خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء

’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت رؤوف و رحیم تھے ۔سخی تھے ۔مہمان نواز تھے۔ اشجع الناس تھے۔ابتلاؤں کے وقت جبکہ لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپؑ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے ۔عفو ،چشم پوشی، فیاضی، خاکساری ،وفاداری، سادگی ،عشقِ الٰہی، محبتِ رسولؐ، ادبِ بزرگانِ دین، ایفاءِعہد، حسنِ معاشرت، وقار، غیرت، ہمت، اولو العزمی، خوش روئی اور کشادہ پیشانی آپؑ کے ممتاز اخلاق تھے…
مَیں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں نے آپؑ سے بہتر ،آپؑ سے زیادہ خوش اخلاق، آپؑ سے زیادہ نیک، آپؑ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا، آپؑ سے زیادہ اللہ اوررسولؐ کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔ آپؑ ایک نور تھے جو انسانوں کے لیے دنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔‘‘(حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ)

اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی زندگی میں بھی ہمیں غریب پروری اور جُود و سخا کے بہت سے واقعات ملتے ہیں

آپؑ نے ایک ایسی ماں کی گود میں پرورش پائی جنہوں نے آپؑ کو اعلیٰ اخلاق بھی سکھائے اور یوں جہاں اللہ تعالیٰ نے خود آپؑ کی فطرت میں نیکی پیدا فرمائی وہاں آپؑ کو اپنی والدہ کی طرف سے بھی نیک ماحول میسر آیا

جو تنخواہ مرزا صاحبؑ لاتے محلہ کی بیوگان اور محتاجوں کو تقسیم کر دیتے ۔کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے اور اپنے لیے صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے

جُودوعطا کے متعلق …جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کو دیکھتے ہیں اور ان واقعات اور حالات پر نظر کرتے ہیں جو ہمارے سامنے پیش آئے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ اس خلق عظیم سے حصہ وافر دیے گئے تھے اور یہ طرزِ عمل آپؑ کی زندگی میں اس وقت سے پایا جاتا ہے جب سے آپؑ نے ہوش سنبھالا تھا

سائل کوآپؑ کبھی بھی ردّ نہ کرتے تھے۔ آپؑ کی زندگی اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔اور جہاں تک سوالی کا تعلق ہے تو اسے مت جھڑک، کی ایک عملی تفسیر تھی

یہ بھی آپؑ کا معمول تھا کہ سائل کو زیادہ دیر انتظار میں نہ رکھتے تھے

صدقہ و خیرات تو آپؑ کی عادت میں بہت تھا اور عام طور پر آپؑ کا معمول تھا کہ 10/1حصہ صدقہ کر دیتے

حضرت مسیح موعودؑ صدقہ بہت دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا (روایت حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا )

جیسے آپؑ کی عادت تھی کہ سائل کو کبھی ردّ نہ کرتےتھے اور جس طرح پر آپؑ بدوں سوال کرنے کے بھی اہل حاجت کی امداد فرماتے ۔
یہ بھی آپؑ کی عادت شریف میں تھا کہ آپؑ سوال کی باریک درباریک صورتوں کو بھی خوب سمجھتے تھے اور ایسے موقع پر بھی اپنی عطا سے کام لیتے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دادودہش اور جُود و سخا کے متعلق مَیں تو ایک ہی بات کہتا ہوں کہ آپؑ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے (ایک روایت)

حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساویؓ نہایت بے تکلّفی سے جیسے بیٹا باپ سے جا کر کہتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بے تکلّفی سے عرض کر دیتے کہ اس قدر خرچ ہو گیا ہے اور حضرتؑ فوراً ادا فرما دیتے۔ اس قسم کی شاہانہ اور مربیانہ فیاضیاں آپؑ کی ہوتی تھیں

آپؑ اپنی بیماری کی شدید ترین حالتوں میں بھی اپنے خدام کی جائز درخواستوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے اور
عوام کے نفع اور بھلائی کے لیے تکلیف کی بھی پروا نہ کرتے تھے

آپؑ کے طرز عمل سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپؑ دوستوں کی خوشیوں میں فیاضانہ حصہ لیتے تھے اور یہ طریق آپؑ کا اظہار ِمحبت اور جُود و عطاء کی شان رکھتا تھا

ارشاد باری تعالیٰ اور اُسوۂ رسولﷺ کی پیروی میں امام الزمان سیدناحضرت اقدس مسیح موعودؑ کی غریب پروری اورجُود و سخا کے ایمان افروز واقعات

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء بمطابق 26؍احسان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے

(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

اللہ تعالیٰ کے ارشاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی زندگی میں بھی ہمیں غریب پروری اور جُودوسخا کے بہت سے واقعات ملتے ہیں

اور آپؑ کے دعویٰ کے بعد سے ہی نہیں بلکہ آپؑ کی زندگی کے ابتدائی حصے اور جوانی کی عمر میں بھی ہمیں آپؑ کے اعلیٰ اخلاق کے واقعات ملتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی جس ماں کی گود میں پرورش فرمائی ان کی زندگی کو بھی ہم دیکھتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں غریب پروری اور جُود و سخا کے واقعات ملتے ہیں۔ گویا

آپؑ نے ایک ایسی ماں کی گود میں پرورش پائی جنہوں نے آپؑ کو اعلیٰ اخلاق بھی سکھائے اور یوں جہاں اللہ تعالیٰ نے خود آپؑ کی فطرت میں نیکی پیدا فرمائی وہاں آپؑ کو اپنی والدہ کی طرف سے بھی نیک ماحول میسر آیا۔

چنانچہ آپؑ کی والدہ کی اس جُودو سخا کا ذکر کرتے ہوئے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ  تحریر کرتے ہیں کہ ’’حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ‘‘ یعنی والدہ ماجدہ حضرت اقدس علیہ السلام’’ کا خاندان موضع آئمہ ضلع ہوشیار پور میں ایک معزز اور صحیح النسب مغل خاندان تھا۔ آپ کی طبیعت میں جُودوسخا اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ایک عفت و عصمت کی دیوی خاتون میں جو صفاتِ عالیہ ہونے چاہئیں وہ آپ میں موجود تھے۔ وہ ہمیشہ بشاش اور متین حالت میں رہتی تھیں۔ مہمان نوازی کے لیے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینہ میں وسعت تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے ان کی فیاضیاں اور مہمان نوازیاں دیکھی ہیں ان میں سے بعض اس وقت تک زندہ ہیں‘‘ جب حضرت مولوی یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں وہ اس وقت تک زندہ ہیں۔ ’’وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اگر باہرسے یہ اطلاع ملتی کہ چار آدمیوں کے لیے کھانا مطلوب ہے‘‘ مہمان آئے ہیں چار آدمی’’ تو اندر سے جب کھانا جاتا تو وہ آٹھ آدمیوں سے بھی زائد کے لیے بھیجا جاتا‘‘ تا کہ اگر اَور بھی کوئی آ جائیں ساتھ بیٹھے ہوں تو وہ بھی کھا لیں’’ اور مہمانوں کے آنے سے انہیں بہت خوشی ہوتی۔‘‘ پھر یہ لکھتے ہیں کہ ’’اپنے شہر کے غرباء وضعفاء کا خصوصیت سے خیال رکھتی تھیں اور ان کے معمولات میں ایک یہ خاص بات تھی کہ غرباء کے مُردوں کو کفن ان کے ہاں سے ملتا تھا۔‘‘ اگر کوئی غریب آدمی فوت ہوتا تو اس کے کفن دفن کا انتظام کرتیں۔’’غرضیکہ غرباء کی ہمدردی اور دستگیری کی وجہ سے وہ سب کے لیے ایک طرح پر مادر مہربان تھیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت میں حضرت والدہ مکرمہ کی ان صفات و اخلاق نے خاص اثر پیدا کیا اور چونکہ آپؑ ایک عظیم الشان کنبہ کے مالک ہونے والے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے ان صفاتِ عالیہ کے پیدا کرنے کے لیے ان کے واسطے یہ سامان کیا کہ ایک ایسی مادر ِشفیق کی گود میں انہیں رکھا جو ہمدردی عامة الناس اور مہمان نوازی اور جُود وسخا میں اپنی نظیر آپ تھیں۔ اس طرح پر گویا آپؑ نے ان صفات کو شیر مادر کے ساتھ پیا۔ استغنا، شجاعت اور جرأت، صاف گوئی کے صفات آپؑ کو والد ماجد کی طرف سے ملےتھے تو مہمان نوازی، جُود و سخا اور ہمدردی عامة الناس حضرت والدہ مکرمہ کی طرف سے عطا ہوئی تھیں۔‘‘

