جلسہ سالانہخطاب حضور انور

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مستورات کے اجلاس سے بصیرت افروز خطاب کا خلاصہ

تمہارااصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تم نے توحید کو قائم کرنا ہے

٭… عورتوں کو چاہیے کہ اپنے علم میں اضافہ کریں اور صرف یہ نہ دیکھیں کہ ہر جواب مردوں کی طرف سے ملے گا بلکہ خود ان کو علم وعرفان میں اتنی ترقی کرنی چاہیے کہ وہ روحانی باتوں میں مردوں سے آگے نکلنے والی ہوں نہ یہ کہ صرف برابر ہوں

٭…تم جو میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض اور مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفاداری دکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہؓ نے کیا

٭…احمدی عورت کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اسلام کو ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والی ہے اور حقیقی اسلام کی خادمہ ہے۔ اس لیے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق بڑھانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے

(حديقة المہدي،۲۵؍جولائی ۲۰۲۶ء، نمائندگان الفضل انٹرنيشنل)جلسہ سالانہ برطانيہ کے دوسرے روز حضورِ انور ايّدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز حسب روايت مستورات سے خطاب فرماتے ہيں۔ مستورات سے خطاب کے ليے حضورِ انور بارہ بج کر سات منٹ پر والہانہ نعروں کي گونج ميں جلسہ گاہ مستورات ميں رونق افروز ہوئے اور السلام عليکم و رحمة اللہ کا تحفہ عنايت فرمايا۔ حضور انور کے کرسیٔ صدارت پر رونق افروز ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مکرمہ نور عودہ صاحبہ کو سورۃ الاحزاب کی آیات ۳۶ و ۳۷؍ کی تلاوت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور مکرمہ قرآۃ العین ورک صاحبہ کو ان آیات کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔ اس کے بعد مکرمہ رمشا حسن صاحبہ نے حضرت مصلح موعودؓ کے منظوم کلام میں سے منتخب اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس کا آغاز درج ذیل شعرسے ہوا:

بڑھتی رہے خدا کی محبت خدا کرے

حاصل ہو تم کو دید کی لذت خدا کرے

بعدازاں تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کے نام پڑھے گئے۔

تعلیمی اعزازات کا اعلان

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی بابرکت موجودگی میں ڈاکٹر رابعہ احمد صاحبہ سیکرٹری امور طالبات لجنہ اماءاللہ یوکے نے تعلیمی میدان میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والی طالبات کی درج ذیل فہرست پیش کی:

جی سی ایس ای(GCSE)

میرال احمد، پارسا ماہم، ہبۃ العلیم، دعا حامد، سبیکہ ججا، ایمن رضیہ سعید، افسا احمد، ماہم خان، عروسہ نعمان محمد، ہانیہ ناصر، ساریہ یاسر، ملائکہ لطیف، ثمین احمد، قانتہ مجید، جاذبہ طاہر، باسمہ احمد، دریشا احمد، سطوت حیات، عمارہ ظفر، ملاحت منصور، جیسمین احمد، علینہ سلطان، علیزہ اعجاز، حمدہ خان، عطیۃالسبوح فاروقی، امۃ الملک ماہا وحید، عائشہ بھٹی، دعا قاسم، رویا خان، عدیلہ زاہد، امل افضل، عائشہ بھٹی اور ہبۃ النور۔

اے لیول

ہانیہ بٹ، نبیہا سعید، عروش مبشر، آئلہ احمد، نورم راشد، علیشہ والٹن، کاشفہ زاہد، لبیبہ نعیم، صبا قیصر، صفا احمد، ایمن مدثر ملک ستکوہی، لبیبہ رحمٰن، فاطمہ نعمان، صوفیہ چودھری، سمارا ماہین، ثمرہ نصر اللہ، صبا راجپوت، عائزہ سیٹھی، بورشہ رحمٰن، کبیٰ مبشر، عیشا احمد، نیّرہ بلال، زینہ بٹر، لائبہ بٹر، لبیبہ سیّد جواد اور عیشا مرزا۔

