امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ کے ایک وفد کی ملاقات
خلافت کی محبّت کوئی علیحدہ محبّت نہیں ہے۔اللہ اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبّت پیدا کریں گے تو خلافت سے محبّت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔ دین سے محبّت پیدا ہو جائے گی۔ جب دین دل میں راسخ ہو جائے گا تو نظام بھی راسخ ہو جائے گا
مورخہ ۲۰؍ جون ۲۰۲۶ء، بروزہفتہ، امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ مجلس انصار الله امریکہ سے تعلق رکھنے والے چوبیس(۲۴) رکنی وفد کو بالمشافہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا، جس میں مجلس ورجینیا کے انصار بھی شامل تھے۔ یہ بابرکت ملاقات اسلام آباد (ٹِلفورڈ) میں منعقد ہوئی۔ مذکورہ وفد نے خصوصی طور پر اس ملاقات میں شرکت کی غرض سے امریکہ سے اسلام آباد (ٹِلفورڈ) کا سفر اختیار کیا۔
جب حضورِ انور مجلس میں رونق افروز ہوئے تو آپ نےتمام شاملینِ مجلس کو السلام علیکم کا تحفہ عنایت فرمایا۔
بعدازاں تمام شاملین مجلس کو حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں فرداً فرداً اپنا تعارف پیش کرنے کا موقع بھی ملا۔

مزید برآں دورانِ ملاقات شاملینِ مجلس کو حضورانور کی خدمت میں متفرق سوالات پیش کرنے نیز ان کے جواب کی روشنی میں حضورِانور کی زبانِ مبارک سے نہایت پُرمعارف، بصیرت افروز اور قیمتی نصائح پر مشتمل راہنمائی حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
ایک شریکِ مجلس نے حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں عرض کیا کہ بعض اوقات نیک، دیندار اور دین کی خدمت کرنے والے والدین کی اولاد دین سے دُور ہو جاتی ہے۔ پیارے آقا! ایسے والدین یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ اولاد کی دین سے دُوری اولاد کے اپنے اعمال اور ترجیحات کا نتیجہ ہے یا والدین کی تربیت میں کسی کوتاہی کا اور اپنی اولاد کو دوبارہ دین اور جماعت سے وابستہ کرنے کےلیے دعاؤں کے ساتھ کون سی عملی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں؟
اس پر حضورِ انور نے سائل سے استفہامیہ انداز میں اس فطری اَمر کی بابت دریافت فرمایا کہ سوال یہ ہے کہ والدین نے آپ کی تربیت کی تھی ؟ آپ سو فیصد ٹھیک رہے تھے؟ بس! پھر یہ تو اُونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔
حضورِ انور نے بچوں کی دینی تربیت کے مسلسل عمل اور والدین کی بنیادی ذمہ داری کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ انسان کا کام یہی ہے کہ تربیت کرتے رہنا۔ان کو بتاتے رہنا کہ دین کیا ہے اور ہمارا مقصد کیا ہے؟ ہم کون ہیں؟ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ بچوں کو یہ بچپن سے ہیrealizeکروانا چاہیے۔ اگر یہی نہ پتا ہو کہ اسلام کیا چیز ہے، احمدیت کیا چیز ہے، کیوں ہم احمدی ہیں تو آجکل کے تو بچوں میں ایک عمر کے بعد یہی سوالات اُٹھتے ہیں کہ کیوں؟ کس لیے؟ تو اس کے جواب آپ کے پاس ہونے چاہئیں۔
