آنحضورﷺ کے غلام صادق سیدناحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی شفقتوں اور جُود و سخاکا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۳؍جولائی ۲۰۲۶ء
٭… آپؑ کی عطا ایک دریائے بیکراں تھی اور آپؑ کا ہاتھ ابرِ گوہربار تھا برستا تھا اور سیراب کرتا چلا جاتا تھا
٭… وہ حضورؑ کے دروازے پر گیا اور مشک کا سوال کیا، حضورؑ نے فوراً ہی نصف تولہ کے قریب مشک اُس کے حوالے کردی
٭… جو ہم کسی کو دے دیا کرتے ہیں وہ ہم واپس نہیں لیتے (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… ایک دفعہ قحط کا زور ہوا تو حضورؑ نے حکم دیا کہ لنگر میں آٹا پکتا رہے اور روٹی تیار رہے۔ روٹی مانگنے والے کو روٹی دی جائے اور کوئی خالی ہاتھ نہ جائے۔
٭… آخر عمر تک حضورؑ نے مجھ سے کبھی حساب نہیں مانگا اور نہ کبھی ناراض ہوئے (روایت حضرت شیخ حامد علی صاحبؓ)
٭… جب آپؓ(حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحبؓ) نے وہ قرض کا روپیہ واپس بھجوایا تو حضورؑ نے یہ ناپسندکیا اور فرمایا کہ آپ ہمارے روپیہ کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھتے ہیں
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۳؍جولائی ۲۰۲۶ء بمطابق ۳؍وفا ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ۳؍جولائی ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت دانیال تصوّر صاحب (مربی سلسلہ)کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
حضرت مسیح موعودؑ کی شفقتوں اور جُودو سخا کے چند واقعات پیش کروں گا۔
حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ لکھتے ہیں کہ
آپؑ کی عطا ایک دریائے بیکراں تھی اور آپؑ کا ہاتھ ابرِ گوہربار تھا برستا تھا اور سیراب کرتا چلا جاتا تھا
اور یہ سلسلہ رمضان کے مہینے میں بہت بڑھ جاتا تھا۔
عبدالغفار کشمیری صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب اُن کی شادی ہوئی تو حضرت مسیح موعودؑ نے انہیں دو قیمتی زیور دیے اور یہ بات حضورؑ کی بعثت سے پہلے کی ہے جب آپؑ ابھی گوشہ نشینی کی زندگی بسر کرتے تھے۔
والدہ بشیر صاحب بھٹی بیان کرتی ہیں کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ کی شادی کے موقعے پر ایک میراثی عورت ڈھول لےکر آئی اور بجانا شروع کردیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ اسے کہو کہ یہ نہ بجائے اور جو کچھ یہ مانگتی ہے اسے دے دو۔ چنانچہ اسے چار پانچ روپے دے دیے گئے۔ پھر وہ کہنے لگی کہ مجھے سردی لگتی ہے۔ اس پر آپؑ نے اسے ایک رضائی بھی دلوادی۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ سب سے اوّل یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ آپؑ کو کسی قسم کے خاص لباس کا شوق نہیں تھا۔ آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپؑ کے پاس سلےسلائے کپڑے بہت آتے تھے، خاص طور پر کوٹ وغیرہ۔ عمامہ اکثر خود خرید کر باندھتے تھے۔ جس طرح کپڑے تیار ہوتے تھے اسی طرح خرچ بھی ہوتے جاتے تھے۔ (یعنی تبرک مانگنے والوں کو عطا کردیے جاتے تھے۔)
