جماعت احمدیہ کینیڈا کے اڑتالیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا کامیاب و بابرکت انعقاد
٭… جلسہ سالانہ کے بابرکت موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام
٭…۳۰ممالک کے ۲۴ہزار ۲۸۶؍احباب کی شرکت
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۴۸واں جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء مورخہ ۱۰ تا ۱۲؍جولائی ۲۰۲۶ء، کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو سے متصل مسی ساگا (Mississauga)شہر کے معروف انٹرنیشنل سینٹر میں منعقد ہوا۔
۲۰۰۲ء میں جب یہ سینٹرپہلی دفعہ جلسہ گاہ کے لیے کرایہ پر حاصل کیا گیا تھا تو اس کا ایک ہی ہال مردانہ جلسہ گاہ کی جملہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھا جبکہ مستورات کی پوری جلسہ گاہ بھی ایک ہی ہال میں سما گئی تھی لیکن محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب کئی سالوں سے اس کے تمام سات ہالز حاصل کیے جاتے ہیں، پارکنگ کے تمام دستیاب لاٹس بھی حاصل کرلیے جاتے ہیں، پھر بھی یہ جگہ اب ناکافی ہوچکی ہے لیکن ٹورانٹو اور گردونواح میں اس سے بڑی کوئی عمارت نہیں جہاں جلسہ کی تمام ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جلسہ کا اہتمام کیا جاسکے۔

تیاری جلسہ گاہ: مورخہ ۵؍جولائی بروز اتوار مسجد بیت الاسلام و ایوانِ طاہر Maple,Vaughan میں ایک تقریب مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء کے لیے ڈیوٹیوں کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس تقریب میں افسر جلسہ سالانہ مکرم رضوان میاں صاحب، افسر جلسہ گاہ مکرم شیخ عبدالودود صاحب، افسر خدمت خلق مکرم شاہ رخ عابد صاحب (صدر مجلس خدام الاحمدیہ)، نائب افسران جلسہ سالانہ، ناظمین، نائب ناظمین اور دیگر شعبہ جات کے ذمہ داران شامل ہوئے۔
جلسہ سالانہ کے تمام تر انتظامات ۲۰۰۰ سے زائد کارکنان نے مسلسل وقارِ عمل کرتے ہوئے صرف تین دن کے قلیل وقت میں مکمل کیے۔ ان میں مردانہ و زنانہ جلسہ گاہ، کھانے کے تین ہال، بازار، بُک سٹور، درجنوں انتظامی دفاتر، بیسیوں بوتھس، بازار، ایم ٹی اے سٹوڈیوز، نمائشیں اور پارکنگ سمیت درجنوں دوسرے شعبہ جات کے دفاتر شامل ہیں۔
پہلا دن: مورخہ ۱۰؍جولائی بروز جمعۃالمبارک دن کا آغاز صبح چار بجے مقامی مساجد میں باجماعت نمازِ تہجد سے ہوا جس کے بعد پونے پانچ بجے نماز فجر ادا کی گئی نیز درس دیا گیا۔
ساڑھے بارہ بجے جلسہ گاہ میں احباب جماعت کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے آج کے ارشاد فرمودہ خطبہ جمعہ کی ریکارڈنگ دکھائی اور سنائی گئی۔ جس کے بعد ڈیڑھ بجے مکرم عبدالرشید انور صاحب مربی سلسلہ نے خطبہ جمعہ دیا اور نمازِ جمعہ وعصر پڑھائی۔ بعدازاں دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا۔

سوا تین بجے جلسہ گاہ میں ایک پریس کانفرنس کا انتظام کیا گیا جس میں مقامی، قومی، بین الاقوامی اور مختلف ثقافتی، ٹی وی چینلز، ریڈیو سٹیشنز اور اخبارات کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صحافیوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے مکرم لال خان ملک صاحب امیر جماعت احمدیہ کینیڈا کے ہمراہ مکرم سید عامر سفیر صاحب چیف ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز، افسر صاحب جلسہ سالانہ اور مکرم آصف خان صاحب نیشنل سیکرٹری امورِ خارجیہ موجود تھے۔
پریس کانفرنس کے معاً بعد جلسہ سالانہ کینیڈا کا رسمی آغاز شام ساڑھے چار بجے تقریب پرچم کشائی سے ہوا۔ مکرم سہیل مبارک احمد شرما صاحب مبلغ انچارج و نائب امیر جماعت احمدیہ کینیڈا نے لوائے احمدیت جبکہ مکرم امیر صاحب کینیڈا نے کینیڈین پرچم لہرایا۔
پہلے اجلاس کا آغاز مبلغ انچارج صاحب کی زیر صدارت تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم حافظ منصف اِنعام صاحب نے سورۃالاحزاب کی آیات ۷۰ تا ۷۴ کی تلاوت کی جس کا انگریزی ترجمہ مکرم طٰہٰ احمد صاحب نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم کامران اشرف چودھری صاحب نے پیش کیا۔ بعدازاں مکرم رامِش احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام
اسلام سے نہ بھاگو، راہِ ہدیٰ یہی ہے
اَے سونے والو جاگو! شمس الضحٰی یہی ہے
کے چند اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم ضرغام ناصر صاحب نے پڑھا۔