اسی طرح حضورِ انور نے بچوں کو بچپن ہی سے دینی شناخت اور مقصدِ حیات سے روشناس کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر بچپن سے تربیت ہو گی پتا ہو گا کہ ہم مسلمان ہیں اور کیوں مسلمان ہیں۔احمدی ہیں اور کیوں احمدی ہیں۔احمدی مسلمان اور دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے اور ہمارا کیا نمونہ ہونا چاہیے۔ ہمارے کیا مقاصد ہیں۔ ہمارے مقاصد کا بھی پتا ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو اپنے goals کا ہی نہیں پتا، ٹارگٹ کا ہی نہیں پتا، تو بچے تو یہی سمجھیں گے کہ ہم بس اسی طرح پڑھ لکھ کے احمدی ہو گئے۔ پانچ نمازیں ابّا نے کہا تو پڑھ لیں اور اگرنہ کہا تو نہ پڑھیں۔ مسجد میں کبھی دو نمازوں پر چلے گئے تو چلے گئے، جمعہ اگر چھٹی ہوئی تو چلے گئے، عید پڑھ لی اوراسی پر خوش ہوگئے۔ اجتماع میں شامل ہو گئے۔ تو یہ تو ہمارے مقصد نہیں ہیں۔ بنیادی چیزیں تو بچپن سےہی ماں اور باپ دونوں کو سکھانی پڑتی ہیں ۔ تو یہ جب سکھائیں گے تو پھر آہستہ آہستہ تربیت ہوگی۔ تربیت ایک دن کا کام تو نہیں ہے اور اس کے باوجود کمیاں رہ جاتی ہیں اور ہر ایک میں رہ جاتی ہیں۔
بعدازاں حضورِ انور نے سائل کو مخاطب کرتے ہوئے والدین کی تربیتی کوششوں اور ان میں رہ جانے والی ممکنہ کمیوں کے تناظر میں خود احتسابی اور ذاتی اصلاح کے پسِ منظر میں بچوں کی بہتر تربیت کے پہلو نکالنے کی طرف متوجہ فرمایا کہ آپ کے ابّا نیک آدمی تھے، اچھے دیندار تھے اور دین کو جانتے تھے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی کی ہوگی، لیکن پھر بھی کمیاں رہ جاتی ہیں اور انسان اپنا خود جائزہ لے سکتا ہے کہ میرے اندر کیا کمزوریاں ہیں کیا کمیاں ہیں، کوئی دوسرا نہیں بتا سکتا۔ جب اس کو دیکھیں گے کہ میرے اندر کیا تھا اور مَیں نے کس طرح اپنی اصلاح کی تو وہی اصول پھر بچوں کے اُوپرapply کریں گے تو پھر تربیت کے بہتر پہلو نکل آئیں گے۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے موجودہ معاشرتی حالات اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں خاندانی اکائی کے استحکام کے لیے عملی نمونہ اور مسلسل توجہ کی اہمیت کواُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ باقی اس معاشرے میں رہ کے کہ جہاں ہر چیز کھلی ہے، تربیت کرنا بڑا مشکل کام ہے ، اس لیے بعض ملکوں میں سوشل میڈیا پرban لگا دیا گیا ہے۔ آسٹریلیا میں لگا لیا گیاہے، یہاں بھی اب لگا رہے ہیں اَور ملکوں میں بھیban ہو رہے ہیں۔ تو یہ سوشل میڈیا نے بھی بڑا کام خراب کیا ہوا ہے۔ دنیا کے ساتھ exposure زیادہ ہو چکا ہے اور جتنا زیادہ باہر کاexposure ہے، اتنی زیادہ ہمارے اندر جو family ties ہیں، وہ ختم ہو گئی ہیں۔ ہم کاموں میں اوراپنی جاب میں توجہ نہیں دیتے یا دین کی خدمت کا بہانہ بنا کے دین کے کام میں رہتے ہیں۔ Weekendپر بچوں اور بیوی کوکوئی وقت نہیں دیتے۔ بچے بھی دیکھتے ہیں کہ میرے ماں باپ کیا کر رہے ہیں اور ماں باپ سے خوش ہے کہ نہیں ۔تو یہ ساری چیزیں اثر ڈالتی ہیں۔ اس لیے اپنی فیملی کو اکٹھا رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ بچپن سے اثر ڈالیں اور پھر اس پر عمل کر کے دکھائیں ۔ عملی زندگی اصل چیز ہے۔