حضرت میر مہدی حسین صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب نے مجھ سے چشمہ مسیحی کا ایک نسخہ طلب کیا۔ مَیں نے جواب دیا کہ حضورؑ نے فرمایا ہے کہ اتنے نسخے دفتر میں موجود ہونے چاہئیں کیونکہ بعض اوقات گورنمنٹ طلب کرتی ہے۔ اب کوئی نسخہ زائد نہیں ہے۔ آپ حضرت صاحب ؑکی خدمت میں لکھ کر عرض کر سکتے ہیں۔ ان کے لکھنے پر حضورؑ نے ایک نسخہ عطا فرمادیا۔
حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؑ کے پاس مشک ہوتا تھا۔ ایک دفعہ مَیں نے عرض کیا کہ حضور! مجھے مشک چاہیے۔ حضورؑ نے اس پر ڈبیہ میرے آگے کردی کہ اس میں سے جتنا چاہیے لے لیں۔ مَیں نے اس میں سے تھوڑا سا اٹھایا تو حضورؑ نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے اور پھر تولہ ڈیڑھ تولہ کے نزدیک مشک حضورؑ نے ازخود مجھے دے دیا۔
آپؑ کے دل میں اپنے دوستوں کے لیے کتنا درد تھا اس کا ایک واقعہ یوں ملتا ہے۔
حضرت حکیم فضل الرحمٰن صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی کو بچہ تولد ہوااور اُس کے ساتویں دن مغرب کے قریب اسے تشنج کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ مَیں مغرب کے بعد حضورؑکے پاس دوڑا گیاحضورؑ نے فرمایا کہ یہ تو بہت خطرناک مرض کا پیش خیمہ ہے۔تم اپنی بیوی کو ہینگ دے دو اورگھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد مجھے اطلاع دو۔ مَیں عشاء کے بعد دوبارہ گیا اور عرض کیا کہ مرض میں ترقی ہوگئی ہے۔ حضورؑ مختلف دوائیں تجویز فرماتے رہے مگر مرض بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہاں تک کہ ایک وقت پر مریضہ کو قے ہوئی،جو اس مرض میں آخری مرحلہ ہوتا ہے، اس کے بعد سانس اکھڑ گیا، گردن پیچھے کوکھنچ گئی، آنکھوں میں اندھیرا آگیا اور زبان بند ہوگئی۔ مَیں بھاگ کر سیڑھیوں پر چڑھا، حضورؑ نے میری آواز سن کر دروازہ کھول دیا اور فرمایا کیوں خیر ہے؟ مَیں نے عرض کیا کہ اب تو حالت بہت نازک ہوگئی ہے۔ حضورؑ نے سب تفصیل سُن کر فرمایا کہ
دنیا کے جتنے ہتھیار تھے وہ سب تو ہم نے چلا لیے۔اب ایک ہتھیار باقی ہے جو دعا ہے۔تم جاؤ! اب مَیں دعا سے اُس وقت سراٹھاؤں گا کہ جب اسے صحت ہوگی۔
مَیں یہ سن کر واپس آیا اور بیوی سے کہا کہ اب تجھے کیا فکر ہے، اب تو ٹھیکے دار نے خود ٹھیکہ لے لیا ہے۔ اس وقت رات کے دو بج چکے تھے۔ مَیں گھر آیا اور مریضہ کو اسی حالت میں چھوڑ کر دوسرے کمرے میں جاکر سو گیا ۔ صبح کسی برتن کی آہٹ سے میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ بیوی صحت یاب ہوچکی ہے۔ اس نے بتایا کہ آپ تو سو رہے تھے۔دو گھنٹے بعد اللہ تعالیٰ نے فضل کردیا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ
اس واقعے میں دوستوں کے لیے درد اور عطا دونوں کے اعلیٰ ترین معیاروں کا پتا چلتا ہے۔
ایک دفعہ قادیان کے ایک سخت معاند کو اپنے کسی عزیز کے لیے مشک کی ضرورت پڑی،صرف یہ نہیں کہ مشک ملتا نہ تھا بلکہ یہ بہت قیمتی چیز تھی۔
وہ حضورؑ کے دروازے پر گیا اور مشک کا سوال کیا، حضورؑ نے فوراً ہی نصف تولہ کے قریب مشک اُس کے حوالے کردی۔