جماعت احمدیہ کینیڈا کی خوش نصیبی ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت احبابِ جماعت کینیڈا کے لیے اس جلسہ پر ایک خصوصی پیغام ارسال فرمایا۔ مکرم امیر صاحب کینیڈا نے احبابِ جماعت کو یہ بابرکت پیغام بزبان انگریزی پڑھ کر سنایا اور بعدازاں اس کا اردو ترجمہ بھی پیش کیا۔ اس بابرکت پیغام کے بعد مکرم عبدالنور عابد صاحب مربی سلسلہ و پروفیسر جامعہ احمدیہ کینیڈا نے ’’قبولیتِ دُعا: ہستی باری تعالیٰ کے موجود ہونے کی زبردست دلیل‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ اگلی تقریر مکرم اعزاز احمد خان صاحب مربی سلسلہ نے ’’حریت انسانی کا قائم کرنے والا رسولﷺ‘‘ کے موضوع پر انگریزی میں کی۔ آج کی آخری تقریر صدر مجلس نے ’’سچائی: پُر امن معاشرے کی بنیاد‘‘ کے موضوع پر کی۔ چند اعلانات اور دُعا کےبعد حاضرین کھانے کے ہال اور مارکیوں میں تشریف لے گئے۔

دوسرا دن: جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا آغاز صبح چار بجے مقامی مساجد اور نماز سینٹرز میں نمازِ تہجد سے ہوا، جس کے بعد پونے پانچ بجے نمازِ فجر ادا کی گئی اور درس کا اہتمام کیا گیا۔
آج پہلے اجلاس کا آغاز، زیرِصدارت مکرم ہادی علی چودھری صاحب نائب امیر جماعت کینیڈا، تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم سید مبشر احمد صاحب نے سورۃ الحجرات کی آیات ۱۲ تا ۱۴ کی تلاوت کی، جس کا انگریزی ترجمہ مکرم عمر عبداللہ چودھری صاحب نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم انیق احمد صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم عاقِل بٹ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ منظوم کلام
تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو
کبر وغرور و بخل کی عادت کو چھوڑ دو
سے چنیدہ اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم کامران راجپوت صاحب نے پیش کیا۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم زبیر افضل صاحب، ایڈیشنل سیکرٹری تربیت و وقفِ جدید نو مبائعین، نے ’’مصروف زندگی میں پانچ وقت کی نماز:بوجھ یا باعثِ برکت؟‘‘ کے عنوان پر کی۔ بعد ازاں مکرم نجیب اللہ ایاز صاحب مربی سلسلہ نے ’’تجسس اور غیبت: معاشرتی بدامنی کی جڑ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ اس تقریر کے بعد مکرم عبدالسمیع گوندل صاحب مربی سلسلہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل منظوم کلام ترنم سے سنایا
دو گھڑی صبر سے کام لو ساتھیو! آفتِ ظلمت و جور ٹل جائے گی
آہِ مومن سے ٹکرا کے طوفان کا، رُخ پلٹ جائے گا، رُت بدل جائے گی
بعدازاں مکرم عمیر خان صاحب مربی سلسلہ نے ’’اسلام میں پاکدامنی اور حیا کا تصور‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ اس اجلاس کی آخری تقریر صدر مجلس نے ’’خلافتِ احمدیہ: اسلام کی اخلاقی اور روحانی اقدار کی محافظ‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس تقریر کے بعد کھانے کا وقفہ ہوا۔ اس وقفہ میں مختلف پروفیشنل ایسوسی ایشنز کے اجلاسات بھی منعقد ہوئے۔
تیسرا اجلاس: جلسہ سالانہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ ’’جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا اس جلسہ میں اس کے لیے دعائے مغفرت کی جائے گی۔‘‘ چنانچہ جلسہ سالانہ۲۰۲۵ء سے جلسہ سالانہ۲۰۲۶ء کے دوران وفات پاجانے والے احبابِ جماعت کے نام اسکرین پر دکھائے گئے۔ ۴ بجے نمازِ ظہرو عصر ادا کی گئی جس کے بعد مولانا داؤد احمد حنیف صاحب سابق پرنسپل جامعہ احمدیہ کینیڈا کی زیرِ صدارت جلسہ سالانہ کے تیسرے اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا۔ مکرم Ismail Afolabilصاحب نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیات ۳۵ تا ۴۰ کی تلاوت کی، جس کا انگریزی ترجمہ مکرم Ishaq Fonseca صاحب مربی سلسلہ نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم نوین انجم صاحب اور فرانسیسی ترجمہ مکرم نبیل احمد مرزا صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔
اس کے بعد مکرم مدثر احمد شمیم صاحب نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کے منظوم کلام
عہد شکنی نہ کرو، اہلِ وفا ہو جاؤ
اہلِ شیطاں نہ بنو، اہلِ خدا ہو جاؤ
