طوعاًوکرھاً
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے;وَ لِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعاً وَّ کَرْھَاً (الرعد: ١٦) اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں خواہ مرضی سے کریں خواہ مجبوری سے ۔
عرفانِ الٰہی انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔ طوعاً و کرہاً، عبادت انسانی زندگی کا محور ہے۔انسانی روح اپنی تسکین کے لیے کسی نہ کسی اعلیٰ طاقت کی محتاج ہے۔ اگر بندہ اپنے خالق کی عبادت نہیں کرتا تو بھی لا شعوری طور پر کسی نہ کسی کی بندگی کر رہا ہوتا ہے جیسے بت پرستی، شخصیت پرستی، مال یا کوئی اور مادی طاقت کی۔ طوعاً سے مراد خوشی اور دل سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارنا ہے ۔کرہاً یعنی خدا کو مانیں یا نہیں، الٰہیقوانین کے دائرے سے باہر نکلنا ناممکن ہے۔
امرِ واقعہ یہ ہے کہ ملحدین کے پاس کائناتی نظام کے اسرار و رموز کے بارے میں کوئی ٹھوس متفقہ نظریہ نہیں بلکہ وہ سائنسی دریافتوں کے ساتھ اپنے نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ انسانی عقل کے ارتقائی مراحل اور بدلتے زمانی حقائق کی روشنی میں یہ بات انسانی بس سے باہر ہے کہ وہ کوئی ایسے آفاقی اصول و قوانین بنائے جن کی ہمہ گیریت، عالمگیر اور جاودانی ہونے کے ساتھ نقائص اور ٹکراؤ سے پاک ہو۔ ان سب مسائل کا تا ابد حل دین اسلام میں موجود ہے جو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔ مومن ہو یا کافر، اللہ کے تکوینی نظام کے آگے جھکا ہوا ہے۔ کرہاً یعنی مجبوراً اس کی بندگی کر رہا ہے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختار بنایا ہے لیکن قوانین کائنات میں وہ مجبور ہے ۔ یہ انسان کی اپنی بھلائی میں ہے کہ وہ طوعاً یعنی اپنی مرضی اور خوشی سے بندگی کا راستہ اپنائے۔
کرہاً وہ پہلو ہے جہاں انسان کے پاس کوئی اختیار نہیں ۔ اس کا جسمانی نظام اور موت و حیات کے قوانین الٰہی مشیّت کے تابع ہیں۔ ایک ملحد یا منکر بھی اپنے وجود کے حیاتیاتی افعال میں اللہ کے قانون کے سامنے سرتسلیم خَم کیے ہوئے ہے ۔
کائناتی تسبیح کی اصطلاح کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے وجود کی زبان سے اپنے خالق کی گواہی دے رہا ہے ۔ اسی لیےکہتے ہیں کہ کائنات کا مجبورِ فطرت ہونا دراصل خاموش عبادت ہے، جس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ارادی طور پر انکار کے باوجود کوئی بھی وجود یا کوئی ذی روح خدا کی ربوبیت اور اس کے بنائے ہوئے ضابطوں کے دائرے سے باہر نہیں۔
اسلام دینِ فطرت ہے اور ہر انسان فطرتِ صحیحہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں جن و انس کی پیدائش کا مقصد عبادت بیان کیا گیا۔ دنیا کو امتحان گاہ گردانا گیا۔ درسگاہ، دینِ اسلام کہلائی اور قرآن مجید بطور نصاب ودیعت فرمایا گیا۔ روحانی مدارج میں ترقی، سلوک کی راہیں کہلائیں۔ انہی سلوک کی راہوں یعنی صراطِ مستقیم پر چلنے کے آداب کا نام تقویٰ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :” تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پا لیتا ہے۔“ (ملفوظات ۔جلد اول صفحہ ۹۳)
ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے
اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے
یہی اک فخرِ شانِ اولیاء ہے
بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے
(درِثمین)
قرآن مجید کے مطابق ہر نبی کی دعوت کے دو موضوع رہے۔ اول توحید، دوم تقویٰ ۔
تقویٰ کا فلسفہ اس شعور پر مبنی ہے کہ اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے اور ہمیں اپنی ہر نیت و عمل کا حساب دینا ہے۔ انسانی روح اور ضمیر کی بیداری کا نام تقویٰ ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہ اَتْقٰکُم ْ(الحجرات:۱۴) یقیناً تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے ۔
ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار ارشاد فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے۔( صحیح مسلم ۔حدیث٦٥٤١) ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا، محسنین میں شمار ہونے والا، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بنتا ہے۔ (خطبہ جمعہ۳؍ فروری۲۰۱۲ء)
عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ
مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ
(درِثمین)
انسان فطری طور پر معاشرہ اور ایک دوسرے کی مدد کا محتاج ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق جہاں کہیں بھی ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو (جامع الترمذی حدیث ١٩٨٧)اس امر پر دلالت ہے کہ عبادات کے ساتھ زندگی کے تمام معاملات کا تقویٰ سے رنگین ہونا لازم ہے ۔
دینِ اسلام کی اولین ترجیح معاشرے کی ناہمواریوں کو ختم کرتے ہوئے تقویٰ کی بنیادوں پر ایک مثالی اور عدل و انصاف پر مبنی فلاحی ریاست کا قیام و استحکام ہے۔تقویٰ کی تعلیم زمین کے کناروں تک پہنچانے کا بیڑا آج جماعت احمدیہ عالمگیر نے اٹھایا ہے۔ جب انسان تقویٰ سے دور ہوتا ہے تو وہ انصاف کا راستہ چھوڑ دیتا ہے جو بالآخر سماجی بگاڑ، بد امنی حتیٰ کہ جنگ و جدل کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے ۔ الغرض دنیا سے نا انصافی اور ذاتی اغراض کے ناجائز حصول کی روک تھام بجز تقویٰ ناممکن ہے ۔ خلاصہ یہ کہ تقویٰ ہر زمانے کی طرح دورِ حاضر میں بھی دجالی فتنوں سے الٰہی حصارِ عافیت اور راہِ نجات ہے۔
اللہ تعالیٰ سےدعاکہ وہ ہمیں تقویٰ کی باریک راہوں کواختیارکرنےکی توفیق عطافرمائے۔آمین
مزید پڑھیں: مومن اپنے دل کو لغو خیالات اور لغو شغلوں سے پاک کرے – الفَضل انٹرنیشنل



