جلسہ سالانہ یوكے ۲۰۲۶ءكے پہلے روز عرب احباب کے پروگرام میں حضور انور اید ہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکی تشریف آوری
ہر سال جلسہ سالانہ یوكے كے موقع پر جلسہ میں شامل ہونے والے عرب احباب كے لیےایك پروگرام عربی زبان میں بھی منعقد كیا جاتا ہے۔ حسبِ روایت امسال بھی یہ پروگرام جلسہ کے افتتاحی اجلاس كے بعد چھ بج كر ۳۵ منٹ پر عرب ماركی میں شروع ہوا۔ ماركی كو دو حصوں میں تقسیم كیا گیا تھا۔ ایك حصہ مرد وں كے لیے مختص تھا اور پیچھے پردہ لگا كر ایك حصہ خواتین كے لیے مختص تھا۔ پروگرام میں چند غیر عرب مہمانوں نے بھی شركت كی۔

یہ پروگرام مكرم ابراہیم اخلف صاحب كی نگرانی میں منعقد ہوتا ہے۔ پروگرام كی صدرات مكرم عبد المومن طاہر صاحب نے كی۔آپ نے سب سے پہلےتلاوت قرآن كریم كے لیے مكرم راشد خطاب صاحب آف كبابیركو دعوت دی، جنھوں نے سورۃ آل عمران كی آیات ۱۰۳تا ۱۰۶؍ كی تلاوت كی سعادت حاصل كی۔
اس كے بعد مكرم محمد طاہر ندیم صاحب عربی ڈیسك نے تقریر كی۔ تقریر كا موضوع تھا كہ ’’تقویٰ۔ پودا جو دلوں میں لگانا چاہیے۔‘‘ آپ نے تقویٰ پر بعض آیات قرآنیہ پیش كیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے اقتباسات كی روشنی میں تقوی كی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی۔

اس كے بعد مكرم محمد شریف عودہ صاحب امیر جماعت كبابیر نے ’’عرب احباب كے لیے نصائح‘‘ كے موضوع پر خطاب كیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں بتایا كہ عالم عرب نے اگر ترقی كی تو اس كی وجہ صرف یہ تھی كہ انھوں نے اسلام كو قبول كیا اور اپنے اندر پاك تبدیلیاں پیدا كی لیكن جب انہوں نے تقویٰ اور اسلامی تعلیمات سے دوری اختیار كی تو پستی میں جا گرے۔ ان كے اعمال اس بات كی گواہی دیتے ہیں كہ اسلامی تعلیمات كی روح ان میں باقی نہیں رہی۔ آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز كے ارشادات كی روشنی میں عرب احباب كو توجہ دلائی كہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام كو ماننے كی سعادت پائی ہے، اب ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے كہ ہم اس تعلیم كا زندہ نمونہ بنیں اور اس كا ذریعہ یہی ہے كہ ہم خلیفۃ المسیح كی ہر بات كو صدق دل سے قبول كرتے ہوئے اس پر عمل كریں چاہے ہمیں سمجھ آئے یا نہ آئے۔ عرب احباب اپنی زبان اور قومیت كے لحاظ سے نبی كریم ﷺ كے زیادہ قریب ہیں اس لیے حضور انور عرب احباب سے توقع ركھتے ہیں كہ وہ خلیفۂ وقت كے سلطانِ نصیر بنیں۔ ہمارے پاس ایم ٹی اے عربیہ كا چینل ہے جس كے ذریعہ ہمیں خلیفہ وقت كی آواز اور ہدایات پہنچتی ہیں تاكہ ہم اس سے استفادہ كرتے ہوئےاس آواز پر فورا ًلبیك كہیں۔ حضور انور نے ہم عرب احمدیوں سے یہ توقع بھی فرمائی ہے كہ ہم احمدیت یعنی حقیقی اسلام كےاس پیغام كو ساری دنیا تك پہنچانے كے لیےبھرپور كوشش كریں۔

مكرم ذیشان خالد صاحب مربی سلسلہ نے غیر عرب مہمانوں كے لیے ساتھ كے ساتھ تقاریر كا خلاصہ انگریزی زبان میں پیش كیا۔
آخر میں صدر مجلس مكرم عبد المومن طاہر صاحب نے اختتامی خطاب كرتے ہوئے كہا كہ حضور انور ایدہ اللہ كے ساتھ ملاقات میں ایك نوجوان نے حضور سے پوچھا كہ ہمیں كوئی نصیحت فرمائیں؟ تو حضور انور نے فرمایا كہ كیا آپ میرے خطبات نہیں سنتے۔میں خطبات میں جوباتیں بیان كرتا ہوں وہ سب كے لیے ہوتی ہیں۔
ایك شخص نے بیعت كےبعد بچوں سے كہا كہ اگر تم علماء بننا چاہتے ہو تو حضرت خلیفۃ المسیح كے خطبات وخطابات سنو اور اگر آپ عالم باعمل بننا چاہتے ہو تو جو باتیں حضور اپنے خطبات میں ارشاد فرماتے ہیں ان پر عمل كرو۔ اس لیے خطباتِ امام كو توجہ سے سنیں اور ان پر عمل كریں۔
دوسری چیز جس كی طرف آپ نے توجہ دلائی وہ یہ تھی كہ یہ جلسہ سالانہ وغیرہ كے جو پروگرام منعقد كیے جاتے ہیں جن پر جماعت بہت خرچ كرتی ہے ،ان سے استفادہ كرنا چاہیے۔ كیونكہ ایسی مجالس پر فرشتے رحمت كا سایہ كرتے ہیں اور ان كی بہت بركات ہیں۔
اس كےبعد صدر مجلس نے اجتماعی دعا كروائی اور تقریباً ۷بج كر ۴۰منٹ پر یہ پروگرام اپنے اختتام كو پہنچا۔ حاضرین كی تعداد تین سو كے قریب تھی۔
اس پروگرام كے چند منٹ بعد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ عرب ماركی میں تشریف لائے اور احباب نے پُرجوش نعروں سے آپ كا استقبال كیا۔ ایك دوست نے نعرے لگاتے ہوئے یہ نعرہ بھی لگا دیا كہ حضرت مرزا مسرور احمد زندہ باد۔ اس پر حضور انور نے ہاتھ كے اشارے سے روك دیا اور پھر فرمایا كہ نام لے كر نعرہ نہیں لگانا۔ پھر حضور انور نے فرمایا كہ یہاں تو بعض غیر عرب میں بھی ہیں۔ ابراہیم اخلف صاحب نے عرض كیا جی حضور۔ اور درخواست كی كہ عرب احباب كے لیے كوئی نصیحت فرمائیں۔ حضور نے فرمایا: میں نے آج خطاب میں نصائح فرما دی ہیں۔ كل بھی كروں گا اور پرسوں بھی۔ یہی كافی ہے۔ بعض احباب كے ٹیبل پر كھانا پڑا تھا۔ حضور نے فرمایا كہ اس كھانے كی طرح جو روحانی مائدہ میں نے پیش كیا ہےاگراسی كو ہضم كر لیں تو بہت ہے۔
اس كے بعد حضور انور عرب ماركی سے تشریف لے گئے۔حضور كی تشریف آوری سے اِس پروگرام كو چار چاند لگ گئے۔ فالحمد للہ علیٰ ذٰلك۔
(رپورٹ: میر انجم پرویز۔ ناظم رپورٹنگ جلسہ گاہ)