سے چند اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم نور چودھری صاحب نے پیش کیا۔
جلسہ سالانہ کے اس اجلاس میں ہرطبقۂ زندگی سے مہمان بھی تشریف لاتے ہیں۔ ان مہمانوں میں وفاقی و صوبائی وزرا، قومی و صوبائی پارلیمنٹ ممبرز، اپوزیشن لیڈر، کئی شہروں کے میئرز، کونسلرز، مقامی پولیس، صوبائی پولیس OPP، قومی پولیسRCMP کے اعلیٰ افسران سمیت متعدد معززین شامل تھے۔ مکرم آصف خان صاحب سیکرٹری امورِ خارجیہ جماعت کینیڈا نے چنیدہ مہمانوں کا تعارف کروایا اور چند مہمانوں کو مختصر خطاب کرنے کی دعوت دی۔
سب سے پہلے میئر آف مسی ساگا (Mississauga) Carolyn Parrish تین کونسلرز کے ہمراہ سٹیج پر تشریف لائیں اور مختصر خطاب کیا۔ یاد رہے کہ یہ جلسہ مسی ساگا شہر میں ہی ہورہا ہے۔
جماعت احمدیہ کینیڈا کا مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد بیت السلام شہر ’’وان‘‘ (Vaughan) میں واقع ہے جہاں کے میئر Steven Del Duca چار کونسلرز کے ہمراہ سٹیج پر تشریف لائے اور بڑے خلوص سے کہا کہ وہ جماعت کی خدمات، خصوصاً ہسپتال کی تعمیر کے منصوبے اور ہیومنٹی فرسٹ کی خدمات کا دِل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ٹورانٹو شہر کے شمال میں واقع شہر بریڈفورڈ میں احمدیہ جماعت کینیڈا نے ۲۴۶ ایکڑ کی زمین خریدی ہوئی ہے جہاں پر قبرستان کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے اور مستقبل میں جلسہ گاہ تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔ ان شاءاللہ۔ یہاں کے میئر James Leduc نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ جلسہ مستقبل میں ان کے شہر میں منعقد ہوا کرے گا اور وہ اس کے لیے بہت پُرجوش ہیں۔
برمپٹن شہر میں احمدی احباب کی ایک کثیر تعداد رہتی ہے اور مسجد مبارک بھی یہیں واقع ہے جہاں کئی سرکاری تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔ یہاں کے میئر Patrick Brown پانچ کونسلرز کے ہمراہ سٹیج پر تشریف لائے اور حاضرین سے پُرجوش خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ برمپٹن کے احمدیوں کو جلسہ سالانہ میں شرکت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے مسجد مبارک سے انٹرنیشنل سینٹرتک برمپٹن پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں چلائی جارہی ہیں۔
اس موقع پر مکرم سیکرٹری صاحب نے مزید کئی مہمانوں کا تعارف کروایا نیز ویڈیو پیغامات سنائے گئے،جس کے بعد مکرم ڈاکٹر توصیف خان صاحب، نیشنل سیکرٹری تعلیم، نے ’’قرآنِ مجید میں موجود سائنسی حقائق‘‘ کے موضوع پر تقریر کی اور درجنوں مثالوں سے ان سائنسی ایجادات اور دریافتوں کا ذکر کیا جن کے بارہ میں قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے ہی خبر دے دی تھی۔
اس کے بعد سیکرٹری صاحب امورِ خارجیہ نے مزید چند مہمانوں کا تعارف کروایا اور انہیں خطاب کی دعوت دی۔ Treasury Board کے صدر محترم شفقت علی صاحب نے کئی دوسرے پارلیمنٹ ممبرز کے ہمراہ خطاب کیا اور جماعت احمدیہ کی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا۔ ان کے ہمراہ تشریف لانے والے کینیڈین پارلیمنٹ کے ممبر جناب Yvan Baker جو Parliamentary Friendship Association of The Ahmadiyya Muslim Jamaat کے Co-Chair بھی ہیں، نے حاضرین سے خطاب کیا۔ وہ وزیراعظم کینیڈا جناب Mark Carney کا جماعت احمدیہ کینیڈا کے لیےتحریری پیغام لائے تھے جو انہوں نے صدرِ اجلاس کو پیش کیا۔
اس کے بعد مزید چند ویڈیو پیغامات پیش کیے گئے۔ علاوہ ازیں مزید چند پارلیمنٹ ممبرز سٹیج پر تشریف لائے اور حاضرین سے خطاب کیا۔ بعد ازاں نیشنل ڈیموکریٹک اونٹاریو کی سربراہ اور صوبائی اپوزیشن لیڈر محترمہ Marit Stiles نے بھی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ احمدیہ کی خدمات کا اعتراف کیا۔ Town of Halton Hills کی میئر محترمہ Ann Lawlor نے بھی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ میئر منتخب ہوئیں تو احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ احمدیہ جماعت شہر کے لوگوں کی کیا خدمت کرسکتی ہے؟ میئر صاحبہ نے کہا کہ یہ بات اُن کے لیے حقیقتاً خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ میئر سے کسی چیز کا مطالبہ کرنے کی بجائے اپنی خدمات پیش کی جائیں۔ آخر میں ’’Y‘‘ میڈیا کے سربراہ محترم Yudhvir Jaswal نے بتایا کہ وہ حال ہی میں امام جماعت احمدیہ سے ملاقات کی سعادت حاصل کرنے کے لیے برطانیہ گئے تھے۔ انہوں نے حضورِ انور سے اپنی ملاقات کا انتہائی مثبت اور خوشگوار تجربہ بیان کیا۔
