میں مسیح نے آنا تھا اور جب ضرورت ہے تو اگر میں نہیں تو کوئی دوسرا پیش کرو۔ بہرحال کوئی مصلح مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آنا چاہئے کیونکہ زمانے میں فساد انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور مسلمانوں میں بھی فساد انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ پس اگر مجھے جھوٹا کہنا ہے تو اس کی دو ہی صورتیں بنیں گی یا تو کوئی دوسرا مصلح پیش کرو کیونکہ زمانہ چاہتا ہے کہ کوئی مصلح آئے۔ یا اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی تکذیب کرو۔ کہو کہ سارے وعدے جھوٹے تھے۔ ایسے بگڑے ہوئے حالات میں کسی مصلح کے بھیجنے کا جو وعدہ تھا وہ غلط تھا۔ آپ نے فرمایا کہ حفاظت دین کی ضرورت بہرحال ہے۔
فرمایا کہ ’’بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔ (آپ مثال دے رہے ہیں کہ) ’’دیکھوجو شخص باغ لگاتا ہے یا عمارت بناتا ہے تو کیا اُس کا فرض نہیں ہوتا یا وہ نہیں چاہتا کہ اس کی حفاظت اور دشمنوں کی دست برد سے بچانے کے لئے ہر طرح کوشش کرے؟ باغات کے گرد کیسے کیسے احاطے حفاظت کے لئے بنائے جاتے ہیں اور مکانات کو آتشزدگیوں سے بچانے کے لئے نئے نئے مصالحے تیار ہوتے ہیں اور بجلی سے بچانے کے لئے تاریں لگائی جاتی ہیں۔ یہ امور اُس فطرت کو ظاہر کرتے ہیں جو بالطبع حفاظت کے لئے انسانوں میں ہے۔ پھر کیا اللہ تعالیٰ کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کرے؟ بےشک حفاظت کرتا ہے اور اس نے ہر بلا کے وقت اپنے دین کو بچایا ہے۔ اب بھی جبکہ ضرورت پڑی‘‘ (آپ فرماتے ہیں ) ’’اُس نے مجھے اِسی لئے بھیجا ہے۔ ہاں یہ امر حفاظت کا مشکوک ہو سکتا یا اس کا انکار ہو سکتا تھا اگر حالات اور ضرورتیں اس کی مؤیّدنہ ہوتیں۔‘‘ (اگر حالات اور ہوتے۔ ضرورت اس کی تائیدنہ کر رہی ہوتی تو تم کہہ سکتے تھے کہ مَیں غلط وقت پہ آیا ہوں۔) فرماتے ہیں ’’مگر کئی کروڑ کتابیں اسلام کے ردّ میں شائع ہو چکی ہیں اور ان اشتہاروں اور دو ورقہ رسالوں کا تو شمار ہی نہیں جو ہر روز اور ہفتہ وار اور ماہوار پادریوں کی طرف سے شائع ہوتے ہیں۔ ان گالیوں کو اگر جمع کیا جاوے جو ہمارے ملک کے مرتد عیسائیوں نے سید المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی پاک ازواج کی نسبت شائع کی ہیں تو کئی کوٹھے ان کتابوں سے بھر سکتے ہیں اور اگر ان کو ایک دوسرے سے ملا کر رکھا جائے تو وہ کئی میل تک پہنچ جائیں …۔‘‘ (عمادالدین ایک مسلمان شخص تھا جو بعد میں عیسائی ہو کے پادری بن گیا فرمایا کہ) ’’عمادالدین کی تحریروں کے خطرناک ہونے کا بعض انصاف پسند عیسائیوں کو بھی اعتراف ہے۔‘‘ (عیسائی بھی یہ کہتے ہیں کہ اس کی بڑی خطرناک تحریریں ہیں۔) ’’چنانچہ (اس زمانے میں ) لکھنؤ سے جو ایک اخبار شمس الاخبار نکلا کرتا تھا۔ اس میں اس کی بعض کتابوں پر یہ رائے لکھی گئی تھی کہ اگر ہندوستان میں پھر کبھی غدر ہوگا تو ایسی تحریروں سے ہوگا‘‘ (جو یہ پادری لکھتا ہے۔) فرمایا کہ ’’ایسی حالتوں میں بھی کہتے ہیں کہ اسلام کا کیا بگڑا ہے؟ اس قسم کی باتیں وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کو یا تو اسلام سے کوئی تعلق اور دردنہیں اور یا وہ لوگ جنہوں نے حجروں کی تاریکی میں پرورش پائی ہے اور ان کو باہر کی دنیا کی کچھ خبر نہیں ہے۔ پس ایسے لوگ اگر ہیں تو ان کی کچھ پرواہ نہیں۔ ہاں وہ لوگ جو نورِ قلب رکھتے ہیں جن کو اسلام کے ساتھ محبت اور تعلق ہے اور زمانہ کے حالات سے آشنا ہیں ان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ یہ وقت کسی عظیم الشان مصلح کا وقت ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۷-۸۔ ایڈیشن ۱۹۸۵ء مطبوعہ انگلستان)