ایک ناصر نے عرض کیا کہ جب ہم طفل اور نوجوان خادم ہوتے ہیں تو خلیفۂ وقت کو خط لکھنا آسان ہوتا ہے، عمر کے بڑھنے کے ساتھ اور خاص طور پر انصار بننے کے بعد خلافت اور خلیفۂ وقت کے مقام و مرتبہ سے زیادہ آگاہی ہونے کی وجہ سے خط لکھنے میں جھجک اور شرم محسوس ہوتی ہے۔ پیارےحضور! اس شرمندگی سے کیسے نجات پائی جائے؟
اس پر حضور ِانور نے جھجک کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو بہانہ ہے۔جنہوں نے لکھنا ہوتا ہے وہ لکھ دیتے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے شیطان کے نیکی کے پردے میں وسوسے ڈالنے کے طریق سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اصل یہ خیال رکھیں کہ شیطان بھی جب حملے کرتا ہے تو وہ نیکی کے راستوں سے آتا ہے۔ آدم علیہ السلام کو بھی شیطان نے ورغلایا تھا ، تو یہی کہا تھا کہ اگر تم یہ پھل کھا لو گے تو تم مستقل جنّت میں رہ جاؤ گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے روکا ہے، اس کو کھا لو۔ جب کھایا تو پھراس کی بُرائیاں سامنے نظر آنے لگ گئیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ مَیں نے تمہیں روکا تھا۔ تو یہ قرآنِ شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دی ہے، انسان کو یہ بتانے کے لیے کہ جو نیکی سے یا جس کو وہ نیکی سمجھتا ہے اس سے روکنے والا چاہے اچھے طریقے سے بھی روک رہا ہو تو وہ غلط کام ہے۔
جواب کےآخر میں حضورِ انور نے خلافت سے مضبوط تعلق قائم رکھنے اور اپنے دل سے راہنمائی لینے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ سو اس لیے اگر آپ کا خلافت سے تعلق ہے تو پھر تعلق قائم رہنا چاہیے۔ جھجک کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ اپنے دل سے فتویٰ لیا کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض باتوں کے اپنے دل سے فتوے لیا کرو۔ لوگوں سے نہ فتویٰ لیا کرو۔ تو میرے سے نہ پوچھیں بلکہ اپنے دل سے پوچھیں۔
ایک ناصر نے عرض کیا کہ آجکل بڑی عمر کے لوگوں کی نوجوانوں کو نصیحت ، نَقص نکالنا سمجھا جاتا ہے۔ خاکسار کا سوال ہے کہ ہم نوجوانوں اور بچوں کے لیے مسجد اور جماعت کے ماحول میں خوشگواری کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟
اس پر حضور ِانور نے نصیحت کے انداز اور بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کی ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ تھوڑی سی نفسیات بھی پڑھنی چاہیے۔ ایسے نصیحت کیوں کرتے ہیں کہ جس سے لگے کہ نَقص ڈال رہا ہے۔
پھر حضورِ انور نے پہلے پیش کیے گئے سوال کے تناظر میں بچوں کی مؤثر دینی تربیت کے لیے ان کے سوالات کے تسلّی بخش جواب دینے اور حُسنِ اخلاق کے ساتھ ان کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یاد دلایاکہ جس طرح مَیں نے ابھی ان کو بتایا کہ بچپن سے اگر بچوں کی اُٹھان ایسی ہو کہ ان کو پتا ہو کہ دین کیا ہے اور انہوں نے دین سیکھنا ہے، خود ان میں تجسس پیدا ہو تو وہ خود سوال کریں گے۔ پھر ان کے جواب دو۔ اور پھر اگر وہ غلطیاں کرتے ہیں، تو غلطی ہر کوئی انسان کرتا ہے ۔ بڑے بھی کرتے ہیں ، چھوٹے بھی کرتے ہیں۔تو ان کو پھر احسن طریقے سے سمجھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا بھی یہی فرمان ہے کہ اگر تم نے نصیحت کرنی ہے تو پھر اچھے طریقے سے نصیحت کرو۔ کل بھی مَیں نے مثالیں دی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے والے کو دیا ، لیکن پھر آخر میں نصیحت بھی فرما دی۔ یہ نہیں کہاکہ تم کیا روز مانگنے آ جاتے ہو، جھاڑ جھوڑ دیا۔ نہیں! بلکہ بڑے خوبصورت انداز میں کہاکہ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر تم دینے والے ہاتھ بن جاؤ۔تو یہ بھی ایک انداز ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے بچوں کی تربیت میں ان کی نفسیات، عمر اور حالات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے حکمت سے نصیحت کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ تو یہی نفسیات ہے جو آجکل کے پڑھے لکھے ماں باپ کو بھی سمجھنی چاہیے اور جو پڑھے لکھے ماں باپ نہیں ہیں، ان کو آپ کا نظام جو ہے، ان کو سمجھانا چاہیے کہ کس طرح نصیحت کرنی ہے۔ اب ایک مثال میرے سامنے آئی کہ بڑاrigidباپ ہے، وہ کہتا ہے کہ گھر میں باجماعت نماز پڑھنی ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ باجماعت نماز پڑھنی ہے۔ لیکن لڑکی باغی ہو رہی ہے۔ اس لیے کہ بابا روز پیچھے پڑا رہتا ہے۔ اب باپ کو لڑکیاں جب جوان ہو جاتی ہیں تو ان کےبعض حالات کا نہیں پتا ہوتا۔ ان کی مائیں بہتر جانتی ہیں۔ اس لیے اگر ان کو نمازوں کےلیے کہنا ہےتو ماؤں کے ذریعے سے کہلوانا چاہیے۔اور پھر عورتوں کے لیے توویسے ہی باجماعت نماز ضروری نہیں ہے کہ زبردستی بلانا کہ نہیں نہیں آؤ ، ابھی آؤ اور میرے سامنے شامل ہو۔ تو وہ دین سے بھی ہٹ گئی اور وہ خدا سے بھی ہٹ گئی۔ اب آہستہ آہستہ اس کو سمجھایا تو خدا کے تو قریب آگئی ہے پر جماعت کو بُرا سمجھتی ہے۔
بعدازاں حضورِ انور نے والدین کو بچوں کی نفسیات سے آگاہ کرنے اور ان کی مؤثر تربیت کے لیے عملی تربیت کا اہتمام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ تو سمجھانے کے بھی طریقے ہوتے ہیں۔ اس لیے جو بڑے نصیحت کرتے ہیں ان کو بھی سمجھنا چاہیے کہ زمانہ وہ نہیں ہے کہ ہم ڈنڈے کے زور پر سمجھا دیں۔ اس لیے بچوں کی نفسیات دیکھنی پڑتی ہے ، ماحول دیکھنا پڑتا ہے، طریقہ دیکھنا پڑتا ہے۔ مختلف طریقے ہیں۔ اس کے لیے دیکھیں ۔آپ انصار اللہ کی تنظیم میں والدین کی تربیت کے لیےبھی ایک کورس کریں ،سیمینار ہو، اس کو بتایا جائے۔ کسی Psychiatrist کو بلائیں کہ کس طرح بچوں کو سمجھانا ہے اورکس طرح ان سےdeal کرنا ہے۔ جو تجربہ کار لوگ ہیں ، جن کے بچے اچھی تربیت میں ہیں یا باتوں کو سمجھتے ہیں ، ان کے لیکچر دلوائے جائیں تاکہ ماں باپ کی ٹریننگ ہو۔پھر آگے بچوں کی ٹریننگ ہو گی۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے والدین کی عملی اصلاح اور ذاتی نمونے کو بچوں کی تربیت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے تو اپنی اصلاح کریں پھراگلوں کی اصلاح ہو گی اور پھر اپنا نمونہ سب سے بڑی بات ہے۔ بہت سارے لوگ اور بچے مجھے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے ماں باپ کو گھر میں نمازیں پڑھتے دیکھا تو اس لیے ہمیں بھی نمازیں پڑھنے کی عادت پڑگئی۔ ہم نے ان کوقرآنِ کریم پڑھتے دیکھاتو اس لیے ہمارا بھی دل چاہا کہ ہم بھی قرآنِ کریم پڑھیں۔ لیکن اگر زبردستی کریں تو وہ باغی ہو جاتے ہیں۔ یہ زبردستی والا زمانہ نہیں ہے۔