اس کے بعد مکرم فرخ رحمان طاہر صاحب مربی سلسلہ نے ’’خدمت دین کو اک فضلِ الٰہی جانو‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ پھر ڈاکٹر موعود بن طاہر صاحب، صدر احمدیہ مسلم لائرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا، نے قرآنی ارشاد وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا (بنی اسرائیل: ۳۵) یعنی اپنے عہد کو پورا کرو۔ کیونکہ ہر عہد کی نسبت یقیناً ایک نہ ایک دن جواب طلبی ہوگی، کے حوالہ سے تقریر کی۔
اس کے بعد تیسرے اجلاس کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی اور احبابِ جماعت کھانے کے لیے تشریف لے گئے۔
اجلاسِ مستورات
مکرمہ فائزہ ایوب صاحبہ تحریر کرتی ہیں کہ ہفتہ کے روز بعد دوپہر مستورات کے لیے الگ اجلاس منعقد ہوا جس میں بفضل خدا تعالیٰ نوہزار سے زائد حاضری تھی۔ نمازِ ظہر و عصر کے بعد یہ اجلاس ٹھیک چار بج کر ۲۰ منٹ پر تلاوتِ قرآن کریم سے شروع ہوا جو مکرمہ سعدیہ انجم صاحبہ نے پیش کی جس کے بعد مکرمہ عائشہ احمد صاحبہ نے اردو جبکہ مکرمہ مناہل احمد صاحبہ نے انگریزی ترجمہ پیش کیا۔ بعدازاں مکرمہ خولہ منصور رانجھا صاحبہ نے کلام حضرت اقدس مسیح موعودؑ ’’محاسن قرآن کریم‘‘ میں سے چند اشعار پیش کیے۔ جس کے بعد تقریبِ تقسیم انعامات منعقد ہوئی جس میں ۶۰ لجنہ ممبرات کو تعلیمی ایوارڈز دیے گئے۔ مزید برآں، عائشہ اکیڈمی و گرلز حفظ القرآن سکول کینیڈا کی مندرجہ ذیل دو طالبات کو بھی ایوارڈ دیا گیا جنہوں نے اس سال قرآنِ کریم مکمل حفظ کرنے کی سعادت پائی:
۱۔حافظہ عائزہ عرفان صاحبہ
۲۔ حافظہ صلہ چودھری صاحبہ
اس موقع پر محترمہ دُرِّرحمٰن صاحبہ کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے تین سالہ مبشرہ ڈپلومہ برائے Islamic Theology and Comprehensive Studies ۸۶ فیصد نمبروں کے ساتھ مکمل کیا ہے۔
تقریبِ تقسیم انعامات کے بعد محترمہ دانیہ یعقوب صاحبہ، نیشنل صدر احمدیہ مسلم ویمن اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، نے ’’احمدیت ہی حقیقی اسلام کیوں ہے؟‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ بعد ازاں محترمہ امۃ القیوم اعجاز صاحبہ، لوکل صدر احمدیہ ابوڈ آف پیس، نے اردو زبان میں ’’روحانی ترقی کے ذرائع‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ پھر مکرمہ امان اللہ البراقی صاحبہ نے قصیدہ یا عین فیض اللّٰہ والعرفان ترنم سے سنایا۔
بعدازاں Kayla Andersen Read صاحبہ نے ’’اسلام احمدیت کی قبولیت تک میرا روحانی سفر‘‘ کے عنوان سے اپنے روحانی تجربات لجنہ اور ناصرات کو سنائے۔ اس کے بعد محترمہ امتہ السلام ملک صاحبہ نیشنل معاونہ صدر، انچارج وصایا نے ’’صحابیاتؓ کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرو‘‘ کے موضوع پر تقریر کی جس کے بعد محترمہ بارعہ محمود صاحبہ نے درثمین کی نظم ’’بشیر احمد، شریف احمد اور مبارکہ کی آمین‘‘ میں سے چند اشعار ترنم سے پڑھ کر سنائے۔
آج کی آخری تقریر محترمہ نادیہ محمود صاحبہ نے ’’لجنہ اماء اللہ: خلافت کی سفیر‘‘ کے عنوان پر پیش کی۔ بعد ازاں صدر صاحبہ نے اجتماعی دعا کروائی جس کے بعد مستورات کا اجلاس شام چھ بج کر ۵۰ منٹ پر اختتام پذیر ہوگیا اور مردانہ جلسہ گاہ کی کارروائی بذریعہ ویڈیو لنک دیکھی اور سنی گئی۔
جلسہ سالانہ کا تیسرا دن:حسبِ معمول دن کا آغاز صبح چار بجے مقامی مساجد اور نماز سینٹرز میں نمازِ تہجد سے ہوا، جس کے بعد پونے پانچ بجے نمازِ فجر ادا کی گئی اور درس کا اہتمام کیا گیا۔
اختتامی اجلاس گیارہ بجے مکرم امیر صاحب کینیڈا کی زیرصدارت تلاوتِ قرآن کریم سے شروع ہوا۔ حافظ راحت چیمہ صاحب نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیات ۲۴ تا ۲۹ کی تلاوت کی، جس کا انگریزی ترجمہ مکرم وجاہت اللہ خان صاحب نے جبکہ اردو ترجمہ مکرم ناصر محمود احمد صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم سفیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام
خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار
جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اُس پر نثار