اور پھر مصلح کے آنے کے لئے شہادتوں کا ذکر فرماتے ہوئے ایک زبردست شہادت آپ نے یہ بیان فرمائی۔ مختلف باتیں بیان کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’…اور زبردست شہادت میں اَور پیش کرتا ہوں اور وہ سورۃ نور میں وعدہ استخلاف ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (النور: ۵۶)‘‘ فرمایا کہ ’’اس آیت میں وعدۂ استخلاف کے موافق جو خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ہوں گے وہ پہلے خلیفوں کی طرح ہوں گے۔ اسی طرح قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیلِ موسیٰ فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا۔ اِنَّآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاھِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا۔ (المزمل: ۱۶) اور‘‘ (فرماتے ہیں کہ) ’’آپ مثیل موسیٰ استثناء کی پیشگوئی کے موافق بھی ہیں۔‘‘ (بائبل میں بھی استثناء میں لکھا ہوا ہے۔) ’’پس اس مماثلت میں جیسےکَمَاکالفظ فرمایا گیا ہے ویسے ہی سورۃ نور میں کَمَا کا لفظ ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مشابہت اور مماثلت تامّہ ہے۔ موسوی سلسلہ کے خلفاء کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر آکر ختم ہو گیا تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔ اس مماثلت کے لحاظ سے کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ چودھویں صدی میں ایک خلیفہ اسی رنگ و قوت کا پیدا ہو جو مسیح سے مماثلت رکھتا ہو اور اس کے قلب اور قدم پر ہو۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس امر کی اَور دوسری شہادتیں اور تائیدیں نہ بھی پیش کرتا تو یہ سلسلہ مماثلت بالطبع چاہتا تھا کہ چودھویں صدی میں عیسوی بروز آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمّت میں ہو ورنہ آپ کی مماثلت میں معاذ اللہ ایک نقص اور ضعف ثابت ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس مماثلت کی تصدیق اور تائید فرمائی بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھایا کہ مثیلِ موسیٰ، موسیٰ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تر ہے۔‘‘ (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ اور تمام انبیاء سے افضل تر ہیں۔) فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآن شریف کے اِحیاء کے لئے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کہلاتی ہے۔‘‘
پھر تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ’’تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اِتمامِ نعمت اور اِکمال الدین ہوا‘‘ (یعنی دین کمال تک پہنچا) ’’تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ اوّل تکمیل ہدایت۔ دوسری تکمیلِ اشاعتِ ہدایت۔‘‘ (یعنی کامل ہدایت ملی۔ ہدایت اپنی تکمیل کو پہنچی اور دوسری اس کی جو اشاعت ہے وہ بھی اپنی تکمیل کو پہنچی۔) فرمایا کہ ’’تکمیلِ ہدایت مِن کُلِّ الوُجوہ آپؐ کی آمد اوّل سے ہوئی اور تکمیلِ اشاعتِ ہدایت آپؐ کی آمد ثانی سے ہوئی۔‘‘ (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شریعت اتری اور تکمیلِ ہدایت ہو گئی اور جو آپ کی آمد ثانی ہونی تھی وہ مسیح موعود جو آپ کا غلامِ صادق آنا تھا اس کے زمانے میں اس کی اشاعت ہونی تھی۔) فرمایا ’’کیونکہ سورۃ جمعہ میں جو اٰخَرِیْنَ مِنْھُمْ والی آیت آپ کے فیض اور تعلیم سے ایک اور قوم کے تیار کرنے کی ہدایت کرتی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایک بعثت اور ہے اور یہ بعثت بروزی رنگ میں ہے جو اِس وقت ہو رہی ہے۔ پس یہ وقت تکمیلِ اشاعتِ ہدایت کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے تمام ذریعے اور سلسلے مکمل ہو رہے ہیں۔ چھاپہ خانوں کی کثرت اور آئے دن ان میں نئی باتوں کا پیدا ہونا۔ ڈاکخانوں، تار برقیوں، ریلوں، جہازوں کا اجراء اور اخبارات کی اشاعت، ان سب امور نے مل ملا کر دنیا کو ایک شہر کے حکم میں کر دیا ہے۔‘‘ (دنیا اکٹھی ہوگئی ہے اور آج اس زمانے میں تو سوشل میڈیا، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن اور مختلف چیزیں وغیرہ سے مزید اکٹھی ہو گئی ہے۔) فرمایا کہ ’’پس یہ ترقیاں بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ترقیاں ہیں کیونکہ اس سے آپؐ کی کامل ہدایت کے کمال کا دوسرا جزو تکمیلِ اشاعتِ ہدایت پورا ہو رہا ہے۔‘‘
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورتوں کے حقوق قائم فرمائے