ایک سوال حضورِ انور کی خدمتِ اقدس میں یہ پیش کیا گیا کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں خلافت کی محبّت کو محض ایک معمول کے بجائے گہرائی سے کیسے راسخ کر سکتے ہیں؟
اس پر حضورِ انور نے خلافت سے مضبوط اور دیرپا تعلق کو بچپن کی مسلسل دینی تربیت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس اَمر کی جانب متوجہ فرمایا کہ بچپن کی تربیت جو ہے وہی اگر بچپن سے ڈالی جائے تو تعلق ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ یعنی کہ ماں باپ بچپن سے تربیت کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ بچے آ کے مجھے ملتے ہیں ان کے انداز اَور ہوتے ہیں اور وہ بڑے ہوتے تک قائم رہتے ہیں اور تعلق بھی رکھتے ہیں۔ تو وہ خط بھی لکھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ زبردستی کر رہے ہوں اور ایسی نصیحت کر رہے ہوں کہ جس کے پیچھےدنیاوی خواہشات کا مقصد ہوتو ایک وقت میں آ کے وہ پھر دنیا کی خواہشات رہ جاتی ہیں اور وہ دین سے ہٹ جاتے ہیں۔
پھر حضورِ انور نے خدا اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبّت میں ہی خلافت اور نظامِ جماعت کی محبّت کے پنہاں ہونے کوانتہائی دلنشین انداز میں اُجاگر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اگر دین کی تربیت صحیح ہے، خدا کی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبّت دل میں ڈال دی ہے تو نظام کی اور خلافت کی محبّت بھی رہے گی۔ تو پہلا آپ کا یہی کام ہے کہ خدا کی محبّت دل میں ڈالیں۔ اگر اللہ تعالیٰ سے محبّت ہے، اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبّت ہے ، تو ان کی تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہےتو اسی تعلیم میں قرآنِ کریم میں خلافت کی اطاعت کا بھی حکم ہے ۔ ایم ٹی اے پر ہر پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے آیتِ استخلاف پڑھتے ہیں، وہ جب پڑھتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہے ۔ قرآنِ کریم کا ہی حکم ہے۔ تو خلافت کی محبّت کوئی علیحدہ محبّت نہیں ہے۔اللہ اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبّت پیدا کریں گے تو خلافت سے محبّت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔ دین سے محبّت پیدا ہو جائے گی۔ جب دین دل میں آج راسخ ہو جائے گا تو نظام بھی راسخ ہو جائے گا۔
جواب کے آخر میں حضورِ انور نے دینی تعلیمات کو مجموعی طور پر سمجھنے اور محض ایک نکتے پر ہی محدود نہ رہنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اس لیے یہی کوشش کیا کریں ، ایک بات کو نہ لیا کریں، بلکہ اس سے شروع کریں۔ اس لیے مَیں نے خطبات میں اللہ تعالیٰ سے تعلق اور عبادت الٰہی کایہ سلسلہ شروع کیا تھا اور اس کے بعد پھر آگے باتیں چل رہی ہیں ۔ یہ چیزیں دیکھیں ۔
ملاقات کے اختتام پر تمام شاملینِ مجلس کو اپنے محبوب آقا کے ساتھ گروپ تصویر بنوانے اور آپ کے دستِ مبارک سے قلم بطورتبرک حاصل کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔
٭…٭…٭