کے چند اشعار ترنم سے سنائے جن کا انگریزی ترجمہ مکرم زاہد چودھری صاحب نے پیش کیا۔
اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم طاہر احمد صاحب، نیشنل ایڈیشنل سیکرٹری مال، نے ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کی مالی قربانیاں‘‘ کے عنوان پر کی۔ اس کے بعد علَمِ اِنعامی اور تقسیمِ اسناد کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ کینیڈا نے عَلمِ اِنعامی و اسناد تقسیم کیں۔
مجلس انصار اللہ کینیڈا کی طرف سے سال ۲۰۲۵ء کی بہترین مجالس اور ریجنز میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ مجلس انصاراللہ ’پیس ویلج ویسٹ‘ سال ۲۰۲۵ء کی بہترین مجلس قرار پائی اور علمِ انعامی کی حقدار ٹھہری۔ مجلس انصاراللہ ’پیس ویلج سینٹر ویسٹ‘ دوسری جبکہ مجلس انصاراللہ Emery Village تیسری پوزیشن پر رہیں۔ انصاراللہ کینیڈا کی چھوٹی مجالس میں سے مندرجہ ذیل مجالس نے سال ۲۰۲۵ء میں نمایاں کارکردگی پیش کی: Guelph، Kingston اور Burlington۔
مجلس انصاراللہ کینیڈاکے مندرجہ ذیل ریجنز نے سال ۲۰۲۵ء میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا: پیس ویلج مقامی، ایسٹرن کینیڈا اور ٹورونٹو ویسٹ۔
سال ۲۰۲۴-۲۵ء کے لیے مجلس خدام الاحمدیہ Barrie Southعلمِ انعامی کی حقدار ٹھہری ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت منظوری عطا فرمائی ہے کہ اس سال ستمبر میں مجلس خدام الاحمدیہ یوکے کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضورِ انور کے دستِ مبارک سے عَلمِ اِنعامی وصول کریں۔ مجلس خدام الاحمدیہ Weston Islington نے دوسری جبکہ مجلس خدام الاحمدیہ Guelph نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور قائدین مجلس نے مکرم امیر صاحب سے اسنادِ خوشنودی وصول کیں۔
مندرجہ ذیل ریجنز نے کینیڈا میں پہلی تین پوزیشنز حاصل کیں اور ریجنل قائدین نے مکرم امیر صاحب سے اسناد وصول کیں: ناردن اونٹاریو، ایسٹرن اونٹاریو اور Halton-Niagara۔
سال ۲۰۲۴-۲۵ء کے لیے مجلس اطفال الاحمدیہ Abode of Peace عَلمِ اِنعامی کی حقدار ٹھہری ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہِ شفقت منظوری فرمائی ہے کہ امسال مجلس اطفال الاحمدیہ یوکے کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضورِ انور کے دستِ مبارک سے عَلمِ اِنعامی وصول کریں۔ مجلس اطفال الاحمدیہ Weston Islington نے دوسری جبکہ مجلس اطفال الاحمدیہ Ottawa East نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور ناظمین اطفال نے مکرم امیر صاحب سے اسنادِ خوشنودی وصول کیں۔
مجلس اطفال الاحمدیہ کینیڈا کے مندرجہ ذیل ریجنز نے پہلی تین پوزیشنیں حاصل کیں اور ریجنل ناظمین اطفال الاحمدیہ نے ریجنل قائدین کے ہمراہ مکرم امیر صاحب سے اسنادِ خوشنودی حاصل کیں: Simcoe، GTA سینٹرل اور ویسٹرن بریمٹن۔
مدرسہ حفظ القرآن کے زیر اہتمام اس سال ۷ طلباء نے قرآن کریم کو مکمل حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور مکرم امیر صاحب جماعت کینیڈا نے مکرم حافظ راحت احمد چیمہ صاحب کے ہمراہ درج ذیل حفاظ کو اسناد سے نواز ا:
حافظ مرزاعَفان احمد ولد ڈاکٹر طاہر احمد صاحب، حافظ نُورالدین احمد چودھری ولد مبین احمد صاحب، حافظ اَفروز رَزّاق ولد عبدالرزاق منور صاحب، حافظ تَمثیل احمد ولد مبین احمد صاحب، حافظ فوزان علی سید ولد ظفر علی سید صاحب، حافظ عِباداللہ (یو ایس اے) ولد سمیع اللہ دھاریوال صاحب، حافظ عَطاء الوہاب (یوایس اے) ولد فاتح الدین صاحب۔
آخری دو حفاظ کو گذشتہ ہفتہ جلسہ سالانہ امریکہ کے موقع پر اسناد سے نوازا گیا تھا۔ مدرسہ حفظ القرٓن کینیڈا سے اب تک ۷۸ حفاظ قرآن کریم کو مکمل حفظ کرچکے ہیں۔ الحمدللہ
شعبہ تعلیم کینیڈا کے تحت اس سال ۳۷ طلباء اور ۷۲ طالبات تعلیمی میڈلز اور اسناد کے حقدار قرار پائے ہیں۔ ۶۰ طالبات نے گذشتہ روز جلسہ گاہ مستورات میں میڈلز اور اسناد حاصل کی تھیں۔ جبکہ کچھ طلباء و طالبات نے ایسٹرن کینیڈا کے جلسہ سالانہ کے موقع پر میڈلز اور اسناد وصول پائیں۔ آج موجود طلباء کو مکرم سیکرٹری صاحب تعلیم نے میڈلز پہنائے جبکہ مکرم امیر صاحب کینیڈا نے اسنادِ خوشنودی سے نوازا۔