جب طاعون پھیلی تو حضورؑ نے اللہ تعالیٰ کی وحی اور علم کے ماتحت ایک دوا تیار کرنا شروع کی اور اُس کا نام تریاقِ الٰہی رکھا۔ اس دوا میں کئی ہزار کے جواہرات ڈالے گئے، بہت سی قیمتی ادویات ڈالی گئیں۔ جب یہ دوا تیار ہوئی تو حضورؑ نے نہایت فراخ دلی کے ساتھ اسے تقسیم کیا۔ باہر سے طلب کرنے والوں کو رجسٹرڈ پارسل بھی اپنے خرچ سے بھجواتے رہے۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے اپنے خط میں حضورؑ سے عرض کی کہ بباعثِ حمل گھر میں ایسی تکلیف ہے کہ کھانا تیار نہیں ہوسکتا، روٹی تو تندور پر پکوا لی جاتی ہے مگر ہانڈی کے واسطے مشکل ہے، اور گزارش کی کہ لنگر سے کھانا لگوا دیا جائے۔ اس پر
حضورؑ نےلنگر کے انچارج کوہدایت فرمائی کہ مفتی صاحب کو لنگر سے دو وقت عمدہ سالن دے دیا کریں۔
ایک دفعہ تحقیق کے لیے ایک وفد نصیبین بھجوانے کا فیصلہ ہوا۔ وفد کے ارکان کو تیاری کےلیے حضورؑ نے پچاس پچاس روپے عطا فرمائے۔ بعد میں بوجوہ یہ وفد نہ جاسکا۔ جب وفدکے ایک رکن نے وہ پچاس روپے واپس کرنا چاہے تو حضورؑ نے فرمایا کہ
جو ہم کسی کو دے دیا کرتے ہیں وہ ہم واپس نہیں لیتے۔
ایک دفعہ لنگر کے لیے خرچ ختم ہوگیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ بی بی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کرسکے اسے فروخت کرکے سامان کرلو۔
دو دن بعد پھر خرچ ختم ہوگیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ ہم نے برعایت ظاہری اسباب کے، انتظام کردیا تھا، اب ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ جس کے مہمان ہیں وہ خود انتظام کردے گا۔ چنانچہ صبح آٹھ نَو بجے جب چٹھی رساں آیا تو اس کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈرز تھےجو سَو سَو پچاس پچاس روپے کے تھے، جو مختلف جگہوں سے آئے تھے۔ حضورؑ نے وہ منی آرڈرز وصول کرکے توکّل پر تقریر فرمائی۔
ایک دفعہ قحط کا زور ہوا تو حضورؑ نے حکم دیا کہ لنگر میں آٹا پکتا رہے اور روٹی تیار رہے۔ روٹی مانگنے والے کو روٹی دی جائے اور کوئی خالی ہاتھ نہ جائے۔
شیخ حامد علی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ
آخر عمر تک حضورؑ نے مجھ سے کبھی حساب نہیں مانگا اور نہ کبھی ناراض ہوئے۔
حضرت شیخ احمد دین صاحبؓ کو ایک بار حضورؑ نے کسی کام سے روانہ کیا اور ہدایت فرمائی کہ اگلے روز جلدی آجانا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں اگلے روز تاخیر سے پہنچا تو حضورؑ میری فکر میں ایک آدمی روانہ کرچکے تھے۔ مَیں جب حضورؑ کی خدمت میں پہنچا توسب سے پہلے حضورؑنے فرمایا آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی۔حضورؑ کے حال دریافت فرمانے سے میرا دل باغ باغ ہوگیا۔ مَیں نے حساب دینا چاہا تو حضورؑ نے فرمایا :
ہمارا اور آپ کا کیا حساب۔ یہ پیسےتم اپنی ضرورت میں خرچ کرلو۔
حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ نے حضورؑ سے ایک مرتبہ کچھ قرض لیا۔
جب آپؓ نے وہ قرض کا روپیہ واپس بھجوایا تو حضورؑ نے یہ ناپسندکیا اور فرمایا کہ آپ ہمارے روپیہ کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھتے ہیں۔
حضورِ انور نے خطبے کے اختتام پر درج ذیل دُرود شریف پڑھا
اللّٰھم صل علیٰ محمدوعلیٰ عبدک المسیح الموعود وبارک وسلم
٭…٭…٭