(حیات احمدؑ از یعقوب علی عرفانی صاحبؓ جلد 1 حصہ دوم صفحہ 217 – 218)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جوانی کی عمر میں جُودوسخا کے اپنے جو واقعات ملتے ہیں

اس بارے میں حضرت میاں اللہ یار صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ جس وقت حضورؑ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک دفعہ حضورؑ کے لیے حضورؑ کی والدہ نے دو پوشاکیں‘‘ یعنی کپڑے جوڑے’’ اور کچھ پِنّیاں ایک شخص منگل حجام کے ہاتھ روانہ کیں۔ منگل آتی دفعہ ہمارے گاؤں سے گزرا تھا‘‘ جب واپس آیا تو یہ میاں اللہ یار صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہمارے گاؤں سے گزرا۔ ’’اس نے ہمیں بتایا کہ جب مَیں یہ چیزیں لے کر سیالکوٹ گیا اور حضورؑ کے آگے رکھ دیں تو حضورؑنے فرمایا :جو تیرے حصہ میں آتا ہے تم لے لو اور جو میرا حصہ ہے مجھے دے دو۔ مَیں نے کہا کہ حضورؑ یہ آپ کے لیے ہیں۔ اماں جان نے‘‘ آپؑ کی والدہ نے ’’آپؑ کے لیے بھیجی ہیں۔ فرمایا تُواتنی دُور اٹھا کر لایا ہے‘‘ یہ ساری چیزیں ’’تم اپنا نصف حصہ ضرور لے لو۔ خیر مجھے ایک پوشاک‘‘ ایک جوڑا کپڑوں کا ’’اور کچھ پِنّیاں دے دیں اور فرمایا کہ اماں جان کو جا کر کہنا کہ مجھے یہاں سے جلد واپس منگوا لیں۔ میرا دل یہاں نہیں لگتا۔ لوگ ناجائز کاموں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور میرا دل ان کو دیکھ کر کُڑھتاہے۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد2صفحہ230)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ’’مَیں … سیالکوٹ میں تھا وہاں مجھے مائی حیات بی بی صاحبہ بنت فضل دین صاحب جو کہ حافظ محمد شفیع صاحب قاری کی والدہ ماجدہ ہیں سے ملنے کوموقع ملا…مائی صاحبہ نے بتلایا کہ پہلے مرزا صاحب اسی محلہ میں ایک چوبارہ میں رہا کرتے تھے جو ہمارے موجودہ مکان واقع محلہ جھنڈا نوالہ سے ملحق ہے۔ جب وہ چوبارہ گر گیا تو پھر مرزا صاحب میرے باپ کے مکان واقع محلہ کشمیری میں چلے گئے…‘‘ تو کہتی ہیں جب ہمارے گھر میں آئے تو مَیں نے دیکھا کہ ’’ گھر میں وہ کسی سے نہیں ملتے ۔ اورنیز انہوں نے بتلایا کہ

جو تنخواہ مرزا صاحبؑ لاتے محلہ کی بیوگان اور محتاجوں کو تقسیم کر دیتے ۔کپڑے بنوا دیتے یا نقد دے دیتے تھے اور صرف کھانے کا خرچ رکھ لیتے‘‘ اپنے لیے۔

(سیرت المہدی جلد 1 حصہ سوم صفحہ 594-595 روایت 625)

حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ تحریر کرتے ہیں کہ

’’جُودوعطا کے متعلق …جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کو دیکھتے ہیں اور ان واقعات اور حالات پر نظر کرتے ہیں جو ہمارے سامنے پیش آئے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ اس خُلُقِ عظیم سے حصہ وافر دیے گئے تھے اور یہ طرز عمل آپؑ کی زندگی میں اس وقت سے پایا جاتا ہے جب سے آپؑ نے ہوش سنبھالا تھا۔‘‘

بہت بچپن اور جوانی سے۔ ’’یہ نہیں کہ مامور ہو جانے کے بعد آپؑ سے اس قسم کے اخلاق کا صدور کسی تکلّف سے ہوتا تھا بلکہ آپؑ کی طبیعت کا ایک جزو تھا۔ اس قسم کے اخلاق بعض وقت بالکل مخفی ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایسے طور پر بھی ان کا صدور قدرتی طور پر ہو جاتا تھا کہ دوسروں کو علم ہو جاوے۔ آپؑ کا عام رجحان اسی طرف تھا کہ مخفی رہے‘‘ کوئی نیکی آپؑ کریں تو وہ چھپی رہے۔ ’’چنانچہ ابتدائی زندگی کے واقعات جُود و سخا عموماً مخفی رہتے تھے۔ اس لیے کہ آپؑ ایک گوشہ گزین تھے اور مخفی طور پر …آپؑ بعض لوگوں سے اس وقت کےحسبِ حال سلوک کیا کرتے تھے لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپؑ کو پبلک میں نکالا‘‘ مامور فرمایا ’’اور لوگوں کی آمدو رفت کثرت سے ہونے لگی اور آپؑ کے حالات پبلک ہونے لگے تو ان واقعات کے دیکھنے والے اور بیان کرنے والے بھی پیدا ہو گئے…‘‘ یہ لکھتے ہیں کہ

’’سائل کو‘‘ سوالی کو ’’آپؑ کبھی بھی ردّ نہ کرتے تھے۔ آپؑ کی زندگی اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْھَرْ۔‘‘ اور جہاں تک سوالی کا تعلق ہے تو اسے مت جھڑک۔ ’’کی ایک عملی تفسیر تھی۔

حضرت مولانا عبدالکریم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ایسا ہوا کہ نمازِ عصر کے بعد آپؑ معمولاً اٹھے اور مسجد کی کھڑکی میں اندر جانے کے لیے پاؤں رکھا۔ اتنے میں ایک سائل نے آہستہ سے کہاکہ مَیں سوالی ہوں۔ حضرتؑ کو اس وقت ایک ضروری کام بھی تھا اور کچھ اس کی آواز دوسرے لوگوں کی آوازوں میں مِل جُل گئی تھی جو نماز کے بعد اٹھے اور عادتاً آپس میں کوئی نہ کوئی بات کرتے تھے۔ غرض حضرتؑ سر زدہ اندر چلے گئے‘‘ یعنی بے خبری میں توجہ نہیں دی اور اندر چلے گئے ۔ آواز اگر ہلکی سی کان میں پڑی بھی تھی تو اپنے دوسرے کام کی مصروفیت دماغ میں تھی اس لیے توجہ نہیں دی اور چلے گئے ’’اور التفات نہ کیا مگر جب نیچے گئے وہی دھیمی آواز جو کان میں پڑی تھی اب اس نے اپنا نمایاں اثر آپؑ کے قلب پر کیا۔‘‘ لیکن اندر جا کے پھر آپؑ کواحساس ہوا کہ ایک آواز مَیں نے کوئی ایسی سنی تھی۔ کسی نے کہا تھا مَیں سوالی ہوں۔ بڑا دل پہ اثر ہوا آپؑ کے۔ آپؑ ’’جلد واپس تشریف لائے اور خلیفہ نور الدین صاحب کو آواز دی کہ ایک سائل تھا اسے دیکھو۔‘‘ سوالی تھا ’’کہاں ہے؟ وہ سائل آپ کے جانے کے بعد چلا گیا تھا۔ خلیفہ صاحب نے ہر چند ڈھونڈا پتہ نہ ملا۔‘‘ یہ خلیفہ نور الدین صاحبؓ کشمیر کے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں ’’شام کو حسبِ عادت نماز پڑھ کر بیٹھے وہی سائل آگیا اور سوال کیا۔ حضرتؑ نے بہت جلدی جیب سے کچھ نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا اور اب ایسا معلوم ہوا کہ آپؑ ایسے خوش ہوئے ہیں کہ گویا کوئی بوجھ آپؑ کے اوپر سے اتر گیا ہے۔ چند روز کے بعد …ذکر کیا کہ