آج کے اجلاس میں کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورانٹو کی میئر محترمہ Olivia Chow بھی تشریف لائی تھیں۔ انہوں نے اپنے سات منٹ کے خطاب میں جماعت احمدیہ کینیڈا کی خدمات کا بھر پور اعتراف کیا۔ میئر صاحبہ نے کہا کہ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ انسانیت کی خدمت اسلام کی روح ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دوسروں کے لیے سب سے فائدہ مند ہوں۔ یہی عظیم تعلیم اس وسیع کنونشن ہال میں عملاً جلوہ گر ہے اور اس کی روح صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ پورے شہر اور ہمارے ملک میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے۔
میئرصاحبہ نے ایک دن پہلے ٹورانٹو شہر میں ہونے والے ایک میلے میں نفرت کی بناء پر ہونے والے حملے کا ذکر کیا جس میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ میئر صاحبہ نے حاضرینِ جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرہ میں پھیلتی اس طرح کی نفرت کا تریاق صرف آپ لوگ ہیں۔ آپ نے ہی اپنی محبت سے اس نفرت کو ختم کرنا ہے۔
اس سال کا ’’سر محمد ظفر اللہ خان ایوارڈ‘‘ Edmonton-Strathcona کے حلقہ سے منتخب پارلیمنٹ ممبر محترمہ Heather McPherson کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے فلسطین اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کوشش اور محنت کی ہے۔ یہ ایوارڈ اُن کی اِن کوششوں کے اعتراف میں ہے۔ وہ بذاتِ خود جلسہ پر حاضر نہیں ہوسکی تھیں تاہم انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس اعزاز کے لیے جماعتِ احمدیہ کینیڈا کا شکریہ ادا کیا اور چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ کی امن اور انصاف کے لیے کوششوں اور کردار کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ فلسطین کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی اور جماعت احمدیہ کے ساتھ مل کر امن کی کوشش جاری رکھیں گی۔
صوبائی پارلیمنٹ ممبر اور وزیر محترم Stephen Francis Lecce کے حلقہ انتخاب میں جماعتِ احمدیہ کا مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد بیت السلام واقع ہے۔ محترم وزیر نےاپنے دو صوبائی پارلیمنٹ ممبرز کے ہمراہ جلسہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً ایک دہائی سے جلسہ سالانہ میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے شروع میں وہ ہیومینٹی فرسٹ یوکے کے ۳۰ویں یومِ تاسیس میں شامل ہونے کے لیے لندن گئے تھے تو امامِ جماعت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دوسری بار ملنے کا اعزاز پایا۔
اس کے بعد مکرم نوید احمد منگلا صاحب، مربی سلسلہ نے ’’والدین کے حقوق اور ازدواجی ذمہ داریوں میں توازن‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔
جلسہ سالانہ کے دوسرے روز صوبہ اونٹاریو کے وزیراعلیٰ Honorable Premier, Doug Ford کئی صوبائی ممبران پارلیمنٹ کے ہمراہ جلسہ سالانہ میں تشریف لائے تھے اور مکرم امیر صاحب جماعت کینیڈا اور دوسرے عہدیداران کے ساتھ ملاقات کی تھی اور احبابِ جماعت کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام بھی ریکارڈ کروایا تھا۔ اس موقع پر یہ پیغام دکھایا گیا جس میں انہوں نے وعدہ کیا کہ بریڈ فورڈ شہر میں جلسہ گاہ کے لیے خریدی گئی زمین پر جلسہ منعقد کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضوں کو جلد پورا کرنے کے لیے وہ شہری انتظامیہ کے ساتھ مل کر بھرپور کوشش کریں گے۔
جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء کی اختتامی تقریر مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ کینیڈا نے کی۔ آپ نے کہا کہ ہماری اکثریت اس ملک میں ہجرت کرکے آئی ہے۔ ہمارا مقصد دُنیاکمانا نہیں بلکہ اسلام کی سچی تعلیم پھیلانا ہے۔ ہمارا ہر عمل اور فعل اسلام کی حقیقی تعلیم کا عکاس ہونا چاہیے۔
تقریر کے اختتام پر دوپہر دو بجے مکرم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کروائی جس کے ساتھ جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔
جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء میں ۳۰ممالک کے ۲۴ہزار ۲۸۶؍احباب نے شرکت کی جس میں ۱۲ ہزار ۵۷۹ مرد اور ۱۱ ہزار ۷۰۷ مستورات تھیں۔ اس جلسہ پر ۶،۱۷۰ رضاکاروں نے ڈیوٹی دی۔ ایم ٹی اے کے ذریعہ ۸۲ہزار سے زائد لوگوں نے جلسے کی کارروائی دیکھی جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ۱۳ لاکھ ۴۱ ہزار افراد نے جلسے کی کارروائی کے بارہ میں پوسٹس دیکھیں۔