گریجوایٹس؍ پوسٹ گریجوایٹس

ریجا احمد، تسنیمہ رحیم، رضوانہ لون، مدیحہ محمود، میشا میر، عائشہ قمر، شبرہ خان، نبیلہ ناصر، صوفیہ عروج، نفیسہ امینی، ماہم منور، مبینہ شاہد، انیقہ بشریٰ چغتائی، ہالہ ہادی، دانیہ احمد، ڈاکٹر رباب وسیم، ڈاکٹر ثنا رحمٰن، نمود سحر کاہلوں، یسریٰ فاتح ڈاہری، وردہ برہان، عالیہ قریشی، نیہا یسٰین، نویدِ اسلام حیات، عائشہ طاہر، امۃالاعلیٰ نور ملک ستکوہی، غزالہ منصور، سائرہ ندرت، لبینہ صوفیہ حنیف، زوہا سہیل، ماہا نور پیر، ڈاکٹر شائستہ طلعت گنائی، ڈاکٹر فریدہ بٹ اور ڈاکٹر انعم سیف اللہ۔

بیرون ملک تعلیم

ملیحہ احمد خان، ایمن ماجد، ماہم ارشد، تحریم خالد، درِّ مکنون راضیہ، مصباح محوش چودھری اور ہبۃ الودود بٹ۔

ساڑھے بارہ بجے حضور انور ايدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز منبر پر رونق افروز ہوئے۔ السلام عليکم ورحمة اللہ کا تحفہ عطا فرماکر حضور انور نے خطاب کا آغاز فرمايا۔

خلاصہ خطاب حضور انور

تشہد ،تعوذ اور سورت فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ کے فضل سےآپ اس جلسہ میں شامل ہوئی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ احمدی عورتیں دین سے رغبت رکھنے والی اور چاہتی ہیں کہ دینی علم کو بڑھائیں اور خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کریں، اس کی رضا حاصل کریں، دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد ہے اسے پورا کرنے والی بنیں۔

کل کی تقریر میں مَیں نے بتایا تھاکہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام نے جلسوں کے انقاد کا مقصد زہدو تقوی پیدا کرنا اور اخلاقی حالتوں کو اعلیٰ معیار تک پہنچانا بتایا ہے۔ہمیں ان دنوں میں بلکہ مستقل اور مسلسل کوشش کرنی ہے اور اس بات پر نظر رکھنی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپؑ کو اللہ نے تجدید دین کے لیے بھیجا ہے۔ پس یہ مقصد تبھی پورا ہو سکتا ہے جب ہم آپؑ کی بیعت میں آ کر اپنی دینی حالت سنوارنے کے لیے آپؑ کی نصائح پر عمل کرنے والے بنیںگے۔

آپؑ نے فرمایا : تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَىٰ بِهِمْ جَلِيسُهُمْ کہ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس ہونا بدبخت نہیں ہوتا ۔ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہوتا اور ان کے اخلاق اعلیٰ اخلاق ہوتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی چیز ہے جسے ہمیں سمجھنا چاہیے اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ

ہمارا بنیادی مقصد خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔ یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ہمارا فعل اور ہماری ہر بات اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔

آپؑ نے فرمایا: میری باتوں کو پورے غور سے اور توجہ سے سنو کیونکہ مامور من اللّٰہ کی باتوں کو غور سے سننا چاہیے اور جب تم انہیں غور سے سنو گے تبھی اس مقصد کو حاصل کر سکو گے جو بیعت میں آنے اور مامور کے ساتھ اپنے آپ کو منسلک کرنے کا مقصد ہے۔ پس یہ بات ہمیشہ یاد رکھو کہ تم نے ہر بات کو غور سے سننا ہے اور اس کو فکر سے سننا ہے کیونکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں :جب لوگ ایمان میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور جب ان کو مخاطب کر کے کچھ بیان کیا جا ئے تو غور سے اس کو نہیں سمجھتے تو پھر یاد رکھیں کہ ان کو بولنے والے کے بیان سے خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ درجے کا اور موثر کیوں نہ ہو،کچھ فائدہ نہیں۔

آج کل بعض لو گ جماعت پر اعتراض کرنا بھی شروع ہو جاتا ہے۔

آپ لوگوں نے اپنے علم کو بڑھانا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃالسلام کی باتوں کو غور سے سننا ہے تبھی ہم اپنی روحانی اور عملی حالتوں کو درست کر سکتے ہیں۔ اگر ہم صرف بیعت کر کے بیٹھ جائیں اور اپنا دینی علم نہ بڑھائیں تو ہم کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔

آپؑ نے فرمایا:

خدا تعالیٰ نے اس سلسلے کو کشف حقائق کے لیے قائم کیا

یعنی حقائق کو واضح کرنے کے لیے ،ظاہر کرنے کے لیے اور حقیقتوں کو کھولنے کے لیے قائم کیا ہے۔ اس لیےمیں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعے اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہو صرف باتیں نہ ہو۔ اسلام پر اعتراض کرنے والے بہت سی باتیں کرتے ہیں اور عورتوں کو بھی اس سے واسطہ پڑتا ہے۔