اس دن جو وہ سائل نہ ملا میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ مجھے سخت بے قرار کررکھا تھا اور مَیں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سر زد ہوئی ہے کہ مَیں نے سائل کی طرف دھیان نہیں کیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ شام کو واپس آگیا ورنہ خدا جانے مَیں کس اضطراب میں پڑا رہتا اور مَیں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے واپس لائے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 285-286 )

اسی طرح حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ اپنی سیرت میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’قادیان کے قریب سٹھیالی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو قادیان سے قریباً چھ میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ وہاں سے ایک جٹ فقیر آیا کرتا تھا اس کے دیکھنے والے بہت لوگ اب تک موجود ہیں۔وہ مسجد مبارک کی چھت کے نیچے آ کر کھڑکی کے پاس آواز لگایا کرتا تھا جو بیت الفکر کی مغربی دیوار میں ہے۔ اس کی آواز یہ ہوتی تھی غلام احمد !ایک روپیہ لینا ہے …اور وہ وہاں بیٹھ جاتا تھا۔ حضرت صاحبؑ کسی کام میں بعض اوقات مصروف ہوتے اور آپؑ کی توجہ اس میں ہوتی‘‘ اس کام میں ’’اورآپؑ اس کی آواز کو نہ سن سکتے تو وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد آوازیں لگاتا۔ اکثر لوگوں کو ناگوار معلوم ہوتا‘‘ یہ کیا بیٹھا یہاں تنگ کر رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ’’اور کوئی اسے ٹوکتا تو وہ کہہ دیتا کہ مَیں تمہارے پاس آیا ہوں؟ میں تو غلام احمد ( علیہ الصلوٰۃ والسلام)سے مانگتا ہوں۔ حضرت اقدسؑ کو اگر معلوم ہو جاتا کہ کسی نے اسے کچھ کہا ہے تو آپؑ ناپسند فرماتے اور ہنستے ہوئے اس کو روپیہ دے دیا کرتے اور

یہ بھی آپؑ کا معمول تھا کہ سائل کو زیادہ دیر انتظار میں نہ رکھتے تھے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 292)

حضرت چودھری عبداللہ خان صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک دفعہ سیر سے واپس آتے ہوئے جب حضورؑ مکان میں داخل ہونے لگے تو ایک لنگوٹی پوش درویش نے آواز دی‘‘ فقیر تھا ۔بعض ایسے لباس پہنتے ہیں جو گویا کہ ہمارے پاس لباس نہیں ہے ۔یہی ان کے لیے وہ مجاہدہ ہوتا ہے۔بہرحال کہتے ہیں اس نے آواز دی کہ ’’داتا داتا!کچھ دے۔ حضورؑ نے فرمایا :اللہ داتا ہے۔ اور یہ کہہ کر اندر داخل ہو گئے۔‘‘ اس نے داتا کہا تھا۔ حضور نے فرمایا اللہ داتا ہے۔’’ اس نے پھر آواز دی: داتا اللہ ہی ہے آپ کچھ دیں۔ حضورؑ نے کچھ بھیج دیا‘‘ اس کے لیے۔ بہرحال اس بات سے اس کی تربیت کیا ہونی تھی لیکن اس بات سے آپؑ نے اپنوں کو سبق دے دیا کہ ہماری باتوں میں ہلکا سا بھی شائبہ، شرک کا نہیں ہونا چاہیے۔

(روایات اصحاب احمد جلد 5 صفحہ 298)

حضرت یعقوب علی صاحب عرفانیؓ تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ ایک سائل آیا۔ اس نے قادیان میں ایک پھیری لگا دی وہ صبح کو اٹھتا اور حضرت میر حامد شاہ صاحبؓ مرحوم کی نظم۔‘‘ پھیری لگانے کا مطلب ہے گاؤں میں، سڑکوں پہ پھرتا، یہ نظم کے شعر پڑھتا۔

’’ہوا ناصر خدا تیرا مرے اے قادیاں والے

ہمیں بخشی اماں تُو نے ہے اے دارالاماں والے‘‘

بہرحال یہ ’’پڑھا کرتا تھا اور کبھی کبھی‘‘ ساتھ یہ بھی پڑھ دیا کرتا تھا کہ

’’ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم پڑھتا ۔ تمام قادیان میں چکر لگاتا ۔جب وہ دوسری نظم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پڑھا کرتا تو حضرت مخدوم الملت مولانا مولوی عبدالکریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت ناگوار ہوتا۔ وہ فرمایا کرتے کہ یہ اس نظم کا اہل نہیں کیونکہ یہ نظم ایک حقیقت اور حال ہے‘‘ بہت گہرائی ہے اس میں۔’’ جوحضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کے وجود میں پائی جاتی ہے۔‘‘ یہ حال، یہ حقیقت جو اس نظم میں بیان ہوئی ہے وہ تو عام آدمی میں ہو ہی نہیں سکتی۔’’ جو کچھ اس نظم میں بیان کیا گیا ہے‘‘ کہا کرتے تھے کہ ’’مَیں کسی دوسرے کے منہ سے غیرت کی وجہ سے سن ہی نہیں سکتا چہ جائیکہ اس قسم کا عامی سائل پڑھتا پھرے۔‘‘ایک عام آدمی فقیر اس قسم کی نظمیں پڑھے۔بہت غصہ چڑھتا تھا مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو۔ تو بہرحال کہتے ہیں :’’یہ تو مخدوم الملت کی اس محبت اور عشق کی کیفیت ہے جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تھا ۔بہرحال اس سائل نے قادیان میں ایک چکر لگایا۔رمضان کا مہینہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عرصہ میں متعدد مرتبہ اس کو بہت کچھ دیا لیکن وہ کہتا تھا میرا پیالہ بھر دو ۔چنانچہ عید کے دن وہ بہت بڑا پیالہ لے کر آ گیا اور مسجد میں دروازہ کے قریب چادر بچھا کر بیٹھ گیا اور جب حضرت صاحبؑ تشریف لائے تو سوال کیا کہ میرا پیالہ بھر دو۔ حضرت اقدسؑ نے اس میں ایک روپیہ ڈالا ۔اس روپیہ کا ڈالنا تھا کہ روپوں کا مینہ برس گیا اور مختلف قسم کے سکّوں سے اس کا پیالہ بھر دیا گیا۔ جب حضرت صاحبؑ نے اس کا سوال سنا تو متبسّم ہوئے اور اس حالت میں وہ روپیہ ڈالا۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 292 – 293)

بہرحال آپؑ کے ڈالنے سے پھر جو آپؑ کے ماننے والے تھے انہوں نے بھی اس کی کچھ نہ کچھ سکّوں سے مدد کی اور اس طرح اس کا پیالہ بھر گیا۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ ’’جب حضورؑ آخری مرتبہ 1905ء میں دہلی تشریف لے گئے تو ایک روز آپؑ دہلی کے مزارات وغیرہ پر جانے کے ارادے سے نکلے۔ کسی نے بیان کیا کہ حضورؑ! اس طرف راستہ میں اس قدر گداگر ہوتے ہیں کہ گزرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آپؑ نے فرمایا: آج ہم چلتے ہیں۔ہم سب کو دیں گے۔‘‘ جتنے بھی مانگنے والے بیٹھے ہیں سب کو دیں گے۔ ’’یہ معمولی عزم اور حوصلہ نہ تھا۔آپؑ حقیقت میں اس امر کے لیے تیار تھے کہ جو کوئی بھی مانگے گا اسے دیں گے ۔جس کثرت سے گداگروں کا ہونا بتایا گیا تھا اس قدر تو ملےنہیں۔بعض ملے اور ہر ایک نے اپنےسوال کا جواب عملی طور پر حاصل کیا‘‘ آپؑ نے ہر ایک کی مدد کی جتنے بھی ملے۔

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 308)