دعا کے بعد نمازِ ظہر و عصر باجماعت ادا کی گئیں جس کے بعد احبابِ جماعت کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔
ایک بہت بڑی تعداد نے بُک اسٹور بھی دیکھا جہاں ۳۰۰سے زائد جماعتی کُتب دستیاب تھیں۔ ایک بڑی مارکی میں ہیومینٹی فرسٹ نے دُنیا میں مشکلات کے شکار ممالک کے مسائل کو آشکار کرنے کے لیے حقیقی اشیاء پر مشتمل، نمائش قائم کی ہوئی تھی۔ احباب اس نمائش سے بہت مستفید ہوئے۔
اس جلسہ پر ریویو آف ریلیجنز نے شعبہ تبلیغ کینیڈا کے تعاون سے ’’Makkah: Journey to the Heart of Islam‘‘ کے موضوع پر ایک نمائش کا اہتمام کیا تھا جس میں مکہ کی تاریخ، بُودوباش، اسلام کی آمد اور اس کے مختلف ادوار دکھائے گئے نیز اس کے علاوہ قرآنِ کریم کے تاریخی نسخے، مختلف خوشبوئیں نیز بیش قیمت اشیاء، مشاہدہ کے لیے رکھی گئی تھیں۔ اس موقع پر مکرم سید عامر سفیر صاحب چیف ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز، جو اس نمائش کا انعقاد کرنے کے لیے خصوصی طور پر لندن یوکے سے کینیڈا تشریف لائے تھے، نے نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کو بتایا کہ حضورِ انور نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگلی نسلیں قادیان واپس جائیں اور وہ جگہیں اور گلیاں دیکھیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گزرتے تھے، توان کو اس ماحول کی سمجھ آئے گی۔اس کےبعد جب حضورِ انور نے رسول اللہﷺ کی سیرت کے بارہ میں خطبات ارشاد فرمائے تو اس سے خاکسار کو خیال آیا کہ ہمیں اُس ماحول کا اُس وقت تک شاید صحیح اندازہ نہ ہوسکے جب تک ہم اُس ماحول کا حصہ نہ ہوں۔ لہذا کوشش کی جائے کہ اُس طرح کا ماحول تیار کیا جائے جس سے مکہ کے قبل از اسلام اور بعد از اسلام کے معاشرہ کا اِدراک ہوسکے۔ تو اس سب کو سمجھنے کے لیے اس نمائش میں اس کی ایک جھلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔
جلسہ کی تمام کارروائی MTA 8 America پر براہ راست نشر کی گئی۔ نیز ایم ٹی اے اسٹوڈیوز سے بھی براہِ راست علمی و تربیتی پروگرامز اور انٹرویوز پیش کیے گئے اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر کارروائی مسلسل پوسٹ ہوتی رہی۔ حاضرین جلسہ کے لیے کارروائی کا رواں ترجمہ اردو، انگریزی ، فرنچ، عربی اور بنگلہ میں پیش کیا جاتا رہا۔
اللہ تعالیٰ یہ جلسہ بابرکت فرمائے۔ اور وہ تمام مقاصد پورے فرمائے جن کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ان جلسوں کا اجرا کیا تھا۔ آمین
(رپورٹ: محمد سلطان ظفر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ کینیڈا ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم
پیارے احبابِ جماعت احمدیہ کینیڈا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا جلسہ سالانہ ۱۰، ۱۱ اور ۱۲؍جولائی ۲۰۲۶ء کو منعقد کررہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے اور تمام شاملین جلسہ کو بے شمار برکات سے نوازے۔
ہر احمدی کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس مقدس مشن کو پورا کرنے کے لیے انتھک کوششیں کرے گا، جس کا پہلا مقصد انسانیت کو اپنے پیدا کرنے والے، یعنی خدائے واحد کی پہچان کروانا اور اس کی عبادت کی طرف بلانا ہے، اور دوسرا مقصد بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنا ہے تاکہ اس زمین پر امن اور صلح قائم ہو سکے۔
اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت، جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی، اسے دوبارہ قائم کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد ۷ صفحہ ۲۷۷، ۲۷۸)
میں آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا ذاتی تعلق پیدا کریں اور بہترین احمدی مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ اپنی دعاؤں میں اضافہ کریں اور اپنے دلوں کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آباد رکھیں، یہ جلسہ آپ کے تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے کیونکہ تقویٰ ہی حقیقی نیکی ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا خوف آپ کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔ درحقیقت آپ کا واحد مقصد اللہ تعالیٰ، جو ہمارا خالق ہے، کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’انسان کو چاہیے کہ روحانی پانی کو تلاش کرے تو وہ اسے ضرور پا لے گا اور روحانی روٹی کو ڈھونڈے تو وہ اسے ضرور دی جائے گی۔ جیسا کہ ظاہری قانون قدرت ہے ویسے ہی باطن میں بھی قانون قدرت ہے لیکن تلاش شرط ہے جو تلاش کرے گا وہ ضرور پا لے گا۔ خدا کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں جو شخص سعی کرے گا خدا تعالیٰ اس سے ضرور راضی ہو جائے گا۔‘‘ (ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۸۰، ۸۱)