اگر قرآن کریم کو غور سے پڑھتے ہیں توسارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔

اس کے علاوہ آج کل تو ہماری تفاسیر بھی ہیں۔ ان سے بھی بہت سارے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

آپؑ نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ قرآن شریف نے پہلی کتابوں اور نبیوں پر بھی احسان کیا جو ان کے حالات بیان کیے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک ایسا علمی رنگ دیا ہے جو ہر دلیل سےپُر ہے۔

قرآن کریم کی تعلیم ایسی وسیع تعلیم ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا لیکن شرط یہ ہے کہ صرف قرآن کریم کی تلاوت نہ کی جائے بلکہ اس کا ترجمہ بھی پڑھا جائے اور اس کی تفسیر پڑھنے کی طرف بھی توجہ کی جائے۔

آپؑ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم تو ایک زندہ اور روشن کتاب ہے۔ اس لیے ہمیں کسی مخالف کی مخالفت کی پرواہ نہیں ہے ہمیں بغیر کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہماری تعلیم سب سے اعلیٰ تعلیم ہے۔

آج کل مغربی معاشرے میں رہ کر جوانی میں قدم رکھنے والی بہت سی بچیاں سوال کرتی ہیں کہ قرآن کریم پر یہ اعتراض کیے جاتے ہیں۔

اگر خود بھی قرآن پڑھنے کی طرف توجہ ہو تو ان کو خود بھی جواب دے سکتی ہیں۔

اس کے بغیر عملی زندگی میں کوئی روشنی پیدا نہیں ہو سکتی۔آپؑ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ عملی سچائی کے ذریعے اسلام کی خوبی دنیا پر ظاہر ہو۔ قرآن کریم نے جو ہمیں تعلیم دی ہے اس کو اپنے عمل میں ڈھالیں اور اس کو سچا ثابت کریں۔

صرف قصے سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ تعلیم سمجھ کر پڑھو اور اس پر غور کرو۔

عورتوں کو بھی اس زمانے میں تبلیغ کے لیے اسی طرح کوشش کرنی چاہیے جیسی مردوں کو کرنی چاہیے۔یہی آجکل کا جہاد ہے۔

گذشتہ زمانے میں ہم حضرت عائشہؓ کی مثال دیتے ہیں۔ لوگ ان سے علم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔ بہت ساری قرآنی آیات کی تفسیر،ان کی وضاحت اور بہت ساری احادیث کی تفصیل صحابہؓ نے ان سے سیکھی ہے۔پس

عورتوں کو چاہیے کہ اپنے علم میں اضافہ کریں اور صرف یہ نہ دیکھیں کہ ہر جواب مردوں کی طرف سے ملے گا بلکہ خود ان کو علم وعرفان میں اتنی ترقی کرنی چاہیے کہ وہ روحانی باتوں میں مردوں سے آگے نکلنے والی ہوں نہ یہ کہ صرف برابر ہوں۔

حضور انور ایدہ ا للہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ ایسا پیارا جملہ ہے کہ اگر یہی،جملہ یہی کلمہ یہودیوں اور عیسائیوں کو دیا جاتا تو وہ دین سے نہ بگڑتے۔اگر تم نے دین پر قائم رہنا ہے تو پھر یاد رکھو کہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر غور کرو اور اسے سمجھو۔ آپ فرماتے ہیں کہ تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے صرف اس بات پر مغرور نہ ہو جاؤ کہ ہمیںکو انکار کرنے والوں کی نسبت سعادت مل گئی۔

سچ بات یہ ہے کہ تم اس چشمے کے قریب پہنچے ہو جو پانی کا چشمہ ہے۔

لیکن پانی پینا باقی ہے۔پس پانی پینے کے لیے بھی خدا کا فضل اور کرم چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ملے تبھی یہ ہوتا ہے۔ پس

تم اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سیراب ہو کر پانی پینے کی توفیق دے، پانی پی کر سیر ہو جاؤ، اپنے علم کو بڑھاؤ، اپنی روحانیت کو بڑھاؤ۔