حضرت حافظ احمد اللہ صاحب ناگپوریؓ کہتے ہیں کہ’’ ایک دن حضورؑ گول کمرہ میں تشریف فرماتھے۔ تقریباً بیس یا پچیس آدمی وہاں موجود تھے۔ حضورؑ کچھ تقریر فرما رہے تھے کہ ایک فقیر آیا اور زور سے سوال کیا۔‘‘ کہتے ہیں’’ مجھے ناگوار معلوم ہوا کہ حضورؑ کی آواز میں مخل ہوتا ہے‘‘ آپؑ بات کر رہے ہیں اور یہ دخل اندازی کررہا ہے۔’’مَیں نے دروازہ بند کر دیا ۔‘‘ مَیں اٹھا ،دروازہ بند کر دیا۔’’ حضورؑ کی نظر پڑ گئی۔ آپؑ نے تقریر بند کر کے مجھے فرمایا :جاؤ اٹھ کر اندر دروازہ پر دستک دے کر اس سائل کو اندر سے کچھ دلواؤ‘‘ یعنی آپؑ نے فرمایا کہ دروازہ کیوں بند کیا ہے ؟اب تم جاؤ ،گھر کے اندر ۔ اندر آواز دو اور وہاں سے کچھ لے کر اس سوالی کو دو۔اور گھر سے منگوا کر پھر آپؑ نے اس کی مدد کی اور آپؑ نے یہی فرمایا کہ’’اور ایسا کرنا اچھا نہیں کہ سائل کے سوال پر دروازہ بند کر دو۔‘‘ یہ بڑی غلط بات ہے کہ سائل سوال کرے اور تم دروازہ بند کر دو۔

(سیرت احمدؑ از قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ87 – 88)

حضرت بابو غلام محمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں:’’ ایک سارنگی والا مراثی حضورؑ کے پاس بطور سائل دروازہ مکان پر پہنچا۔ حضورؑ نے اسے چونّی دی۔ اوپر سے میر ناصر نواب صاحبؓ  آ گئے۔ حضرت صاحب علیہ السلام اندر جا چکے تھے۔ میر صاحبؓ نے اسے دیکھ کر‘‘ سارنگی بجانے کی وجہ سے ’’بہت ڈانٹ ڈپٹ کی اور کہا کہ خبردار جو کبھی پھر یہاں آئے۔ دوسرے دن پھر وہ آگیا۔ حضرت صاحب علیہ السلام اسے دینے کے لیے باہر آئے تو آگے دیکھا کہ سائل غائب ہے۔ اس نے کہیں میر صاحبؓ  کی شکل دیکھ لی تھی۔‘‘ اس کو میر صاحبؓ کی کل کی ڈانٹ یاد تھی۔وہ دوڑ گیا وہاں سے۔ تو آپؑ نے’’کسی کو فرمایا کہ جاؤ اس سارنگی والے سائل کو تلاش کرو۔ کہاں گیا۔ کسی نے کہا کہ حضور! وہ تو بھاگ گیا ہے۔فرمایا :جاؤ تم بھی بھاگ کر اسے بلا لاؤ۔ خیر وہ آیا اور میر صاحبؓ کو دیکھ کر ڈرا ۔حضرت صاحبؑ نے میر صاحبؓ  کو فرمایا کہ میر صاحب! یہ بیچارہ کیا کرے۔اسے اَور تو کوئی کسب آتا ہی نہیں۔‘‘ کام آتا ہی نہیں ،کیا کرے یہ۔ سارنگی بجاتا ہے۔باجا بجاتا رہتا ہے’’ آپ اسے کوئی کسب سکھادیں‘‘ کوئی کام اسے سکھا دیں ’’ یہ پھر نہیں بجایا کرے گا۔‘‘ اس کو کوئی روزگار مہیا کر دیں۔’’ پھر اس میراثی کو تنہائی میں فرمایا‘‘ علیحدگی میں آپؑ نے فرمایا’’ کہ جتنے روز تم یہاں رہو سارنگی نہ بجایا کرو۔ میر صاحب مارتے ہیں۔‘‘ ان کو غصہ آتا ہے کہیں تمہیں مار ہی نہ دیں۔کوئی ایک دو چپیڑیں نہ کہیں لگا دیں۔ بہرحال تم باجا نہ بجایا کرو یہاں۔ ’’چپکے سے زنجیر ہلا دیا کرو‘‘ دروازے کی کنڈی’’ مَیں تمہیں کچھ نہ کچھ دے دیا کروں گا۔ چنانچہ جب تک وہ قادیان میں رہا چار آنے روز لے جاتا رہا۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 247)

حضرت سید فضل شاہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں :’’ایک فقیر کو عادت تھی کہ حضرت صاحبؑ کے پاس آکر کبھی کہتا ایک آنہ دلواؤ ۔کبھی کہتا دو آنہ ۔کبھی آٹھ آنہ ۔غرض وہ کچھ یقین کر کے مانگا کرتا ۔ اگر حضرت صاحبؑ کسی کام یا بات میں مشغول ہوتے۔ وہ بار بار کہتا اور لے کر ہی پیچھا چھوڑتا۔‘‘ کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا تھا ’’پھر حضرت صاحبؑ اس کے خوب واقف ہو گئے۔جب وہ آتا اور جتنے پیسے مانگتا آپؑ اتنے ہی دے دیتے اور فرمایا کرتے یہ تو اتنے لیے بغیر ٹلنے کا ہی نہیں۔ اس کو اتنے ہی دو جتنے یہ مانگتا ہے۔‘‘

(سیرت احمدؑ از قدرت اللہ سنوری صاحب صفحہ152)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ تحریر فرماتے ہیں کہ’’ مَیں 1898ءسے مستقل طور پر حضرتؑ کی خدمت میں آگیا اور 1892ء سے قادیان آتا تھا۔ میرے سامنے اکثر لوگوں نے سوال کیا۔مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپؑ نے سائل کو تانبے کا سکّہ یعنی پیسہ دیا ہو۔ آپؑ ہمیشہ چاندی کا سکّہ دیتے تھے‘‘ سوال کرنے والے کو۔ اس وقت کی کرنسی کے مطابق تانبے کا سکہ ایک پیسہ تھا ۔دو پیسے اور نصف آنے تک ہوتے تھے۔اور چاندی کے سکے ایک آنہ دو آنے اور بڑے coin ہوتے تھے۔ چونّی وغیرہ کی قدر کے ہوتے تھے۔ گو کے اس زمانے میں ایک پیسہ اور دو پیسے کی بھی ایک قیمت ہوتی تھی لیکن آپ علیہ السلام آنہ دو آنے یا اس سے بھی زیادہ خیرات میں دیتے جو کہ ایک معقول رقم ہوتی تھی ’’اور علی العموم معمولی سائل کو بھی ایک روپیہ دے دیتے تھے۔ ایک غیراحمدی فقیر نے ایک مرتبہ حضرتؑ کی خدمت میں آ کر سوال کیا کہ مَیں جنگل میں ایک کنواں لگوانا چاہتا ہوں۔ وہاں مسافروں کو اس سے آرام ملے گا اور وہ پانی پئیں گے۔ کہتے ہیں حضرتؑ نے اس کو اس غرض کے لیے دو سو روپیہ دے دیا‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 308)

کہ لوگوں کی خدمت کے لیے تم یہ کام کر رہے ہو۔ چلو کنواں لگوا دو ۔مَیں تمہیں پیسے دیتا ہوں۔

آپؑ نے جو جماعت کو خدمت خلق کی تلقین فرمائی تو اس کا عملی نمونہ بھی خود بن کے دکھایا۔

حضرت عبدالسمیع صاحبؓ  صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان کرتے ہیں کہ ’’میاں شریف احمد صاحبؓ کا عقیقہ تھا اور مہمان خانہ میں سب مہمان کھانا کھا رہے تھے‘‘ آپؑ کے تیسرے بیٹے جو تھے زندہ بیٹوں میں سے۔ بعد میں تو فوت بھی ہوئے لیکن حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ جنہوں نے عمر بھی پائی۔ ان کا عقیقہ تھا ۔ لوگ کھانا کھا رہے تھے۔ ’’توحضورؑ بھی ساتھ شامل تھے ۔فقیر اندر مہمان خانہ کے مانگنے کے لیے آگیا۔ لوگ اس کو نکالنے لگے۔

