نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۵؍جون ۲۰۲۶ء بروز سوموار بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ مسرت پروین صاحبہ اہلیہ مکرم ناصر احمد میر صاحب (آف ووسٹر پارک۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ مسرت پروین صاحبہ اہلیہ مکرم ناصر احمد میر صاحب (آف ووسٹر پارک۔یوکے)

۱۲؍جون ۲۰۲۶ء کو ۷۸سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ ایک نیک اور پابند صوم وصلوٰۃ خاتون تھیں۔ آپ حضرت میاں سعد محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نواسی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی، چار بیٹے اورپوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔آپ مکرم حافظ اسامہ بٹ صاحب (مربی سلسلہ شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس یوکے) کی اہلیہ کی دادی تھیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم محمد ایوب ساجد صاحب (مبلغ سلسلہ قادیان) ابن مکرم نمبر دار عبد الخالق صاحب مرحوم (آف کوریل ضلع کولگام صوبہ جموں و کشمیر)

۶؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۷۳سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔سن ۱۹۷۴ء میں جامعہ احمدیہ قادیان سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ۴۲ سال تک انڈیا کے مختلف صوبہ جات کی متعدد جماعتوں اور مرکزی دفاتر میں خدمت کے علاوہ ایڈیشنل ناظم ارشاد وقف جدید بیرون، نائب ناظر نشر و اشاعت اور اُستاد جامعہ احمدیہ قادیان کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔ بڑے قابل مبلغ سلسلہ تھے۔آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اپنے فرض منصبی کو امانت داری اور محنت کے ساتھ نبھایا۔ آپ ایک مخلص اور اطاعت گزار خادم سلسلہ تھے۔ مرحوم بڑے خوش مزاج، مہمان نواز اور ایک نڈر داعی الی اللہ تھے۔ احمدیت اور خلافت کے ساتھ والہانہ وابستگی کا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کا بیٹا امریکہ میں بسلسلہ تعلیم مقیم ہے۔ ایک بیٹی قادیان میں اور تین بیٹیاں یو کے میں بیاہی ہوئی ہیں۔ مرحوم مکرم یونس احمد اسلم صاحب مرحوم (درویش قادیان) کے داماد اور مکرم اعجازا لرحمٰن صاحب (کارکن حفاظت خاص) کے خسر تھے۔

۲۔مکرمہ صغریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم حکیم منور احمد عزیز صاحب ( چک چٹھہ حافظ آباد۔حال دار الفتوح شرقی ربوہ )

۱۸؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۷۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت میاں کرم دین صاحب رضی اللہ عنہ کی نواسی اور حضرت میاں غازی احمد رضی اللہ عنہ کی بھتیجی تھیں۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند، تہجد گزار، مہمان نواز،سادہ مزاج، ہمدرد، متوکّل علی اللہ، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ مالی قربانی میں پیش پیش اور جماعتی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی تھیں۔ قرآنِ کریم سے بے پناہ محبت تھی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں میاں کے علاوہ پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم فرحان احمد صاحب (مربی سلسلہ) کی ساس اور مکرم لقمان احمد بابر صاحب( مربی سلسلہ جرمنی )کی دادی تھیں۔آپ کے ایک نواسے مکرم مونس احمد صاحب جامعہ احمدیہ میں زیرتعلیم ہیں۔

۳۔مکرم حفیظ اختر سنوری صاحب (آف Colliers Wood۔یوکے)

۲۵؍ اپریل کو ۷۷ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم پابند صوم و صلوٰۃ اور بیشمار خوبیوں کے مالک ایک نیک انسان تھے۔ آپ کا تعلق علی پور ضلع مظفر گڑھ سے تھا جہاں آپ کو سیکرٹری مال، سیکرٹری اصلاح وارشاد اور دو بار صدر جماعت کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔۲۰۱۸ء میں یو کے آگئے۔ خلافت کے ساتھ انتہائی محبت اور اطاعت کا تعلق تھا۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دوبیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم مکرم عبدالرحیم ساقی صاحب مرحوم (آف یوکے) کے داماد اور مکرم خالد محمود عامر صاحب (مورڈن سولیسٹرز و ناظم دفتر جلسہ سالانہ یو کے) کے بہنوئی تھے۔

۴۔مکرم چودھری محمد عبد المجید وڑائچ صاحب ایڈووکیٹ (آف چک ۹ پنیار سرگودھا حال ربوه)

۵؍مئی ۲۰۲۶ء کو۹۷سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ اپنے علاقے کے دبنگ احمدی تھے اورعلاقے کی انتظامیہ سے گہرے مراسم تھے۔ فرقان فورس میں خدمت کی بھی توفیق پائی۔ آپ کی دو بچیوں کی شادی میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نے شرکت فرمائی اور بچیوں کو دعا سے رخصت کیا۔ اللہ کے فضل سے سالہا سال تک چک۹ پنیار کے سیکرٹری مال رہے اور ہمیشہ بروقت اور شرح کے ساتھ سو فیصد چندہ اکٹھا کر کے مرکز میں جمع کرواتے۔ بچیوں کی تعلیم کی غرض سے ربوہ شفٹ ہو گئے۔ جہاں آپ کو محلّے کے سیکرٹری امور عامہ اور کئی دیگر شعبہ جات میں خدمت کی توفیق ملی۔ پسماندگان میں دو بیٹے،چار بیٹیاں، ایک بھائی، دو بہنیں اور پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم طاہر مہدی امتیاز احمد صاحب (مینیجر روزنامہ الفضل لندن) کے خالہ زاد بھائی تھے۔

۵۔مکرمہ مسرت بٹ صاحبہ اہلیہ مکرم غلام سرور صاحب مرحوم (آف Raunheim۔ جرمنی)

۱۲؍اپریل ۲۰۲۶ء کو ۷۷سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ کا نظام جماعت کے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا۔ اپنے چندہ جات بر وقت اور باقاعدگی سے ادا کرتی تھیں۔ صحت کی خرابی کی وجہ سے جماعتی پروگراموں میں شامل نہیں ہو سکتی تھیں لیکن آن لائن ہر کلاس اور پروگرام میں شامل ہوتیں۔ مرحومہ بہت ملنسار اور شفیق خاتون تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔ آپ کے سب بچے جرمنی کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں۔ آپ کے ایک بیٹے مکرم مظفر بٹ صاحب شعبہ تبلیغ کے ایک فعال ممبر ہیں اور بہو مقامی مجلس میں سیکرٹری تحریک جدید/ وقف جدید کے طورپر خدمت کی توفیق پارہی ہیں۔

۶۔عزیزم کاشف مجید (وقف نو) ابن مکرم گو ہر مجید صاحب (معلم سلسلہ کھجن باسا ضلع کانگڑہ صوبہ ہماچل پردیش۔انڈیا)

۱۳؍مئی ۲۰۲۶ء کو ۱۳ سال کی عمر میں ایک حادثے کے نتیجہ میں بقضائے الٰہی وفات پاگیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم تحریک وقف نو میں شامل تھا۔ نمازوں اور تلاوت قرآن مجید کا پابند تھا۔ والدین نے اس کی اچھی تربیت کی۔اکثر دینی کاموں میں مصروف رہتاتھا۔ سلام کرنے میں پہل کر تا اور حضورانور کا خطبہ جمعہ باقاعدگی سے سنتا تھا۔ مرحوم نرم مزاج اور اطاعت گزارتھا۔ پسماندگان میں والدین کے علاوہ ایک بہن شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button