آج کل سوشل میڈیا ہے، بہت سارا پرنٹ میڈیا ہے۔ دین سے ہٹانے کے لیے اور شیطان کی طرف لے جانے کے لیے دوسری بے شمار ایسی چیزیں نکل آئی ہیں کہ جن کا پہلے تصور نہیں تھا ۔ ایسے حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم پہلے سے بڑھ کر خداتعالیٰ کا قرب پانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو تربیت کے لیے بھیجا ہے۔ پس ہمیں چاہیے کہ ان کی باتیں سنیں اور پڑھیں۔

حضور انور ایدہ ا للہ تعالیٰ نے فرمایاکہ

تمہارااصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تم نے توحید کو قائم کرنا ہے

اور اس کو قائم کرنے کے لیے تمہاری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ تمہارےدل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو اور اس کا اقرار صرف زبانی اقرار نہ ہو بلکہ اس کے لیے عملی تصدیق لازمی ہے۔اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے در پر گرے رہو۔ اپنی عبادتوں کے معیار بلند کرو۔عبادتوں کے معیار اونچے کرنے سے مراد ہےکہ ہر جو دنیاوی رشتہ ہے اس سے بڑھ کر تمہیں اللہ تعالیٰ کی محبت عزیز ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا سب سے مقدّم ہو جائے۔ جیسا کہ فرمایا فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ

حضور انور ایدہ ا للہ نے فرمایا کہ تم یہ حالت پیدا کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ تمہاری راہنمائی بھی کرے گا اور مشکلات سے نجات بھی دے گا۔ تمہاری دعاؤں کو بھی سنے گا ،تمہارے گھریلو مسائل بھی حل کرے گااور تمہارے بچوں کی تربیت کی طرف سےجو تمہیں پریشانیاں ہیں ان کو بھی دور کر دے گا۔

حضور انور ایدہ ا للہ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے عملی قدم اٹھانا پڑے گا اور اگر کوئی غلطیاں ماضی میں ہوئی ہیں تو ان سے سچی توبہ کرنی پڑے گی اور سچائی اور وفاداری سے خدا کو راضی کرنا پڑے گا اور جب یہ ہوگا تب ہی تم حقِ بیعت ادا کرنے والے ہو گے، تبھی تم نے جو عہد بیعت باندھا تھا اس کو پورا کر کے اللہ تعالیٰ کے انعام کے مستحق ہو گے۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات اسی وقت ہوں گے جب تمہاری طرف سے مکمل طور پر اس کے حکموں کی پیروی بھی ہوگی۔

حضور انور ایدہ ا للہ نے فرمایا کہ

انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متقی ہو کیونکہ متقی ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز اور مکرم ہے۔

آپؑ نے فرمایا کہ

ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے ،اس میں مرد بھی شامل ہیں اور اس میں عورتیں بھی شامل ہیں یہ نہیں لکھا کہ یہ نصیحت صرف مردوں کے لیے ہے کہ وہ اس امر کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ

اگر اس سلسلے میں داخل ہوئے ہو تو ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔

اگر اس کے بعد ہماری عملی زندگی میں کوئی تبدیلیاں پیدا نہیں ہوئیں ہماری روحانی حالت علمی حالت اور اخلاقی حالت میں بہتری پیدا نہیں ہوئی اگر ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا نہیں کر رہے اور لوگوں سے ہمارا حسن سلوک اچھا نہیں ہے،ہمارے اخلاق ایسے نہیں ہیں کہ لوگ ہم سے خوش ہو ںبلکہ خوش ہونے کے بجائے یہ ہو کہ لوگ ہم سے نالاں ہوں اور ہم سے خوف زدہ ہوں تو پھر ایسی بیعت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

دنیاوی علم کاحاصل کرنا ایک ضروری چیز ہے ،یہ بھی اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔

لیکن ایسا علم جو تمہیں خدا تعالیٰ سے دور کرنے والا ہو اس کو ہم نے حاصل نہیں کرنا ،اس کے پیچھے نہیں چلنا ،ایسے اعمال جو خدا تعالیٰ سے دور کرنے والے ہوں ان کے پیچھے ہم نے نہیں چلنا ،ایسی سوسائٹی جو ہمیں خدا تعالیٰ سے دور نہیں جانے والی ہو اس میں ہم نے نہیں بیٹھنا۔ پس یہ ہماری سوچ ہونی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ اپنے حقیقی بندوں کو ایسے وقتوں میں جب تکلیفیں ہوتی ہیں ،بچا لیتا ہے اور دنیا حیران رہ جاتی ہے۔ آپؑ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی ہے کہ دشمن کے آگ میں ڈالنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ سے نکال لیا۔ حضرت نوحؑ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی کے ذریعہ طوفان سے بچا لیا۔