حضورؑ نے فقیر کو خود کھانا پکڑایا اور لوگوں کو فقیر کے جھڑکنے سے منع فرمایا۔‘‘

(روایات اصحاب ِاحمدؑ جلد 3 صفحہ 239)

اگر کھانا کھانے آیا ہے تو اس کو جھڑکنا نہیں۔ خود پلیٹ میں ڈال کے اس کو کھانا دے دیا۔

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلویؓ بیان کرتے ہیں: ’’ایک دفعہ ایک مولوی قادیان آیا اور حضورؑ سے بحث کرنے لگا۔پھر حضورؑ نے اسے جواب دینا شروع کیا تو وہ خاموش ہو گیا۔ وفات حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گفتگو تھی اور ابتدائی زمانہ کا یہ واقعہ ہے۔ آپؑ نے جب اس کو سمجھایا اور خاموش رہا تو آپؑ نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ سمجھ گئے ہیں ؟‘‘کہ جو میں نے دلیلیں دی ہیں وہ صحیح ہیں’’اس نے کہا جی میں سمجھ گیا ہوں‘‘ لیکن بڑا دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا۔ اورکہتا ہے مَیں سمجھ گیا ہوں’’کہ آپ دجال ہیں۔‘‘ نعوذ باللہ۔ ’’چونکہ دجال کی صفت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ بحث میں دوسروں کو بند کر دیا کرے گا‘‘ یعنی لاجواب کر دیا کرے گا۔ تو’’ آپؑ نے پھر کچھ نہیں فرمایا اور وہ چلا گیا۔امرتسر جا کر اس نے ایک اشتہار چھپوایا اور اس میں یہ واقعہ بیان کیا کہ مَیں نے یہ الفاظ کہے لیکن باوجود اس کے جب آپ اندر تشریف لے گئے تو مَیں نے ایک رقعہ بھیجا‘‘ کہ مَیں ضرورتمند ہوں۔اب یہ دیکھیں یہاں اپنی بے غیرتی کا خود اظہار کر رہا ہے اور آپؑ کے حسنِ سلوک کا بھی اظہار خود ہی کر رہا ہے۔ کہتا ہے کہ مَیں نے رقعہ بھیجا’’ کہ مَیں ضرورت مند ہوں کچھ سلوک میرے ساتھ کرنا چاہیے۔‘‘ گو مَیں نے آپ کو بڑے بُرے الفاظ کہے ہیں لیکن بہرحال مَیں ضرورت مند ہوں میرے ساتھ حسن سلوک کریں۔’’ آپؑ نے فوراً پندرہ روپے بھیج دیے۔ آپؑ بہت سخی ہیں‘‘ اس نے لکھا کہ آپؑ نے فوراً مجھے پندرہ روپے بھیج دیے ۔آپؑ بہت سخی ہیں’’ اور آپ کے منہ پر بھی سخت لفظ کہا جائے تو آپ رنج نہیں کرتے۔ آپ نے خود اس آخری امر کا‘‘ یعنی پندرہ روپے بھیجنے کا’’ کسی سے ذکر نہیں کیا تھا لیکن اس اشتہار سے اس پندرہ روپے دینے کا پتہ چلا‘‘ کہ

آپؑ نے اس کو پندرہ روپے بھیجے تھے باوجود اس کی سخت زبانی کے۔

(روایات اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 216)

حضرت قاضی عبدالغفور صاحبؓ بیان کرتے ہیں:’’1906ء میں مَیں بھی اپنے بڑے بھائی حافظ مرادبخش صاحب کے ساتھ راولپنڈی سے قادیان گیا۔ حضورؑ مسجدمبارک کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھےکہ ایک شخص غالباً حکیم شاہ نواز صاحب ساکن راولپنڈی نے حضورؑ کو سترہ پاؤنڈ ایک تھیلی میں نذرانہ دیا۔ حضورؑ نے وہ تھیلی لے کر جیب میں ڈال لی۔ نیچے ایک سائل کھڑا تھا‘‘ سوالی کھڑا تھا’’ اس نے سوال کر دیا۔ حضورؑ نے وہی تھیلی جیب سے نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔ حکیم صاحب مذکور نے جب حضورؑ کو ایسا کرتے دیکھا تو عرض کیا کہ حضور! اس تھیلی میں سترہ پاؤنڈ تھے۔ فرمایا :یہ اس کے تھے اسی کو پہنچ گئے ۔پھر آپ خاموش ہو گئے۔‘‘ اس زمانے میں بھی ایک پاؤنڈ کی قیمت ہوتی تھی۔ پندرہ انڈین روپے کا ایک پاؤنڈ ہوتا تھا ۔یعنی اس زمانے میں تو یہ رقم بہت بڑی تھی ۔کُل رقم دوسو پچپن (255)روپے بنتی ہے جبکہ دو پیسے میں روٹی اور کھانا مل جایا کرتا تھا۔

(روایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ290،وکی پیڈیا)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ تحریر فرماتے ہیں کہ

صدقہ و خیرات تو آپؑ کی عادت میں بہت تھا اور عام طور پر آپؑ کا معمول تھا کہ 10/1حصہ صدقہ کر دیتے۔

اس کے متعلق حضرت امّ المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بیان کی ہے۔لکھتے ہیں کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہؓ نے بیان کیا کہ

حضرت مسیح موعودؑ صدقہ بہت دیا کرتے تھے اور عموماً ایسا خفیہ دیتے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا۔

خاکسار نے دریافت کیا کہ کتنا صدقہ دیا کرتے تھے ؟تو والدہ صاحبہ نے فرمایا:

بہت دیا کرتے تھے اور آخری ایام میں جتنا روپیہ آتا تھا اس کا دسواں حصہ صدقے کے لیے الگ کر دیتے تھے اور اس میں سے دیتے رہتے تھے۔

والدہ صاحبہ نے بیان فرمایا کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ دسویں حصے سے زیادہ نہیں دیتے تھے بلکہ آپؑ فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات اخراجات کی زیادت ہو جاتی ہے۔اَور اخراجات ہیں، مہمان آ رہے ہیں ،لنگر خانے کا خرچہ ہے اَور خرچہ جات ہیں تو آدمی صدقے میں کوتاہی کرتا ہے لیکن اگر صدقہ کا روپیہ پہلے سے الگ کر دیا جائے تو پھر کوتاہی نہیں ہوتی کیونکہ وہ روپیہ دوسرے مَصرف میں نہیں آ سکتا۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا اسی غرض سے آپ دسواں حصہ تمام آمد کا الگ کر دیتے ورنہ ویسے دینے کو تو اس سے بھی زیادہ دیتے۔ اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ مَیں نے والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ آپؑ صدقہ دینے میں احمدی غیراحمدی کا لحاظ رکھتے تھے؟ تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ

نہیں! کبھی یہ خیال نہیں رکھا کہ کون احمدی ہے۔ کون غیر احمدی۔ ضرورت مند ہے تو اس کو دے دو۔

(ماخوذازسیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 291)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ تحریر کرتے ہیں کہ

’’ جیسے آپ کی عادت تھی کہ سائل کو کبھی ردّ نہ کرتےتھے اور جس طرح پر آپؑ بدُوں سوال کرنے کے بھی‘‘یعنی بغیر سوال کرنے کے بھی ’’اہلِ حاجت کی امداد فرماتے ۔یہ بھی آپؑ کی عادتِ شریف میں تھا کہ آپؑ سوال کی باریک درباریک صورتوں کو بھی خوب سمجھتے تھے اور ایسے موقع پر بھی اپنی عطا سے کام لیتے ۔

صاحبزادہ سراج الحق صاحبؓ  کابیان ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے آپؑ کے پاس خوبصورت ٹوپی بھیجی۔ جب یہ پارسل حضرتؑ کی خدمت میں پہنچا تو اتفاق سے ایک ہندوصاحب بھی پاس موجود تھے ۔آپؑ نے پارسل کو کھولا تو ٹوپی نکلی۔ اس ہندو نے اس ٹوپی کی بہت تعریف کی ۔