کسی بھی احمدی، بلکہ حقیقت میں کسی بھی مسلمان کے لیے سب سے بنیادی فرض اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقوق کا ادا کرنا ہے۔ پس آپ کو اپنی پانچ وقت نمازوں کی ادائیگی میں باقاعدہ ہونا چاہیے۔ مزید برآں، آپ کو نمازیں اللہ تعالیٰ کے حضور کامل اخلاص اور عاجزی کے ساتھ ادا کرنی چاہئیں، نہ کہ جلدی بازی میں محض اس لیے کہ آپ کہہ سکیں کہ آپ نے اپنا فرض پورا کر لیا ہے۔
خاص طور پر جلسے کے دنوں میں، فرائض اور نوافل کے علاوہ، آپ کو کثرت کے ساتھ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے۔ آپ کے خیالات پاکیزہ ہونے چاہئیں اور آپ کی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے۔ ایسا کرنے سے آپ برائیوں سے محفوظ رہیں گے، دراصل عبادت کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر انسان کو باقاعدگی سے فرض نمازیں ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور جب انسان باقاعدگی سے عبادت کرتا ہے تو وہ خود بخود اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔
آپ کو اپنی اصلاح کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے اور تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنے چاہئیں تاکہ آپ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ بن سکیں۔ ایک احمدی مسلمان ہونے کے ناتے، آپ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ آپ نیکی، دیانت داری، امانداری اور سب سے بڑھ کر تقویٰ اور پاکیزگی کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کریں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنے روزمرہ کے رویوں کا خود جائزہ لیں اور اپنے اخلاق اور اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ آپ ان بلند معیاروں کو حاصل کر سکیں جن کی توقع حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کے افراد سے کی تھی۔ آپ کے قول اور فعل میں مطابقت ہونی چاہیے تاکہ آپ اسلام کے حقیقی اور مخلص نمائندے بن سکیں۔
اس دور میں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت احمدیہ جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ پس ہر احمدی کو خلافت کے ساتھ وفاداری، اخلاص اور کامل اطاعت کا تعلق قائم رکھنا چاہیے اور خلیفہ وقت کے ساتھ اپنے محبت اور اخلاص کے تعلق کو مسلسل بڑھاتے رہنا چاہیے۔ یہی ہماری مسلسل ترقی کی کلید ہے اور یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہماری جماعت کو دائمی کامیابیوں کی طرف لے جائے گا۔ اس سلسلہ میں یہ بات یاد رکھیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کامل اطاعت اور فدائیت کا جو عہد ہم نے کیا ہے، اور آپؑ نے اپنے ماننے والوں کے لیے جس گہرے تعلق کو، جو دنیا کے تمام رشتوں اور تعلقات سے بالا تر ہے، ضروری قرار دیا ہے، اسی عزم اور لگن کے ساتھ وہ تعلق خلیفہ وقت کے ساتھ بھی جاری رہنا چاہیے۔ کیونکہ خلافت احمدیہ، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہی روحانی جانشین ہے۔
آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے اس جلسے کی کارروائی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے ایمان و ایقان کو مزید مضبوط کرے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس بات کی توفیق دے کہ آپ اپنی زندگیوں میں ایک حقیقی پاک تبدیلی پیدا کرنے والے ہوں جو آپ کو تقویٰ، نیک اعمال اور اسلام احمدیت اور انسانیت کی خدمت کی طرف گامزن کرنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی بے شمار برکتوں سے نوازے۔
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ کانگو برازاویل کے گامبوما اور اویسو ریجنز کے جلسہ ہائے سالانہ ۲۰۲۶ء