اللہ تعالیٰ نے مثالیں اس لیے دی ہیں تاکہ تمہیں سمجھ آئے کہ یہ صرف پرانے قصے نہیں بلکہ آج بھی خداتعالیٰ زندہ ہے ،آج بھی وہ اپنے نمونے دکھا سکتا ہے۔

آج بھی اگر تم اس کے ساتھ صحیح تعلق رکھو اور اس کا حق ادا کرنے والے ہو،اس کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے ہو اور حقوق العباد ادا کرنے والے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اب بھی اپنی قدرت کے نظارے دکھائے گا۔

آپؑ نے فرمایا: اگر تم توبہ کرو اور اپنے دلوں کو پاک صاف رکھو تو تبھی تم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بنو گے،تبھی تم مصیبتوں سے نجات پانے والے بنو گے۔ یہ نہیں ہے کہ جب مصیبت کا وقت آ جائے تو پھر تم دعا کرو۔ بہت سارے لوگ مجھے بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے دعائیں کی۔ لیکن قبول نہیں ہوئیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ

مصیبت کے وقت جو دعائیں کرو گے،اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے انہیں سن لےیا ناسنے۔ لیکن مصیبت آنے سے پہلے دعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ سےصحیح تعلق پیدا کرو،تبھی تم کامیاب ہو گے۔ تمہاری دعائیں جو تم نے عام اور اچھے حالات میں کی ہوں گی وہ تمہیں مصیبت سے بچانے والی ہوںگی۔

حضور انور ایدہ ا للہ نے فرمایا کہ میں گذشتہ کئی سال سے بیان کر تا رہا ہوں کہ عورتوں کے اسلام میں کیا کیا حقوق ہیں۔ یہ حقوق تو آپ کے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دیے لیکن کچھ فرائض بھی ہیں جن کو آج بیان کر رہا ہوں۔ یہ فرائض آپ کریں گے تبھی آپ کے حق قائم ہوں گے۔پس اس طرف بھی توجہ دیں۔

پھر آپؑ نے دعاؤں کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ

دعائیں کرو،اپنے سجدوں میں دعائیں کرو۔ اپنے رکوع میں دعائیں کرو۔ عام حالات میں بھی اور مشکل حالات میں بھی دعا کرو

اور ہمیشہ یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز ہے اور ہمیں پتہ نہیں کہ کب کون سی مصیبت آنے والی ہے، اس لیے اے اللہ !ہمیں ہر مشکل سے بچا کر رکھ اور ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھ۔ جب یہ ہوگا تو پھر تم دیکھو گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سارے کام سنوارتا چلا جائے گا کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر یہ کام کر رہے ہو

اسی طرح

اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے اخلاق کو بھی درست کرو۔ زبان کو قابو میں رکھو۔ ہر شخص سے نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آؤ اور سخت زبانی کرنے والے سے بھی نرمی کا سلوک رکھو۔ لڑائی جھگڑوں سے پرہیز کرو۔ تکبر سے پرہیز کرو۔

یہ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ ان کے بدلے میں تمہیں بھی اپنے قرب سے نوازے گا۔آج کل کے معاشرے میں تمہارے گھروں میں بھی، بہوں اور ساسوں میں بھی اور دوسرے رشتوں میں بھی یہی باتیں ہوتی ہیں کہ ایک دوسرے سے ذرا سا شکوہ پیدا ہو جائے تو پھر سخت الفاظ کہے جاتے ہیں یا کسی طرح تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ اگر ایسی حالت ہے تو یہ ایک مومن کا شیوہ نہیں ہے، اس سے تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرب نہیں حاصل ہو سکتا۔ اس سے تم بیعت کر حق ادا نہیں کر سکتی۔ آپؑ نے فرمایا کہ جو لوگ کمزور ہیں، جو لوگ اعمال میں سست ہیں، جن میں اخلاقی کمزوریاں ہیں یا عملی کمزوریاں ہیں، ان سے بھی تمہارا حسنِ سلوک ہونا چاہیے، ان کی تربیت کی طرف تمہاری توجہ ہونی چاہیے۔ اور جب تم ایسا کرو گے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے بنو گے۔

فرمایا کہ ہماری جماعت اگرعملی نمونہ نہیں دکھاتی تو اپنے عمل سے میری عدم ضرورت ثابت کرتے ہو۔پھربیعت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ

اگر ایک حقیقی احمدی بننا ہے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا قرب پانے والا بنانا ہے تو پھر اپنی عبادتوں کے معیار اچھے کرنے پڑیں گے۔ اپنے اخلاق کے معیار بھی اچھے کرنے پڑیں گے اور اپنی عملی حالتوں کو بھی درست کرنا پڑے گا۔

فرمایا: ہماری زندگی عام دنیادار کی زندگی نہیں ہونی چاہیے۔ نرا زبان سے یہ کہہ دینا کہ میں بیعت میں داخل ہو گیا ہوں اور عمل نہ ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

حقیقی مسلمان تو وہی ہے جس کا قو ل اور فعل سب برابر ہوں۔

یعنی ہم صرف یہ دیکھ کر متاثر نہ ہو جائیں کہ دنیا دار ایسا کرتے ہیں بلکہ ہمارے مقاصد بہت اونچے ہیں۔ ہم نے دنیا داروں کی اصلاح کرنی ہے، ان کی تربیت کرنی ہے، ان کو صحیح راستے پرچلانا ہے۔آج کل دنیا میں مذہب سے دوری پیدا ہو رہی ہے۔ہم نے اپنی دعاؤں اور عمل سے دنیا کو بتانا ہے کہ حقیقت کیا ہے یہی کہ خدا کی طرف آؤ اسی میں تمہاری بقاہے۔

آپؑ نے فرمایا کہ

تم جو میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض اور مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفاداری دکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہؓ نے کیا۔

قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔ خدا تعالیٰ کے حضور اتنی بات کافی نہیں ہوسکتی کہ زبان سے اقرار کرلیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالیٰ قائم کرنا چاہتا ہے وہ عمل کے بِدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ عظیم الشان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم ؑ کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔ اس کی قدر کرو اور اس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کرکے دکھاؤ کہ اہل حق کا گروہ تم ہی ہو۔ چاہے وہ عورت ہے یا مرد ہے بچہ ہے یا جوان ہے یا بوڑھا ہے، ہم میں سے ہر ایک کو یہ کوشش کرنی ہوگی کہ ہم اپنے عمل سے دین کی حقیقی تعلیم پر عمل کریں۔ ہم نے خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنا ہے۔ خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کرنی ہے اور اپنے اخلاق کو بلند کرنا ہے اور جب یہ ہوگاتبھی ہم حقیقت میں جماعت میں شامل ہونے کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔پس

آج آپ لوگوں نے عہد کرنا ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ کرنی ہے۔اپنے آپ کو عہد بیعت کو پورا کرنے کا فہم و ادراک رکھنے والا بنانا ہے۔

جوں جوں ہم زمانۂ نبوت سے دور جا رہے ہیں کمزوریاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور ان کمزوریوں کو دور کرنے اور خود بھی

اللہ تعالیٰ کے قریب رہنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم اپنی عبادتوں کے معیار بڑھائیں اور اپنے علمی معیار بھی بڑھائیں

تاکہ اپنے بچوں اور نسلوں کے سوالوں کے جواب بھی دے سکیں اور تبلیغ کے میدان میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

عورتوں کے حقوق کو اسلام کے علاوہ کسی اَور مذہب اور حکومت نے اتنا تفصیل سے بیان نہیں کیا۔ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے تو ہمیں یہ کھول کر بیان کر دیا ہے کہ عورت پر کیا حقوق ہیں اور آپؑ نے کھول کر بیان کر دیا ہے کہ عورت کو اسلام نے کیا مقام دیا ہے۔ پس

احمدی عورت کو ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اسلام کو ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والی ہے اور حقیقی اسلام کی خادمہ ہے۔ اس لیے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق بڑھانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

تبلیغ کے میدان میں بھی آپ نے آگے بڑھنا ہے اور اپنی نسلوں کو بھی آگے بڑھانا ہے تاکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو اس دنیا کے کونے کونے میں پھیلانے کے لیے ہم صحیح کردار ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

خطاب کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔

حضور انور کے خطاب کے بعد لجنہ اور ناصرات نے گروپس کی صورت میں مختلف زبانوں، عربی، اردو، بنگلہ، پنجابی، اور گھانین زبان شامل ہیں ، میں ترانے پیش کیے۔

آخر میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ اس وقت جلسہ گاہ میں مستورات کی کُل تعداد ۱۹ ہزار ۶۹۵؍ہے۔

٭…٭…٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button