آپؑ نے جب اس کے منہ سے ٹوپی کی تعریف سنی تو جھٹ وہ ٹوپی اسی کو دے دی۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ دوم صفحہ 290)

حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ ایک احمدی حاجی حسین نامی تھے وہ حج کرکے آئے اورسُچےسیپ‘‘یعنی قیمتی موتی’’کی ایک تسبیح لائے اور لاکر تحفةً حضورؑ کی خدمت میں پیش کی۔‘‘ سُچےموتیوں کی تسبیح تھی’’ اس وقت خاکسار‘‘کہتے ہیں میں’’ اور سیالکوٹ کے ایک دوست حضور کی خدمت میں حاضر تھے۔ ہمارے سامنے حاجی حسین صاحب نے تسبیح حضورؑ کی خدمت میں پیش کی۔ حضورؑ نے جزاک اللہ فرمایا۔ وہ تسبیح خوبصورت بہت تھی۔‘‘ کہتے ہیں ’’مَیں نے ارادہ کیا کہ اس کے جانے کے بعد مَیں یہ تسبیح لے لوں گا۔اور سیالکوٹ کے دوست جو تھے انہوں نے بھی یہ ارادہ کیا ہوا تھا۔ جب حاجی حسین صاحب چلے گئے تو سیالکوٹ والے دوست نے عرض کیا کہ حضور! یہ تسبیح بڑی خوش نما ہے ۔آپؑ نے فرمایا اگر آپ کو پسند ہے تو آپ لے لیجئے اور تسبیح انہیں دے دی۔ مَیں نے عرض کیا حضور! ارادہ تو میرا بھی اسے لینے کا تھا‘‘ تو پھر ’’آپؑ نے فرمایا آپ دونوں نصف نصف کر لیں۔ بعد میں سیالکوٹ والے دوست مجھے کہنے لگے کہ تسبیح سو دانے کی ہوتی ہے میرے پاس ہی رہنے دیں۔ مَیں نے کہا اچھا آپ ہی رکھ لیں۔‘‘ پھر انہوں نے ان کو دے دی۔

(اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ215،اردو لغت جلد 11 صفحہ 545)

حضرت حکیم اللہ دتہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں:’’ سرفراز خاں نے بیان کیا کہ ہم جلسہ پر آئے اور حضورؑ کو کسی نے گھوڑی دی تو سرفراز نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ یہ گھوڑی مجھ کو مل جاوے اور مَیں اس کو لے جاؤں اور کہوں کہ مسیح کی گھوڑی مَیں لے آیا ہوں۔‘‘ ایک اچھی نسل کی گھوڑی تھی سواری کے لیے۔’’جب جلسہ ختم ہوا تو مَیں نے عرض کیا کہ حضور! مَیں واپس جانا چاہتا ہوں۔ حضورؑ نے فرمایا ٹھہرو۔ تیسرے روز مَیں نے پھر ایسا ہی کہا تو حضورؑ نے فرمایا کہ چودھری صاحب! یہ گھوڑی لے جاؤ۔ مَیں نے عرض کی کہ حضور! اس گھوڑی کی قیمت کیا ہے ؟آپؑ نے فرمایا:اس کو گھاس اور دانہ ڈالو اور اس پر چڑھو۔اس کی یہی قیمت ہے۔‘‘ کوئی قیمت نہیں۔ لے جاؤ اور سواری کرو۔

(روایات اصحاب احمد جلد 1 صفحہ110)

حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ بیان کرتے ہیں:’’مولوی عبدالرحمان صاحب شہیدؓ افغانستان سے آئے تو حضورؑ سے ملاقات کرنی چاہی… اس وقت بھی بہت سی چیزیں لائے۔ ایک پوستین بھی لائے۔ مَیں نے اطلاع کی۔حضرت صاحبؑ نے اندر ہی بلا لیا۔ انہوں نے وہ چیزیں اور پوستین حضورؑ کی خدمت میں پیش کی۔ حضرت صاحبؑ نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ مولوی صاحب آپ نے بہت تکلیف کی۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! یہ پوستین حضورؑ کی خاطر لایا ہوں اور دل چاہتا ہے کہ حضورؑ میرے سامنے پہنیں۔ حضرت صاحبؑ  کھڑے ہو گئے اور پہنی۔ وہ ٹخنوں تک آتی تھی۔ شام کے وقت کھانے کے دوران میں خواجہ کمال الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور !مولوی عبدالرحمان صاحبؓ ایک پوستین لائے ہیں۔بڑی قیمتی اور گرم ہے اور نہایت اعلیٰ درجہ کی تیار ہوئی ہوئی ہے…‘‘ خواجہ صاحب یہ پوستین پہلے دیکھ چکے تھے۔ ’’حضورؑ نے فرمایا :خواجہ صاحب! آپ کو بہت پسند ہے آپ ہی لے لیں۔ عرض کیا :حضور! بڑی مہربانی ہو گئی۔چنانچہ حضورؑ نے وہ پوستین خواجہ صاحب کو دے دی۔‘‘

(روایات اصحاب احمد جلد 4صفحہ 14-15)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ فرماتے ہیں کہ’’ حافظ نور احمد صاحب سوداگر پشمینہ‘‘، پشمینہ جو ہے وہ اونی کپڑا ہوتا ہے ’’لودھیانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے اور مخلص خدام میں سے ہیں۔‘‘ سوداگر۔ یہ اونی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے اور آپؑ کے مخلص خدام میں سے تھے۔’’ ان کو اپنے تجارتی کاروبار میں ایک بار سخت خسارہ ہو گیا اور کاروبار قریباً بند ہو گیا۔انہوں نے چاہا کہ وہ کسی دوسری جگہ چلے جاویں اور کوئی اَور کاروبار کریں تاکہ اپنی مالی حالت کی اصلاح کے قابل ہو سکیں۔

…حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں برابر خط و کتابت رکھتے تھے اور سلسلہ کی مالی خدمت اپنی طاقت اور توفیق سے بڑھ کر کرتے رہے… وہ کہتے ہیں کہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دَادُودِہِش‘‘ یعنی بخشش، عطا اور انعام’’ اور جُود و سخا کے متعلق مَیں تو ایک ہی بات کہتا ہوں کہ آپؑ تھوڑا دینا جانتے ہی نہ تھے۔

اپنا ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ‘‘ جب میرا کاروبار خراب ہو گیا اور’’مَیں نے جب اس سفر کا ارادہ کیا‘‘ کہیں اَور جگہ جا کے کاروبار کروں ’’تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کچھ روپیہ مانگا‘‘ کہ مجھے کچھ قرض دے دیں تاکہ مَیں کاروبار شروع کر سکوں۔’’ حضورؑ ایک صندوقچی جس میں روپیہ رکھا کرتے تھے اٹھا کر لے آئے اور میرے سامنے صندوقچی ہی رکھ دی کہ جتنا چاہو لے لو اور حضورؑ کو اس سے بہت خوشی تھی۔ مَیں نے اپنی ضرورت کے موافق لے لیا گو حضورؑیہی فرماتے رہے کہ سارا ہی لے لو۔

اصل بات یہ ہے کہ دوستوں کے ساتھ تو آپؑ کامعاملہ ہی الگ تھا۔ وہ اپنے مال کو دوستوں ہی کا مال عملاً سمجھتے تھے اور اس معاملہ میں آپؑ کو اس سے تکلیف ہوتی اگر کوئی خادم مغایرت کرے۔‘‘

یعنی غیرت دکھائے یا شرم کا اظہار کرے یا غیریت کا اظہار کرے۔غیرت نہیں غیریت کا اظہار کرے۔

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ306 – 307 ،فیروزاللغات صفحہ 298،لغات فارسی صفحہ 363 دار عمر فاروق)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ کہتے ہیں:’’شیخ محمد اسماعیل صاحب سَرْسَاوِیؓ میرے بتیس سال کے مخلص دوست اور بھائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے خادم ہیں۔شروع ہی سے ان کی طبیعت صوفیانہ واقع ہوئی ہے اور صلحاء کی صحبت کا شوق دامنگیر رہا۔ مدرسہ تعلیم الاسلام میں شروع سے آج تک مدرس ہیں۔اوائل میں وہی مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلایا کرتے تھے گویا انہیں ناظر ضیافت کہنا چاہیے۔وہ جب سے یہاں آئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خاص طور پر ان کا خیال رکھتے اور ان کی ضروریات کا آپ تکفل فرماتے‘‘ یعنی ساری ذمہ داری آپؑ فرماتے ۔آپؑ ضامن تھے ان کی چیزوں کے۔ ان کی ضروریات کو پورا کرتے۔’’ایک مرتبہ حضرت نانا جان مرحوم‘‘ حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ  ’’شیخ صاحب سے ناراض ہوئے اور بے حد ناراض ہوئے۔ انہوں نے ان کے قرضہ وغیرہ کی فہرست تیار کی۔ ان میں حلوائیوں کاقرضہ بھی تھا مگر انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ وہ ادا ہو چکا ہے۔ معاملہ حضرتؑ تک پہنچا کہ انہوں نے حلوائیوں سے اس قدر قرضہ برداشت کیا ہوا ہے۔‘‘ لنگرخانے کا انتظام چلانے کے لیے۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام سن کر ہنسے اور فرمایا کہ مجھے یہ معلوم ہے اور وہ قرضہ ادا ہو چکا ہواہے‘‘ میر صاحب !آپ فکر نہ کریں’’ بلکہ ہر ہفتہ بے باق ہو جاتا ہے‘‘ جو بھی قرضہ ہوتا ہے ہر ہفتے بے باق ہو جاتا ہے۔ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام شیخ صاحبؓ کے ہفتہ وار یا جب وہ چاہیں اخراجات ادا کر دیتے تھے اور

شیخ صاحبؓ نہایت بے تکلّفی سے جیسے بیٹا باپ سے جا کر کہتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بے تکلّفی سے عرض کر دیتے کہ اس قدر خرچ ہو گیا ہے اور حضرتؑ فوراً ادا فرما دیتے۔ اس قسم کی شاہانہ اور مربیانہ فیاضیاں آپؑ کی ہوتی تھیں۔‘‘

(سیرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 310-311،فیروزاللغات صفحہ 371)

اس میں ذاتی خرچ بھی ہوتے تھے اور لنگر کے بھی یقیناً ہوتے ہوں گے۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ ’’حضرت سید فضل شاہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نہایت ہی مخلص خدام میں سے تھے۔ شاہ صاحب مکرمی سید ناصر شاہ صاحبؓ کے برادر معظم تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کو عشق تھا۔ آخر وہ ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھےاور دارالضعفاء میں رہتے تھے… جولائی 1900ء کا واقعہ ہے کہ وہ قادیان آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے 6؍جولائی 1900ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جانے کی اجازت طلب کی اور یہ بھی خواہش کی کہ حضور چند کلمات نصیحت کے لکھ دیں۔ نیز کوئی دوائی اور ایک کرتہ بھی طلب کیا۔ حضرت اقدسؑ کو دوران سر کا شدید دورہ تھا اور نماز میں بھی تشریف نہ لا سکے مگر آپؑ نے باوجود اس کے کہ سر میں سخت درد تھا شاہ صاحب کے خط کے جواب میں ایک نصیحت نامہ لکھا اور دوائی اور کرتہ بھی دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی شہادت ہے کہ

آپؑ اپنی بیماری کی شدید ترین حالتوں میں بھی اپنے خدام کی جائز درخواستوں کو پورا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے اور عوام کے نفع اور بھلائی کے لیے تکلیف کی بھی پروا نہ کرتے تھے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ307-308)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ لکھتے ہیں کہ

’’آپؑ کے طرز عمل سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات آپ دوستوں کی خوشیوں میں فیاضانہ حصہ لیتے تھے اور یہ طریق آپ کا اظہار محبت اور جُود و عطاء کی شان رکھتا تھا۔

چنانچہ حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ کے نام جو خطوط وقتاً فوقتاً آپؑ نے تحریر فرمائے ان کے مطالعہ سے اور خود منشی صاحب موصوف کے بیان سے یہی ثابت ہے کہ حضورؑ نے ایک مرتبہ منشی صاحبؓ موصوف کے ولیمہ میں اور دوسری مرتبہ عقیقۂ  فرزند میں اپنی طرف سے ایک رقم خرچ کر دی اور اس خرچ کرنے میں آپؑ کو خوشی اور انشراح تھا۔ بعض اوقات لوگ اپنی اس قسم کی تقریبوں پر کچھ روپیہ حضرتؑ کے حضور بھیج دیتے اور لکھ دیتے کہ وہاں دعوت احباب کر دیں۔مگر وہ تحریر کے وقت اس امر کو نادانستہ بھول جاتے کہ قادیان کی دعوت چند آدمیوں کی دعوت نہیں ہو سکتی‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارد گرد تو بہت سارے لوگ ہوتے ہیں اور ویسے رقم جو بھیجتے وہ بہت تھوڑی ہوتی یا اس کو کفالت نہ کر سکتی’’ لیکن حضرت اقدسؑ ان کو مکرّر اس کے متعلق کچھ نہ لکھتے بلکہ اپنی گرہ سے‘‘ اپنی طرف سے’’ ایک رقم ڈال کر ان کی تمناکو پورا کر دیتےاور بارہا ایسے موقعہ آپؑ کو پیش آتے مگر کبھی اس کا ذکر اشارةً کنایةً بھی نہ کرتے بلکہ ہمیشہ ایسے موقعوں پر یہی فرماتے کہ فلاں دوست کی طرف سے دعوت ہے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ عرفانی حصہ سوم صفحہ 310)

بعض دفعہ اظہار بھی ہو جاتا تھا جو قریبی دوست تھے ان کو بتا بھی دیتے تھے کہ آپ کی رقم میں کمی تھی تو مَیں خرچ پورا کر دیتا ہوں۔ حضرت اقدسؑ اپنے مکتوب میں جوانہوں نے حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوریؓ کو ان کی شادی پر لکھا۔ تحریر فرمایا کہ آپ کو نئی شادی مبارک ہو۔ بروز جمعہ حسب تحریر آپ کے طعام ولیمہ آپ کی طرف سے مہمانوں کو کھلایا گیا کیونکہ مہمان بہت سے تھے اور سیٹھ صاحب یعنی عبدالرحمان صاحب مدراسی ،رحمت اللہ صاحب اور دوسرے بہت سے معزز مہمان موجود تھے اور اسّی سے کوئی زائد لوگ ہوں گے۔اس لیے آپؑ نے تو دس روپے بھیجے تھے وہ کافی نہیں تھے۔ لہٰذا اس خوشی میں مَیں نے اپنی طرف سے بھی دس روپے ڈال کے بیس روپے میں دعوت کر دی اور اچھا کھانا پلاؤ ،زردہ وغیرہ پکوایا۔قورمہ اور نان وغیرہ بھی تھے۔ بہرحال آگے لکھا ہے آپؑ نے کہ مہمان نہایت خوش ہوئے اور کھا کر آپ کو دعائے خیر کہی۔ مہمانوں کو یہی بتایا کہ یہ ان کی طرف سے دعوت ہے۔اپنا نہیں بتایا کہ مَیں نے بھی اس میں شامل کیا ہے۔

(ماخوذازمکتوبات احمد جلد 3 صفحہ 230مکتوب نمبر 60 بنام منشی عبداللہ سنوری صاحبؓ)

حضرت اقدس مسیح موعودؑ اپنے ایک مکتوب میں جو آپؑ نے حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوریؓ کو ان کے فرزند کے عقیقے کے موقع پر لکھا اس میں فرمایا دو دنبے ذبح کیے گئے جن کا گوشت نہایت عمدہ تھا۔اور ایک دیگ گوشت کے پلاؤ کی اور ایک دیگچہ زردہ شیریں زعفران وغیرہ کے ساتھ میٹھے چاول کا پکایا گیا ۔روٹی اور گوشت بھی پکایا گیا۔ ستّر کے قریب مہمان تھے۔ ان کی خاطر تواضع کی گئی اور آپ کی نیک نیتی کی وجہ سے دونوں پلاؤ اور زردہ وغیرہ بڑے اچھے پکے اور یہ لکھا کہ آپ کا یہ کام چوبیس روپے میں پورا ہوا ہے اور آپ کیونکہ مجھے پتہ ہے اتنا دے نہیں سکتے لہٰذا نصف اس کے جو بارہ روپے ہیں اگر آپ بھیجنا چاہیں کسی وقت تو بھیج دیں ۔اور آپ نے بڑی خوشی کا اظہار فرمایا۔اس کی دعوت پر ان کو مبارکباد بھی دی۔

(ماخوذازمکتوبات احمد جلد 3 صفحہ 234مکتوب نمبر 65بنام منشی عبداللہ سنوری صاحبؓ)

حضرت احمد نور کابلی صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ’’ 1902ء میں جب مَیں قادیان آیا مغرب کے قریب اسی وقت مسیح موعودؑ نے میری بیعت لی۔ مسیح موعودؑ نے خود بخود مجھے مکان کے لیے زمین عطا کی اور میری شادی بھی بغیر میری تحریک سے کر دی۔ میرے بغیر علم کے مجھے رخصتانہ پر بمعہ چند اصحاب کے بھیج دیا۔ میرے لیے ایک بوری آٹے کی اپنے لنگر سے مقرر کر دی اور فرمایا کہ جب تک احمد نور زندہ ہے میرے حساب سے یہ آٹا دے دیا کرو (اور یہ مولوی محمد علی صاحب کو حکم دیاگیا)۔‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ احمد نور کا آٹے کا خرچ جو ہے یہ مَیں دیا کروں گا۔

(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 307)

میاں عبدالرحیم صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں سخت بیمار ہو گیا میرے بچنے کی امید نہ رہی اور بیہوش پڑا تھا کہ میرے تایا مسمی میراں بخش صاحب مرحوم نے جبکہ حضور موضع بُٹر کی طرف سیر کر کے واپس آرہے تھے موری دروازہ کے چوک میں عرض کیا کہ حضور !عبدالرحیم کو دیکھ جائیں سخت بیمار ہیں۔ حضورؑ کے ہمراہ اَور کئی احباب کے علاوہ حضرت خلیفہ اوّلؓ بھی شامل تھے۔ حضورؑ ازراہ کرم غریب خانے پہ تشریف لائے اور مجھے چارپائی پر پڑا ہوا دیکھ کر اپنے دائیں ہاتھ سے میرے کندھے کو ہلایا اور فرمایا کہ کیوں گھبراتا ہے ۔مرتا نہیں۔ اس پر میری آنکھ کھل گئی اور ساتھ ہی حضورؑ نے مکان کی چھت کی طرف بھی دیکھا اور فرمایا کہ عبدالرحیم !تم اس بیماری سے نہیں مرتے مگر یہ مکان جو کہ بوسیدہ اور خستہ حالت میں ہے یہ تیرے مارنے کی صورت ہے۔اس کی چھت سخت خراب ہے۔ جب اچھے ہوجاؤ تو اس کی چھت درست کرو ۔اور میری والدہ کو فرمایا کہ میرے ہمراہ چل کر دوائی لے آؤ۔ دوائی کھلاؤ۔ ہم دعا بھی کریں گے۔ انشاء اللہ اچھا ہو جائے گا ۔اس پر میری والدہ حضورؑکے ہمراہ حضورؑ کے گھر گئیں۔ حضورؑ نے تین پڑیاں دوائی دی۔ ایک پُڑی مَیں نے اسی وقت یعنی صبح کے وقت نو یا دس بجے تک کھائی۔دوسری شام کو کھائی ۔ان دو پُڑیوں کے کھانے کے بعد مَیں اٹھ کرچارپائی پر بیٹھ گیا۔ تیسری پُڑی دوسرے دن صبح کو کھائی۔صرف ان تین پُڑیوں کے کھانے سے میری بیماری بالکل جاتی رہی۔ بہرحال کہتے ہیں کہ پانچ چھ دن کے بعد مَیں بالکل تندرست ہو گیا یا معمولی کمزوری رہ گئی۔ ہفتے کے بعد کہتے ہیں مَیں حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کمزوری تھی۔بہرحال مجھے سہارا دے کے اوپر لے گئے۔ جب مَیں حضور کے سامنے ہوا تو حضورؑ نے فرمایا تم راضی ہو گئے ہو۔ مَیں نے عرض کیا کہ حضورؑ کی دعا اور دوا سے اس دن سے بخار وغیرہ بالکل نہیں ہے۔ اس کے بعد حضورؑ نے فرمایا کہ مکان کا کیا ہوا؟ مَیں نے عرض کیا کہ مہینہ سوا مہینہ بیمار رہا ہوں اور ایک پیسہ بھی میرے پاس نہیں ہے۔مکان کس طرح بنا سکتا ہوں؟ چھت کس طرح بدلوں مَیں؟ حضورؑ نے فرمایا کہ ہم بنوا دیں گے اور اسی وقت مولوی محمد علی صاحب کو بلوا کر فرمایا کہ آپ جب مدرسے کے کمروں کے واسطے لکڑی منگوائیں تو عبدالرحیم کے مکان کی چھت کے واسطے بھی لکڑی منگوا کر اس کو بنوا دیں۔جس قدر خرچ ہوگا وہ ہم دے دیں گے۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے مستری رُکَّہ رَامْ کو میرا مکان دیکھنے اور لکڑی کے خرچ کا اندازہ کرنے کے واسطے بھیجا۔ اس نے مولوی صاحب کو آ کے بتایا کہ مکان پر دس شہتیریاں خرچ ہوں گی۔ مولوی محمد علی صاحب نے حضور سے عرض کیا کہ تیس روپے لکڑی پر لگیں گے۔ تیس روپے حضورؑ نے مولوی صاحب کو دے دیے اور میرا مکان بن گیا۔ کہتے ہیں اس کے علاوہ جو اَور مزدوروں وغیرہ پر خرچ ہوا اس کا مجھے علم نہیں کتنا تھا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عطا فرمایا۔

(ماخوذازروایات اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 174-175)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ   سیرتِ طیبہ کا عمومی خلاصہ بیان فرماتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ’’ہمارے بڑے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے میری تحریک پر حضرت مسیح موعودؑ کے اخلاق و اوصاف کے متعلق ایک مضمون لکھا تھا۔ اس مضمون میں وہ فرماتے ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نہایت رؤوف و رحیم تھے ۔سخی تھے ۔مہمان نواز تھے۔ اَشْجَعُ النّاس تھے۔‘‘ یعنی لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے، ’’ابتلاؤں کے وقت جبکہ لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپؑ شیر ِنر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔ عفو ،چشم پوشی، فیاضی، خاکساری ،وفاداری، سادگی، عشقِ الٰہی، محبتِ رسولؐ، ادب بزرگانِ دین، ایفاءعہد، حسنِ معاشرت، وقار، غیرت، ہمت، اولوالعزمی، خوش روئی اور کشادہ پیشانی آپؑ کے ممتاز اخلاق تھے۔‘‘

لکھتے ہیں کہ ’’…مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت دیکھا جب مَیں دو برس کا بچہ تھا۔ پھر آپؑ میری ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے‘‘ یعنی آپؑ کی وفات اس وقت ہوئی’’جب مَیں ستائیس سال کا جوان تھا ۔مگر

مَیں خدا کی قَسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں نے آپؑ سے بہتر ،آپؑ سے زیادہ خوش اخلاق، آپؑ سے زیادہ نیک، آپؑ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا، آپؑ سے زیادہ اللہ اوررسولؐ کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔ آپؑ ایک نور تھے جو انسانوں کے لیے دنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور اسے شاداب کر گئی۔‘‘

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ خود اپنا بھی بیان کرتے ہیں کہ’’ یہی میری بھی چشم دید شہادت ہے‘‘ جو میر صاحبؓ نے بیان کی ہے۔

(سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 66-67)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان اعلیٰ اخلاق کا حامل بنائے جن کے پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپؑ کو بھیجا تھا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍جون 2026ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button